سلمیٰ صنم:معاصر اردو افسانے
کی ایک توانا اور معتبر آواز
نصیر وارثی
مدیر: سہ ماہی ورثہ نیو یارک
اردو افسانہ اپنی ابتدا ہی سے انسانی زندگی کے دکھ، سماجی تضادات، تہذیبی کشمکش، رشتوں کی پیچیدگیوں اور باطن کی خاموش صداؤں کا مؤثر ترجمان رہا ہے۔ اس صنف نے جہاں بڑے بڑے افسانہ نگار پیدا کیے، وہیں ہر عہد میں کچھ ایسی آوازیں بھی سامنے آئیں جنہوں نے خاموش معاشرتی گوشوں، نسائی تجربات، انسانی محرومیوں اور بدلتی ہوئی تہذیبی قدروں کو اپنے مخصوص تخلیقی شعور کے ساتھ پیش کیا۔ معاصر اردو افسانے میں سلمیٰ صنم کا نام اسی روایت کی ایک معتبر، سنجیدہ اور توانا کڑی کے طور پر سامنے آتا ہے۔ انہوں نے افسانے کو محض واقعہ نگاری یا قصہ بیانی تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اس کے ذریعے انسانی نفسیات، سماجی رویوں، عورت کے باطنی کرب، طبقاتی ناہمواری اور زندگی کی تلخ حقیقتوں کو نہایت فنکارانہ انداز میں پیش کیا۔
سلمیٰ صنم کی افسانہ نگاری میں مشاہدے کی گہرائی، بیان کی سادگی، کرداروں کی داخلی سچائی اور موضوعات کی وسعت نمایاں طور پر محسوس ہوتی ہے۔ ان کا قلم زندگی کو باہر سے نہیں، اندر سے دیکھتا ہے۔ وہ اپنے عہد کے سماجی اور تہذیبی مسائل کو محض بیان نہیں کرتیں بلکہ ان کے پس منظر میں چھپے انسانی دکھ، خاموش مزاحمت اور باطنی شکست و ریخت کو بھی محسوس کراتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانے برصغیر کی ادبی دنیا میں نہ صرف پڑھے گئے بلکہ مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوکر وسیع تر قارئین تک بھی پہنچے۔ ان کی تخلیقی خدمات، تصانیف، تراجم، انعامات، تحقیقی مطالعات اور ادبی سرگرمیاں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ سلمیٰ صنم معاصر اردو ادب میں ایک مستقل اور معتبر شناخت رکھتی ہیں۔
سلمیٰ صنم کا اصل نام سیدہ سلمیٰ بانو ہے، جب کہ ادبی دنیا میں وہ سلمیٰ صنم کے قلمی نام سے معروف ہیں۔ وہ کرناٹک کے ضلع منگلور کے ساحلی علاقے پنمبور میں 4 اگست کو پیدا ہوئیں۔ ان کے والد کا نام سید اکبر اور والدہ کا نام حلیمہ بی ہے۔ ان کا خاندانی پس منظر علمی، تہذیبی اور روحانی روایات سے وابستہ ہے۔ ان کے اجداد کا تعلق بغداد سے تھا، جو سادات گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اور اپنے علم و فضل کے سبب ممتاز حیثیت رکھتے تھے۔روایت کے مطابق سولہویں صدی عیسوی میں ان کے اجداد بغداد سے ہجرت کرکے عادل شاہی دورِ حکومت میں بیجاپور آئے اور شاہی دربار سے وابستہ ہوئے۔ بعد ازاں جب سلطنتِ خداداد کا قیام عمل میں آیا تو وہ ٹیپو سلطان کی دعوت پر گنجعام، سری رنگا پٹن/منڈیا منتقل ہوئے اور سلطان کے دربار سے منسلک ہوگئے۔ اس خاندانی پس منظر نے سلمیٰ صنم کی شخصیت میں تہذیبی شعور، علمی وقار اور روایت سے وابستگی کا ایک فطری احساس پیدا کیا، جو ان کی تخلیقات میں بھی کہیں نہ کہیں جلوہ گر نظر آتا ہے۔
سلمیٰ صنم کی پرورش بنگلور میں اپنے ننھیال میں ہوئی۔ انہوں نے اسلامیہ مدرسہ نسواں گرلز ہائی اسکول سے میٹرک کیا۔ اس کے بعد مہارانیس سائنس کالج سے بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی اور بنگلور یونیورسٹی، گیان بھارتی کیمپس سے علمِ حیوانیات میں ایم ایس سی مکمل کیا۔ سائنس کے شعبے سے تعلق رکھنے کے باوجود ادب سے ان کا رشتہ کمزور نہیں ہوا بلکہ وقت کے ساتھ مزید گہرا ہوتا چلا گیا۔ یہ بات ان کی شخصیت کی وسعت کو ظاہر کرتی ہے کہ ایک طرف وہ سائنسی فکر اور مشاہدے سے آشنا ہیں، دوسری طرف ادب کی لطافت، احساس اور تخلیقی اظہار سے بھی گہرا تعلق رکھتی ہیں۔
سلمیٰ صنم کے ادبی سفر کا آغاز 1990 میں ہوا، جب ان کا پہلا افسانہ ’’روشنی‘‘ بنگلور کے روزنامہ ’’سالار‘‘ کے ادبی ایڈیشن میں شائع ہوا۔ کسی بھی تخلیق کار کے لیے پہلی اشاعت ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ اسی لمحے سے اس کی تخلیقی شناخت کا دروازہ کھلتا ہے۔ تاہم سلمیٰ صنم نے باقاعدگی کے ساتھ 2004 سے لکھنا شروع کیا اور پھر رفتہ رفتہ ان کا نام اردو افسانے کے قارئین اور ناقدین کے لیے مانوس ہوتا چلا گیا۔ان کے افسانوں میں زندگی کے مختلف رنگ، سماجی مسائل، انسانی رویے، عورت کی داخلی دنیا، رشتوں کی شکست و ریخت، محرومی، دکھ، تنہائی اور امید کے چراغ سب ایک ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔ وہ کرداروں کو مصنوعی انداز میں پیش نہیں کرتیں بلکہ انہیں زندگی کے حقیقی ماحول، معاشرتی دباؤ اور نفسیاتی پیچیدگیوں کے ساتھ سامنے لاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانوی کردار قاری کو محض کہانی کے کردار نہیں لگتے، بلکہ زندگی کے جیتے جاگتے انسان محسوس ہوتے ہیں۔
سلمیٰ صنم کے افسانے برصغیر کے تریپن سے زائد معتبر ادبی رسائل میں شائع ہوچکے ہیں۔ یہ تعداد محض اشاعت کی کثرت نہیں بلکہ ان کے فن کی مسلسل پذیرائی اور ادبی حلقوں میں قبولیت کی علامت ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کے علاوہ لندن، شکاگو، نیویارک، اسپین، کویت اور نیپال سے شائع ہونے والے ادبی رسائل میں بھی ان کی تخلیقات شائع ہوئیں۔ ’’صدا‘‘، ’’قندیل‘‘ لندن، ’’جذبہ پوسٹ‘‘ شکاگو، ’’ورثہ‘‘ نیویارک، ’’اردو ڈائجسٹ‘‘ اسپین، ’’نشاط‘‘ کویت اور ’’صدائے عام‘‘ نیپال جیسے رسائل میں ان کے افسانوں کی اشاعت اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی تخلیقی آواز جغرافیائی حدود سے آگے بڑھ کر عالمی اردو دنیا تک پہنچی ہے۔
سلمیٰ صنم کی افسانہ نگاری کی ایک اہم خوبی یہ ہے کہ وہ موضوع کو محض بیان نہیں کرتیں بلکہ اسے احساس کی سطح پر جیتی ہیں۔ ان کے یہاں عورت کا دکھ صرف نسائی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ انسانی مسئلہ بن جاتا ہے۔ سماجی ناانصافی محض شکایت کی شکل اختیار نہیں کرتی بلکہ ایک تخلیقی سوال بن کر سامنے آتی ہے۔ ان کے افسانے قاری کو سوچنے، محسوس کرنے اور اپنے معاشرے کو نئے زاویے سے دیکھنے پر مجبور کرتے ہیں۔کسی بھی تخلیق کار کے فن کی وسعت کا ایک اہم پیمانہ یہ بھی ہے کہ اس کی تخلیقات اپنی اصل زبان سے نکل کر دوسری زبانوں کے قارئین تک پہنچیں۔ سلمیٰ صنم کے افسانوں کا انگریزی، پنجابی، بنگلہ، سرائیکی، سندھی، عربی اور ہندی زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے۔ یہ امر نہ صرف ان کی مقبولیت کا ثبوت ہے بلکہ اس بات کی علامت بھی ہے کہ ان کے افسانوں کے موضوعات مقامی ہوتے ہوئے بھی آفاقی معنویت رکھتے ہیں۔
ان کا افسانہ ’’بانس کا آدمی‘‘ ساہتیہ اکادمی دہلی کے موقر رسالے *Indian Literature* میں شائع ہوا۔ ’’مٹھی میں بند چڑیا‘‘ کا پنجابی ترجمہ دہلی کے رسالہ ’’سمدرشی‘‘ کے خواتین نمبر میں شامل ہوا۔ ’’تڑپتا پتھر‘‘ ہندی رسالہ ’’سخنور‘‘ بھوپال میں شائع ہوا، جب کہ اسی افسانے کے ساتھ ’’پت جھڑ کے لوگ‘‘ اور ’’پگلا‘‘ سندھی رسالہ ’’ہزار داستان‘‘ حیدرآباد سندھ میں شائع ہوئے۔ ’’باغ‘‘ کا بنگالی ترجمہ راج شاہی یونیورسٹی، بنگلہ دیش کے اردو شعبے کے رسالے ’’انکور‘‘ کے فلسطین نمبر میں شائع ہوا۔ ’’بدلہ‘‘ سرائیکی زبان میں رسالہ ’’بور‘‘ کوٹ ادو، پاکستان میں شائع ہوا، جب کہ ’’صحرا‘‘ اور ’’ضرورت‘‘ عربی زبان میں بھی قارئین تک پہنچے۔
یہ تراجم اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ سلمیٰ صنم کے افسانے صرف اردو قارئین کے لیے نہیں بلکہ وسیع انسانی تجربے کے حامل ہیں۔ ان کے موضوعات زبان کی دیوار عبور کرلیتے ہیں، کیونکہ ان میں انسان، معاشرہ، دکھ، جدوجہد اور امید کے وہ عناصر موجود ہیں جو ہر زبان اور ہر تہذیب کے قاری کو متاثر کرسکتے ہیں۔سلمیٰ صنم کی مطبوعہ تصانیف اردو افسانے کے معاصر منظرنامے میں ایک اہم اضافہ ہیں۔ ان کی کتاب ’’طور پر گیا ہوا شخص‘‘ 2007 میں کرناٹک اردو اکادمی سے شائع ہوئی۔ اس کے بعد ’’پت جھڑ کے لوگ‘‘ 2012 میں منظرِ عام پر آئی، جس نے ان کے افسانوی سفر کو مزید مستحکم کیا۔ 2016 میں ’’پانچویں سمت‘‘ عرشیہ پبلی کیشنز، دہلی سے شائع ہوئی۔ یہ مجموعہ اپنے عنوان ہی سے ایک علامتی جہت رکھتا ہے، گویا مصنفہ زندگی کو روایتی سمتوں سے ہٹ کر ایک نئے زاویے سے دیکھنا چاہتی ہیں۔2018 میں ’’قطار میں کھڑے چہرے اور دیگر کہانیاں‘‘ عرشیہ پبلی کیشنز، دہلی سے شائع ہوئی، جب کہ اس کا پاکستانی ایڈیشن 2019 میں دستاویز مطبوعات، لاہور سے شائع ہوا۔ کسی ادبی کتاب کا سرحد کے دونوں جانب شائع ہونا اس کی ادبی اہمیت اور قارئین میں پذیرائی کا مظہر ہے۔ 2024 میں سید مبارک علی شمسی کی مرتب کردہ کتاب ’’سلمیٰ صنم: فن اور شخصیت‘‘ شاہ شمس مطبوعات، ملتان پاکستان سے شائع ہوئی، جو ان کے ادبی مقام کے اعتراف کی ایک اہم صورت ہے۔
اسی سال ان کے منتخب افسانوں کا انگریزی ترجمہ *The Bamboo Man and Other Stories* کے عنوان سے نامک پبلی کیشنز، دہلی سے شائع ہوا۔ اس کے مترجم پروفیسر سید سرور حسین، کنگ سعود یونیورسٹی، ریاض ہیں۔ یہ ترجمہ سلمیٰ صنم کے فن کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
ان کی زیرِ ترتیب کتابوں میں ’’ابابیل‘‘، جو افسانچوں کا مجموعہ ہے، ’’سخن ساز‘‘، جس میں جدید شعراء اور ادباء کا تعارف شامل ہے، اور سفرنامۂ حج ’’ہے یہ کیسا سفر؟‘‘ شامل ہیں۔ ان منصوبوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ سلمیٰ صنم کا قلم صرف افسانے تک محدود نہیں بلکہ ادبی تعارف، سفرنامے اور مختصر نثری اصناف میں بھی اپنی تخلیقی جہتیں تلاش کررہا ہے۔
سلمیٰ صنم کے افسانوں کا سب سے نمایاں وصف ان کی انسانی حسیت ہے۔ وہ اپنے افسانوں میں معاشرتی حقیقتوں کو صرف باہر سے نہیں دیکھتیں بلکہ ان کے اندر اتر کر ان کی معنویت تلاش کرتی ہیں۔ ان کے یہاں کردار عموماً زندگی کے عام ماحول سے آتے ہیں، مگر ان کے تجربات غیر معمولی معنویت اختیار کرلیتے ہیں۔ وہ معمولی واقعے کو بھی اس طرح بیان کرتی ہیں کہ اس کے اندر چھپا انسانی المیہ قاری کے سامنے کھلتا چلا جاتا ہے۔
ان کے افسانوں میں عورت ایک اہم موضوع کے طور پر سامنے آتی ہے، مگر وہ عورت کو محض مظلوم یا احتجاجی کردار بنا کر پیش نہیں کرتیں۔ ان کے یہاں عورت سوچتی ہے، محسوس کرتی ہے، ٹوٹتی ہے، سنبھلتی ہے، خاموش رہ کر بھی احتجاج کرتی ہے اور کبھی اپنی ذات کے اندر روشنی کی کوئی کرن تلاش کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی نسائی کردار نگاری میں جذباتیت کے بجائے حقیقت، توازن اور داخلی سچائی زیادہ نمایاں ہے۔
سلمیٰ صنم کا اسلوب سادہ، رواں اور اثر انگیز ہے۔ وہ غیر ضروری پیچیدگی یا مصنوعی زبان سے گریز کرتی ہیں۔ ان کے جملوں میں ایک فطری بہاؤ پایا جاتا ہے۔ مکالمے کرداروں کی نفسیات کے مطابق آتے ہیں اور منظرنگاری افسانے کے ماحول کو مضبوط بناتی ہے۔ ان کے افسانے پڑھتے ہوئے قاری کو محسوس ہوتا ہے کہ مصنفہ زندگی کے ان گوشوں کو دیکھ رہی ہیں جن پر عام طور پر نظر نہیں ٹھہرتی۔سلمیٰ صنم کو ان کی ادبی خدمات اور افسانہ نگاری پر متعدد انعامات اور اعزازات سے نوازا جاچکا ہے۔ کرناٹک اردو اکادمی نے انہیں دو مرتبہ انعام سے سرفراز کیا۔ ان کی کتاب ’’قطار میں کھڑے چہرے اور دیگر کہانیاں‘‘ پر انہیں پچیس ہزار روپے کا پہلا انعام ملا، جب کہ افسانہ ’’ایک مہلک سچ‘‘ پر دس ہزار روپے کا انعام دیا گیا۔ اتر پردیش اردو اکادمی نے بھی انہیں دو مرتبہ کل ہند انعام سے نوازا؛ ’’قطار میں کھڑے چہرے اور دیگر کہانیاں‘‘ پر بیس ہزار روپے اور ’’پانچویں سمت‘‘ پر دس ہزار روپے کا انعام ملا۔ بہار اردو اکادمی نے ’’پانچویں سمت‘‘ پر کل ہند انعام دیا۔
ان اکادمی اعزازات کے علاوہ مختلف عالمی اور ادبی اداروں کی جانب سے بھی انہیں متعدد ایوارڈز دیے گئے۔ عالمی ایوانِ ادب، یو اے ای کی جانب سے ’’خادمِ ریختہ ایوارڈ‘‘، گلوبل رائٹرز ایسوسی ایشن اٹلی کی جانب سے ’’فروغِ ادب ایوارڈ‘‘، تحریک اصلاحِ معاشرہ پاکستان کی جانب سے بلھے شاہ گولڈ میڈل، طارق عزیز گولڈ میڈل، پروین شاکر ایوارڈ اور لائف ٹائم نعت اچیومنٹ ایوارڈ، مظفر حنفی ایوارڈ، عبد الحمید عدم ایوارڈ، حسنِ کارکردگی ایوارڈ، لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ اور دیگر اعزازات ان کے ادبی سفر کی اہم منزلیں ہیں۔یہ اعزازات اس بات کا اظہار ہیں کہ سلمیٰ صنم کی ادبی خدمات کو نہ صرف ہندوستان بلکہ پاکستان اور عالمی اردو حلقوں میں بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے۔ کسی بھی تخلیق کار کے لیے سب سے بڑا اعزاز قارئین کی محبت اور ادبی دنیا کا اعتماد ہوتا ہے، اور سلمیٰ صنم کو یہ دونوں چیزیں حاصل ہیں۔
سلمیٰ صنم کے فن کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ان کی شخصیت اور افسانہ نگاری پر مختلف جامعات میں تحقیقی و تنقیدی کام ہورہا ہے۔ کرناٹک یونیورسٹی دھاڑواڑ میں ’’سلمیٰ صنم اور کوثر پروین کے افسانوں کا تقابلی مطالعہ‘‘ کے عنوان سے پی ایچ ڈی کا تحقیقی مقالہ جاری ہے۔ یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور میں ’’اردو افسانے میں پاکستان اور ہندوستان کی سماجی عکاسی کا تقابلی مطالعہ: نسیم انجم اور سلمیٰ صنم کے حوالے سے‘‘ کے موضوع پر ایم فل مقالہ لکھا گیا۔ یونیورسٹی آف نارووال، پاکستان میں ’’سلمیٰ صنم: شخصیت اور فن‘‘ کے عنوان سے تحقیقی و تنقیدی مطالعہ کیا گیا۔
اس کے علاوہ ان کے افسانوں اور افسانوی مجموعوں پر بی ایس اور دیگر تعلیمی سطحوں پر بھی تحقیقی کام کیا گیا ہے۔ ’’پت جھڑ کے لوگ‘‘، ’’قطار میں کھڑے چہرے اور دیگر افسانے‘‘ اور ’’پانچویں سمت‘‘ جیسے مجموعے مختلف تحقیقی مطالعات کا موضوع بنے۔ یہ تحقیقی سرگرمیاں اس امر کی دلیل ہیں کہ سلمیٰ صنم کا فن محض وقتی مقبولیت کا حامل نہیں بلکہ اس میں وہ ادبی اور فکری امکانات موجود ہیں جو سنجیدہ تحقیق کو دعوت دیتے ہیں۔سلمیٰ صنم کے پچیس سے زائد افسانے برصغیر کے معتبر رسائل کے خصوصی نمبروں میں شامل ہوچکے ہیں۔ یہ امر اس بات کا غماز ہے کہ مختلف موضوعاتی، ادبی اور خصوصی اشاعتوں میں ان کے افسانوں کو نمائندہ تخلیقات کے طور پر شامل کیا گیا۔ روزنامہ ’’آئین ادب‘‘ پشاور پاکستان اور روزنامہ ’’انوار قوم‘‘ کانپور، اتر پردیش نے ان کی شخصیت اور فن پر خصوصی صفحات بھی ترتیب دیے۔
ڈیجیٹل عہد میں کسی بھی تخلیق کار کی موجودگی صرف کتابوں اور رسائل تک محدود نہیں رہتی۔ سلمیٰ صنم کا تعارف اور ان کے افسانے ویکیپیڈیا، JSTOR نیویارک، ریختہ ڈاٹ کام، پنجند ڈاٹ کام اور متعدد دیگر ویب سائٹس پر موجود ہیں۔ یہ آن لائن موجودگی نئی نسل کے قارئین، محققین اور ادب کے طلبہ کے لیے ان تک رسائی آسان بناتی ہے۔ان کے کئی افسانوں کی آڈیو ریکارڈنگ بھی موجود ہے، جن میں ’’آرگن بازار‘‘، ’’پانچویں سمت‘‘، ’’میرے محافظ‘‘، ’’مٹھی میں بند چڑیا‘‘، ’’تڑپتا پتھر‘‘ اور ’’ضرورت‘‘ جیسے افسانے شامل ہیں۔ آڈیو صورت میں افسانوں کی دستیابی اس بات کی علامت ہے کہ ان کا فن صرف پڑھا ہی نہیں جاتا بلکہ سنا بھی جاتا ہے، اور یوں وہ نئے ابلاغی ذرائع کے ذریعے وسیع تر حلقۂ قارئین و سامعین تک پہنچ رہا ہے۔
سلمیٰ صنم کی ادبی خدمات صرف تخلیق تک محدود نہیں بلکہ وہ اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے مختلف علمی و ادبی اداروں سے بھی وابستہ رہی ہیں۔ وہ قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان کے تخلیقی ادب پینل کی سابق رکن رہ چکی ہیں۔ عالمی اردو جریدہ ’’ورثہ‘‘ نیویارک کی بنگلور نمائندہ کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ انجمن علم و ادب اور ساؤتھ ایشین کلچر سوسائٹی آف شکاگو کے ایڈوائزری بورڈ سے بھی وابستہ ہیں۔یہ وابستگیاں اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ سلمیٰ صنم ایک ایسی ادبی شخصیت ہیں جو تخلیق، تحقیق، نمائندگی، تنظیمی سرگرمی اور زبان کے فروغ کو ایک ساتھ لے کر چلتی ہیں۔ اردو ادب کو ایسے ہی افراد کی ضرورت ہے جو صرف لکھنے پر اکتفا نہ کریں بلکہ ادبی فضا کو وسیع کرنے، نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنے اور زبان و تہذیب کے تسلسل کو قائم رکھنے میں بھی اپنا کردار ادا کریں۔
سلمیٰ صنم اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے سوشل میڈیا پر بھی نہایت سرگرم ہیں۔ 2020 سے وہ مسلسل روزانہ اردو زبان و ادب سے تعلق رکھنے والے ادباء اور شعراء کو ان کے یومِ ولادت یا یومِ وفات پر یاد کرتی ہیں۔ وہ ان کا تعارف، ادبی مقام اور منتخب کلام اپنی فیس بک وال پر پیش کرکے خراجِ عقیدت پیش کرتی ہیں۔ یہ کام بظاہر سوشل میڈیا کی ایک سرگرمی معلوم ہوتا ہے، مگر دراصل یہ اردو ادب کی تاریخ، روایت اور ادبی حافظے کو زندہ رکھنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔آج کے عہد میں جب نئی نسل کا بڑا حصہ کتاب سے زیادہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے وابستہ ہے، ایسے میں ادبی شخصیات کا تعارف، ان کی تخلیقات اور خدمات کو سوشل میڈیا پر پیش کرنا نہایت اہم کام ہے۔ سلمیٰ صنم اس حوالے سے نہ صرف ایک تخلیق کار بلکہ ادب کی مخلص خادم کے طور پر بھی سامنے آتی ہیں۔ ان کی یہ سرگرمی اردو کے ادبی ورثے کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک مؤثر صورت ہے۔
سلمیٰ صنم کا ادبی مقام کئی حوالوں سے اہم ہے۔ اول یہ کہ انہوں نے اردو افسانے میں اپنی ایک الگ شناخت قائم کی۔ دوم یہ کہ ان کے افسانے برصغیر کے علاوہ عالمی اردو دنیا میں بھی شائع ہوئے۔ سوم یہ کہ ان کے افسانوں کے تراجم مختلف زبانوں میں ہوئے، جس سے ان کے فن کی بین اللسانی اہمیت سامنے آئی۔ چہارم یہ کہ ان کی کتابوں کو ادبی اکادمیوں اور اداروں کی جانب سے انعامات ملے۔ پنجم یہ کہ ان کے فن پر جامعاتی سطح پر تحقیقی کام ہورہا ہے۔
یہ تمام پہلو مل کر سلمیٰ صنم کو معاصر اردو افسانے کی ایک سنجیدہ، فعال اور معتبر شخصیت بناتے ہیں۔ ان کا فن زندگی سے جڑا ہوا ہے، اس لیے قاری اس میں اپنے عہد کی تصویر بھی دیکھتا ہے اور اپنے اندر کی کیفیت بھی محسوس کرتا ہے۔ وہ افسانے کو محض تفریح کا ذریعہ نہیں بناتیں بلکہ اسے انسانی شعور، سماجی آگہی اور تخلیقی اظہار کا وسیلہ بناتی ہیں۔
سلمیٰ صنم کا ادبی سفر محنت، تخلیقی اخلاص، زبان سے محبت اور انسانی زندگی کے گہرے مشاہدے کا سفر ہے۔ انہوں نے اپنے افسانوں میں اس معاشرے کی تصویر پیش کی ہے جہاں انسان کبھی رشتوں کے بوجھ تلے دب جاتا ہے، کبھی محرومی کے اندھیروں میں روشنی تلاش کرتا ہے، کبھی سماجی ناانصافی کے سامنے خاموش کھڑا رہتا ہے اور کبھی اپنی داخلی قوت سے زندگی کا نیا مفہوم دریافت کرتا ہے۔ ان کے افسانوں کی یہی انسانی بنیاد انہیں دیرپا بناتی ہے۔
ان کی تخلیقات، تراجم، تصانیف، انعامات، تحقیقی مطالعات اور ادبی سرگرمیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ سلمیٰ صنم اردو افسانے کی ایک ایسی آواز ہیں جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ وہ ادب کو صرف اظہار کا ذریعہ نہیں سمجھتیں بلکہ اسے تہذیبی ذمہ داری، انسانی رابطے اور شعور کی بیداری کا وسیلہ بناتی ہیں۔ ان کا فن مقامی فضا سے جنم لیتا ہے، مگر اس کی معنویت عالمی انسانی تجربے سے جڑ جاتی ہے۔بلاشبہ سلمیٰ صنم معاصر اردو افسانے کی ان نمایاں تخلیق کاروں میں شامل ہیں جنہوں نے اپنے قلم سے نہ صرف کہانیاں لکھیں بلکہ اپنے عہد کے احساس، کرب، سوالات اور خوابوں کو لفظ عطا کیے۔ ان کی ادبی خدمات اردو فکشن کے سرمایے میں ایک قابلِ قدر اضافہ ہیں، اور آنے والا وقت ان کے فن کی معنویت کو مزید واضح کرے گا۔ سلمیٰ صنم کا نام اردو افسانے کی تاریخ میں ایک ایسی تخلیقی شخصیت کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے خاموش انسانوں، ٹوٹتے رشتوں، زخمی احساسات اور زندگی کی پوشیدہ سچائیوں کو نہایت سلیقے، درد مندی اور فنکارانہ وقار کے ساتھ بیان کیا۔
کتابیات
1۔ سید مبارک علی شمسی، مرتب، *سلمیٰ صنم: فن اور شخصیت*، شاہ شمس مطبوعات، ملتان، پاکستان، 2024ء۔
2۔ ڈاکٹر عائشہ فرحین، ’’سلمیٰ صنم کی افسانہ نگاری‘‘، نیشنل کونسل فار پروموشن آف اردو لینگویج، NCPUL Blog، 23 مارچ 2022ء۔
3۔ Rekhta Foundation، “Profile of Salma Sanam”، ریختہ ویب سائٹ۔
4۔ Sahitya Akademi، *Indian Literature*، شمارہ جس میں سلمیٰ صنم کے افسانے “The Bamboo Man” کا انگریزی ترجمہ شامل ہے۔
5۔ The Lingo Lexicon، “Salma Sanam Author Profile”۔
6۔ Kashmir Images، “Salma Sanam: Writer par excellence”، 22 جنوری 2024ء۔
کرناٹک اردو اکادمی، انعامات و مطبوعات کا ریکارڈ۔
سلمیٰ صنم کی کتابوں اور افسانوں پر ملنے والے اکادمی انعامات کی تصدیق کے لیے۔
7۔ اتر پردیش اردو اکادمی، کل ہند انعامات کا ریکارڈ۔
*قطار میں کھڑے چہرے اور دیگر کہانیاں* اور *پانچویں سمت* پر ملنے والے انعامات کی تصدیق کے لیے۔
8۔ بہار اردو اکادمی، کل ہند انعامات کا ریکارڈ۔
*پانچویں سمت* پر دیے گئے انعام کی تصدیق کے لیے۔
9۔ جبین کوثر، ’’سلمیٰ صنم اور کوثر پروین کے افسانوں کا تقابلی مطالعہ‘‘، تحقیقی مقالہ برائے پی ایچ ڈی، کرناٹک یونیورسٹی، دھاڑواڑ، کرناٹک۔
10۔ رضوانہ اقبال، ’’اردو افسانے میں پاکستان اور ہندوستان کی سماجی عکاسی کا تقابلی مطالعہ: نسیم انجم اور سلمیٰ صنم کے حوالے سے‘‘، تحقیقی مقالہ برائے ایم فل، یونیورسٹی آف ایجوکیشن، لاہور، پاکستان۔
11۔ صبا مشتاق، ’’سلمیٰ صنم: شخصیت اور فن؛ تحقیقی و تنقیدی مطالعہ‘‘، تحقیقی مقالہ برائے ایم فل، یونیورسٹی آف نارووال، نارووال، پاکستان۔
20۔ مریم وقار احمد، “Translation of Salma Sanam’s Short Story ‘Organ Bazaar’”، مقالہ برائے بی اے انگلش، ویمنز کرسچین کالج، چنئی، تمل ناڈو، انڈیا۔
12۔ حرا عثمان، ’’سلمیٰ صنم کے افسانوی مجموعے *پت جھڑ کے لوگ* کا تجزیاتی مطالعہ‘‘، مقالہ برائے بی ایس اردو، لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی، لاہور، پاکستان۔
13۔ نیلم نورین، ’’افسانوی مجموعہ *پانچویں سمت* از سلمیٰ صنم: تجزیاتی مطالعہ‘‘، مقالہ برائے بی ایس اردو، گورنمنٹ گریجویٹ کالج سول لائنز، خانیوال، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی، ملتان۔
14۔ روزنامہ ’’آئینِ ادب‘‘، پشاور، پاکستان؛ سلمیٰ صنم کی شخصیت و فن پر شائع شدہ خصوصی گوشہ۔
15۔ ریختہ، JSTOR، ویکیپیڈیا، پنجند ڈاٹ کام اور دیگر ادبی ویب سائٹس؛ سلمیٰ صنم کے تعارف، افسانوں اور ادبی اندراجات کے معاون آن لائن مآخذ۔