ف – س – اعجاز کی خود نوشت ” یہ میں ہوں “

شکیل رشید(کولکتا)

یوں تو مُدیر ’ انشا ‘ ف – س – اعجاز کی خود نوشت ’ یہ میں ہوں ‘ – جِسے وہ سیرۃ الذّاتیہ ‘ قرار دیتے ہیں – ۲۶۴ صفحات پر مششتمل ہے ، لیکن اُنہوں نے اِسے ’ مختصر خود نوشت ‘ کہا ہے ، اور درست کہا ہے ۔ اس خود نوشت میں ف – س – اعجاز کی – جو ’ میں ‘ ہیں – ذات کی سیرت تو سامنے آ جاتی ہے ، اور خوبصورتی کے ساتھ آ جاتی ہے ، لیکن اُن کی حیات سے وابستہ اکثر پہلو یا تو چھپے رہ جاتے ہیں یا اِس طرح سامنے آتے ہیں کہ اُنہیں پڑھ کر اُن کے اجداد ، خاندان اور اُن کے اطراف رہنے والوں کے بارے میں بہت کم ہی پتا چلتا ہے ۔ یہ بھی خود نوشت کا ایک انداز ہے ، جب لکھنا ہی ہے تو اپنے ہی بارے میں لکھا جائے ! مصنف نے ایک جگہ لکھا ہے : ’’ یہ ’ میں ‘ بڑی عجیب چیز ہے ۔ اپنا ’ میں ‘ کسی اور کو سمجھانا مشکل ۔ اور کبھی کبھی خود کی بھی سمجھ میں آنا مشکل ۔ خود نوشت میں سوانح نگار کا میں ہی تو اصل ہوتا ہے ۔‘‘ انہیں نہ اپنے بارے میں کوئی خوش فہمی ہے ، اور نہ ہی اپنی خود نوشت کے بارے میں ۔ ایک جگہ وہ لکھتے ہیں : ’’ میں اپنے بارے میں زیادہ کچھ لکھنے سے قاصر ہوں ۔ میرا خیال ہے میرے سوانحی امور سے کسی کو خاص دلچسپی نہیں ہوسکتی اور نہ وہ کسی کے لیے معجون شباب آور یا نشے کی گولی ثابت ہوں گے ۔ جس حد تک میں نے لکھا ہے ، اس خود نوشت کو محض ایک معمولی آدمی کی سرگزشت سمجھیں ۔‘‘ لیکن سچ یہ ہے کہ ف – س – اعجاز معمولی آدمی نہیں ہیں ۔ ایک ادبی رسالے کا مدیر ، وہ بھی ایسا مدیر جو برسوں سے ، پریشانی کے باوجود ، رسالہ نکال رہا ہے ، جو ایک اچھا شاعر اور ایک اچھا افسانہ نگار ہے ، جس نے اہم ادبی تخلیقات کے تراجم کیے ہیں ، معمولی آدمی نہیں ہو سکتا ۔ اور اس خود نوشت کو پڑھتے ہوئے مصنف کے غیر معمولی ہونے کا احساس بار بار ہوتا ہے ۔ مصنف نے اپنی سوانح مختصر مضامین کی صورت میں تحریر کی ہے ، مضامین کی تعداد ۲۵ ہے ۔ پہلے باب کا عنوان ’ بچپن اور خاندان ‘ ہے ۔ یہ جان کر قدرے تعجب ہوا کہ ف – س – اعجاز کا بچپن دہلی میں گزرا ، تعجب اس لیے کہ میں اب تک انہیں کلکتہ ہی کا سمجھتا آ رہا تھا ۔ دہلی سے بھی پہلے یہ خاندان کبھی راجستھان میں رہا کرتا تھا ۔ دہلی میں ان کا بالٹیاں بنانے کا کارخانہ تھا ۔ ہنر اس خاندان کو ورثہ میں ملا تھا ، لہذا جب ہم یہ پڑھتے ہیں کہ ف – س – اعجاز نے فیکٹری ڈالی اور مختلف چیزیں بنانے کا کام شروع کیا ، پریس کے کام کے ساتھ ، تو کوئی تعجب نہیں ہوتا ۔ اس باب سے یہ پتا چلتا ہے کہ ان کا خاندان ہنر مند تو تھا مگر لوگ کم پڑھے لکھے تھے ، اور خود مصنف کا اپنی تعلیم کے متعلق کہنا ہے : ’’ میری تعلیمی زندگی میرے مجاہدۂ نفس سے جڑی ہوئی ہے ۔‘‘ مصنف نے اپنے والد کی دوسری شادی کا ذکر بھی اس باب میں کیا ہے ۔ وہ لکھتے ہیں : ’’ اب کلکتہ میں ابّا کے دو گھر تھے ۔ دو زندگیاں تھیں ۔ آدمی زندگی کی نعمتوں کو ضرب دینا چاہتا ہے لیکن وہ اسے تقسیم کرتی چلی جاتی ہے ۔ خدیجہ بیگم ابّا کی زندگی میں کیا آئیں ہمارے خاندان کا نقشہ بدل گیا ۔ کئی افسانے ہماری زندگی میں داخل ہو گیے جن کی کرچیں ہماری راہوں میں یوں بکھریں کہ ہمارے تلوے لہو لہان ہو گیے ۔‘‘ مصنف نے بس اتنا لکھ کر اپنے گھریلو تنازعات کے باب کو بند کر دیا ہے ، ہاں ماں کا ذکر کئی جگہ بڑے جذباتی انداز میں کیا ہے ۔ لکھتے ہیں : ’’ باپ کی تثلیثی گھریلو زندگی کا سایہ میری ہستی پر پھیلا ہوا ہے ۔ ماں پر ستم ہائے بے شمار دیکھنے کے بعد عورت ذات سے مجھے ایک خاص طرح کی ہمدردی اور پیار ہو گیا جس نے ایک حد تک مجھے عورت کی آزادی کا حامی بھی بنا دیا اور میں نے یہ سیکھا کہ مرد کو اپنی حدیں جاننا چاہئیں ۔‘‘ دوسرا باب ’ تعلیم و تربیت ‘ کے عنوان سے ہے ، اس باب میں مصنف نے دہلی میں اپنی ابتدائی تعلیم کا احوال لکھا ہے ۔ آگے ایک باب ہے ’ فتح پوری مسلم ہائی اسکول میں ‘ جس میں دہلی کے مذکورہ مسلم اسکول میں اپنی تعلیم کا ، اور چند اساتذہ کا دلچسپ تذکرہ ہے ۔ ایک دلسپ باب ’ روح افزا ‘ ہے ، جس میں اس وقت روح افزا کی فیکٹری میں لگنے والے نئے بوٹلنگ پلانٹ ، درمیانی سائز کی بوتل اور آفر کا ذکر کیا گیا ہے ۔ چونکہ مصنف کی اعلیٰ درجات کی تعلیم کلکتہ میں ہوئی تھی ، اس لیے وہاں کے اسکول ، کالج اور اساتذہ کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے ۔ اس ضمن میں عبدالعلی فغان کا ایک خاکہ اس خود نوشت میں شامل کیا گیا ہے ، مصنف کے اردو کے معلم تھے ۔ یہ خاکہ اپنے ایک چہیتے معلم کو ایک بہترین خراجِ عقیدت ہے ، اور آج کے دور میں اس کی اہمیت اس لیے ہے کہ اب لوگ اپنے اساتذہ کو یاد نہیں رکھتے ۔ لکھتے ہیں : ’’ مجھے قلمکار بنانے میں ان کا ( فؑغاں صاحب ) بڑا ہاتھ ہے ۔ انہوں نے مجھے روز کچھ لکھنے پر اکسایا ۔ میں کہتا روز نئی بات کیا لکھوں ۔ وہ کہتے روز کا کوئی واقعہ ، کوئی تجربہ ، کوئی احساس ، کوئی تاثر ، دس بیس جملے نہ سہی دو چار جملے ہی لکھو ، پر لکھو ضرور ۔‘‘
آگے کے ابواب میں ’ عملی زندگی کا آغاز ‘ اور اس سے متعلق واقعات تحریر کیے گیے ہیں ۔ مصنف نے پریس اور بعد میں فیکٹری اور اوزاروں وغیرہ کی تیاری کو پوری جزئیات کے ساتھ لکھا ہے ، شاید اس لیے کہ پڑھنے والوں کو محنت اور محنت کے پھل کا کچھ اندازہ ہو سکے ۔ درمیان میں ایک مضمون ’ جائے سکوں : ہمایوں کا مقبرہ ‘ اور نظم ’ ریاضت ‘ ہے ۔ دو نظمیں مزید ہیں ایک ماں پر اور ایک باپ پر ۔ ایک جگہ مصنف نے ادیب ، شاعری ، افسانہ اور کردار کے بارے میں دلچسپ بات لکھی ہے : ’’ غمِ جاناں اور غمِ دوراں دونوں نے مجھے مکمل کیا ۔ رومانی رفاقتوں کا ذکر نہیں کروں گا ۔ رومی نے لکھا ہے معاشقوں کے قصّے اور قصّوں میں بیان کیے جائیں تو بہتر ہے ۔ تو اپنی شاعری اور افسانوں میں ادیب از خود غیر شعوری طور پر بیان ہوتا ہے ۔ کسی کہانی کا کوئی کردار کسی لمحے میں میری بے خبری میں میرا تھوڑا سا کچھ چُرا لیتا ہے ۔ اس جرم کے لیے مَیں اس پر مقدمہ نہیں کر سکتا ۔ وہ اپنا کام کر رہا ہوتا ہے ۔ اُس کے کام میں مداخلت نہیں کر سکتا ۔ وہاں اُس نے میرا کچھ بگاڑا نہیں ہوتا ہے ۔ بلکہ میرے اظہار میں مدد کی ہوتی ہے ۔ورنہ حقیقت یہ ہے کہ مَیں اُس کے لیے اور وہ میرے لیے اجنبی ۔ دونوں معصوم ۔ باہمی تعارف ہو جائے تو دونوں ایک دوسرے کے لیے خطا پوش و کریم ۔‘‘ اپنے مضمون ’ ادبی میلانات اور صحافت ‘ میں وہ بنگال میں ثقافتی قدروں کے توازن اور سماجی قدروں میں تضاد کا ذکر کرتے ہوئے ایک جگہ لکھتے ہیں : ’’ اوروں کی طرح میرا جھکاؤ بھی ان فکری قوتوں کی جانب ہو گیا تھا جو سماجی تبدیلیوں کی متلاشی تھیں اور طبقاتی کشمکش کے درمیان فرد کو نئے طور پر define کرنا چاہتی تھیں ۔ آج بھی میرا ادب اسی نہج پر ہے کیونکہ تبدیلی کے بعد نئی تبدیلی ناگزیر ہو جاتی ہے ۔ یہ جدلیات تبدیلی کے مفہوم و مقدر میں شامل ہے ۔ چنانچہ ادیب ہمیشہ نئی تبدیلی کی امید کرتا رہے گا ۔ جس دن تبدیلی کی تلاش ختم ہو جائے گی ادب پر جمود طاری ہو جائے گا ۔ مَیں مطمئن ہوں کہ مَیں نے اپنے ادب کو پروپگنڈا نہیں بننے دیا ۔ سیاسی پروپگنڈا ادب کی زندگی مختصر کر دیتا ہے ۔‘‘ اس باب میں مصنف نے اپنی صحافتی زندگی پر بھی روشنی ڈالی ہے ، ’ فانوس ڈائجسٹ ‘ سے ’ انشا ‘ تک ۔ ایک باب میں پروفیسر قمر رئیس سے اپنی رفاقت کا تفصیلی ذکر کیا ہے ، اور ان سے وابستہ یادیں قارئین کے سامنے رکھی ہیں ۔ ’ انشا ‘ کے خاص نمبروں کا ذکر ہے ، قارئین ’ انشا ‘ کے چند خطوط کی یادیں ہیں ، اور بھی بہت کچھ ہے ،جیسے کہ سمیر مکرجی کی یاد میں لکھا دلگداز خاکہ ۔ دو فلیپ ہیں ، ایک اندر دوسرا بیک کور پر ۔ پہلے فلیپ میں خواجہ احمد عباس کی یادیں ہیں ، اور دوسرے فلیپ میں بچپن کا ایک واقعہ ۔ اس دور کا ایک اہم شاعر اور افسانہ نگار اپنے بارے میں ، دنیا کے بارے میں اور ادب کے بارے میں کیا رائے رکھتا ہے ، یہ جاننے کے لیے یہ خود نوشت پڑھی جانی چاہیے ۔