پریم چند کے ناول:پسماندہ طبقات کے سیاسی مسائل
ڈاکٹر کیرتی مالینی وِٹھل رائو جائولے
پروفیسرو صدر شعبہ اُردو
ڈاکٹر با با صاحب امبیڈکر مراٹھواڑہ یونیورسٹی اورنگ آباد
اُردو کے افسانوی ادب میں پریم چند اہم مقام رکھتے ہیں۔ان کے ناول میں عام انسان کی زندگی کے مسائل پہلی مرتبہ پیش کئے گئے ہیں۔ انھوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصّہ گائوں میں گذارا ۔ اس لئے ان کی نگاہ میں وہاں کی سچیّ تصویر تھی اور یہی وجہ ہے کہ ان کے ناول میں درمیانی اور پسماندہ طبقے کے مسائل واضح شکل میں نظر آتے ہیں۔ پریم چند ادب میں پسماندہ طبقات کے موضوع پر اُردو کے ادیبوں نے بہت کم لکھا ہے۔ وید میںچنڈال،نشاد وغیرہ ناموں کا ذکر مِلتا ہے۔یہ لوگ سماج کے آخری درجہ میں شامِل تھے۔لیکن پسماندہ سمجھے جاتے تھے یا نہیں اس کا واضح تذکرہ وید ک ادب میں نہیں مِلتا۔ ڈاکٹر گھوریے کے مطابق وید ک عہد کے آخری ایاّم میں مذہبی پاکیزگی، چھوت چھات کے تصوّر کے جذبات مضبوط بنتے گے۔اچھوت یا پسماندہ کی تعریف کرتے ہوئے ڈاکٹر شرما کہتے ہیں:۔
’’ وہ ذاتیں اچھوت ہیں جن کے چھو نے سے شخص نا پاک ہوتا ہے اور اُسے دوبارہ پاک ہونے کے لیے کچھ مذہبی رسم اداکرنا ضروری ہوتا ہے۔‘‘ (بھارتیہ سماج رچنا : ڈاکٹر پرکاش بوبڑے ۲۵۲؎)
اچھوت ذاتیں ہندوسماج میں ایک ایسی ذاتوں کی جمات ہوتی تھی کہ جو مذہبی پاکیزگی اورنا پاکیزگی کے تصّور کی بنیاد پر دیگر ذاتوں سے الگ قرار دی گی تھی۔ان کے پیشہ کو نا پاک قرار دیا گیا تھا۔ان ناپاک پیشہ کو اختیار کرنے کی بنیاد پر انھیں چھو نے کی بھی پابندی تھی۔اسی طرح پاکیز گی قائم رکھنے کے لیے ان پر سماجی، مذہبی اور معاشی پابندیاں عائد کر دی گی تھی۔سماج میں مساوی درجہ، اچھی بستی میں رہائش، تعلیم وغیرہ عام سماجی حقوق سے محروم رکھا گیا تھا۔پسماندہ طبقات سے عام شہری کی طرح راستہ پر چلنے پھرنے کے حق کو بھی چھین لیا گیا تھا۔
پریم چند نے سوردا س کے کردارکے ذریعہ گاندھی جی کے خیا لات ، اہنسا اور عدم تشدّد کو پیش کیا ہے۔افسروں کی ناانصافی اور غلط پالسی کے خلاف وہ شہر میں عوام کو بیدار کرتا ہے۔ پانڈے پور بستی مزدوروں کے مکانوں کے لیے خالی کروائی جاتی ہے۔ سورداس سرکار کی اس پالیسی کی مخالفت روحانی طاقت سے کرتا ہے۔ بھیرو سے کہتا ہے ۔
’’سرکار کے ہاتھ میں مارنے کی طاقت ہے۔ ہمارے ہاتھ میں اور کوئی طاقت نہیں ہے تو مرجانے کی طاقت تو ہے۔‘‘ (کُلیات پریم چند:جلد ۴ :۴۶۵)
افسروں سے اپنی جھونپڑی چھوڑنے سے انکار کردیتا ہے۔ اور اُسی کے سامنے دھرنا دے کر بیٹھ جاتا ہے۔سورداس سرکار کی غلط پالیسی کے حکم کی نافرمانی کر کے عدم تعاون کا اظہار کرتاہے۔ امرت رائے کے لفظوں میں۔
’’ وہ ایک آدرش ستیہ گرہی ہے لیکن سیاسی تحریک کے معنی میں نہیں۔زندگی کی ایک سمگر نظر کے وسیع معنی میں ۔‘‘ (قلم کا سپاہی :۳۲۷)
سچائی اور انصاف کی حفاظت کرنا اُسے کی زندگی کا اٹوٹ حصّہ ہے۔ وہ کہیں بھی سچائی کے خلاف برتائو کرتاہوا دکھائی نہیں دیتا۔
پولیس سے عوام کا استحصال
پولیس کا ایک کام عوام کے مال و دولت کی حفاظت کرنا ہے۔ لیکن غلام ہندوستان میں پولیس معصوم عوام کا کِس طرح استحصال کرتی ہے۔ پریم چند نے ’’گوشئہ عافیت ‘‘میں اس سچائی کو منظر عام پر لایا ہے۔ لکھن پور گائوں کے سیدھے سادھے کِسانوں کا استحصال زمیندار اور ان کے کارندے تو کرتے ہی ہیں پولیس کا استحصال بھی کچھ کم نہیں ہے۔پولیس کی مدد سے زمیندار اور اُ س کے کارندے کِسانوں کو پوری طرح کُچل دیتے ہیں۔شیدید گرمی کے دِنوں میں کارندا غوث خاں تالاب کا پانی روک دیتا ہے۔ اس وقت دیگر کِسانوں کے ساتھ سکھو چودھری بھی اُس کی مخالفت کرتا ہے۔نتیجہ میں غوث خاں سکھو چودھری کا دُشمن بن جاتا ہے وہ داروغہ نور عالم سے دوستی کر کے سکھو چودھری پر جھوٹا ا لزام لگا دیتا ہے۔ سکھو کو دو سال کی سزا ہوتی ہے۔
افسروں کے پانچ گھوڑوں کے لیے ہری گھاس لانے کے کام میں گائوں کے سب چماروں کو لگا دیا گیا۔ کئی نو نیے پانی بھر رہے تھے۔ کہاروں کو عملے کی خدمت سے سراٹھانے کی مہلت نہیں ہے۔ اس وقت پولیس افسر کے لیے ٹینس کورٹ تیار کرنے کے لیے منوہر ، قادر،دُکھرن بھگت وغیرہ کِسانوں کو گھاس چھیلنی پڑتی ہے۔ دُکھرن بھگت کے انکار کرنے پر تحصیلدار اُسے جوتوں سے پٹوا تے ہیں۔’’گئودان‘‘ میں پولیس کے ظلم و جبر کی وجہ سے سیدھے سادھے دیہاتی پولیس کے سپاہیوں اور داروغہ کے سامنے تھر تھر کانپتے ہیں۔ ہوری کا بھائی گائے کو زہر کھلا کر گائوں چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔ گائوں کا چوکیدار اس واقعہ کی خبر تھانے میں کرتا ہے۔ علاقے کا تھانیدار موقع واردات پر جانچ کرنے پہنچتا ہے۔ داروغہ کے آنے پر ہوری اُسے دیکھتے ہی ڈر تا ہے۔ پریم چند لکھتے ہیں۔
’’ہوری کی طلبی ہوئی۔ زندگی میں یہ پہلا مو قع تھا کہ وہ تھانے دار کے سامنے آیا۔ ایسا ڈر رہا تھاجیسے پھانسی ہو جائے گی۔ دھنیا کو پیٹتے وقت اس کا ایک ایک عضو پھڑک رہا تھا۔ داروغہ کے آگے کچھوے کی طرح اندر ہی اندر سمٹا جاتاتھا۔ ‘‘ (گئودان : پریم چند ۱۴۱، ۱۴۲؎)
’’چوگان ہستی‘‘ میں عدالتیں امیروں کے ہاتھو میں ظلم ڈھانے کی مشین سے زیاد ہ کچھ نہیں ہیں۔بھیر و کی بیوی اس کے ظلم و جبر کا شکار ہو کر سورداس کا سہارا لیتی ہے۔ بھیرو ان دونوں پر مقدمہ کرتا ہے۔ یہ مقدمہ راجا مہیندر سنگھ کی عدالت میں چلتا ہے۔ راجہ صاحب کی سورداس سے ذاتی دُشمنی ہے وہ اسے سزا دیتے ہیں۔اسی واقعہ سے پریم چند نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ مقامی عدالتوں پر راجہ رئیسوں کا اقتدارہے۔
وکیل اپنے مو کل کی فتح پر دھیان دیتا ہے۔ اس لے وہ اکثر عدالت میں جھوٹے گواہوں کو پیش کرکے اپنے موکل کی حمایت کرتا ہے۔ ’’چوگان ہستی‘‘ میں بھیرو ، سورداس اور سبھاگی پر مقدمہ کر تا ہے۔ مِل مزدوروں اور مستریوں کو لالچ دے کر عدالت میں گواہی دینے کوتیار کرتا ہے۔پریم چند کے خیال سے رائج عدالتی نظام میں اصلاح کے لیے عدا لت کو خود وکیلوں کا تقرر کرنا ہوگا۔
سورداس کی زمین پانڈے پور کے مویشی کی چراگاہ ہے۔ محلہ کی اس بھلائی سے لاپرواہی کر کے سورداس کی زمین جان سیوک ذاتی فائدے کے لیے چھین لیتا ہے۔ آگے چل کر پانڈے پور کی بستی بھی مزدوروں کے مکانوں کے لیے خالی کرا دی جاتی ہے۔پانڈے پور والے اس ناانصافی کے خلاف متحد ہوکر کوئی تحریک نہیں کرتے نتیجہ میں بے گھر ہو جاتے ہیں۔ پریم چند کے سیاسی خیالات ترقی پسند ہیں۔ان کے دِل میں ہندوستان کو غلامی کی زنجیروں سے آزادی دِلانے کی خواہش ہے۔ نوآبادیاتی خودمختاری میں پریم چند کو اعتماد نہیں ہے۔ وہ مکمل آزادی کی حمایت کرتے ہیں۔پریم چند ہندوستان کو آزادی دِلوا کر ایسے سماجی نظام کو قائم کرنے کا خواب دیکھتے ہیں۔ جس میں استحصال کا کہیں نام و نشان نہ ہو۔جس وقت رہنمائوں کے سامنے ملک کو غیرملکی حکومت سے آزاد ی دِلانے کا مسئلہ اہم تھا ، پریم چند نے اس سماجی نظام کا بھی تصور کرلیا جِسے وہ آزاد ہندوستان میں عمل میں لانا چاہتے ہیں۔ پریم چند سماج میں رائج معاشی تفریق کو دور کر کے ایسا سماجی نظام قائم کرنے کا خواب دیکھتے ہیں جس میں ایک طبقہ دوسرے طبقہ کا استحصال نہ کرسکے۔ پریم چند آزاد ہندوستان کے لیے طبقاتی تفریق سے آزاد سماجی نظام کو مثال مانتے ہیں۔
پریم چند ہندوستان کو آزادی دِلوا کر ایسے سماجی نظام کو قائم کرنے کا خواب دیکھتے ہیں۔ جس میں استحصال کا کہیں نام و نشان نہ ہو۔ جس وقت رہنمائوں کے سامنے ملک کو غیرملکی حکومت سے آزاد ی دِلانے کا مسئلہ اہم تھا ، پریم چند نے اس سماجی نظام کا بھی تصور کرلیا جِسے وہ آزاد ہندوستان میں عمل میں لانا چاہتے ہیں۔ پریم چند سماج میں رائج معاشی تفریق کو دور کر کے ایسا سماجی نظام قائم کرنے کا خواب دیکھتے ہیں جس میں ایک طبقہ دوسرے طبقہ کا استحصال نہ کرسکے۔ پریم چند آزاد ہندوستان کے لیے طبقاتی تفریق سے آزاد سماجی نظام کو مثال مانتے ہیں۔
پریم چند کی نظر میں ادب سماج کا آئینہ ہی نہیں اس کی رہنمائی کرنے والا ستارہ ہے۔ پریم چند اپنے ناولوں کے ذریعہ سماجی آدرشوں کو بچانے کے لیے مسلسل کوشش کرتے رہے۔ انھوں نے سچائی کی بنیاد پر آدرش کی عمارت کھڑی کرنے کی کوشش کی ہے۔سماج کی ترقی کے لیے خواتین اور مرد میں جس تعاون اور نیک جذبات کی ضرورت ہوتی ہے پریم چند اُس کی ہر جگہ کمی محسوس کرتے ہے۔پریم چند مرد اور عورت کے آپسی اشتراک پر زور دیتے ہیں۔خاتون یاتو مردوں کے ظلم کا شکار ہیں یامغربی تہذیب اور انگریزی تعلیم سے متاثر ہوکر فطری سچائی کو ٹھکرارہی ہیں۔غلامی کی بیڑیوں سے جکڑنے سے کوئی بھی سماج ترقی نہیں کرسکتا ۔ پریم چند اپنے دِل میں ہندوستان کو غیرملکی حکومت سے آزاد ی دِلانے کے لیے خواہش رکھتے ہیں۔ غیر ملکی حکومت نے ہندوستانیوں کی روح کو بھی غلام بنا دیا ہے۔ پریم چند نے محسوس کیا ہے کہ ہندوستانی اس غلامی سے اس وقت تک آزاد نہیں ہو سکتے جب تک غیرملکی حکومت کا پوری طرح خاتمہ نہ ہو جائے ۔ اس لیے پریم چند ہندوستان کی ترقی کے لیے مکمل آزادی کی حمایت کرتے ہیں۔ ان کے خیال سے ہندوستان کی بھلائی کا کوئی علاج ہے تو ’ سوراج ‘ہے۔ جس کا مطلب دِل اور زبان کی پوری آزادی۔ مختصراََ یہ کہا جا سکتا ہے کہ پریم چند کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے پسماندہ طبقات کے لوگوں کو اپنے ناول میں مرکزی جگہ دی۔ پریم چند اُردو کے پہلے ادیب ہیں جھنوں نے پسماندہ طبقات کے مسائل کو اپنے ناول کا موضوع بنا یااور ان طبقات کے سماجی، مذہبی، معاشی اور سیاسی مسائل کی مکمل عکاسی کی ۔