صوفی بستوی کی غزل گوئی: سادگی، معنویت اور عصری شعور
ظفرالنقی
شعبہ اردو ، خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیوسٹی، لکھنو
صوفی بستوی کا تعلق ضلع بستی سے ہونے کے باوجود ان کی شعری  وادبی تربیت لکھنؤ کےادبی و شعری ماحول میں ہوئی ۔انھوں نےنہ صرف لکھنؤ کی شعری روایت کو قریب سے دیکھا بلکہ خودکو پوری طرح سے یہاںکے ادبی و شعری ماحول سے ہم آہنگ کرلیا تھا ۔اگرچہ لکھنؤ کی ادبی و شعریحلقوں میں ان کا نام بہت معروف نہیں تھا تاہم وہ  یہاں کی ان شعری نشستوں میں برابر شرکت کرتے تھے جو کسی بھی شہراور قصبے کینئی نسل کی ذہنی آبیاری،فکری تربیت اور شعری ذوق کی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتی ہیں ۔مجھے بھی اسی نوعیت کی متعدد نشستوں میںصوفی بستوی کا کلام سننے کا موقع کا ملا اور مجھے یہ محسوس ہوا کہ ان کے شعروں کے اندر ایسے عناصر موجود ہیں جو ذہن و احساس پر ایک الگ نوعیت کے اثرات مرتب کرتے ہیںاور یہی وہ عناصر تھےجنہوں نےان کے شعری مجموعہ”  افکار صوفی ” کے مطالعے کی طرف مجھے مائل کیا۔اور ان کے مجموعۂ کلام افکار صوفی کا مطالعہ کرتے ہوئے جو سب سے اہم خوبی نظر آئی ،وہ ان کی سادگی ہے مگر یہی سادگی اپنے اندر ایک گہری معنویت اور فکری تہہ داری سموئے ہوئے ہے جو سامع کو ٹھہر کر سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ یہ کیفیت محض وقتی تاثر نہ تھی بلکہ اس نے ایک مستقل تجسس کو جنم دیا۔اسی تجسس کے زیراثر جب ان کا شعری مجموعہ ” افکارصوفی ” مطالعے کے لیے دستیاب ہوا تو پہلی ہی نظر میں متعدد اشعار نے دامن فکر کو اپنی جانب کھینچ لیا۔ یہ اشعار نہ صرف قاری کو متاثر کرتے ہیں بلکہ اسے غور و فکر کی ایک سنجیدہ فضا میں داخل کر دیتے ہیں۔ اس ابتدائی مطالعے کے دوران جو وصف سب سے زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آیا، وہ زبان پر شاعر کی مضبوط گرفت اور اس کے تخلیقی استعمال کی صلاحیت ہے۔معاصر عہد میںجہاں اردو شاعری میں لسانی بے احتیاطی، بیان کی سطحیت اور اسالیب کی بے راہ روی ایک عام رویہ بنتی جا رہی ہے،وہاں صوفی بستوی کا اسلوب ایک خوشگوار استثنا کی حیثیت رکھتا ہے۔ آج کے بہت سے شعرا زبان و بیان کی لغزشوں کو نہ صرف نظرانداز کرتے ہیں بلکہ ان کے جواز میں مختلف تاویلات بھی پیش کرتے ہیں۔ ایسے میں صوفی بستوی کا اپنے کلام میں زبان کی صحت، شائستگی اور فنی وقار کو برقرار رکھنا یقیناََ ایک قابل قدر ادبی کارنامہ ہے۔مزید برآںان کے یہاں زبان محض اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ تخلیقی تشکیل کا ایک فعال وسیلہ بن کر سامنے آتی ہے۔ وہ لفظوں کو برتنے کا سلیقہ رکھتے ہیں اور اپنی غزلوں میں اس طرح ڈھالتے ہیں کہ سادگی اور معنویت کے درمیان ایک متوازن رشتہ قائم ہو جاتا ہے۔ یہی توازن ان کے کلام کو نہ صرف فکری سطح پر مؤثر بناتا ہے بلکہ جمالیاتی سطح پر بھی اسے ایک امتیازی مقام عطا کرتا ہے۔صوفی بستوی کی فنی کامیابی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ سادگی کو سطحیت میں تبدیل نہیں ہونے دیتے۔ اُن کی زبان نہایت رواں، مانوس اور بے ساختہ ہےلیکن اس سادگی کے پس منظر میں کسی حدتک فکری اور جمالیاتی شعور کارفرما دکھائی دیتا ہے۔ 
صوفی بستوی کے مجموعۂ کلام ” افکار صوفی” کو پڑھتے ہوئے مجھے یہ احساس ہوا کہ صوفی جب اپنے بہترین تخلیقی لمحے میں ہوتے ہیں تو بہت ہی معنی خیز اشعار خلق کرتے ہیں اور وہ اشعار بہ ظاہر آسان فہم اور غیر پےچیدہ نظر آتے ہیں تاہم بہت آسان فہم اور غیر پے چیدہ نظر آنے والےان اشعار میں معنوی جہات و ابعاد موجود ہوتے ہیں اور جب قاری ان شعروں کے متن کے اندر پوشیدہ معانی ومفاہیم تک رسائی حاصل کرتا ہے تو وہ ایک طرح کی حیرت میں ڈال دینے والی خوشی محسوس کرتا ہے ۔اور صوفی بستوی کا کمال یہ ہے کہ اس کے لئے نہ تراکیب سازی کی ترکیب کا استعمال کرتے ہیں اور نہ کوئی پیچیدہ  استعاراتی نظام کی تعمیر کرتے ہیں بلکہ ان کے یہاں لفظ اپنی روزمرہ معنویت کے ساتھ وارد ہوتے ہیں لیکن شاعر کے تخلیقی لمس سے وہی مانوس اور عام الفاظ کسی حد تک غیر معمولی معنوی توانائی سے روشن اور منور ہوجاتےہیں۔گویا ان کی غزلوں میں اظہار کی سادگی کو سطحی سمجھنے کی کسی کو بھی غلطی نہیں کرنی چاہیے۔اب آئیےان کے کچھ شعروں کو ٹھہر ٹھہرکر اوررک رک کر پڑھتے ہیں:
وہیں پہ ٹھہرو نماز پڑھ لو 
کہ میں اذاں تک پہنچ رہا ہوں
دل میں اک ہوک سی اٹھنے لگی سرگوشی سے
ہم نے جو کان لگایا درو دیوار کے پاس
پیاس کی شدت لئے بیٹھا ہوں دریا کے قریب 
کون جانے کس کے آنے سے مٹے یہ تشنگی 
برسوں کی دھول اس پہ جمادی گئی ہے کیوں
کیوں آئینے ہمارے سنوارے نہیں گئے
اپنے دامن میں فقط گرد سفر لے جائے گا
جو بچی سانسیں ہیں ان کو اپنے گھر لے جائے گا
ایک ذرے کا حوصلہ دیکھو 
اس نے سورج سے دوستی کی ہے
موسم گل کی طرح باد بہاراں کی طرح 
رات سنگیت ہے سنگیت میں گم ہونے دو
جب شجر خوف میں گھرا ہےکوئی
ایک پتہ کہیں گرا ہے کوئی 
سودا انا کا آج یہ کرنا پڑا مجھے 
اک خیمۂ عدو میں بھی جانا پڑا مجھے 
تم نے اک بوند سے ہی پیاس بجھالی کیسے 
تشنہ لب برسوں رہا میں توسمندر کے قریب
پہلے شعر کی بنت جن الفاظ سے کی گئی ہے وہ اردو شاعری کے معاشرے میں عام فہم اور سادہ ہیں ۔اس شعر میں دو الفاط نماز اور اذان سریع الفہم ہونے کے باوجود بھی معنوی گہرائی رکھتے ہیں اور ان دو الفاظ کے اندر معنوی گہرائی پیدا کرنے کے لئے پہلے مصرعے میں ٹھہرو اوردوسرے مصرعے میں پہنچ رہا ہوں کا فقرہ استعمال کیا ہے اوراس کے ذریعے دو متضاد عمل توقف اور حرکت کو بیان کیا ہے۔اس طرح سے  یہ شعر محض ایک روزمرہ صورت حال کی ترجمانی نہیں کرتا بلکہ انسانی وجود کے روحانی سفر کی علامت بن جاتا ہےکیونکہ یہاں اذان صرف نماز کی اطلاع نہیں بلکہ بیداری، دعوت حق اور روحانی کشف کا استعارہ بن کر سامنے آتی ہے۔
دوسرے شعر میں بھی تعمیر معنی کے لئے کوئی ترکیب یا علامت کو استعمال نہیں کیا گیاہےبلکہ انھیں لفظیات کے ذریعے دونوں مصرعوں کی تشکیل کی گئی ہےجو کلاسیکی غزل کی روایت سے وابستہ ہیں ۔ دل، کان، در اور دیوار۔مگرانھوں نے انہیں مانوس الفاظ کے باہمی ربط سے ایک داخلی کرب اور تجسس کی فضا تشکیل دی ہے۔پہلے مصرعے میں ” دل میں اک ہوک سی اٹھنے لگی سرگوشی سے”  ایک داخلی اضطراب کی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے، جہاں ” ہوک ” ایک مبہم مگر شدید جذباتی ردعمل کی علامت بن کر سامنے آتی ہے۔ یہ ہوک کسی واضح سبب کی پیداوار نہیں بلکہ ایک ” سرگوشی ” کے نتیجے میں جنم لیتی ہے جو خود ایک غیرمرئی اور پراسرار وجود رکھتی ہے۔ یوں سرگوشی یہاں محض آواز نہیں بلکہ ایک پوشیدہ حقیقت، انجانی خبر یا لاشعوری احساس کا استعارہ بن جاتی ہے۔دوسرے مصرعے میں ” ہم نے جو کان لگایا در و دیوار کےپاس”  ایک علامتی عمل کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ در و دیوار عموماََبے جان اشیا ہیںمگر یہاں ان کے ساتھ ” کان لگانا”  ایک غیرمعمولی فعل ہےجو تجسس، اضطراب اور کسی مخفی حقیقت تک رسائی کی خواہش کو ظاہر کرتا ہے۔ اس طرح شاعر نے خارجی دنیا (در و دیوار) اور داخلی کیفیت (دل کی ہوک) کے درمیان ایک معنی خیز ربط قائم کیا ہے۔اس شعر کی معنوی ساخت میں ” دل ” اور ” کان ” کے درمیان ایک لطیف مناسبت موجود ہے؛ دل احساس کا مرکز ہے جبکہ کان سماعت کا وسیلہ۔ جب یہ دونوں عناصر سرگوشی اور ہوک کے ساتھ مربوط ہوتے ہیں تو ایک ایسا حسی و جذباتی تفاعل پیدا ہوتا ہے جو قاری کو الفاظ سے آگے لے جا کر تجربے کی سطح پر پہنچا دیتا ہے۔مزید برآں سرگوشی اور ہوک کے درمیان تضاد ایک داخلی کشمکش کو جنم دیتا ہےجو شعر کی تاثیر کو دوچند کر دیتا ہے۔ یہی تضاد قاری کے ذہن میں متعدد سوالات کو جنم دیتا ہے۔یہ سرگوشی کس کی ہے؟ کیا یہ خارجی آواز ہے یا باطن کی صدا؟ اور کیوں ایک معمولی سی سرگوشی دل میں ایسی گہری ہوک پیدا کر دیتی ہے؟یوں صوفی بستوی کا یہ شعر اس امر کی بہترین مثال ہے کہ کس طرح سادہ اور مروجہ الفاظ کے ذریعے ایک گہری اور تہہ دار معنویت تخلیق کی جا سکتی ہے۔ شاعر اپنی تخلیقی بصیرت سے مانوس لفظیات کو ایک نئے تناظر میں برتتے ہوئے قاری کو ایک ایسے معنیاتی سفر پر لے جاتا ہے جہاں ہر لفظ اپنی ظاہری سادگی کے باوجود باطنی پیچیدگی کا حامل بن جاتا ہے۔
صوفی بستوی کی غزلوں میں روشنی اور نور سے متعلق لفظیات اور تلازمات تواتر کے ساتھ استعمال ہوئے ہیں اور ان کے یہاںیہ نور اور روشنی سے متعلق لفظیات اور تلازمات محض شعری آرائش کا وسیلہ نہیں بلکہ ایک مکمل نظام معنی کی تشکیل کرتے ہیںاگر چہ اس نظام معنی میں تہ داری اور پیچیدگی نہیں ہوتی ہےتاہم اس کی سادگی، شفافیت اور حسی تاثیر میں ایک ایسی کشش ضرور موجود ہے جو ایک خاص حلقے کے قارئین کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ہم ان لفظیات و تلازمات کے ذریعے تعمیر کئے گئے شعروں میںجہان معنی سے متعلق مختصرگفتگو کرنے سے قبل ان کی ایک بارقرأت کرلیتے ہیں:
چاند سورج دھوپ موسم کے اشارے مل گئے 
تم کو دیکھا تو غزل کے استعارے مل گئے
اک دیا رکھ کے ہم نے چوکھٹ پر 
گھر کے باہر بھی روشنی کی ہے
فطرت انس پہ ہیں شمس وقمر کے اثرات 
ہم نے دیکھا ہے زمیں پہ بھی ستاروں کا اثر
میرا ہے کام فقط روشنی کرنا ہر سو 
کیا خبر موج ہوا کس کا دیا رہنے دے
دل میں ایک جوت جگانے میں تکلف کیسا 
خوشنما دیپ جلانے میں تکلف کیسا 
شام ہوتے ہی چراغوں کو بجھا دیتا ہوں 
ہم کو بھاتی ہی نہیں کوئی بھی کالی دنیا
تجھے نور اقدس سے پرنور کردوں
صراحی سبو جام سے دور کردوں
اوپر دیئے گئے شعروں میں نور اور روشنی کے یہ استعارے قاری کے ذہن و دل کو منور کرتے ہوئے امید، حیات اور داخلی بیداری کی کیفیت پیدا کرتے ہیں۔چونکہ صوفی بستوی نور اور روشنی سے متعلق استعاروں کو اتنی سادگی کے ساتھ برتتے ہیں کہ قاری فوری طور پر ان کے داخلی تجربے سے منسلک ہوجاتا ہے۔اسی لئے ان کے یہاں چراغ، دیا، چاند، سورج، دھوپ اور ستارے محض الفاظ نہیں رہتے بلکہ احساس و ادراک کی ایک روشن دنیا آباد کرتے ہیں۔اور روشن و منور ہوتی ہوئی یہ دنیا کبھی  عشق و یاد کے لطیف احساسات سےوابستہ نظر آتی ہے،کبھی فطرت کے مظاہر سے کبھی انسانی باطن کی تطہیر سے۔ 
صوفی بستوی کی غزلوں کا مطالعہ کرتے ہوئے ماں، گاؤں اور پیڑکے موضوع ثلاثہ پر باربار نگاہ ٹھہر جاتی ہے اوروہ ٹھہری ہوئی نگاہ بہ ظاہر الگ الگ نظر آنے والے موضوعات کے درمیان بھی ایک تعلق اور ربط کو تلاش کرلیتی ہےکیونکہ ان کی غزلوں میں یہ موضوع ثلاثہ محض تکرارمضمون نہیں ہےبلکہ ایک تہذیبی اور وجودی بازیافت کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ یہ تینوں عناصر دراصل شاعر کی اصل، اس کی شناخت اور اس کی داخلی پناہ گاہ کے استعارے ہیںجن کے ذریعے وہ جدید شہری زندگی کی سطحی چمک، عیاری اور بے معنویت کے مقابل ایک مانوس، مخلص اور فطری دنیا کی تشکیل کرتا ہے۔ ماں محبت، ایثار اور روحانی تقدس کی علامت بن کر سامنے آتی ہے؛ گاؤں سادگی، اجتماعیت اور تہذیبی جڑوں کی نمائندگی کرتا ہے؛ جب کہ پیڑ فطرت، دوام اور حیات بخش تسلسل کا استعارہ ہے۔ اس طرح یہ موضوعات ثلاثہ باہم مربوط ہو کر نہ صرف شاعر کے منتشر وجود کو سمیٹتا ہے بلکہ قاری کو بھی اپنے ماضی اور اپنی اصل سے جڑنے کا شعور عطا کرتا ہے۔ اگرچہ اظہار بہ ظاہر سادہ اور براہ راست ہے لیکن اس کے پس منظر میں ایک گہرا جذباتی اور حسی آہنگ کارفرما ہے جو قاری کے باطن میں سکون اور مانوسیت کی کیفیت پیدا کرتا ہے۔اب یہاں موضوعات ثلاثہ سے متعلق شعروں کو ملاحظہ فرمائیے :
وہ جس نے خاک کف پا سمیٹ لی ماں کی 
یقین جانئے وہ پا گیا ہے جنت کو
ہم کو جنت تو مل گئی صوفی 
ہم تو ماں کے دلار والے ہیں 
ہے بصیرت تو دیکھ لے دنیا 
ماں کے قدموں تلے رکھا کیا ہے
چل کے آباد بھلا کیوں نہ وہیں ہوجائیں 
شہر سے گاؤں کا ماحول غنیمت ہے ابھی
جنگلوں میں کٹ رہے تھے سب شجر ترتیب سے 
اور پرندے لٹتے اپنے آشیاں دیکھا کئے 
جنہیں گاؤں کے منظر سے خوشی حاصل نہیں ہوتی 
وہ گاؤں کے منڈیروں کی ادائیں چھین لیتے ہیں
گھنے پیڑوںکے سائے ہوں کہ وہ زلفوں کے بادل ہوں 
غموں کی دھوپ میں ٹھنڈک کے یہ اسباب کافی ہیں
کس کی یادوں سے مہک اٹھا ہے گلشن سارا
باغ کے پیڑ سے اب بوئےوفا آتی ہے
اوپر قرأت کئے گئے شعروں سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس موضوع ثلاثہ کو تواتر کے ساتھ شاید اس لئے بیان کیا گیا ہےکہ شاعر اپنی اصل، اپنی شناخت اور اپنے داخلی سکون کی بازیافت انھیں حوالوں سےقائم کرنا چاہتا ہےاوراس طرح یہ تمام اشعار مل کر اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ صوفی بستوی کے نزدیک ماں، گاؤں اور پیڑمحض موضوعات نہیں بلکہ انسانی وجود کے بنیادی سہارے ہیں، جن سے دوری انتشار اور بے سکونی کو جنم دیتی ہے، جب کہ ان سے وابستگی انسان کو داخلی سکون، اخلاقی بصیرت اور فطری توازن عطا کرتی ہے۔
افکارصوفی کے مطالعے کے دوران جب کرونائی عہد میں کہی گئی غزلوں کے اشعار پر نظر ٹھہرتی ہے تو ان میں ایسے اجتماعی جذبات و احساسات کی گونج سنائی دیتی ہے جو اس دور کے ہر فرد کے مشترکہ تجربے کی نمائندگی کرتی ہے۔ اگرچہ عالمی ادب میں وباؤں کو موضوع بنا کر تخلیقی اظہار کی ایک مستحکم اور توانا روایت پہلے ہی سے موجود رہی ہےتاہم یہاں یہ احساس ایک نئے معنوی اور فکری تناظر کے ساتھ ابھرتا ہے۔ صوفی بستوی کے شعری مجموعے میں شامل کرونائی عہد کی غزلیں محض ایک تاریخی یا سماجی سانحے کا بیان نہیں بلکہ ذات کی سطح پر وارد ہونے والے گہرے صدمات کی علامت ہیں۔ ان اشعار کا مطالعہ یہ واضح کرتا ہے کہ وبا نے شاعر کے داخلی وجود کو کس شدت سے متاثر کیا اور یہی داخلی کرب ان کے فکری زاویوں میں ایک انقلابی تبدیلی کا باعث بنا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس عہد نے نہ صرف ان کی فکر کا رخ یکسر بدل دیا بلکہ ان کے نہاں خانۂ شعور میں انسانی معاشرے، اس کی ساخت اور اس کے مستقبل سے متعلق کئی بنیادی سوالات کو بھی جنم دیا۔جدید شاعری میں فرد کی تنہائی ایک اہم موضوع کے طور پر ابھرتی رہی ہے جو انسانی نفسیات کے پیچیدہ پہلوؤں کو روشن کرتی ہےتاہم کرونائی عہد کی تنہائی محض انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی نوعیت کی حامل تھی۔ یہ وہ تنہائی تھی جس نے زندگی اور موت دونوں کو ایک ہی سطح پر لا کھڑا کیا اور پورے سماج کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ صوفی بستوی نے اس اجتماعی تنہائی اور اس سے پیدا ہونے والے وجودی بحران کو نہایت بصیرت کے ساتھ اپنے کلام میں سمویا ہے۔ان کی شاعری میں کرونائی عہد کے مسائل اور اس سے جڑے موضوعات کو براہ راست اور بالواسطہ دونوں سطحوں پر اس طرح برتا گیا ہے کہ قاری اس دور کے منتشر ہوتے ہوئے معاشرتی نظام کو بہتر طور پر سمجھ سکتا ہے۔ اس اعتبار سے صوفی بستوی کی شاعری نہ صرف ایک عہد کی جمالیاتی ترجمان ہے بلکہ اس کے فکری و سماجی بحران کی ایک معتبر تنقیدی دستاویز بھی بن جاتی ہے۔
اجنبی ایک عدو سے ہے زمانہ خائف 
اتنی ہیبت ہے کہ ہر سانس رکی جاتی ہے
لاک ڈاؤن نے کیا ہے مرا جینا مشکل 
اب تو حالت یہ کسی سے نہ کہی جاتی ہے
اک وبا ایسی بھی آئی دہر میں صوفی میاں 
ہر کوئی اک فاصلے پر گھر میں ہے سہما ہوا 
اب وبا کا دور صوفی آگیا 
اب نہیں لیتا ہے کوئی حال چال 
یارب وبا کے دور سے مل جائے اب نجات 
رورو کے تیرے در پہ دعا کررہا ہوں میں
ان اشعار کی قرأت سے صوفی بستوی کے شعری اور فکری ابعاد پوری معنویت کے ساتھ سامنے آجاتے ہیں۔ ان کی شاعری ایک طرف خارجی دنیا کے انتشار، سماجی فاصلے، خوف اور عدمِ تحفظ کی عکاس ہے تو دوسری طرف داخلی کرب، روحانی اضطراب اور خدا سے رجوع کی شدید انسانی کیفیت کو بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ ان کے یہاں وبا صرف ایک طبی یا سماجی بحران نہیں رہتی بلکہ ایک گہرے وجودی تجربے کی صورت اختیار کر لیتی ہے، جو انسان کو اپنی ناتوانی، تنہائی اور بے بسی کے شدید احساس سے دوچار کرتی ہے۔صوفی بستوی کی فکری جہت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ فرد کے ذاتی تجربے کو اجتماعی اور پھر کائناتی سطح تک وسعت عطا کرتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ ان کی شاعری میں ذاتی اذیت اور اجتماعی شعور ایک دوسرے سے پیوست نظر آتے ہیں۔ ان کے یہاں دعا اور التجا کا لہجہ محض مذہبی یا رسمی نہیں بلکہ ایک آفاقی انسانی صدا کی شکل اختیار کر لیتا ہےجو پورے عہد کے اضطراب، خوف اور بے یقینی کی نمائندگی کرتا ہے۔ پہلا شعر اپنے اندر عہدحاضر کے ایک غیر معمولی تجربےوبا اور لاک ڈاؤن کی فکری و نفسیاتی کیفیات کو سمیٹے ہوئے ہےاوریہ شعر اپنی سادگی کے باوجود فکر کی سطح پر ایک ارتعاش پیدا کرنے میں کامیاب ہے کیونکہ پہلا مصرعہ ایک ایسے غیر مرئی اور نامعلوم دشمن کی تصویر پیش کرتا ہے جس نے پوری انسانیت کو خوف زدہ کر رکھا ہے۔اور اجنبی کا لفظ اس وبا کی ناآشنائی اور اچانک ظہور کوظاہر کرتا ہے جب کہ عدو کا لفظ اس کی ہلاکت خیزی کی شدت کو نمایاں کرتا ہےاور یوں پہلے مصرعے میں اجنبیت اور ہلاکت خیزی کا امتزاج ایک ہمہ گیر خوف کی فضا قائم کرتا ہے۔اور دوسرے مصرعے میںقائم ہوتی ہوئی اس خوف کی انتہا دکھائی گئی ہےجہاں سانس لینا جیسافطری عمل بھی غیر محفوظ محسوس ہوتا ہے۔گویایہ محض جسمانی گھٹن نہیں بلکہ ایک اجتماعی نفسیاتی جمود کی علامت ہےجس میں پوری انسانیت مبتلا نظر آتی ہے۔دوسرے شعر میں یہی اجتماعی کرب ایک ذاتی تجربے میں ڈھل جاتا ہےجس میں شاعر براہ راست اس سماجی صورت حال کے اثرات کو بیان کرتا ہےجہاں روزمرہ زندگی معطل ہو کر رہ گئی ہےاورالمیہ یہ ہے کہ اس گھٹن کو کسی سے بیان نہیں کیا جاسکتا ہے کیونکہ یہ اجتماعی نفسیاتی مسئلہ ہے۔ان دو شعروں کے مختصر تجزیے سے یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ صوفی بستوی ثقیل تراکیب اور پیچیدہ علامتوں کے بجائے عام فہم الفاظ کے ذریعے سماجی موضوعات کو بیان کردیتے ہیںاور انھیں عام فہم اور سادہ الفاظ کے توسط سے گہرا اور دیر پا تأثر پیدا کرنے میں بھی کامیاب رہتے ہیں۔
اکیسویں صدی کی پہلی اور دوسری دہائیوں میں سیاست نے غیر معمولی تغیرات کا سامنا کیا ہےجن کے نتیجے میں اس کے مزاج، ترجیحات اور رویّوں میں گہری تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ معاصر سیاسی منظرنامے میں وہ اقدار اور اخلاقی اصول، جو کبھی سیاست کی اساس سمجھے جاتے تھے، بتدریج پس منظر میں چلے گئے ہیں۔ سیاست اب ایک ایسے مفاد پرست اور موقع شناس عمل میں ڈھلتی دکھائی دیتی ہے جس کا محور صرف اقتدار کا حصول رہ گیا ہےخواہ اس کے لیے سماجی ہم آہنگی کو پارہ پارہ کرنا پڑے یا انسانی قدروں کو مجروح کرنا پڑے۔یہی وہ صورت حال ہے جسے صوفی اپنے شعری شعور کے ذریعے نہایت گہرائی سے محسوس کرتے ہیں۔ وہ اس بدلتی ہوئی سیاست کے چہرے کو محض دیکھتے ہی نہیں بلکہ اس پر اپنے ردِعمل کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ کہیں ان کے یہاں غم و غصے کی کیفیت نمایاں ہوتی ہےتو کہیں ایک واضح اور توانا احتجاج کی صورت ابھرتی ہے۔ ان کا لہجہ بظاہر براہ راست اور واشگاف ہےلیکن اس کے باوجود وہ شعری جمالیات اور فنی نزاکت کو مجروح نہیں ہونے دیتے۔ یوں صوفی کی شاعری ایک طرف عہدحاضر کی سیاسی بے حسی اور اخلاقی زوال کی عکاسی کرتی ہےتو دوسری طرف اپنے اسلوب کی لطافت اور شعریت کی حرمت کو بھی برقرار رکھتی ہے
ہر طرف جب قاتلوں کی حکمرانی ہے یہاں 
کیوں نہ پھر انصاف چوراہوں پہ بیچا جائے گا 
ضرورت کے مطابق ہی بدل لیتے ہیں شکلیں 
سیاست میں کبھی چہروں کا اندازہ نہیں ہوتا 
سیاست کی دہلیز پر چڑھ کے دیکھو
فریبی ملیں گے اداکار ہوں گے
 بندانصاف ہے شاید کہیں تہ خانے میں
اور مصروف سیاست ہے ستم ڈھانے میں
کتنے بستے ہوئے شہروں کو اجاڑا اس نے 
اپنے شہروں کے فسادوں کا رجسٹر دیکھو
غزل کی شعری روایت میں عشق و محبت کو بنیادی اور مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ یہی وہ جذبہ ہے جو غزل کو اس کی داخلی حرارت، لطافت اور اثر آفرینی عطا کرتا ہے۔ اگرچہ صوفی بستوی کی غزلوں میں فکری شعور، دانش ورانہ بصیرت اور تہذیبی ادراک کے عناصر نمایاں طور پر موجود ہیں تاہم انھوں نے عشق و محبت کے لطیف اور انسانی احساسات کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔ وہ اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہیں کہ جذبۂ محبت کے بغیر غزل اپنی فنی تکمیل اور جذباتی تاثیر سے محروم رہتی ہے۔صوفی بستوی کے یہاں عشق کا اظہار روایتی شور و شغف یا شدید جذباتیت کے بجائے ایک مہذب داخلی کیفیت کے طور پر سامنے آتا ہے۔ ان کی محبت کی آنچ اگرچہ مدھم محسوس ہوتی ہےلیکن اس کی حرارت قلب و ذہن کو دیر تک منور اور متأثر رکھتی ہے۔ ان کی غزلوں میں محبت صرف ایک جذباتی واردات نہیں بلکہ انسانی رشتوں، روحانی وابستگیوں اور باطنی احساسات کی علامت بن کر ابھرتی ہے۔انھوں نے اگرچہ نسبتاََکم اشعار میں اس موضوع کو برتا ہےلیکن جہاں بھی محبت کے مختلف رویّوں، کیفیات اور جہات کو پیش کیا ہے، وہاں ان کی فنی پختگی، جذبے کی سچائی اور اظہار کی شائستگی پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ ان تمام اشعار کا پیش کرنایہاں ممکن نہیںتاہم بطورِنمونہ چند اشعار پیش کیے جاتے ہیں جو صوفی بستوی کے عشقیہ احساس اور جمالیاتی شعور کی عمدہ نمائندگی کرتے ہیں:
تمام عمر کی جیسے مراد بر آئی
تمہیں جو دیکھا مری زندگی نظر آئی 
آج پھر میں اداس لوٹا ہوں
اس کا چہرہ اتر نہ جائے کہیں
آرزو ہے بس انھیں دیکھا کریں 
ان کے بارے میں سدا سوچا کریں 
 چاند سورج دھوپ موسم کے اشارے مل گئے
تم کو دیکھا تو غزل کے استعارے مل گئے 
 خوشبوئیں بوسہ مرا لیتی رہیں 
نام میں جب تک ترا لیتا رہا
لاکھ چاہا کہ بچیں زخم محبت سے مگر 
دل مر آہی گیا آپ کے خنجر کے قریب 
 مخل دیوار تھی جو درمیاں ڈھائی گئی
 پھر نمود عشق کی تصویر لگوائی گئی 
صوفی بستوی کی غزل گوئی کا مجموعی جائزہ یہ واضح کرتا ہے کہ ان کی شاعری محض روایتی مضامین تک محدود نہیں بلکہ اپنے عہد کے فکری، سماجی اور سیاسی مسائل سے بھی گہرا رشتہ رکھتی ہے۔ ان کی غزل میں جہاں معاصر زندگی کی بے چینی، انسانی قدروں کا زوال اور سیاست کے بدلتے ہوئے رویّے نمایاں ہیں، وہیں محبت اور عشق کے نئے زاویے بھی نہایت دل نشیں پیرائے میں سامنے آتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ موضوعات کی وسعت اور فکری سنجیدگی کے باوجود صوفی بستوی نے اپنے کلام میں حسن بیان، شعری لطافت اور غزل کی تہذیبی روایت کو برقرار رکھا۔ یہی توازن ان کی غزل کو وقار اور انفرادیت عطا کرتا ہے۔ لہٰذا بلا تردد یہ کہا جا سکتا ہے کہ معاصر اردو غزل کے معتبر اور باوقار غزل گو شعرا میں صوفی بستوی کا نام احترام اور عزت کے ساتھ لیا جائے گا۔