ادبِ اطفال کے ابتدائی نقوش امیر خسرو کے کلام میں
ڈاکٹر ناظم الدین منور
(صدر شعبہ اردو،ساتا واہانا یونیورسٹی، کریم نگر)
اُردو زبان و ادب کے فروغ میں صوفیا ء کرام کی خدمت ناقابل فراموش ہیں۔ وعظ و نصیحت کیلئے صوفیاا کرام نے اُردو زبان کو استعمال کیا ۔ ان کی تحریریں و مذہبی احکامات کا رسم الخط ہندوستانی، ہندوی ، اور اردو زبان میں ہوتا تھا یہ تحریریں ابتدائی اردو زبان و ادب کا ایک اہم ذخیرہ ہیں جس کے ذریعہ اردو شعری و نثری ادب میں اضافہ ہوا، چودھویں صدی کے صوفیاء اکرام میں ایک اہم نام امیرخسرو کا ہے جنکا تعلق ترکی النسل سے ہے ان کے والد امیر سیف الدین محمد بلخ کے امراء میں شمار ہوتے تھے بار بار جنگوں خصوصاًچنگیز خاں کے حملوں کی وجہ سے ہندوستان کارخ کیادہلی میں قیام پذیر ہوئے۔ دہلی کے مشہور امیر عماد الملک کی بیٹی سے نکاح کیا ۔ جس سے تین لڑکے ہوئے جس میں سب سے چھوٹے امیر خسرو ہے ان کا اصل نام ابوالحسن ، خسرو تخلص اور امیران کا خطاب تھا۔ وہ پیشالی ضلع اٹیٹہ میں 1252ء میں پیدا ہوئے ۔ بچپن ہی میں والد کا انتقال ہوا۔ نانا کے گھر دہلی میں رہ کر تعلیم حاصل کی ۔ امیر خسرو کی پیدائش کے متعلق ایک واقعہ بیان کیا جاتاہے کہ جب وہ پیداہوئے تو ان کے والد ان کو چادر میں لپیٹ کر ایک بزرگ کے پاس لے گئے بزرگ نے بچے کو دیکھتے ہی کہا’’ امیر محمد! تم کس بچے کو میر ے پاس لائے ہو یہ بڑا ہوکر خاقانی(اس دور میں ایران کا بڑا شاعر تھا) سے بھی آگے جائیگا اور ساری دنیا میں اس کا نام ہوگا۔
امیر خسرو خداداد صلاحیتوں کے مالک تھے بچپن ہی سے ذہین تھے شاعری کا شوق پیدائشی تھا ۔ دس ال کی عمر میں شعر کہنا شروع کیا وہ خود لکھتے ہیں ’’ اس کم عمری میں بھی جب میرے دودھ کے دانت نہ ٹوٹے تھے شعر میرے منھ سے موتیوں کی طرح جھڑتے تھے۔امیر خسرو کے بچپن کا ایک واقعہ جسکے ذریعہ انکی خداداد صلاحیت و قابلیت کا پتہ چلتا ہے ان کے استاد کا نام قاضی اسد الدین تھا وہ اکثر شہر کوتوال کے گھر ان کے خط لکھنے جاتے تھے ایک دن وہ اپنے شاگرد امیر خسرو کو شہر کوتوال کے گھر لے گئے ۔ وہاں اس دور کے ایک بڑے عالم ، شاعر و ادیب خواجہ عزیز الدین بھی موجود تھے شعر و شاعری کا تذکرہ شروع ہوا ، قاضی اسد الدین نے امیر خسرو کا تعارف کروایا یہ بچہ شعر و شاعری میں دلچسپی رکھتا ہے انھوں نے ایک کتاب امیر خسرو کو دی خسرو نے اس کتاب میں سے ایک نظم ترنم کے ساتھ پڑھی اور ایسی میٹھی اورپیاری آواز میں پڑھی کے سننے والوں پر مستی کا عالم طاری ہوگیا ان کی آواز کے جادو سے سب جھوم اٹھے جب یہ سماں دیکھا تو خسرو کے استاد نے کہا کہ یہ تو کچھ بھی نہیں ۔ نظم تو کوئی بھی پڑھ سکتا ہے اس بچہ سے کوئی شعر موزوں کر ائیے اس پر ان کو چار الگ الگ لفظ خربوزہ ، تیر ، مو [بال] ، بیضہ [انڈہ] دئیے ۔ جن میں بظاہر ایک دوسرے سے کوئی تعلق نہ تھا اور ان کو ایک رباعی میں نظم کرنے کے لئے کہا گیا ، امیر خسرو نے اسی وقت یہ رباعی نظم کردی ۔
موئے کہ در زلف آں صنم است
صد بیضہ عنبرین برائے موئے صنم است
چوں تیر مدان راست دلش دا نر یرا
چوں خربوزہ دندا نش میں شم است
اس محبوب کی دو زلفوں کے ایک بال میں عنبر کے بیضے ہیں اس کو تم تیر کی طرح سیدھا مت سمجھو ۔خربوزہ کی طرح وہ دانت کو اپنے پیٹ میں لئے ہوئے ہے۔یہ رباعی سن کر سب حیران ہوگئے اور خسرو کی خوب تعریف ہوئی ۔ امیر خسرو کو اپنی والدہ سے بے حد محبت تھی ۔ امیر خسرو اپنے اشعار میں اپنی ماں کا ذکر بڑی عقیدت سے کرتے ہیں ان کی زندگی پر ان کی ماں کی تربیت کا گہر ا اثر پڑا ۔ اپنی ماں اور نانا کی نگرانی میں اپنے زمانہ کے علم و فن میں پوری مہارت حاصل کی ۔ کم عمری میں تمام مروجہ علوم میں کمال حاصل کیا ۔ فارسی ان کے اجداد کی زبان تھی اور اردو ننھیال کی بولی تھی ان دونوں زبانوں میں انھوں نے مہارت حاصل کی ۔ 19 برس کی عمر میں تعلیم مکمل کی، نانا کا انتقال ہوا۔ تلاش روزگار کے لئے نکلے عالم اور شاعر تھے اس کے ساتھ ساتھ بذلہ سنج اور حاضر جواب تھے ملازمت آسانی سے مل گئی ۔
بلبن کے بھتیجے کے مصاحب بنے پھر اس کے چھوٹے بیٹے بغیرا ا خان اور اسکے بعد سلطان محمد کے ساتھ رہے اس کا بڑا بیٹا ایک جنگ میں قتل کردیا گیا خسرو نے اس کی موت پر ایک مرثیہ لکھا ۔ جس کی وجہ سے بلبن کے دربار تک رسائی ہوئی ، بلبن کے بعد اس کے پوتے کیقیاد کے درباری شاعر رہے اس کے بعد سلسلہ وار جلال الدین ، علاء الدین ، قطب الدین، غازی تغلق کے دربار سے وابستہ رہے ۔ محمد بن تغلق کے دورِحکومت کے ابتدائی ایام میں 1325ء میں امیرخسرو کاانتقال ہوا ۔امیر خسرو نے گیارہ خاندانوں کے بادشاہوں کا زمانہ دیکھا سات بادشاہوں کے دربار سے وابستہ رہے شاہی دربار میں انکو خاص مقام حاصل تھا ۔ انعامات و تحائف سے نوازاجاتے تھے۔امیر خسرو کتنے دلچسپ اور باکمال انسان تھے وہ کتنے شہزادوں کے ساتھ رہے کہتے ہیں بادشاہوں کا زمانہ انھوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کئی لڑائیوں میں شریک ہوئے ۔ کتنے ہی بادشاہوں کے سر تن سے جداہوتے دیکھے ۔ محلوں کی سازشوں کے کتنے ہی خونی ڈرامے ان کے سامنے کھیلے گئے ، مگر ان کا کمال یہ تھا کہ وہ اسی ہنگامہ کے بیچ رہتے ہوئے بھی ان سے الگ تھے ‘‘۲؎
امیر خسرو 1975ء از:شیخ سلیم احمد 18 ؎
امیر خسرو اس دورکے بڑے بزرگ حضرت نظام الدین اولیا کے مریدخاص تھے وہ زیادہ وقت اپنے پیر کے پاس گذارتے تھے۔ شاہی دربار سے جو تحائف انعامات دئیے جاتے تھے وہ غرباء و مساکین میں تقسیم کرتے تھے بلکہ یہ بات بھی مشہور ہے کہ خسرو کو ایک ہاتھی کے وزن کے برابر سونا ملا ہو مگر اس کو انھوں نے غرباء میں تقسیم نہ کردیا ہو۔امیر خسرو کی زندگی مین انکی شاعری ، ذہانت ، عوامی دوستی ، حاضر جوابی کی شہرت دور دورتک پہنچ گئی ۔ بلکہ دیگر ممالک میں بھی انکا تذکرہ ہونے لگا ۔ شاہی دربار سے وابستگی کے باوجود عوام میں رہنا پسند کرتے تھے ۔ عوام میں رہ کر خوش ہوتے عوامی تقریبات سے لطف اندوز ہوتے ۔عیدوں و تہواروں ، میلوں ، ٹھیلوں میں شریک ہوتے اور بڑے جوش و خروش سے مناتے ۔ عورتیں ان سے ہنسی مذاق کرتیں ۔ بچے ان کے ساتھ کھیلتے و ہ غریبوں اور فقیروں کا سہارا تھے ۔ گھر سے نکل کر کئی کئی دن غرباء و مساکین میں گذارتے ۔ دربار سے انھیں جو کچھ ملتا وہ سب غرباء میں بانٹ دیتے اپنے پاس کچھ بھی نہ رکھتے ۔ دربار سے خانقاہ جاتے وقت بچے اور بڑے روکتے اور ان سے اشعار کی فرمائش کرتے ۔امیر خسرو دلچسپ باتیں کرنا جانتے تھے کئی ہنروں سے واقف تھے ہر قسم کا ساز (باجا) وہ خود بجاتے تھے اس کے علاوہ وہ بہت اچھی آواز میں گاتے تھے۔ ڈھکوسلے ، مکرنیاں ، اور پہلیاں گڑھنے میں ان کو مہارت حاصل تھی عوام کی مدد بھی کرتے تھے ان ہی اوصاف کی وجہ سے وہ عوام و خواص میں بہت مشہور و مقبول تھے نہ صرف شاہی دربار میں عزت کی جاتی تھی بلکہ عام رعایا بھی ان کو دل سے چاہتے تھے اور احترام کرتے تھے گویا امیر خسرو عام و خاص کے دلوں کی دھڑکن تھے ۔امیر خسرو فارسی اور ہندی کے شاعر تھے اس دور میں عشقیہ شاعری عام تھی اور بادشاہوں کی تعریف میں قصیدے لکھے جاتے تھے امیر خسرو نے قصیدے لکھے مثنویاںکہیںاور عشقیہ شاعری کی
’’فارسی زبان کے دوسری بہت بڑے شاعر تھے انھوں نے عربی بھی پڑھی سنسکرت اور ہندوستان کی دوسری علاقائی زبانیں بھی سیکھیں ہندوستانی زبان کو رواج دیا اس کے علاوہ علم نجوم اور موسیقی میں کمال حاصل کیا ‘‘۔
امیر خسرو 1975ء از:شیخ سلیم احمد 18
امیر خسرو کی مادری زبان دلی کی کھڑی بولی تھی ۔ ان کے علاوہ انکوترکی، عربی، سنسکرت ، پنجابی اور سندھی پر بھی عبور حاصل تھا، اس دور کی شمالی ہند کی زبانیں اور بولیوں سے وہ واقف تھے ، امیر خسرو نے روایت سے ہٹ کر نئی شاعری کی بنیاد ڈالی ،معمولی چیزوں کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا قدرتی مناظر کو اپنے کلام میں بیان کیا ، برسات ، سردی ، باغ، پھل، پھول، صبح و شام کے متعلق نظمیں لکھیں۔
’’خسرو کی شاعری میں تازگی اور روانی ہے اس میں درد اور اثر ہے ان کے شعر بناوٹی نہیں ہوتے بلکہ ان میں سچائی اور اصلیت ہوتی ہے ان کی شاعری دلوں کی آواز ہے انہوںنے فلسفہ ، تصوف ، مذہب ، حسن و عشق ، قدرتی مناظر کے بارے میں شاعری کی ہے ، اس لئے سات سو سال گزر جانے کے باوجود بھی ان کی شاعری میں تازگی اور نیا پن ہے ۔ آج بھی ان کی غزلیں بڑے شوق سے گائی جاتی ہیں۔‘‘
امیر خسرو 1975ء از:شیخ سلیم احمد 70 ؎
امیر خسرو نے بہت سی پہیلیاں اور معمے بھی کہے ہیں جو آج بھی بڑے مقبول ہیں اس کے علاوہ مکرنیاں ، لوریاں، انملیاں ، گیتوں کو بھی لکھا ، امیر خسرو نے بعض ایسے اشعار لکھے ہیں جو اردو فارسی دونوں سمجھے جاسکتے ہیں اس کے علاوہ ایسے شعر بھی کہے ہیں جس کا ایک مصرعہ فارسی اور دوسرا مصرعہ اردو کا ہے امیر خسرو ایک عوامی شاعر تھے عوام کے دل و دماغ پر ان کے کلام کے گہرے اثرات مرتب تھے۔
دہلی کی عام زبان جس کو ریختہ کہتے ہیں ۔ امیر خسرو اس کو ہندوی اور زبان ِ دہلوی کہتے ہیں امیر خسرو اس زبان کے پہلے شاعر تسلیم کئے جاتے ہیں انھوں نے ہندوی میں بکثرت نظمیں اور دوہے لکھے ۔ایک اندازے کے مطابق 3 لاکھ اشعار کہے لیکن افسوس کہ ان کا ہندوی کلام محفوظ نہیں رہ سکا نہ کہیں پر کسی کو دستیاب ہوا ۔ انھوں نے فارسی ، سنسکرت ، ترکی ، عربی زبان میں بھی شعر کہے ہیں امیر خسرو نے مختلف زبانوں میں مختلف موضوعات پر تقریباً 100 کتابیں تحریر کی ہیںلیکن یہ کتابیں بکھری ہوئی ہیں،ہندوستان اورمختلف ممالک کے متعدد کتب خانوں میں ان کی کتابیںاور ان کا کلام موجود ہے۔امیر خسرو کا فارسی کلام تقریباً 4 لاکھ اشعار پر مشتمل ہے انہوں نے اقلیم سخن میں مسدس ، خمسہ ، غزل ، مثنوی ، قطعات اور رباعی کے علاوہ چھوٹے چھوٹے خطہائے سخن یعنی نظمیں ، متضاد ، صنائع ، و بدائع کو بھی استعمال کیا ۔
امیر خسرو کی صحیح تصانیف کے بارے میں مختلف تذکرہ نویسوں کی مختلف آراء ہیں برنی اور سیرۃ اولیاء کے مطابق ان کی تصانیف سے ایک کتب خانہ بن سکتا ہے جامی کے خیال میں ان تصانیف کی تعداد 99 ہے جبکہ امین رازی ان تصانیف کی تعداد ایک سو سے زائد بتاتے ہیں ۔ مولوی سید حسن بلگرامی نے 1915 ء میں نواب اسحاق خاں رئیس میرٹھ کے مشورہ پر جن تصانیف کے نام بعد از تحقیق معلوم کئے تھے ان کی تفصیل اس طرح ہے۔(1) تحفت الصغر (2ْْْْْْْْْْ) وسط الحیات (3) دیباچہ الکمال (4)ْ دیوان غرۃ الکمال (5) بقیہ نقیہ (6) مطلع الانوار (7)شیرین و خسرو (8) مجنوںو لیلیٰ (9) ہشت بہشت (10) مجموعہ مثنویات (11) آئینہ سکندری (12) قرآن السعدین (13) خضر خان یا عشقیہ (14) نہ سپر (15) مفتاح الفتوح (16) مجموعہ رباعیات و کلیات (17) قصیدہ امیر خسروپر مشتمل ہندوستانی شاہنامہ (18) اعجاز خسروی (19) انشائے خسرو (20) احوال ِ امیر خسرو (21) نہایت الکمال (22 ) خزائن الفتوح 23) نصاب بدیع العجائب (24) نصاب مثلث (25)افضل الفوائد (26) خالق باری(27)قصہ چہار درویش (28) باز نامہ(29) فرس نامہ یا اسپ نامہ (30) بحر العبیر (31) مراۃ الصنعاء (32) شیر آشوب (33) مجموعہ رباعیات
34) تغلق نامہ (35) تاج الفتوح (36) تاریخ دہلی (37) مناقب ہند (38) حالات کنہیا وکرشن (39) مکتوبات امیر خسرو (40) جواہر الامجد (41) راحت المحسن (42) تاریخ الخلفاء (43) رسالہ البیات بحث خسرو و جامی (44) شنگرف بیان ترانہ ہندی (45) مناجاتِ خسرو ۔
امیر خسرو کا پہلا دیوان تحفت الصغر ہے جو 16 سے 19 سال تک کی عمر میں لکھا گیا یہ دیوان زیادہ تر قصائد پر مشتمل ہے جو بادشاہ بلبن اور اس کے بیٹے شہزادہ محمد کی تعریف میں لکھے ،اس دیوان کے دیباچہ میں خسرو نے اپنی زندگی کے اہم واقعات بھی لکھے ہیں ۔ دوسرا دیوان غرۃ الکمال ہے جو 24 سال سے 30 سال تک کی عمر میں لکھا گیا جس میں حضرت نظام الدین اولیاء اور بادشاہ کی تعریف میں قصائد لکھے گئے ۔ تیسرا دیوان وسط الحیوٰۃ ہے جو 31 سے 42 سال تک کی عمر میں لکھا گیا اس دیوان میں تاریخی مثنوی مفتاح الفتوح ہے ۔ چوتھا دیوان بقیہ نقیہ 50 سے 64 سال تک کی عمر میں لکھا گیا جس میں مثنویاں اور قصیدے شامل ہیں اعجاز خسروی میں7750 اشعار ہیں جس میں غزلیں ، قصیدے، رباعیات اور قطعات ہیں۔تمام تصانیف سے قطع نظر ہم امیر خسرو کے اس کلام کا مختصر جائزہ لیتے ہیں جس میں بچوں کے لئے اخلاقی درس ہو، امیر خسرو کی ایک تصنیف ’’خالق باری ‘‘ جس میں اخلاقیات کا درس ہے ماہرین ادب اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اردو ادب میں خالق باری بچوں سے متعلق پہلی کتاب ہے ،ابتداء میں بہت ضخیم تھی ، عربی فارسی اور ہندوی کے لغات میں مختلف بحروں میں ہے موجودہ کتاب بہت مختصر ہے 215 اشعار پر مشتمل ہے ۔ یہ بات مشہور ہے کہ امیر خسرو نے اس کتاب کو کسی بھٹیاری کی فرمائش پر اس کے بیٹے کے لئے لکھا تھا۔
’’ خالق باری کی بحریں ایسی شگفتہ اور اصول ِ موسیقی کے مطابق ہیں کہ یہ کتاب خسروہی کے موسیقی دان ، شاعر کے ذہن اور قلم کی رہن منت ہوسکتی ہے مثنوی میں بعض ایسے الفاظ ملتے ہیں جو خسرو کے زمانے کے متعلق ہیں مثنوی کے آخر تک خسرو کا نام اس خوبی ، شوخی اور بے ساختگی کے ساتھ آیا ہے کہ خالق باری کی تصنیف کا سوال بالکل حل ہوجاتاہے‘‘
امیر خسرواز:ڈاکٹروحید مرز ا 252؎
امیر خسرو بچوں سے بہت محبت کرتے تھے ۔ بچوں کے ساتھ کھیلتے اور وقت گذارتے پندو نصیحت کرتے بچوں کے لئے انھوں نے کئی پہیلیاں کہی ہیں۔
نر سے پیدا ہوئے نار
ہر کوئی اسے رکھے پیار
اک زمانہ اسے کھاوے
خسر و پیٹ میں وہ نہ جائے
اس پہلی کی بوجھ ’’قسم ‘‘ ہے
فارسی بولی آئی نہ ترکی بولی آئی نہ
ہندی بولی آرسی آئےخسرو کیے کوئی نہ بتائے
اس پہلی کا بو جھ ’ آئینہ ‘ ہے
’’ اول اسی خالق باری میں فارسی بحروں نے اپنی جھلک دکھائی ہے فارسی اور اردو پڑھے ہوئے لوگوں میں شاید ہی کوئی ایسا ہوجسے خالق باری اور کریما کے دو چار ، پانچ ، دس شعر یاد نہ ہو ، خالق باری جس طرح کے سات سو برس پہلے بچوں کا وظیفہ تھی اسی طرح آج بھی جہاں جہاں پرانی تعلیم کا چرچا باقی ہے عام طور سے بچوں کو وردِ زبان ہے ‘‘
حیات خسرو از: محمد سعید احمد مارہروی 122؎
خسرو کو کے کلام کے چندسبق آمو ز اشعارجوبچوں کے لئے نصیحت سے بھر پور ہیںاور جن میں آئندہ نسل کے لئے مفید اور مناسب رہنمائی ملتی ہے، درجِ ذیل ہیں :
غرض کر شہوت و خوردہ آشام خران راہم کرد آدمی نام
اگر کسی انسان کی زندگی کا مقصد پیٹ بھرنا ، اچھی غذا کھانا، لذت طعام ہو وہ اپنی شہوانی خواہش کو پوری کرتا ہے یہ تو جانور وں کی صفت ہے خسرو گدھے کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں ایسے انسان اور گدھے میں کوئی فر ق نہیں ،ہر انسان کو چاہئے کہ زندگی گذارنے کے لئے کھائے نہ کہ کھانے کے لئے زندگی گذارے، مقصدِ زندگی دنیا و آخرت میں کامیابی ہو۔
اگر در سیم و زر کسی تبز جنگ است ستورے وان کے زیر بار لنگ است
خسرو کہتے ہیں کہ مقصدِ زندگی صرف دولت کا حصول ہو ہر وقت روپیہ پیسہ بڑھانے کی فکر ہو ،سونا چاندی ، کے ذخیرہ میں اضافہ ہو ،اس کی فکر میں دن رات مصروف ہے، اسی کی کوشش میں ہر وقت رہتا ہو، اسی کے حصول کے لئے محنت کرتا ہے، وہ اس گھوڑے کے مانند ہے جو بوجھ اٹھایا ہو اور بوجھ کی وجہ سے چلنے پھرنے سے قاصر ہو اور گھوڑا لنگڑاتے ہوئے چل رہا ہو ، بلکہ ہر انسان کو چاہئے کہ مقصد حیات اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کی خدمت اپنے سینے میں قوم وملت کے لئے در د بھرا دل ہو دوسروں کی وقت ضرورت مددکرتا ہو ، خدمت کے لئے تیار ہو وسیع النظر ، فراغ دل ہو ہمدرد ہو ۔
پس آنکس مردم آموز آفرینش کہ ہتش ہر خرد قانون بتش
جو انسان عقل و فہم سے کام لیتا ہواور دور اندیشی وحکمت اس کے اندر ہوتی ہو وہی مرد کہلانے کا حقد ار ہے،جذبات پر قابو رکھ کر حکمت سے کام کرنا چاہئے، جوش نہیں ہوش مطلوب ہے ،مقصد کی تکمیل کے لئے اس طرح کی محنت ، سچائی، وفاداری، حسن اخلاق ، حکمت، خلوص نیت ، بردباری ، صبر و تحمل ، یہ صفات ایک کامیاب انسان کے لئے ضروری ہیں۔
’’ خالق باری سے قطع نظر امیر خسرو اپنی شگفتہ مزاجی ، شوخی و ظرافت سے بھر پورپہلیوں ، کہہ مکرنیوں اور دونسخے وغیرہ کی بناء پر بھی بچوں کے پہلے ادیب قرار دئیے جاسکتے ہیں۔‘‘
اردو میںبچوں کا ادب از:ڈاکٹر سید مشہدی 102 ؎
آئینہ سکندری میں امیر خسرو اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہیں ’’جو کچھ خدا تمہیں دے اس میں غریبوں اور ضرورتمندوں کو شریک کرو ،دل سے خود غرضی کا رنگ اتار کر پھینک د و ، پیشانی سے غصہ کی لکیریں مٹادو ،جو کچھ تمہارے پاس ہے اسے خندہ پیشانی سے دوسروں میں تقسیم کرو کیونکہ خدا تمہیں اس کا دگنا دے گا ،اپنے تحفوں کو دوسروں میں بانٹ دو اور ان کو اپنابنالو ، اس شیر کی طرح بنو جو اپنے مارے ہوئے شکار سے جنگل کے تمام جانوروں کی ضیافت کرتاہے ، وہ بلی نہ بنو جو روٹی کا یک ٹکڑا لے کر کونے میں چھپ کر کھاتی ہے ،غیروںو اجنبیوں میں اپنی جودو سخا دکھلائو کیونکہ کہ اپنے بیوی بچوں کے لئے تو ہر احمق گدھا بھی سخی ہوتا ہے، وہ انسان جس کی مہر بانی و سخاوت صرف اپنے خاندان تک محدود ہے حقیقتاً خود غرض انسان ہے۔ ‘‘
امیر خسرو از: شیخ سلیم احمد 284؎
اس طرح امیر خسرو کے کلام میں جابجا بہتر اورکامیاب زندگی گذارنے کی طرف رہبری اور رہنمائی ملتی ہے اس کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کے ادا کرنے پر زور دیا جاتاہے ۔ امیر خسرو کے صفات کے بارے سید غلام سمنانی کہتے ہیں۔
’’ امیر خسرو اپنے خیالات کی جدت اور شعروں کی کثرت کے اعتبار سے ممتاز حیثیت رکھتے ہیں امیر خسرو کو ہر صنف سخن میں مہارت حاصل تھی آپ ذہین، قابل اور صاحب علم و فضل ہونے کے علاوہ ایک صوفی بھی تھے، خدانے آپ کوایک فنکار اور مہذب انسان کی تمام صفات سے نوازا،درحقیقت امیر خسرو جیسے عجیب و غریب انسان صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں جو سر تاپا محبت ہوں۔‘‘
امیر خسرو از:سید غلام سمنانی 60؎
امیر خسرو ایک اور جگہ نصیحت کرتے ہیں کہ’’ بیٹا انسان کو خود غرض نہیں رہنا چاہئیے ،بلکہ وسیع النظر اور فراغ دل رہنا چاہئیے ، ہمیشہ دوسروں کی مدد کے لئے آگے بڑھنا چاہئے ،بلکہ دوسروں سے سبقت لے جانا چاہئے ،آگے کہتے ہیں کہ ہمیشہ انسان غصہ سے دوررہتے ہوئے سکونِ قلب سے رہنا چاہئے کیونکہ غصہ کرنا اچھی صفت نہیں ہے ،غصہ کی وجہ سے بنتے ہوئے کام بگڑ جاتے ہیں، غصہ کی وجہ سے لوگوں سے دور ہوجاتے ہیں، خاندان میں بھی اچھی نظروں سے نہیںدیکھا جاتاہے ، غصہ کرنے والا زیادہ تر نقصان اٹھاتاہے ، غصہ کی وجہ سے بعض وقت انسان حیوان بن جاتاہے، غصہ کی وجہ سے نفرت پیدا ہوتی ہے، غصہ کے ساتھ کوئی انسان عوام کا محبوب نہیں بن سکتا ، خندہ پیشانی کے ساتھ لوگوں سے پیش آنا چاہئے، دوسروں کی مددخوش دلی سے کرنی چاہئے، کسی کی مدد کرکے احسان نہیں جتانا چاہئے اور نہ کبھی احسان کے بدلے کا خواہشمند رہنا چاہئے۔امیر خسرو کہتے ہیں’’ جو دوسروں کی مدد کرتا ہے خدا ئے پاک اس کو دوگنا عطا کرتے ہیں ،کسی کی مدد کرنے پر مال کم نہیں ہوتا بلکہ مال میں برکت ہوتی ہے،مال کئی گنا بڑھ جاتاہے، اس طرح دوسروں کی مدد سے انکے دلوں میں محبت پیداہوگی کیونکہ خوشگوار زندگی گذرانے کیلئے محبت ضروری ہے۔امیر خسرو اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہیں کہ’’ بادشاہوں اور دولت مندوں سے دور رہنا چاہئے، انھوں نے لکھا کہ لکڑی کے گٹھر کے بوجھ اٹھانے کے لئے کسی آدمی کے ایک سر کی ضرورت ہے، بادشاہوں اور دولت مندوں کے نازو نخرے برداشت کرنے کیلئے کئی سروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ آگے کہتے ہیں کہ ایک چھوٹا دوکاندار یا مزدور جو روز آنہ محنت کرتاہے اور دن بھر مزدوری کرتاہے ،محنت و مزدوری کے بعد رات کو آرام کی نیند سوتاہے ،مگر دولت مند وں اور بادشاہوں کے ساتھ زیادہ وقت رہنا پڑتا ہے اور ان کی بات سننا پڑتا ہے، دولت مند اور بادشاہوں کی دولت ظلم سے اورناجائز طریقے سے حاصل ہوتی ہے اس سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنا ہے، یہ بات بچوں کے لئے نصیحت ہے کہ امیروں ، دولت مندوں سے دور رہنا اور ان کی دولت کی طرف اپنی نظر نہ کرنا چاہئے کہ دولت مند وںکے ساتھ اپنے وقت کو ضائع نہ کرناچاہئے ، بچوں کی رہبری کرتے ہوئے کہتے ہیں ’’زندگی میں محنت سے کبھی نہیں بھاگنا چاہئے ،کبھی جی نہیں چرانا چاہئے کیونکہ جو آدمی اپنا بوجھ آپ اٹھاتاہے اپنی مدد آپ کرتاہے وہ ترقی کی منزلیں آسانی سے اور بہت جلد طئے کرتا ہے ، جوانسان دوسروں کے بھروسے پراور دوسروں کی دولت پر نظر رکھے اوردوسروں کی امداد کا ہمیشہ منتظر رہے وہ پریشان رہتاہے‘‘۔ امیر خسرو محنت کی کمائی کی نصیحت کرتے ہیںکہ اُن کے دل میں محنت کرنے والوں کی محبت ہے، وہ کہتے ہیں کہ کوئی انسان سخت محنت و مجاہدہ کرتا ہے اس کے پیشانی پر پسینہ آتاہے وہ کیمیا کی طرح ہے۔
امیر خسرو 1975 از: شیخ سلیم احمد
گرش گنج ودرم باشد جہانے چو در بینی بود محتاج نانے
امیر خسرو کس طرح روپئے کی بے ثباتی کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اگر کسی شخص کے پاس مال ، دولت ، زیورات ، ہیرے ، جواہرات ، روپیہ موجود ہیں خزانہ بھرا پڑاہے لیکن ان سب کے باجود بھی وہ روٹی کامحتاج ہے، اس کو اپنی بھوک مٹانے کیلئے غذا کی ضرورت ہوتی ہے صرف ہیرے جواہرات روپیہ پیسہ سے پیٹ نہیںبھرا جاتا، روپیہ سے کچھ ضرورتیں پوری ہوتی ہیں لیکن روپیہ ہی سب کچھ نہیں ہوتا۔
امیر خسرو کچھ پیشوں کی مذمت کرتے ہیں جیسے ہتھیار بنانا ،جس کی وجہ سے قتل اور تشددبرپا ہوتے ہیں، امن کو نقصان پہنچتاہے، دلوں میں دوری اوردشمنی پیداہوتی ہے، ترقی رک جاتی ہے۔ خسرو کہتے ہیں ایسا پیشہ اختیا ر کرنا چاہئے جس سے انسانوں کا زیادہ سے زیادہ بھلا ہواور جس سے نہ کسی کو کوئی نقصان پہنچے اور نہ کسی قسم کا ڈر ہو ۔پھر آگے خسرو کہتے ہیں کہ خدا کی رحمت ان پر ہو جو اپنی محنت سے روزی کماتے ہیں اور دوسروں کے لئے اشیاء ضروریہ مہیا کرتے ہیں یعنی تکلیف اٹھا کر دوسروں کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔امیر خسرو اپنے کلام میں ایک اور جگہ لکھتے ہیں ۔
ہیچ کس دہ سوئے بالا تیافت تاقدم از ہمت والا نیافت
انسان کا مقام دنیا میں خدا کے نائب اور خلیفہ کا ہے، وہ خدا کے خزانہ کی کنجی ہے لیکن وہ اس مقام پر اسی وقت پہنچ سکتاہے جب وہ ہمت کے ساتھ آگے بڑے اور اپنی منزل مقصود تک پہنچے ، سستی اور لا پرواہی کرنے والے اور اپنی ذمہ داریوں سے دور بھاگنے والے خدا اور مخلوق دونوں کی نظر میں ذلیل اور رسوا ہوجاتے ہیں۔شبلی نعمانی امیر خسرو کی جامعیت و کمالات پر اس طرح تبصرہ کرتے ہیں ۔
’’ ہندوستان میں چھ سو برسوں میں آج تک اس درجہ کا جامع کمالات نہیں پیدا ہوا اور سچ پوچھو تو اس قدر مختلف اور گوناگوں اوصاف کے جامع ایران و روم کی خاک نے بھی ہزاروں برس کی مدت میں دو چارہی پیدا کئیے ہوں گے، صرف ایک شاعری کو لوتو ان کی جامعیت پر حیرت ہوتی ہے فردوسی ، سعدی ، انوری ، عرفی ، نظیری بلا شبہ اقلیم سخن کے بادشاہ ہیں لیکن ان کی دور حکومت ایک اقلیم سے آگے نہیں بڑھتی لیکن امیر صاحب کی جہانگیری میں غزل ، مثنوی ، قصیدہ ، رباعی سب کچھ داخل ہیں اور چھوٹے چھوٹے خطہائے سخن یعنی نظمیں ،متضاد اور صنائع و بدائع کا تو شمار نہیں ۔
شعرالعجم حصہ دوم از:شبلی نعمانی ۔ 51؎
امیر خسرو نے زبان ، شاعری اور موسیقی ہی نہیں عام تہذیبی زندگی کو بھی متاثر کیا ، انہوں نے جذباتی ہم آہنگی کی بنیاد ڈالی ۔ بچوں کے ادب کا آغاز کیا آگے چل کر اسی کی تقلید ادب اطفال میں کی گئی۔ بچوں کے لئے کئی کتابیں لکھی گئی جن میں واحد باری (از:اشرف بیابانی ) یزد باری (از: محمد قعاد ) رزق باری (از:سید محمد والہ)فیض باری (از:شمس الدین ) وغیرہ شامل ہیں۔خسرو کا کلام کا نصیحت آموز ہے اس میں اخلاقی نصیحت ہے ، رہنمائے زندگی ہے ، مقصد زندگی ہے، آداب زندگی ہے اور طرز زندگی ہے ۔امیر خسرو اپنے خیالات کی جدت اور اشعار کی کثرت کے اعتبار سے ادبی دنیا میں منفرد مقام رکھتے ہیں ،آپ ذہین ، صاحب علم و فضل کے علاوہ ایک صوفی بھی تھے ،اکثرروزہ رکھتے ،اپنا زیادہ تر وقت کلام پاک کی تلاوت کرتے ، فرائض کے علاوہ نفل نمازوں کو کثرت سے پڑھتے ۔خسرو حضرت نظام الدین اولیا ء کے مرید خاص تھے وہ مخلص اور سچے عقیدت مند تھے ،حضرت کی خسروپر نظر خاص تھی ۔ ان کی زندگی وجدان اور سرورو کیف میں بسر ہوئی ۔
امیر خسرو کے چار بیٹے اور دوبیٹیا ں تھیں ۔ بیٹوں کے نام ، غیاث الدین ، ملک احمد ، محمد خضر اور مبارک تھے ، بیٹیوں کے نام عفیفہ ، اور میمونہ تھے ۔ 13؍اپریل 1325 ء کو حضرت نظام الدین اولیاء کا انتقال ہوا ، امیر خسرو کو وصال کی خبر ملی تو وہ خوب روئے ، غم میں یہ کہتے کہ ’’میں بھلا اس بادشاہ وقت کا کیا ماتم کرسکتا ہوں میں تو اپنے آپ کو رو رہا ہوں ‘‘ان دنوں خسرو نے ایک طویل اور پر درد مرثیہ لکھا ۔ چھ ماہ کے بعد 25ڈسمبر 1325 ء کو امیر خسرو بھی انتقال کرگئے ،شیخ کے بائیں جانب دہلی میں مدفون ہیں ۔امیر خسرو کو ہندوستان کے پہلے عوامی شاعرکی حیثیت سے یاد کیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ انہیں ادب اطفال کا پہلا شاعر بھی کہتے ہیں۔خدا نے آپ کو بیک وقت کئی خوبیوں کا مالک بنایا ۔ درحقیقت امیر خسرو جیسی شخصیت صدیوں میں پیدا ہوتی ہے ۔ بقول تاراچند ’’خسرو کے کلام کا خزانہ بے پایاں ہے ۔ علم و معرفت کے جواہرات سے مالا مال ہے‘‘۔