جدید اردو تنقید اور شارب رُدولوی کے اصول و نظریات
ڈاکٹر صابر علی سیوانی
حیدرآباد
کچھ شخصیتیں ایسی ہوتی ہیں جو مدتوں میں پیدا ہوتی ہیں اور برسوں تک زندہ رہتی ہیں۔ انہی شخصیات میں ایک شخصیت پروفیسر شارب رُدولوی کی ہے، جن کی علمی، ادبی، تنقیدی اور معاشرتی خدمات کے باعث دنیا انھیں صدیوں یاد رکھے گی۔ ان کے سیکڑوں شاگرد جنھوںنے ان سے کسبِ علم و ادب کیا، وہ ملک و بیرون ملک پھیلے ہوئے ہیں اور علمی و ادبی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ان کی علمی، ادبی، تنقیدی خدمات سے تشنگانِ علم و ادب فیضیاب ہورہے ہیںاور دوسروں کو فیض پہنچارہے ہیں۔ یہ ان کی فیض رسانی کا ہی نتیجہ ہے کہ ان کے سامنے زانوے ادب تہہ کرنے والے شاگرد مسندِ استادی پر بیٹھے ہوئے ہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے سامانِ علم و حکمت فراہم کررہے ہیں۔
پروفیسر شارب رُدولوی نے اپنی پوری زندگی تصنیف و تالیف او رتعلیم و تدریس میں گزاری ۔ کثیر تعداد میں کتابیں تحریر کیں اور سیکڑوں تحقیقی و تنقیدی مضامین لکھے۔ متعدد موضوعات پر ان کی لکھی ہوئی کتابیں آج حوالے کے طور پر استعمال کی جاتی ہیں۔ تنقید،تحقیق، مرثیہ اور شاعری ان کے تحقیق کے میدان رہے ہیں، خصوصاً اردو تنقید کے موضوع پر انھوں نے بیش بہا اور گراں قدر کارنامے انجام دیئے ہیں۔ حالانکہ انھوںنے متعدد کتابیں لکھیں ، لیکن فنِ تنقید پر لکھی ہوئی ان کی ایک کتاب’جدید اردو تنقید اصول و نظریات‘ کو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی ۔ تنقید کے موضوع پر شارب صاحب کی دوسری کتابیں معاصر اردو تنقید مسائل و میلانات (ترتیب ) (1994)، تنقیدی مطالعے (1984)، تنقیدی مباحث (1995)، تنقیدی عمل (2015)شائع ہوکر منظر عام پر آچکی ہیں۔ ان کتابوں سے جدید اردو تنقید پر ان کے اختصاص کا علم ہوتاہے۔ علاوہ ازیں دہلی کے خصوصی حوالے سے شارب صاحب کی ایک تنقیدی کتاب ’آزادی کے بعد دہلی میں اردو تنقیدی‘ (ترتیب ) 1991 میں شائع ہوئی۔ شاعری کی تنقید کے حوالے سے شارب رُدولوی کی کتاب جگر فن اور شخصیت (1961)، افکارِ سودا (1972)، انتخاب غزلیات سودا مع مقدمہ (1992) ، اردو مرثیہ (ترتیب )(1993)، مراثیِ انیس میں ڈرامائی عناصر (1959)، مرثیہ اور مرثیہ نگاری (2006)اور اسرارالحق مجاز (مونوگراف )(2009)نہایت عالمانہ تنقیدی کتابیں ہیں۔ مجاز پر لکھے گئے ان کے مونو گراف کو مجاز فہمی پر ایک استنادی اور دستاویزی کام تصور کیاجاتاہے۔ علاوہ برایں گُلِ صدرنگ (1960) با حیات غزل گو شعرا کا انتخاب (1960) او رمطالعہ ولی (1972) بھی ان کی اہم تنقیدی کتابیں ہیں۔
پروفیسر شارب رُدولوی کی حیات اور تنقیدی خدمات پر ڈاکٹر عرشیہ جبیں نے یونیورسٹی آف حیدرآباد میںپی ایچ ڈی کا مقالہ داخل کیا تھا ،جو 2005 میں کتابی شکل میں بہ عنوان ’’شارب رُدولوی شخصیت او رتنقید نگاری ‘‘ منظر عام پر آیا۔ ڈاکٹر حسن مثنیّٰ نے شارب صاحب کی شخصیت او رفن پر لکھے گئے متعدد مضامین کو ترتیب دیا اور’’شارب رُدولوی ،ادبی سفرکے پچاس سال ‘‘ کے عنوان سے یہ کتاب حُسامی بک ڈپو ،حیدرآباد سے 2012 میں شائع ہوئی ۔
بیسویں صدی کے ترقی پسندوں میں پروفیسر شارب رُدولوی کی ایک انفرادی شناخت قائم ہے۔ یہ شناخت ایک اعتدال پسند ناقد کی حیثیت سے انھیں حاصل ہے ۔ شارب رُدولوی کا اصل نام مسیب عباس ہے، لیکن انھیں شارب رُدولوی کے نام سے شہرت حاصل ہے۔ بنیادی طور پر وہ ایک استاد تھے، لیکن جدید تنقید اور تنقید کے اصول و نظریات پر ان کی گہری نظر تھی ۔ ان کی پہلی تنقیدی کتاب ’مراثیِ انیس میں ڈرامائی عناصر‘ 1959 میں شائع ہوئی ،جس کے بعد ان کی تنقیدی نگارشات کا سلسلہ ان کی زندگی بھر جاری رہا۔ شارب صاحب دہلی یونیورسٹی او رپھر جواہر لعل نہرو یونیورسٹی ، نئی دہلی میں 39 سال تک درس و تدریس سے وابستہ رہے۔ انھیں ان کے گراں قدر ادبی کارناموں کے اعتراف میں متعدد اعزازات و انعامات سے نوازا گیا۔
پروفیسر شارب رُدولوی کی تنقید نگاری کو یہاں اس لیے موضوع بنایاگیا ہے کہ انھوں نے اپنے عہد کے دیگر ناقدین سے بالکل الگ ایک راہ نکالی، جو جدید تنقید اور اس کے اصول و نظریات سے بحث کرتی ہے ۔ ’جدید اردو تنقید، اصول و نظریات ‘کے عنوان سے باضابطہ ان کی ایک مستند کتاب ہے جس کے اب تک سات ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں ۔ اس سے اس کتاب کی مقبولیت کا اندازہ لگایاجاسکتاہے۔ یہ کتاب پہلی بار 1968 میں شائع ہوئی تھی۔ تنقید نگاری کوئی آسان کام نہیں ۔ اس کے لیے ناقد کوبہت سے علمی، ادبی، فنّی او رمطالعاتی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس کے اصول و ضوابط کی پابندی کرنی پڑتی ہے۔ پھر آخر میں اپنا تنقیدی نظریہ پیش کرنا ہوتاہے، جسے ہم دوسرے لفظوں میں استخراج نتائج بھی کہہ سکتے ہیں، جو ایک تحقیقی اصطلاح ہے۔ تنقید میں تحقیق بھی کارفرما ہوتی ہے اور اگر ناقد تخلیق کار ہے تو وہ اور بھی بہتر تنقیدی فریضہ انجام دے سکتاہے۔ کلیم الدین احمد ایک شدت پسند ناقد کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کی تنقیدی انتہا پسندی نے بڑے بڑے ادبی بُتوں کو پاش پاش کرکے رکھ دیا، لیکن تنقیدی اصولوں کی روشنی میں انھوں نے یہ عمل انجام دیا۔ ان کی تنقید سے ہنگامہ ضرورپیدا ہوا لیکن ادب کو کسی نہ کسی اعتبار سے فائدہ ضرور ہوا۔ تنقید اور شاعر ی کے حوالے سے ان کے تنقیدی جملے ضرب المثل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہاں کلیم الدین احمد کی کتاب’اردو تنقید پر ایک نظر‘ سے ماخوذ ایک اقتباس نقل کرنا مناسب معلوم ہوتاہے ، جس میں انھوںنے تنقید جیسے مشکل فن کے متعلق اظہار خیال کیا ہے:
’’تنقید کوئی کھیل نہیں، جسے ہر شخص بآسانی کھیل سکے ۔ یہ ایک فن ہے ، ایک صنّاعی ہے، فن ہر طرح کے ہوتے ہیں، مشکل بھی او رآسان بھی۔ تنقید مشکل ترین فن ہے۔ ہر فن کی طرح اس کے بھی اصول و ضوابط او راغراض و مقاصد ہیں۔ ادب اور زندگی میں اس کی مخصوص اور قیمتی جگہ بھی ہے۔ اسی لیے ہر کس و ناکس ایک نقّاد کے فرائض انجام نہیں دے سکتاہے۔ بات یہ ہے کہ شاعر او رانشاپرداز کی طرح نقاد بھی چند مخصوص اوصاف کا حامل ہوتاہے ، جواسے عوام سے ممّیز کرتے ہیں ۔ اسے فنِ تنقید کے ہر پہلو سے واقفیت ہوتی ہے۔ شاعری کی طرح وہ بھی لطیف اور حساس قوتِ حاسّہ رکھتا ہے او ردوسری زبانوں کے بہترین ادب سے واقفیت رکھتا ہے۔ اس واقفیت کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ جو کچھ پڑھے، اس سے متاثر ہونے کی صلاحیت رکھتا ہو، اپنے تاثرات کو محفوظ رکھ سکے او رانھیں دوسرے تاثرات کے ساتھ ترتیب دے کر ایک نیا مرتب و مکمل نقش تیار کر سکے۔ نقاد میں یہ بھی طاقت ہوتی ہے کہ وہ شاعر کے دماغ میں سما کر اس کے ہر تجربے کے ہر عنصر کو سمجھ سکتاہے اور خود سمجھ کر دوسروں کو سمجھا بھی سکتا ہے ۔ وہ اس تجربے کی قدر و قیمت کا اندازہ کرتاہے اور اس سلسلے میں اپنے ذاتی خیالات، جذبات اور رجحانات کو وقتی طور پر بھول جاتاہے۔ اردو نقاد میں یہ اوصاف نہیں ملتے ، ہر شخص اپنی پسند یا نفرت کا اظہار کرتاہے او ربزعمِ خود ایک جلیل القدر نقاد بن بیٹھتا ہے ‘‘ ۔ (اردو تنقید پر ایک نظر، کلیم الدین احمد، بک امپوریم سبزی باغ ، پٹنہ ، ص 16-17)
کلیم الدین احمد نے تنقید او رناقد کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے یہ بتا دیاہے کہ تنقید مشکل ترین فن ہے۔ اس کے اصول و ضوابط ہیں۔ ناقد کو دوسری زبانوں کے بہترین ادب سے واقفیت ہونی ضروری ہے ۔ انھوںنے یہ بھی لکھا ہے کہ نقاد جو کچھ پڑھے، اسے جو تأثرات حاصل ہوں، اسے ترتیب دے کر ایک مکمل نقش تیار کرسکے اور وہ ذاتی خیالات، جذبات اور رجحانات کو وقتی طور پر بھول کر اپنا محاکمہ پیش کرے جو جذباتیت سے عاری ہو اور جس میں صداقت ہو۔ کلیم الدین احمد نے اردو نقاد کو مذکورہ اوصاف سے عاری قرار دیاہے اور لکھا ہے کہ آج کا اردو ناقد اپنی پسند او رنفرت کا اظہار تو ضرور کرتاہے لیکن تنقید کا فریضہ بخوبی نہیں نبھاتا ہے بلکہ وہ خود کو ایک بڑا نقاد تصور کرتا ہے ۔ انھوں نے تنقید کے حوالے سے جو باتیں لکھی ہیں، اس سے کوئی بھی ذی فہم وذی علم انکار نہیں کرسکتاہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ معاصر ناقدانِ ادب میں یہ تمام صفات کہاں پائی جاتی ہیں، جن کا ذکر کلیم الدین احمد نے کیاہے۔ اس اقتباس کی روشنی میں اگر پروفیسر شارب رُدولوی کی تنقیدی بصیرت کا جائزہ لیں، تو بڑی حد تک مذکورہ بیشتر صفات ان کی تنقید نگاری میں دیکھی جاسکتی ہیں۔
پروفیسر شارب رُدولوی جدید عہد کے ان ناقدین میں شامل ہیں، جو تنقید کے اصول و نظریات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کسی تخلیقی فن پارے کو پرکھتے اور سمجھتے ہیں اور پھر اس کے متعلق کوئی حتمی رائے قائم کرتے ہیں۔ بیشتر ناقدین کا حال تو یہ ہے کہ وہ تجزیہ نگار بن جاتے ہیں یا تحقیق کی سنگلاخ وادی میں خود کو گم کردیتے ہیں۔ جب کہ تنقید کا تقاضہ یہ ہوتا ہے کہ کسی بھی تخلیق کو غیر جانبداری کے ساتھ اس طرح دیکھا اور پرکھا جائے کہ اگر خامیاں نمایاں کی جائیں تو اس کی خوبیاں بھی واضح ہوسکیں۔ شارب صاحب نے یہ کام بحسن و خوبی انجام دیا۔ انھوںنے تنقیدی اصولوں کو پیش نظر رکھا اور پھر اپنی ناقدانہ بصیرت کو بروئے کار لاکر تنقیدی نظریہ قائم کیا۔ ان کی تنقیدی انفرادیت کا ذکر کرتے ہوئے احمد ابراہیم علوی نے بڑی متوازن رائے قائم کی ہے:
’’پروفیسر شارو رُدولوی نے اردو تنقید کو تحقیق کا موضوع بنا کر ایک مشکل کام اپنے ذمہ لیا۔ انھوںنے اصول و نظریات سے بھی واسطہ رکھا، جب کہ انھیں احساس تھا کہ ’ مقدمۂ شعر و شاعری ‘ کے بعد آج تک اردو میں تنقید کی سیکڑوں کتابیں لکھی گئی ہیں، لیکن یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ تنقیدی اصول اور مسائل پر حالی کے بعد کسی نے باقاعدگی سے کام نہیں کیا۔ پروفیسر شارب سرسری طور سے کسی تحریر کو دیکھ کر کوئی فیصلہ کردینے کے کبھی قائل نہیں رہے۔ ان کی تنقیدی کوششوں پر نظر دوڑانے سے واضح ہوتاہے کہ وہ تخلیق کو پرکھنے میں حتی الامکان ایمانداری برتتے ہیں۔ اس لیے ان پر جانب داری کا الزام عائد نہیں ہوسکتا‘‘ ۔ (اردو تنقید اور شارب رُدولوی ، احمد ابراہیم علوی، مشمولہ شارب رُدولوی، ادبی سفر کے پچاس سال، مرتبہ ڈاکٹر حسن مثنّٰی، حسامی بک ڈپو، حیدرآباد ، 2012، ص 65)
تنقیدی اصول اور مسائل کی جہاں تک بات ہے تو حالی کے بعد اب تک کسی نے بھی اس موضوع پر کوئی بھر پور کام نہیں کیاہے۔ موجودہ عہد میں تو اس سلسلے میں کوئی حوصلہ افزا کام بھی نہیں ہورہاہے جس کی روشنی میں یہ کہا جاسکے کہ حالی کی روایت کی توسیع ہورہی ہے بلکہ اس پہلو پر انجمادی کیفیت طاری ہے۔ اس حوالے سے شارب صاحب نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ :
’’یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ تنقیدی اصول او رمسائل پر حالی کے بعد کسی نے باقاعدگی سے کام نہیں کیا۔ اب تک جتنا بھی کام ہواہے وہ زیادہ تر عملی تنقید سے متعلق ہے ۔ ایسے لوگوں کی تعداد انگلیوں پر گنی جاسکتی ہے جنھوںنے اپنے مضامین میں ادبی مطالعہ کے اصول و نظریات سے بحث کی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ چند مضامین تنقید سے دلچسپی رکھنے والوں کی رہنمائی کے لیے ناکافی ہیں‘‘ ۔ (دیباچہ ، جدید اردو تنقید اصول و نظریات، ڈاکٹر شارب رُدولوی ، اتر پردیش اردو اکادمی، لکھنؤ، 2002، ص 13)
شارب رُدولوی کی اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ حالی کے بعد اصول تنقید اورنظریات پر خاطر خواہ کام نہیں ہوا ہے۔ دوسری طرف اگر فکشن تنقید کی بات کریں ، تو اس سلسلے میں بھی ہمیں حوصلہ افزا کارنامے نظر نہیں آتے ہیں۔ فکشن تنقید کی صورت حال تشفی بخش نہیں ہے۔ نئی نسل کے ناقدین نے فکشن تنقید پر خصوصی توجہ دی ہے ، لیکن ان کے نام بھی انگلیوں پرگنے جاسکتے ہیں۔ ان میں بھی بعض وہ ناقدین ہیں جو احباب پروری اور ’’من تراحاجی بگویم تومُرا ملّا بگو‘‘ کی ڈفلی لے کر جدید تنقید کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہیں۔ جن معاصرناقدین نے فکشن کی تنقید پر خامہ فرسائی کی ہے یا وہ ابھی بھی اس سلسلے کو جاری رکھے ہوئے ہیں، ان پر ادب کے جغادریوں کی نظرِالتفات نہیں جاتی ہے۔ اس کی وجہ ذہنی تحفظات ہی قرار دیاجاسکتاہے۔ ابوالکلام قاسمی نے تو فکشن تنقید کی مایوس کن صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے یہاں تک لکھ دیا ہے کہ :
’’یہ کہتے ہوئے خاصی’خفّت‘ آمیز بات لگتی ہے کہ ایک صدی سے زیادہ عرصہ گزرجانے کے باوجود ہنوز ’فکشن کی تنقید‘ کی کوئی ضابطہ بندی نظرنہیں آتی ۔ متفرق جزوی نکات او راصطلاحات کے بارے میں بعض اچھے بلکہ بہت اچھے مضامین لکھے گئے ہیں مگر جس طرح شاعری کی تنقید کو الطاف حسین حالی میسر آگئے ، فکشن کی شیرازہ بندی آج تک کسی حالی سے محروم دکھائی دیتی ہے ‘‘ ۔(اردو فکشن کے مضمرات ، ابوالکلام قاسمی ، ص 8)
ابوالکلام قاسمی نے سرے سے ہی بڑے بڑے فکشن ناقدین کی فکشن تنقید پر گراں قدر خدمات کے باوجود بھی انھیں قابل اعتنا نہیں سمجھا ،ورنہ وہ کم از کم مرزا حامد بیگ ، ارتضیٰ کریم ، سید وقار عظیم اور وارث علوی وغیرہ کے نام تو لے ہی سکتے تھے۔ساتھ ہی چند دیگر فکشن ناقدین میں اسلم جمشیدپوری، شہاب ظفر اعظمی اور احمد صغیر کو بھی اس فہرست میں شامل کرسکتے تھے ۔ بہر حال فکشن تنقید پر اب تک تو اتنا جامع اور وقیع کام نہیں ہوا ہے، جتنا ہونا چاہیے تھا۔ کیوں کہ افسانہ ایک صدی کا سفر طے کرچکاہے۔ اس لحاظ سے فکشن تنقید کے موضوع پر سیکڑوں کتابیں ، اب تک منظر عام پر آجانی چاہیے تھیں، لیکن یہ ممکن نہ ہوسکا۔ چند ایک نے کوششیں ضرور کیں، لیکن یہ روایت تیزی سے فروغ نہیں پاسکی ۔ فکشن تنقید کی شعریات کی ضابطہ بندی او رپروفیسر شارب رُدولوی کی جدید اردو تنقید کے حوالے سے اصول و نظریات وضع کرنے کی کوششوں کی ستائش کرتے ہوئے قدوس جاوید نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ :
’’فکشن تنقید کی شعریات کی ضابطہ بندی تو اردو ناقدین کے ناخن پر قرض ہے ہی، دوم یہ کہ مرحوم شارب رُدولوی نے اردو میں تنقید کے جو اصول وضع کرنے کی کوشش کی تھی، اسے بھی فراموش کردیاگیا ورنہ فکشن تنقید کی راہیں ہموار ہوسکتی تھیں‘‘ ۔(مضمون، معاصر اردو فکشن ،زبان، بیانیہ، آئیڈیالوجی او رجوابی ڈسکورس، قدوس جاوید، سہ ماہی فکر و تحقیق، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی، جنوری ۔مارچ، 2024، ص 13)
شارب صاحب کو جس کتاب نے تنقیدی دنیامیں شہرت دلائی ، وہ مشہور تصنیف ’جدید اردو تنقید اصول و نظریات‘ ہے ۔ اس کتاب میں مختلف نظریاتِ تحقیق سے بحث کی گئی ہے۔ یہ کتاب جدید اردو تنقید خصوصاً ترقی پسند تنقید کے اصول و ضوابط اورنقطۂ نظر پر مشتمل نہایت عمدہ توضیحی تصنیف ہے۔ اس کتاب میں ترقی پسند تنقید کی تشریح اور تفہیم کی بہترین کوشش کی گئی ہے۔ سب سے پہلے انھوںنے ترقی پسند تنقید کو نظریاتی اورعملی دو حصوں میں تقسیم کیاہے۔ بعد ازاں انھوںنے نظریاتی حصے میںاصول تنقید کو لے کر وضاحتی طور پر ان پر الگ الگ بحث کی ہے۔ شارب صاحب نے نظریاتی تنقید کی بحث بڑی خوبصورتی کے ساتھ وضاحتی انداز میں کی ہے۔ جیسے کہ رومانی تنقید، نفسیاتی تنقید، تاثراتی تنقید، تاریخی تنقید، مارکسی تنقید اور بعد ازاں ان تمام کی مجموعی صورت کو سائنٹفک تنقید کے نام سے کتاب میں پیش کیاہے۔ ترقی پسندی سے منسوب مختلف انداز تنقید اور دبستانِ نقد پر شارب صاحب نے نہایت مدلل انداز میں بحث کی ہے اور بعض مقامات پر تفہیمی انداز بھی اپنایا ہے۔ انھوںنے بالکل آسان زبان اور سہل انداز میں تنقید کے مختلف دبستانوں کو قاری کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہاں سائنٹفک تنقید کے متعلق شارب صاحب کے نظریئے کو سمجھنے کی کوشش کے طور پر ان کی کتاب سے ماخوذ یہ اقتباس دیکھتے ہیں:
’’سائنٹفک تنقید ادبی تخلیقات اور فنکار سے متعلق تمام مباحث کو اپنے اندر سمولیتی ہے اور جمالیاتی، نفسیاتی ، سماجی اور مروجہ خیالات کی روشنی میں فنی تخلیق کی اہمیت کا پتا لگاتی ہے ۔ یہ نظریۂ تنقید ادبی فضا میں ایک ایسے ذریعے کا کام کرتی ہے ، جو ادب کے سمجھنے میں معاون و مددگار ہوتاہے … سائنٹفک تنقید کی یہی خوبی ہے کہ کسی بھی فنی کارنامے کے تجزیئے میںاگر ایک طرف وہ فنکار ، شخصیت ،اس کے تاثرات ، جمالیاتی اقدار اور فنی صنعت گری کو نگاہ میں رکھتی ہے، تو دوسری طرف سماجی تغیرات اور طبقاتی کشمکش سے پیدا ہونے والے حالاتِ حقیقت کا شعور اور مادی حالات کی روشنی میں فنی تخلیق کا تجزیہ کرتی ہے اور ہمارے سامنے اس کے نتائج پیش کرتی ہے‘‘ ۔(جدید اردو تنقید اصول و نظریات ، ص 355)
’جدید اردو تنقید ،اصول و نظریات‘ کتاب کی خاص بات یہ نہیںہے کہ اس میں مختلف تنقیدی دبستانوں اوران سے وابستہ نقادوں کے نظریات سے بحث کی گئی ہے اور مصنف نے اپنے نظریات کی توضیح و تشریح کی ہے بلکہ اس کتاب کی دوسری اہم ترین خصوصیت یہ ہے کہ اس کے مختلف ایڈیشن میںنئے تنقیدی رجحانات کااضافہ بھی کیاگیاہے۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم و جدید اصول و نظریات پر مشتمل یہ اب تک کی تمام تنقیدی تصنیفات میںایک نہایت معتبر، مستند اور دستاویزی کتاب تصور کی جاتی ہے۔ اس کے باوجود پروفیسر سید محمد عقیل رضوی کا یہ کہنا ہے کہ :
’’بہر حال شارب کا اردو تنقید میں سب سے اہم کام جدید اردو تنقید اصول و نظریات ہے ، مگر اب یہ کام بھی نظرثانی چاہتا ہے کہ اردو تنقید اب بہت آگے جاچکی ہے ‘‘ ۔ (شارب کے تنقیدی سروکار، پروفیسر سید محمد عقیل رضوی، مشمولہ شارب رُدولوی، ادبی سفر کے پچاس سال ، ص 93)
یہ حقیقت ہے کہ اردو تنقید اب بہت آگے جا چکی ہے اور شارب صاحب کی کتاب نظر ثانی کی منتظر ہے ۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ شارب صاحب اب اس دنیامیں نہیں رہے اور اس بھاری پتھر کو چوم کر چھوڑدینے والوں کی ایک بڑی جماعت اردو تنقیدکی مسند پر براجمان ہے ، جو سہل پسندی کے خول میں لپٹی ہوئی ہے۔ لیکن اس کے باوجودموجودہ عہد کی تنقیدی روش سے امیدیں وابستہ ہیںکہ کوئی نہ کوئی ناقد ضرور آگے بڑھ کر شارب رُدولوی کی تنقیدی روایت کو آگے بڑھائے گا اور ہم یہ کہنے میں فخر محسوس کریں گے کہ :
ایں کار از تُو آید و مرداں چُنیں کنند
’جدید اردو تنقید اصول و نظریات ‘ نے جو سنگِ میل قائم کردیاہے اب اس کی توسیع کی ضرورت ہے ۔ ناقدینِ ادب جدید اردو تنقید کی مختلف تھیوریوں پر کام کر رہے ہیں او ریہ کام حوصلہ افزا بھی ہے لیکن شارب صاحب نے جو ایک ٹرینڈسیٹ کردیاہے ، اس روش کی پیروی کرتے ہوئے آگے کی تنقیدی راہیں ہموار کرنے کی کوشش ضرور کی جاسکتی ہے ۔ مذکورہ کتاب کی اہمیت اور عصری ضرورتِ نقد کے حوالے سے پروفیسر شبیہ الحسن نونہروی لکھتے ہیں:
’’جدید اردو تنقید اصول و نظریات ، اردو کے ذخیرہ میں گراں مایہ اور قابلِ قدر اضافہ ہے۔ اردو زبان میں عرصے سے کسی ایک مفصل کتاب کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی ، جس میں فنِ تنقید کے قدیم وجدید نظریات و میلانات کی نہ صرف منظم تشریح و توضیح ہو بلکہ خود اردو تنقید اور نقادوں کے مختلف مکاتب فکر کی بھی مناسب روش بندی ہو۔ ڈاکٹر شارب رُدولوی کی متذکرہ بالا کتاب نہ صرف ایک عصری ضرورت کو پورا کرتی ہے بلکہ ان توقعات کو بھی پورا کرتی ہے جو ایسی اہم اور ہمہ گیر تحقیق و جستجو سے وابستہ ہوسکتے ہیں‘‘۔ (مضمون، شارب رُدولوی کی تنقیدنگاری، شبیہ الحسن نونہروی، ماہنامہ آج کل ، نئی دہلی، دسمبر 1971، ص 43)
اردو میں تنقید کا آغاز شعراے اردو کے تذکروں سے ہوتاہے ۔ یہ بیشتر تذکرے فارسی میں لکھے گئے ۔ ان تذکروں میں شعرا کے حالات زندگی ، ان کے منتخب کلام او ران پر تذکرہ نگارکی رائے پائی جاتی ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ تذکرہ نگاروں نے ایمانداری کے ساتھ محاسن ومعایبِ شعرا نہیں لکھے، بلکہ اس میں جانب داری ، اور مبالغہ آرائی کا مظاہرہ کیا۔ لیکن اس کے باوجود ان میں تنقیدی اشارے کہیں کہیں ضرور مل جاتے ہیں، جن کی بنیاد پر اردو تنقید نے اپنی تنقیدی عمارت کھڑی کی۔ یہ تذکرے نہایت اہمیت کے حامل تصور کیے جاتے ہیں او رادب میں خصوصاً اردو تنقید کے حوالے سے ان تذکروں کی اہمیت سے انکار نہیں کیاجاسکتا ۔ پروفیسر شارب رُدولوی نے شعراے اردو کے تذکروں کی اہمیت کے حوالے سے لکھا ہے کہ :
’’تذکروں میں ان تنقیدی اشاروں کی بڑی اہمیت ہے ۔ دراصل ہماری جدید تنقیدکی دنیایہی اشارے ہیں۔ تذکروں کے مطالعے سے اندازہ ہوتاہے کہ تذکرہ نگار جس شاعر کا ذکر کرتا ہے اس کے کلام پر خود بھی رائے دیتاہے۔ یہ رائیں عام طور پر ذوق او روجدان پر مبنی ہیں۔ اس لیے ایسی رایوںمیں میانہ روی کم نظر آتی ہے ۔ یہ رائیں یا تو تعریف میں زمین و آسمان ایک کردیتی ہیں یااعتراض میں عیب چینی تک پہنچ جاتی ہیں۔ لیکن بہت سی رائیں محاسن و معایب کو نگاہ میں رکھ کر دی گئی ہیں۔ اس لیے اس قدیم طرزِ تنقید میں یہ رائیں بھی کافی اہمیت رکھتی ہیں۔ دوسری چیزجو ان تذکروں کے مطالعے سے سامنے آتی ہے، یہ ہے کہ بعض تذکروں میں اردو شعرا کا مقابلہ فارسی شعرا سے کیاگیا ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتاہے کہ وہ کن شعرا سے زیادہ متاثر تھے۔ یہ مقابلے مختصر ہونے کے باوجود نہایت اہم ہیں‘‘۔(جدید اردو تنقید اصول و نظریات، ص 160)
تذکروں کے حوالے سے شارب رُدولوی کی متوازن رائے سے یہ نتیجہ اخذ کیاجاسکتا ہے کہ وہ ایک اعتدال پسند ناقد تھے۔ انھوںنے تذکروں کے ساتھ ساتھ مولانا محمد حسین آزاد کی پہلی تنقیدی کتاب ’آب حیات‘پر بھی اظہار خیال کیاہے۔ انھوں نے اس بات کا اعتراف بھی کیاہے کہ سب سے پہلے مولانا آزاد ہی نے تنقیدی خیالات کا اظہار نہایت آزادانہ طور پر کیاہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ’آب حیات‘ پہلی تنقیدی کتاب ہے جس میں تذکروں کے بعد تنقیدی افکار و خیالات نمایاں طور پر نظر آتے ہیں ۔ حالانکہ بعض ناقدین نے آب حیات کو بھی تذکرہ شمار کیاہے ، اور اسے تنقیدی زمرے سے الگ قرار دیا ہے۔ شارب صاحب ایسے ناقدین کی آرا سے اتفاق نہیںکرتے ہیں بلکہ وہ ’آبِ حیات‘ کو سب سے پہلی تنقیدی کتاب قرار دیتے ہیں:
’’تذکروں کے فوراً بعد ہمارے سامنے ’آب حیات‘ کا نام آتاہے۔ اگر تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو سب سے پہلے جدید تنقیدی خیالات کا اظہار آزاد ہی نے کیاہے… ’آب حیات‘ کو بعض ناقدین صرف تذکرہ نہیں کہہ سکتے ۔ کیوں کہ اس میں اوردوسرے تذکروں کے انداز میں خاصا فرق ہے۔ تذکروں کی تکنیک ’آب حیات‘ سے بالکل جدا ہے۔ آب حیات دراصل ہماری پہلی ادبی تاریخ ہے ، جس میں تذکرے کی خصوصیات بہت کم ہیں‘‘ ۔ (ایضاً، ص 162)
اردو کے شدّت پسند نقاد پروفیسر کلیم الدین احمد نے اردو تنقید کو فرضی قرار دیتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ ’’اردو میں تنقید کا وجود محض فرضی ہے۔ یہ اقلیدس کا خیالی نقطہ ہے یا معشوق کی موہوم کمر‘‘ (اردو تنقید پر ایک نظر ) لیکن شارب رُدولوی نے کلیم الدین احمد کے اس دعوے کی تردید کی ہے اور اسے انتہا پسندی سے تعبیر کیا ہے ۔ اس سلسلے میں وہ لکھتے ہیں کہ :
’’اردو میں تنقید کے وجود سے بعض نقادوں نے انکار کیاہے اور اسے ’’اقلیدس کا خیالی نقطہ یا معشوق کی موہوم کمر‘‘ سے تعبیر کیاہے۔ مگر ان کا یہ خیال غلط ہی نہیں بلکہ انتہا پسندی پر مبنی ہے ۔ اردو میں کسی نہ کسی صورت میں تنقیدی رجحانات کا وجود ہر دور میں نظر آتا ہے۔ شعرا کے کلام اور تذکروں کے بعد آبِ حیات اور مقدمۂ شعر و شاعری اس کی روشن مثالیں ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ انحطاط پذیر عہد میں ایک جمود تھا اور اس میں کوئی ایسی تحریک نظر نہیں آتی جس کو بہترین تخلیقی یاتنقیدی تحریک کہا جاسکے، مگر عہدِ تغیّر میں ہمیں اس کے بالکل برعکس نظر آتا ہے۔ تخلیقی قوت کی بیداری کے ساتھ تنقیدی قوت بھی نظر آتی ہے ۔ اس میں تجسس اور فکر کے جذبے نے نئے نئے راستے نکالے ہیں اور عملی تنقید کے لیے راہیں ہموار کی ہیں۔ اس لیے اردو تنقید کے وجود سے انکار کرنا ناممکن ہے ‘‘۔(ایضاً، ص 164)
شارب رُدولوی نے پروفیسر احتشام حسین کی تنقیدی روش کو پیش نظر رکھتے ہوئے تنقیدی خدمات انجام دی ہیں۔ انھوںنے توازن کو کبھی بھی اپنی تنقید میں ہاتھ سے جانے نہ دیا۔ جو کچھ بھی لکھا، اس سے پہلے گہرائی سے اس کے متعلق غور وفکر کیا اور پھر اس کے متعلق اپنی متوازن تنقیدی رائے قائم کی جس میں شدت پسندی یا انتہا پسندی کا عمل دخل نہیں دکھائی دیتا ہے۔ اپنی تنقید میں انھوںنے حتی الا مکان ایمانداری کو ملحوظ خاطر رکھا ۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی نقاد یا ادیب نے انھیں جانب دار نقادنہیں کہا ہے۔ جب کہ ہر دور میں ایسا ہوا ہے کہ تنقید نگاروں نے اپنے اپنے گروہ بنالیے اور اپنے حلقے کے فنکاروں کی تخلیقی کاوشوں کو نمایاں طور پر پیش کرتے رہے اور جو اُن کے حلقے کے باہر کے ادیب و تخلیق کار تھے انھیں قابل اعتناہی نہیں سمجھا اور اگر ان کے سامنے یہ مجبوری آگئی کہ انھیں ان کے حلقۂ ادب کے باہر کے تخلیق کاروں پر لکھنا پڑا تو ان کی تنقید جارحانہ بن گئی اور یہ روش آج بھی موجود ہے۔ عصری تنقیدی منظر نامہ تعصب ، تنگ نظری، کج فہمی اور جانبداری سے مُرصّع نظر آتا ہے۔موجودہ ناقدین کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے گروہ کے باہر کے فن کاروں پر قلم اٹھاتے وقت ایمانداری ، دیا نتداری اور غیر جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اللہ ماشاء اللہ ، استثنائی صورتیں ہر میدانِ عمل میں پائی جاتی ہیں۔ شارب رُدولوی اردو تنقید کی بے راہ روی سے پوری طرح واقف تھے، اس لیے انھوںنے احتیاط سے کام لیا او راعتدال کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے تنقیدی فیصلے صادر کیے ۔ انھوںنے حتمی فیصلے کرنے سے ہمیشہ احتراز کیا، وہ تنقید میں موازانہ کا پہلو پیش نظر نہیں رکھتے اور نہ ہی درجۂ فضیلت کو سامنے رکھ کر اول، دوم، سوم اور چہارم درجات کے خانوں میں فن کاروں کو بانٹتے ہیں۔ ان کی خاص بات یہ ہے کہ وہ انگریزی ، عربی یا فرانسیسی فلسفیوں ، ناقدین او رشاعروں کے حوالے نہیں دیتے بلکہ اپنی دیسی زبان اردو پر بھروسہ کرتے ہوئے ادبی ماحول، ادیب، ادیب کی زندگی اور اس کے فتوحات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنی تنقیدی بصیرت کا اظہار کرتے ہیں۔ احمد ابراہیم علوی کے مطابق:
’’آج کے بیشتر اردو تنقید نگار کسی خاص ضرورت کے اردو تخلیقات کا موازنہ انگریزی سے کرتے ہیں۔ اور اس کے بعد اردو تخلیق کو حقارت سے بے فیض ثابت کردیتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنی عظمت اور علمی معلومات کی دھونس جمانا چاہتے ہیں۔ پروفیسر شارب رُدولوی اس علّت سے پاک نظر آتے ہیں۔ وہ اردو کی تحریر کو ، اس کے ماحول او رحالات کی روشنی ہی میں دیکھتے ہیں۔ اسی لیے ان کی تحریر میں اپنی قدروقیمت کو بڑھالینے کی صلاحیت نظر آتی ہے‘‘۔(اردو تنقید اور شارب رُدولوی ، مشمولہ شارب رُدولوی ادبی سفر کے پچاس سال ، ص 67)
شارب صاحب کی تصنیفات میں اسرارالحق مجاز پر لکھا ہوا ایک مونوگراف بھی شامل ہے ، جو 2009 میں ساہتیہ اکادمی ،نئی دہلی سے شائع ہوا۔ مجاز پر لکھا ہوا ان کا یہ مونوگراف بھی تحقیقی و تنقیدی نقطۂ نظر سے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ مجاز کے بارے میں ان کی یہ رائے کہ مجاز پڑھنے میں بہت اچھے نہیں تھے، چونکا نے والی ضرور ہے ، لیکن صداقت پر مبنی ہے ۔ چنانچہ وہ اس سلسلے میں لکھتے ہیں:
’’مجاز نے جو شہرت اور مقبولیت علی گڑھ میںاپنی طالب علمی کے زمانے میںحاصل کی ، وہ ان کے ساتھی شاعروںمیں کسی کو نہیں ملی، لیکن وہ ایک اچھے طالب علم نہیں ثابت ہوے۔ مجاز کا مزاج ہی نصابی تعلیم اور تدریسی پابندیوں کا حامل نہیں تھا۔ ان کے یہاں ایک آزادہ روی تھی۔ کلاس میں پابندی سے بیٹھنا اور معمولی طالب علموں کی طرح نوٹس بنانا اور یا دکرنا ان کی سیمابی طبیعت کے خلاف تھا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ذہانت میںکسی سے کم تھے یاغبی طالب علم تھے۔ وہ مختلف موضوعات پر اپنے ساتھیوں سے بہتر معلومات رکھتے تھے اور بے حد ذہین انسان تھے۔ کسی موضوع پر گفتگو میں وہ اپنے ہم عصروں اورہم جماعتوں سے آگے ہی رہتے تھے۔ وہ عام ڈگر کے انسان نہیں تھے‘‘ ۔ (مونوگراف اسرارالحق مجاز،شارب رُدولوی ، ساہتیہ اکادمی،نئی دہلی، 2009، ص 33)
مجاز کے بارے میں شارب صاحب کی بیباک رائے سے ان کی تنقیدی روش کا اندازہ ہوتا ہے ۔یہاں انھوںنے مجاز کے دونوں پہلوئوں پر بیباکی سے اظہار خیال کیاہے ۔ ایک یہ کہ وہ بیحد ذہین تھے اور دوسرا یہ کہ ان کا مزاج نصابی تعلیم اور تدریسی پابندیوں کا متحمل نہیں تھا۔ مجاز شناسی کے حوالے سے مذکورہ کتاب میں موجودتحریریں اضافہ کا درجہ رکھتی ہیں۔شارب صاحب مجاز کی شاعری اور ان کی فکری و تخلیقی روش کو تنقیدی نظریئے سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں:
’’مجاز کی غزلوں کی ایک خوبی اس میں ہم کلامی کا انداز ہے ۔ ان کے اشعار پڑھتے وقت یہ نہیں محسوس ہوتا کہ وہ بڑی بڑی باتوں سے مرعوب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں بلکہ معلوم ہوتا ہے کہ جیسے وہ کسی ہمدم و دمساز سے گفتگو کررہے ہیں۔ ان کے اشعار اپنی تمام لطافت کے باوجود سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ وہ ایک جذبۂ بے چین کے شاعر ہیں۔ ان کے یہاں تصوف کو ایک فکر کی شکل میں تلاش کرنا درست نہیں ہوگا۔ لیکن تصوف ہماری زندگی سے الگ کوئی چیز نہیں ہے ۔ وہ اردو شاعری کے خمیر میں شامل ہے۔ مجاز کی شاعری میں خاص طور پر غزل میں ارادتاً ایسے موضوعات نہیں آتے۔ ان کے یہاں تو عشق کی ایک ترنگ ہے۔ زندگی سے عشق، خوبصورتی سے عشق ، انسانیت سے عشق ، جس میں کبھی وہ محبوب سے باتیں کرتے ہیں، کبھی خود اپنے سے اور کبھی ہم نشین سے :
تو جہاں ہے زمزمہ پرواز ہے
دل جہاں ہے گوش برآواز ہے
ہم نشیں دل کی حقیقت کیاکہوں
سوز میں ڈوبا ہوا اک ساز ہے
تجھے ڈھونڈتا ہوں تری جستجو ہے
مزا ہے کہ خود گم ہوا چاہتا ہوں‘‘
(ایضاً، ص 115)
ترقی پسندوں میں مجاز کو ایک خاص مقام اس لیے بھی حاصل ہے کہ انھوں نے اپنی شاعری میں نعرہ بازی سے احتراز کیا اور مقصدیت کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا استعمال کیا۔ شارب صاحب نے ترقی پسندی کے تناظر میں بھی مجاز کی شاعری کو پرکھنے کی کوشش کی ہے۔ موجودہ تناظر میں مجاز شناسی کی سعی کی ہے تاکہ مجاز کے شعری امتیازات کھل کر سامنے آسکیں اور ان کی ادبی حیثیت کا تعّین ہوسکے۔ چنانچہ ترقی پسندی کے تناظر میں مجاز کی شاعری کے اوصاف و محاسن کا احاطہ کرتے ہوئے شارب رُدولوی نے یہ رائے قائم کی ہے:
’’اردو شاعری میں مجاز کی حیثیت ترقی پسند فکر کے معمار کی ہے۔ ان کے یہاں موضوعاتی شاعری ضرور ہے لیکن انھوںنے ترقی پسند شاعری کا ایک معیار قائم کیا۔ مشکل یہ ہے کہ مجاز کے بعد بلکہ ان کے زمانے ہی میں شاعری پر سیاست کا غلبہ ہونے لگا۔ بلند آہنگی اور راست بیانی کو شعری حسن قرار دیا جانے لگا۔ اس شور میں مجاز کی شاعری دبی تو نہیں لیکن اس کی فنّی خوبیوں اور خوبصورتی کی طرف توجہ کم ہوگئی ۔ مجاز کے یہاں ابتدا میں جس کلاسیکیت کا ذکر کیاگیاہے وہ دراصل صرف کلاسیکیت نہیں ایک خاص طرح کی شائستگی اور تہذیب ہے۔ وہ بہت نرمی سے بات کرتے ہیں ۔ محبت میں ناکامی کے باوجود وہ محبوب کی بے وفائی کاشکوہ نہیں کرتے ۔ وہ پہلے عاشق ہیںجو محبت میں اپنی ناکامی کا الزام محبوبہ کے بجائے زمانے کے قوانینِ کہن اورآئینِ فرسودہ پر رکھتے ہیں‘‘۔(ایضاً، ص 121)
’’اسرارالحق مجاز‘‘ کے عنوان پر مشتمل مونوگراف میں شارب صاحب نے مجاز کی زندگی کے مختلف نامعلوم گوشوں کے علاوہ متعدد غلط فہمیوں اور ان سے منسوب غلط روایات کی تردید بھی کی ہے بلکہ انھوںنے مجاز کے ساتھ گزارے گئے اپنی زندگی کے قیمتی لمحات کا بھی ذکر کیاہے۔ مجاز کی عشقیہ ، رومانی اور ان کی دیگر مشہور غزلوں اورنظموں کا بھر پور احاطہ کرتے ہوئے ان کی ادبی اہمیت کو بھی اُجاگر کیاہے اور آخر میں چند غزلیں اور نظمیں بھی انتخاب کے طور پر شامل کی ہیں، لیکن یہاں تشنگی کا احساس ہوتا ہے ۔ مجاز کی اور بھی بہترین نظمیں اور غزلیںمونوگراف کے آخر میں دی جاسکتی تھیں۔ بہر حال یہ مونوگراف مجاز شناسی کے باب میں ایک اہم اضافے کی حیثیت رکھتا ہے۔ علی احمد فاطمی نے اس مونوگراف او رمجاز کے حوالے سے نہایت متوازن رائے قائم کی ہے :
’’شارب صاحب پہلے نقاد ہیں جنھوں نے مجاز کے فکر و فن کو تہذیب عاشقی اور شائستگی علم و ہنر کے حوالے سے دیکھا اور بار بار اس کا اعادہ کیا۔بظاہر یہ کتاب مجاز پر ایک مختصر ساکام ہے ، محض ایک مونوگراف ہے لیکن شارب رُدولوی نے اسے نہایت عرق ریزی، جرأت مندی اور تحقیق و تنقید کے تمام مطالبات کو پورا کرتے ہوئے اسے نہایت دلکش و لائقِ مطالعہ بنادیا ہے جو بلاشک و شبہ ایک اضافے کی حیثیت رکھتا ہے او رمجاز فہمی کے ضمن میں یہ ایک نیا باب و اکرتا ہے ‘‘۔(مجاز فہمی کا ایک نیا باب ، مشمولہ شارب رُدولوی ادبی سفر کے پچاس سال، ص 126)
پروفیسر شارب رُدولوی کی پہلی تنقیدی کتاب ’’مراثیِ انیس میں ڈرامائی عناصر‘‘ 1959 میں ہی منظر عام پر آکر مقبولیت حاصل کرچکی تھی۔ اس پہلو سے مراثیِ انیس کا کسی ناقدیا ادیب نے مطالعہ نہیں کیا تھا، لیکن شارب صاحب کی فکری جدت او رذہنی اُپج کا یہ کمال ہے کہ انھوںنے اس اچھوتے موضوع پرقلم اٹھایا اور اس کے ساتھ انصاف بھی کیا۔ پروفیسر احتشام حسین کے مطابق ’’میر انیس پر یوں تو اردو ادب میں بے شمار مضامین اور کتابیں لکھی گئی ہیں اور ان کے مرثیوں کے کئی گوشوں کی نشاندہی کی گئی ہے، لیکن میر انیس کے مرثیوں میں ڈرامائی عناصر کو پہلی بار تلاش کیاگیاہے ‘‘۔ احتشام حسین نے ’مراثی انیس میں ڈرامائی عناصر ‘کے مقدمے میں اس بات کا ذکر کیاہے۔ ڈاکٹر عرشیہ جبیں نے اپنی تحقیقی کتاب ’ شارب رُدولوی شخصیت اور تنقید نگاری ‘کے صفحہ نمبر 244 پر لکھا ہے کہ’’ مراثیِ انیس میں ڈرامائی عناصر نہ صرف یہ کہ مرثیے کے مطالعہ کے لیے ایک نیا پہلوپیش کرتاہے بلکہ اس مطالعہ کے نکات پر جس تفصیل اور جس مدلل انداز میں شارب رُدولوی نے روشنی ڈالی ہے ، ان کی مرثیے کی تنقید میں ہمیشہ اہمیت رہے گی۔انھوںنے مرثیے کے مطالعہ کے اس پہلو کے تمام امکانات پر روشنی ڈالی اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اس کا مقصد مرثیہ کوڈراماثابت کرنا نہیں ہے۔ یہی توازن شارب رُدولوی کی تنقید کی خصوصیت ہے ‘‘ ۔’مراثی انیس میں ڈرامائی عناصر‘ کے مقدمہ میں شارب صاحب نے یہ واضح کردیاہے کہ ظاہری طور پر ڈرامہ سے مرثیوں کا کوئی علاقہ نہیںہے۔ چنانچہ جب اکثر ناقدین نے میر انیس کے مراثی پر یہ اعتراض کیاکہ ان کے مرثیوں میں مقامی رنگ کی جھلک دکھائی دیتی ہے ۔ تو اس کی تردید کرتے ہوئے شارب صاحب نے لکھا کہ مرثیہ نگار کے لیے یہ ضروری تھا کہ وہ مقامی رنگ کی آمیزش مرثیوں میںکرے، کیوںکہ گھنٹوں تک مراثی کے مجالس میں لوگوں کی توجہ برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر تھا تاکہ واقعات اور کرداروں سے وہ قربت محسوس کرسکیں۔ مراثی انیس میں جو ڈرامائی کیفیت پیدا ہوتی ہے اور اس میں ایک اسٹیج آتا ہے ، جس میں تصاویر ، مناظر اور تصادم کی کیفیات سے سامع یاقاری روبرو ہوتا ہے ، اس حوالے سے شارب رُدولوی لکھتے ہیں:
’’میر انیس کی مرثیہ نگاری کا کمال یہ ہے کہ انھوں نے مرثیہ جیسی صنف میں ڈرامے کے پورے لوازم کے ساتھ اس کے عنصر کو مرثیے میں سمودیا ہے کہ جب ہم مرثیہ پڑھتے یاسنتے ہیں تو ہمارے عالمِ خیال میں ایک اسٹیج آجاتا ہے ۔ جس میں اس طرح کی تصاویر آتی اورجاتی رہتی ہیں۔ اس طرح مناظر اور سین بھی بدلتے رہتے ہیں ۔ اسی طرح تصادم Conflict سامنے آتا ہے جس طرح کہ کسی تھیٹر یاہال میں بیٹھ کر ہم ڈرامے میںدیکھتے ہیں۔ ظاہری تصادم لڑائی، جنگ کی صورت میں سامنے آتا ہے لیکن اس کے بھی دو حصے ہوجاتے ہیں۔ پہلا عملی تصادم جسے ہم جنگ کہہ سکتے ہیں اور دوسرا جذباتی تصادم‘‘۔ (مقدمہ، مراثی انیس میں ڈرامائی عناصر ، شارب رُدولوی ، 1959، ص 106)
میر انیس پر جس پہلو سے شارب صاحب نے کام کیاہے وہ اپنی نوعیت کا انفرادی تنقیدی کارنامہ ہے ۔ اس پہلو پر کسی نقادیا محقق کی نظر نہیں گئی تھی ، لیکن شارب صاحب نے میر انیس کے مرثیوں میں ڈرامائی عناصر ڈھونڈ نکالے اور پوری ایک کتاب لکھ ڈالی ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ کتاب ان کی سب سے پہلی تنقیدی کتاب ہے جو 1959 میں منظرِ عام پر آئی جس کا ذکر آچکا ہے ۔ مراثی پران کی دوسری تحقیقی و تنقیدی کتابیں بھی شائع ہوئیں او رانھیں بھی مقبولیت حاصل ہوئی۔
مراثی کے علاوہ دوسرے موضوعات خصوصاً اردو شاعری اور متعدد معاصر و کلاسیکی شعرا کے ساتھ ساتھ معاصر ناقدین پر بھی شارب صاحب نے مقالے اور کتابیں لکھی ہیں۔ سائنٹفک نقطۂ نظر سے ان شعرا کے کلام کا جائزہ لیا ہے اور اپنی رائے ظاہر کی ہے ۔ جگر مرادآبادی جنھیں بقول جگر شراب نے انھیں مارا تھا، ان کے بارے میں اپنی کتاب ’تنقیدی مباحث‘ میں تنقیدی نقطۂ نظر سے سائنٹفک نقاد کے طور پر اظہار خیال کیاہے ۔ جگر کا مشہور شعر ہے :
سب کو مارا جگر کے شعروں نے
اورجگر کو شراب نے مارا
شارب رُدولوی کی نظر ان کی شاعری کے جس پہلو پر پڑی، اس پہلو کو حسن و عشق سے تعبیر کرتے ہوئے یہ لکھا ہے کہ:
’’جگر کے یہاں حسن و عشق زندگی کی تہذیب کا نام ہیں۔ وہ کہا کرتے تھے کہ شراب پینے کی بات اور ہے لیکن رندی بڑی مشکل سے آتی ہے۔ جگر کا عشق بھی ایک طرح کی رندی تھی۔ جسے انھوں نے زندگی بنالیا تھا اور جس کو انھوں نے رواداریوں ، مروتوں اور احترام انسانیت کے رنگوں سے سجا رکھا تھا۔ ان کی اسی دل نوازی اور شائستگی نے انھیں اپنے عہد کا محبوب بنادیا تھا‘‘ ۔(جگر ایک نغمۂ فراموش، مشمولہ، تنقیدی مباحث ، شارب رُدولوی، 1995، ص 191)
جگر کو اور جگر کی شاعری کو جس انداز سے شارب صاحب نے پیش کیاہے ، اس سے یہ احساس نہیں ہوتا ہے کہ جگر ایک شراب نوش شاعر تھے بلکہ یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ انسانی اقدار کا ایک اعلیٰ نمونہ تھے۔ جگر نے واقعتا احترام انسانیت کے رنگ میں اپنی رندی کوشرابور کررکھا تھا۔ قدرت کا کمال یہ ہے کہ آخری دورِ زندگی میں جگر شراب سے تائب ہوکر نعت گو شاعر بن گئے تھے۔ بقول جگر مرادؔ آبادی:
اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں
فراق گور کھپوری اپنے عہد کے نمائندہ شاعر تسلیم کیے جاتے ہیں۔ وہ ایک ناقد بھی تھے لیکن ان کی شاعری کے آگے ان کی تنقید کا رنگ پھیکا پڑگیا۔ تنقیدی نظریات پر ان کی کوئی باقاعدہ کتاب نہیں ہے لیکن ان کے مختلف مضامین میں ان کی تنقیدی فکر اُجاگر ہوتی ہے۔ انھوںنے بہت کچھ لکھا ہے ۔ ان کی یہ تحریریں ’ اندازے‘ ، ’حاشیے‘ اور’ اردو کی عشقیہ شاعری ‘ جیسی کتابوں میں موجود ہیں۔ شارب صاحب نے ان کی تنقید نگاری کے متعلق بے باک رائے قائم کی ہے اور یہ لکھا ہے کہ :
’’فراق کی تأثراتی تنقید بعض جگہ شدتِ تاثر میں ایسی شکل اختیار کرلیتی ہے ، جسے متشاعرانہ تنقید کا نام دیا جاسکتا ہے ۔ اس قسم کی تنقید تأثراتی تنقید کی پہلی منزل ہوتی ہے، جس میں ’’واہ ‘‘ اور ’’آہ‘‘ کے نعروں کے علاوہ کچھ نہیںہوتا ۔ اس طرح کا انداز فراق کے یہاں بعض جگہ خصوصیت کے ساتھ نمایاں ہوگیاہے ‘‘ ۔(جدید اردو تنقید اصول و نظریات ، ص 311)
ڈاکٹر محمد حسن جدیداردو تنقید کے ناقدین میں شمار کیے جاتے ہیں۔ انھوں نے نظریاتی اور ادبی مسائل پر بہت کچھ لکھا ۔ ان کی یہ تحریریں اردو تنقید کا بیش بہا سرمایہ ہیں۔ ڈاکٹر محمد حسن کے تنقیدی امتیازات کے متعلق شارب رُدولوی کی یہ رائے ہے کہ :
’’ڈاکٹر محمد حسن نے تنقید کو ذاتی رائے زنی ، ذاتی تعصبات او رترجیحات سے بلند کرکے ایک علمی اور فلسفیانہ سطح دینے کی کوشش کی ہے۔ ان کی تنقیدی بصیرت اورہمہ گیر فکر کا ثبوت ان کے تنقیدی مضامین کے مجموعے ’ادبی تنقید‘ ، ’شعر نو‘ اور اردو میں اپنے موضوع کی پہلی کتاب ’ دہلی میں اردو شاعری کا فکری و تہذیبی پس منظر ‘ میں ملتا ہے۔ انھوںنے تنقید کو تحقیق کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی بنیاد ڈالی ہے۔ اپنی نسل کے نقادوں میں اس لحاظ سے وہ ایک نمایاں او رممتاز حیثیت رکھتے ہیں کہ جدید اور قدیم ادب دونوں پر ان کی گہری نظر ہے ‘‘۔ (ایضاً، ص 384)
اسی طرح اردو کے ممتاز ناقد حسن عسکری کے بارے میں بھی شارب صاحب نے کھل کر لکھا ہے۔ عسکری مغربی ادب سے مرعوب نظر آنے والے ناقد ہیں اور اسی عینک سے وہ جدید اردو تنقید کو دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی تنقید میں تنقید سے زیادہ رائے زنی پائی جاتی ہے۔ حسن عسکری کی تنقیدی فکر او راسلوب نقد کے حوالے سے شارب صاحب کا یہ نظریہ ہے کہ :
’’حسن عسکری کی تنقیدوں میں دور جحانات نمایاں طور پر ملتے ہیں۔ ایک تأثراتی اور دوسرا نفسیاتی۔ اس لیے ان کو دونوں رجحانات کی نمائندگی کرنے والے ناقدوں میں شمارکیا جاتا ہے۔ لیکن ان کے یہاں دونوں رجحانات میں انتہا پسندی ہے۔ وہ تنقید سے زیادہ رائے زنی کرتے ہیں۔ وہ جس کے قائل نہیں ہیں یاجن باتوں کو مانتے نہیں ہیں، اس کا ذکر کرتے وقت ان کے لہجے میں تحقیر کا اندازنمایاں ہوجاتا ہے جوکہ صحت مند تنقید کی علامت نہیں ہے‘‘ ۔(ایضاً، ص 320)
مذکورہ تین اقتباسات جو فراق، محمد حسن اور حسن عسکری کے تعلق سے ہیں، شارب رُدولوی کی مشہور تصنیف ’جدید اردو تنقید اصول و نظریات، سے ماخوذ ہیں۔ اس کتاب میں اور بھی بہت سے ناقدین مثلاً مہدی افادی، عبدالرحمن بجنوری، سجاد انصاری، شبلی نعمانی ، نیاز فتحپوری، اثر لکھنوی، مجنوں گورکھپوری ، رشید احمد صدیقی ، خورشید الاسلام کے علاوہ دیگر بہت سے جدید اردو ناقدین کے بارے میں تنقیدی بحث کی گئی ہے ، ان تمام کے اسماے گرامی کا ذکر یہاں ضروری نہیں ہے۔ یہ کتاب اپنے موضوع ، مواد ، ہیئت ، اسلوب او رتنقیدی فکرکی وجہ سے جدید اردو تنقید کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔
پروفیسر شارب رُدولوی کی تنقیدی بصیرت ، تحقیقی نظراور شاعرانہ فکر نے ایک ساتھ مل کر وہ ادبی دنیا تخلیق کی ہے جس کے نہاں خانوں میں ہم اردو ادب کے ایک نابغہ کی تلاش کرسکتے ہیں، جس نے اردو تنقید میں قابلِ تقلید اور لائق تحسین کارنامے انجام دیئے ہیں ۔ شارب صاحب نے انتہاپسندی کے دامن میں پناہ لینے کے بجائے توازن کے لبادے کو اپنایا اوراپنے تنقیدی نشانات چھوڑے۔ ان کی تنقیدی فکر اپنی نوعیت کی جداگانہ فکر ہے جس میں مرعوبیت نہیں ہے، انگریزیت کا غلبہ نہیں، مغربیت کی چھاپ نہیں بلکہ ایک دیسی پن ہے ۔انھوں نے مشرقی ادبی سرمائے کو مغربی تنقیدی سرمائے سے افضل تصور کرتے ہوئے اپنی تنقید کی بنیاد قائم کی اور اسی پر اپنی تنقیدی عمارت تعمیر کی جس کے زیر اثر سیکڑوں ادیب وناقدین اپنی زندگی کے شب و روز کو تعمیری و تنقیدی خدمات میں صرف کرنے میں کوشاں ہیں۔
اردو تنقید ابتدا سے ہی جانب داری ، تنگ نظری او راحباب پروری کاشکار رہی ہے۔ اس کا آغاز محمد حسین آزاد کی کتاب ’آب حیات‘ سے ہوتاہے او ریہ سلسلہ آج بھی جاری ہے ۔آج بھی بڑے عہدوں پر فائز ادبا و شعرا کے حوالے سے اردو ناقدین کا رویّہ نہایت محتاط ہوتاہے۔ ان کے بارے میں سخت تنقید کی ان ناقدین کے یہاں گنجائش نہیں ہوتی ہے بلکہ ان کے بارے میں تنقید کے بجائے تقریظ لکھے جانے کی روایت آج بھی مستحکم ہے۔ نَوواردانِ ادب کو تو وہ ناقدین قابل اعتنا سمجھتے ہی نہیں ہیں۔ کسی ادیب ، قلم کار، مصنف، شاعرکے نام کے ساتھ اگر پروفیسر ، ڈائرکٹر ، آفیسر کا سابقہ یا لاحقہ لگا ہوتاہے تو آج کے ناقدین ان کی تحریروں کو سطحی ہونے کے باوجود زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ ان کے بارے میں ستائشی کلمات تحریر کرتے ہیں، اور اسی ایک پہلو کو پیش نظر رکھتے ہوے اسے سند قبولیت عطا کرتے ہیں، جب کہ اس کے برخلاف جس ادیب کے نام کے ساتھ کوئی بڑے عہدے کا سابقہ یا لاحقہ نہیںہوتا ، اسے آج کے نام نہاد ناقدین قابلِ اعتناہی نہیں سمجھتے ۔ حالانکہ نَو واردانِ ادب پر ان ناقدین کی خصوصی توجہ ہونی چاہیے، کیوں کہ یہی ادیب مستقبل کے اہم ناقد و فن کار بن سکتے ہیں،شرط یہ کہ یہ ناقدین ان کی تحریروں کے حوالے سے تنقیدی رائے پیش کریں، جس میں خوبیوں اور خامیوں دونوں پہلوئوں پر روشنی ڈالی جائے۔ موجودہ تنقید عصبیت کا شکار ہوچکی ہے، جو ادب کے لیے کسی بھی طرح سود مند نہیں ہے۔ ناقدین کو اس جانب ضرورتوجہ دینی چاہیے ۔
معاصر اردو تنقید کے متعلق چند باتیں جملۂ معترضہ کے طور پر یہاں کہنے کی جسارت کررہاہوں ۔ وہ یہ کہ آج کی اردو تنقید بے راہ روی کا شکار ہوچکی ہے۔ نہ اصول ہیں اور نہ نظریات۔ نظریات کے نام پر ذاتی رائے زنی ہے اور اپنے حلقے کے ادیبوں شاعروں اور تخلیق کاروں کی ستائش وپذیرائی اور دوسروں کی تحقیر ۔ جدید ناقدین ادب کو وسعت نظری سے کام لیتے ہوے اور گروہ بندی سے اوپر اُٹھ کر تنقیدی سرمائے کو ثروت مند بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ جو تخلیقات ، ادبی شہ پارے یا تنقیدی وادبی تحریریں واقعتا وقیع اور ادب میں اضافے کا باعث ہوں، ان پر تنقیدی رائے دینی چاہیے۔ اس پرتنقیدی بحث ہونی چاہیے۔ علاوہ بریں مشاعروں سے وابستہ شعرا کے کلام کا بھی تنقیدی جائزہ لیا جانا چاہیے کیوں کہ اب یہ وقت کا تقاصہ ہے۔ منور رانا ، راحت اندوری ، وسیم بریلوی، بشیر بدر، نواز دیوبندی اورشکیل اعظمی وغیرہ کی تخلیقات کو بھی تنقید کی کسوٹی پر پرکھنے کی ضرورت ہے۔دوسری بات یہ کہ نئے لکھنے والوں کی تحریروں کو بھی قابل اعتنا سمجھ کر ان پر تنقیدی روشنی ڈالنی چاہیے، اگر وہ واقعی اہم ہوں۔ جو ادیب ، شاعر،فن کار یافکشن سے وابستہ تخلیق کار ادبی تخلیقات پیش کر رہے ہیں، وہ بھلے ہی کسی ادارے ، عہدے یا منصب سے وابستہ نہ ہوں، ان پر بھی توجہ دی جانی چاہیے۔ انھیں بھی یہ علم ہوکہ ان کی تحریروں میں کون سی خوبیاں ہیں اور کیاکمیاں ہیں۔ اس جانب توناقدین ہی ان کی توجہ مبذول کراسکتے ہیں۔ اس ضمن میں برسبیل تذکرہ میںاپنے ذاتی تجربے کو پیش کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔ وہ یہ کہ میری ایک تحقیقی کتاب ’تدوین متن کی روایت آزادی کے بعد‘ ‘ 2021میں منظر عام پر آئی۔ اس کتاب کو پاکستان کے ورلڈویو پبلشرز نے بھی لاہور سے شائع کیاہے او راتر پردیش اردو اکادمی، لکھنؤ نے اسے انعام اول سے نوازاہے۔ یہ کتاب ہندوستان کے تمام اہم کتب خانوں میں بھیجی جا چکی ہے ۔ علاوہ ازیں راقم الحروف نے یہ کتاب ہندوستان کے بیشتر نامور محققین ، پروفیسر زاور ناقدین کی خدمت میںبھیجی اوراس پراظہار خیال کی گزارش کی اور تقاضے بھی کیے، لیکن گوشۂ عافیت (Comfort Zone) میںرہنے والے پروفیسرزنے اس پرکچھ نہیں لکھا۔ ناقدین کی کوئی رائے منظر عام پرنہیں آئی اور محققین نے اس پر لکھنا کسر شان سمجھا۔کیوں کہ میرے نام کے ساتھ کسی عہدے کا سابقہ یالاحقہ نہیں لگا ہوا ہے۔ اس لیے میری تحقیقی کتاب پر توجہ نہیں دی گئی ۔ زبانی طور پر تعریف سبھوں نے کی کہ یہ اہم تحقیقی کام ہے لیکن اس پر قلم کسی نے بھی نہیں اٹھایا ۔ ایسی صورت میں مجھے یہ کیسے معلوم ہوگا کہ میری تحقیق میں کیا کمیاں ہیں اور کیا خوبیاں ۔ایک ناقدیا محقق تنقیدی اور تحقیقی نقطۂ نظر سے اس پر نظر ڈالتا تو مجھے اپنی غلطی یاکمی کا احساس ہوتا اور میں اس کمی کو دور کرتے ہوئے اپنی تحقیقی و تنقیدی نگارشات کو مستقبل و حال میں پیش کرتا۔ لیکن مسئلہ تن آسانی کا ہے اب کون بھلا اتنی ضخیم کتاب (832 صفحات پر مشتمل ) کو پڑھنے کی زحمت کرے گا جب کہ کتابوں کے مطالعے کا چلن بڑی حد تک کم ہوگیاہے بلکہ بڑے بڑے ناقدین اور محققین نے بھی اب پڑھنا چھوڑ دیاہے۔ لیکن اس کے باوجود موجودہ تنقیدی منظرنامہ مایوس کن نہیں ہے۔ ابھی بھی ایماندارناقدین تنقید کے مختلف دبستانوں کو ایمانداری سے سنبھالے ہوئے ہیں اور سامانِ نقد بہم پہنچارہے ہیں۔ان سے ہماری خوش گوار امیدیں وابستہ ہیں۔