معارف کی ادبی خدمات: ایک تحقیقی جائزہ
گلستاں ریاض
ریسرچ اسکالر،الہ آباد یونیورسٹی، الہ آباد
بلاشبہ اردو صحافت کی تاریخ میں اخبار ’’ جام جہا ں نما‘‘ کو اولیت کا امتیاز حاصل ہے، جو لالہ سدا سکھ کے زیر ادارت ۱۸۲۳ء میں کلکتہ کے افق سے نمودار ہوا اورذوق شناسوں کو اپنے مخصوص صحافتی طرز وآہنگ سے روشناس کرکے غروب ہوگیا۔ پھر اس کے ایک زمانہ بعد منشی نولکشور کے ’’اودھ اخبار‘‘ کاطوطی ملک میں عرصہ تک بولتا رہا۔ یہاں تک کہ انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں آسمان صحافت پر علمی وادبی صحافت کی کہکشاںسے جگمگا اٹھا۔ رسالہ مخزن، اردو ے معلیٰ، زمانہ، نگار، الناظر، انسٹی ٹیوٹ گزٹ، دلگداز اور الندوہ اس کی کہکشاں کے روشن وتابناک نجوم وکواکب تھے۔ جن کے قد آور اور کہنہ مدیران شیخ عبدالقادر، عبدالحلیم شرر، ظفرالملک، دیانرائن نگم، نیاز فتحپوری اور علامہ شبلی جیسے اساطین علم وادب دنیائے صحافت کی آبرو شمار ہوتے تھے۔
اہل علم وادب اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ معارف کی دیرینہ، علمی، ادبی، تحقیقی اورصحافتی خدمت وروایت کے سبب اس کے عقیدت مندوں کی لمبی فہرست ہے اور اس میں اضافہ ہی ہوتا جارتا ہے۔ معارف کو اگر فکروفن اور علم وتحقیق سے مرکب ایک شخص تصور کیا جائے اور یہ خیال کیاجائے کہ اپنی زندگی کے سوسال پورے کرکے اس نے اگلے سفر کے لیے دوسری صدی میں پوری توانائی کے ساتھ قدم رکھ دیا ہے تویقینا دل چاہے گا کہ اس کے علمی وادبی کارناموں اور تحقیقی وتنقیدی فتوحات کے ساتھ ساتھ اس کے شخصی وذاتی حالات و کیفیات کی داستان بھی سنی جائے کہ وہ کب عالم وجود میں آیا۔
’’معارف نے سیکڑوں علمی موضوعات اورمسائل پر اردو اسلامیات کی مختلف شاخوں پر مضامین کا اتنا بڑا ذخیرہ جمع کردیا ہے کہ جس سے علوم اسلامی کی انسائیلوپیڈیا مرتب کی جاسکتی ہ۔‘‘ (شاہ معین الدین احمدندوی)
علامہ شبلی کو جن علوم وفنون میں مہارت حاصل تھی، ان میں فن صحافت بھی ہے۔ اس فن سے اسرار وروموز سے وہ بحسن وخوبی واقف تھے۔ الندوہ مولاناے محترم کی صحافتی لیاقت و صلاحیت کے سبب سے خوب صورت مظہر ہے۔ الندہ کے اجرا کے پیچھے قوم وملت کو اپنی عظمت رفتہ سے واقف کرایا جائے چنانہچ حیات شعار کے آخری پڑاؤ میں جب انھوں نے دارالمصنفین کا خاکہ تیار کیا تو ان کے پیش نظر ایک علمی وتحقیقی رسالہ کا اجرا بھی تھا۔ اس کا نام ’’معارف‘‘ اغراض ومقاصد یہاں تک کہ اس کا اسٹاف بھی وہ متعین کرچکے تھے۔ لیکن عمر نے وفانہ کی اور ان کی زندگی میں معارف منظرعام پر نہ آسکا تاہم ان کے تحریر کردہ خاکے کے مطابق معارف جس شان کے ساتھ علمی وادبی دنیا میں جلوہ گراہوا اور اس کے بانی علامہ سید سلیمان ندوی نے اس اولین خاکے کی جس احساس ذمہ داری و دیانت کے سے اعانت کی کہاجاسکتا ہے کہ معارف اصل میں علامہ شبلی کا ہی خواب ہے جس کو ان کے دوسرے نامکمل منصوبوں کی طرح پایۂ تکمیل تک پہنچایا جانے کا سہرا ان کے حقیقی جانشین مولاناسید سلیمان ندوی کے سر ہے۔ (معارف کی کہانی، مدیران معارف کی زبانی، مصنف کلیم صفات اسلامی)
معارف کے واقعات ظاہر ہے مدیران معارف کے قلم سے دکھاتے ہیں۔ اس کے بانی مدیر سید سلیمان ندوی ہیں، انھو ں نے معارف کے متعلق کیا کچھ تحریر کیا ہے، ملاحظہ فرمائیں:
ظہور معارف: معارف کے واقعۂ ظہور کو وہ اس طرح بیان کرتے ہیں:
’’رسالہ معارف کا پہلا نمبر ہم رمضان المبارک ۱۳۲۴ھ کے مقدس مہینہ سے شروع کرتے ہیں کہ ہمارے تمام علوم ومعارف کی سب سے پہلی کتاب یعنی قرآن مجید اسی ماہ مقدس میں نازل ہوا تھا۔‘‘(شذرات سلیمانی، جلد اول)
کسی بھی کام یا رسالہ کی اشاعت کا وقت جب مقر ر ہوتا ہے اور وقت مقررہ پر وہ کام انجام پاجاتا ہے تو یقینا اس میں بہتری اورخوش سلیقگی کے تقریباً تمام اسباب و مظاہر موجود ہوتے ہیں، لیکن اگر کسی سبب سے تاخیر ہوتی ہے تو اس کا اثر اس کام پر نمایاں ہونے لگتا ہے۔ معارف کے ساتھ بھی یہی اصول رہا۔
معارف نے شروع سے اپنا وقت متعین کیا اس میں فرق آیا توسہولت کے لحاظ سے اس نے اپنا وقت اشاعت وائل ماہ میں کردیا۔ معارف کی اشاعت کی تبدیلی اوقات کا تعلق معارف کی آپ بیتی سے ہے۔ اس لیے اس کی زندگی کا یہ وقت بھی ملاحظہ ہو:
’’دوتین مہینہ سے رسالہ کی ترتیب اور اشاعت میں فرق آگیا ہے۔ اس کا اصلی سبب یہ ہے کہ ان دنوں زیادہ سفر میں اور کئی کئی ہفتے مرکز سے دور رہنا پڑا۔ یہ نمبر بھی ایڈیٹر کی غیرحاضری میں مرتب ہوا ہے۔ شروع سال یعنی جولائی ۱۹۱۸ء سے ارادہ ہے کہ رسالہ کا وقت اشاعت آخر ماہ کے بدلے اوائل ماہ میں کردیاجائے۔ امید ہے کہ اس انتظام سے ناظرین کومہینہ کے اندر رسالہ جایا کرے گا۔‘‘
معارف کے طلب گاروںاور قدردانوں میں ایسے تھے جو تاخیر یا نظام ڈاک کی بدانتظامی کے سبب رسالہ نہ ملنے پر دفتر سے دوبارہ معارف بھیجنے کی درخواست کرتے تھے، جس سے معارف کو خسارہ کا خمیازہ بھگتنا پڑتا تھا۔ سید صاحب نے معارف کا نقصان سے بچانے کے مقصد سے خریداروں کو مقامی ڈاک خانوں سے رجوع کرنے کامشورہ دیا۔ معارف کے بارے میں سلیمان ندوی لکھتے ہیں:
’’معاف جس طرح اور جس شان سے نکل رہا ہے ہمارے اکثر کرم فرما تو اس پر قانو ہیں اور اس کو وہ اس حیثیت میں بھی اردو رسائل کی صف میں مہلت کرسی دینے پر تیار ہیں لیکن ہمارے حلقۂ احباب میں ان سے بلندنظر اصحاب بھی جوکہتے ہیں:
مابایں قدر نہ تو راضی نیستم اندر سخن
شلپا سحراست ایں اعجاز می بایست کرد
رسائل کی دنیا میںمعارف کی بہت سی اولیات ہیں۔ جن میں سے ایک رسالہ کے مضامین کو مختلف ابواب میں تقسیم کرنا ہے اور اس میں بھی اس سے پہلے اس کے دو دور گزرے ہیں، پہلا ۱۹۱۶ء سے اپریل ۱۹۱۹ء تک اوردوسرا ۱۹۱۹ء سے اس وقت تک کہ ۱۹۴۳ء ہے، معارف سے مضمون کی خشکی اورموضوعات کی سنجیدگی کے باوجود قدردانوں میں مقبولیت حاصل کرلی تھی بالخصوص اس کی سادگی اورمشمولات کے حسن ترتیب وتدوین نے بہت سے لوگو ںکادامن دل اپنی جانب کھینچا اور اس اپنی حیثیت کو باقی رکھنے کے لیے اس کی موجودہ ترتیب میں ردوبدل کرنا مناسب سمجھا اورناظرین معارف کو اس تبدیلی سے نہ صرف آگاہ کیا بلکہ اس کی منطقی توجیہ بھی تحریر کی۔ فرماتے ہیں:
’’رسالہ کیایسی پسند آئی کہ اس کی تقلید شروع ہوگئی اور معارف کے امتیاز میں شرکت کا عیب بیدار ہوگیا، اس وقت سے جی چاہ رہا تھا کہ اس میں کوئی تغیر کیا جائے۔ اتفاق یہ کہ جنگ کی وجہ سے انگلینڈ، امریکہ اورمصر کے رسائل کی آمد بند ہوگئی تاہم اس وقت تک اس ترتیب کو چلایا جاتا رہا لیکن پیش پا افتادہ مضامین کی تلخیص اور اخبار علمیہ کی تراوش آمد کے بجائے آورد ہوتی جارہی ہے اس لیے اس ترتیب میں ادل بدل مناسب معلوم ہوا۔‘‘
معارف نے اپنے بنیادی مقاصد میں اکابرسلف کی سوانح عمریوں کی ترتیب واشاعت بھی رکھی ہے اورمقالات کے تحت اس نے سیکڑوں شخصیتوں کے حالات شائع کیے ہیں۔ اس کے اس مقصد کو ذرا وسیع کیاجائے تو یقینا عہدحاضر کے باکمال محققین وادبا و شعرا بھی آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے سلف شمار ہوں گے۔
معارف کے اعلیٰ علمی وتحقیق معیار اور اس کی صحافتی عظمت وبلند پائیگی کا اعتراف تو ایک رسالے نے کیا اور آج بھی الحمدللہ اس کا نام اہل علم کی زبان پر احترام سے آتا ہے لیکن اس نے اپنی عظمت پر ناز کرنے کے بجائے بارگاہ ایزدی میں ہمیشہ جذبات تشکر پیش کیے لیکن اس نے اپنی عظمت پر بار کرنے کے بجائے بارگاہ ایزدی میں ہمیشہ جذبات تشکر پیش کیے اور ساتھ ہی اگر اس سے دانستہ یا نادانستہ کوئی علمی یا تحقیقی غلطی سامنے آئی توخندہ پیشانی کے ساتھ نہ صرف اس کا اعتراف کیا بلکہ اس کے اسباب سے ناظرین کو آگاہ کیا۔
رسالہ معارف ایک ایسے وقت کی مرہون منت ہے جس وقت ملکی سطح پر عوام کی رہنمائی کے لیے آئیڈیل کی اشدضرورت تھی۔ا ہل علم نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ اردو کے دیگر اخبارات ورسائل نے ان کے مضامین پر حوصلہ افزا ریویو لکھے، ملک کے روشن خیال طبقہ نے بحیثیت مجموعی اس کو رفعت عطا کی۔ معارف کے اغراض ومقاصد کو سید سلیمان ندوی نے ان لفظوںمیں اظہارخیال کیا ہے۔
(۱)فلسفہ حال کے اصول اور اس کا معتدبہ حصہ پبلک میں لایاجائے۔
(۲)عقائد اسلام کو دلائل عقلی سے ثابت کیاجائے۔
(۳)علوم قدیم کو جدید طرز پر ازسرنو ترتیب دیاجائے۔
رسالہ معارف کو اردو دنیا کے ماہانہ رسایل میں سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے۔ اس حقیقت کا اعتراف ملکی اور غیرملکی ادیبوں نے بھی کیا ہے۔ مثلاً مولانا ابوالکلام آزاد کے بقول:
’’صرف یہی ایک پرچہ ہے باقی ہر طرف سناٹا ہے۔‘‘ بحمداللہ شبلی مرحوم کی تمنائیں رائیگاں نہیں گئیں۔‘‘
جناب آصف حنفی کیمبرج سے لکھتے ہیں:
’’معارف میں ڈاکٹرنکلسن پر جو کچھ لکھاگیا اس کو انھوںنے پسند فرمایا۔‘‘
معارف کے اجرا کا زمانہ ہندوستان کی تاریخ کا پُرآشوب دور تھا۔ پہلی جنگ عظیم کی آگ کے شعلے علم وادب کوبھی اپنے لپیٹ میں لیے ہوئے تھے، علمی وتحقیقی مضامین لکھنے والے خال خال تھے،معارف نے صور بیداری پھونکا اور لکھنے والوں کا ایک حلقہ پیداکیا۔ اس کے اثر سے نئے اور پرانے دونوں طبقے متاثر ہوئے۔ پرانے طبقہ کو اس نے مذہب اسلام اور اسلامی علوم وفنون ، نئے طریقوں سے آشنا کیا، جدید طبقہ جو اپنے ماضی کی عظمت سے ناواقف تھا، اس کو تاریخ اور علوم وفنون کی طرف متوجہ کیا، بقول شاہ معین الدین احمدندوی:
’’معارف نے سیکڑوں علمی موضوعوں او رعلوم اور رسائل اسلامیات کی مختلف شاخوں پر مضامین کا اتنا بڑا ذخیرہ جمع کردیا، جس سے اسلامی انسائیکلوپیڈیا مرتب کی جاسکتی ہے۔‘‘ (دارالمصنفین کی تاریخ اور علمی خدمات)
معارف سید صاحب کی رہنمائی میں ہر مقصد کی یافت میں کامیاب رہا۔ ان کے انتقال کے بعد شاہ معین الدین احمدندوی نے اس کی نظامت کی ، اس کے بعد سید صباح الدین عبدالرحمن کی خدمت کی جب انھیں معارف کی خدمات تفویض کی گئیں تو ان کی عظیم اوروسیع صلاحیتوں کامبصرانہ انداز جس سے وہ نہ صرف بہ خوبی عہدہ برآئے بلکہ معارف کی تمام خصوصیات سے اس کو باقی رکھا۔ ان کے بعد بعدالسلام قدوائی، مولانا ضیاء الدین اصلاحی، اشتیاق احمدظلی، مولانا کلیم صفات اصلاحی، ظفرالاسلام خاں وغیرہ نے معارف کی خدمات انجام دی اور یہ وراثتی خدمت آج تک جاری اور انشاء اللہ آئندہ بھی جاری رہے گی۔
رسالہ معارف کی ادبی خدمات ایک ایسا گوشہ ہے جس کی روشنی علمی گوشوں سے کم نہیں ہے،خشک زمینوں پر ادب کے گل بوٹے بکھیرنا، معارف کے خمیر میں ہے۔ ایک خاص قسم کی نفاست اور دلآویزی شبلی کی تحریری امتیازی خصوصیات ہیں او ریہی ان کی وراثت بھی ہے جس کا منبع دارالمصنفین اور اس کا رسالہ معارف ہے۔ معارف نے اردو ادب کو کتنی رفعتیں دیں۔ اردو ادب میں اس کے مقالات اور مضامین سو سال کی مدت کو محیط ہیں۔
’’آئندہ مورخ کا قلم جب ہندوستان کی علی ودینی صحافت کی تاریخ لکھے گا تو اسے معاف کو چاروناچار ایک بلندوممتاز مرتبہ اور ایک سنگ میل کا متیاز دینا ہوگا اوربتانا ہوگا کہ اس شمع نے ملت کے کتنے اندھیرے گھروں میں اجلا پھیلادیا اورپھر اسی ایک چراغ سے کتنے اور چراغ جلائے گئے۔‘‘ (عبدالماجد دریابادی)
معارف کی نسبت ملک کے مشہور اخبارات و رسائل نے جن قدردانہ الفاظ میں اظہار کیا ہے وہ ہمارے لیے نہایت حوصلہ افا ہے۔ ۱۹۳۱ء میں علامہاقبال نے ایک خط میں لکھا کہ:
’’معارف ایک ایسا رسالہ ہے جس کے پڑھنے سے حرارت ایمانی میں ترقی ہوئی ہے۔‘‘
اسی زمانے میں یعنی چند برسوں بعد مولانا محمد علی جوہر نے لکھا کہ:
’’اب تک میرے متعدد انگریزی رسالوں کی جلدیں نہیں بندھی ہیں، یہ شرف خاص معارف کو حاصل ہوگا کہ مجلدات تیار کرالی جائیں۔‘‘
مولانا آزادنے لکھا کہ:
’’صرف یہی توایک پرچہ ہے اور ہر طرف سناٹا ہے بحمدللہ کہ مولانا شبلی کی تمنائیں رائیگاں نہیں گئیں۔‘‘
ان تعریفوں کے باوجود کسی سستی یا سست روی کی گنجائش نہیں تھی ، انھیں مسلسل کوششوں سے معارف بہت جلد اس مقا پر پہنچ گیا جس کی توقع برسوں کی مسلسل محنت سے کی جاتی ہے۔