خادم مرزاکی آگ کا دریا
محسن شکیل(کوئٹہ)
اُس دن آرٹس کونسل کوئٹہ کی پرانی عمارت میں جاری پینٹنگ کلاسز میں طالبعلموں کے مختلف کینوس خادم مرزا کے پورٹریٹ کے نقوش مزید ابھارنے اگلی شام کے منتظر تھے کہ میں نے اُن سب پر پہلی مرتبہ اُنہیں دیکھا۔ عجب پراسراریت لیے ! پھر میری ملاقات ہوئی تو خادم مرزا ہاتھ میں اپنی آدھی ختم ہوئی سگریٹ کی راکھ کو لاشعوری طور پر سنبھالتے عطا شاداور عین سلام سے قرۃالعین حیدر کے افسانوں پر محو گفتگو تھے۔
مجھے خبر نہیں قرۃالعین حیدر نے خادم مرزا کے افسانے کبھی پڑھے ہوں گے یا نہیں لیکن مجھے یقین ہےکہ خادم مرزاقرۃالعین حیدر کی آگ کا دریا شاید عبور کر چکے تھے!
گوتم نیلمبر تو جیسے خادم مرزا خود تھے۔ ٹیکسلا لکھنؤالہ آباد بریلی اور بنارس تک دونوں نے ایک دوجے کا ساتھ نبھایا پھر خادم مرزا ذرا آگے بڑھ کر بولان آ گئے گہرے تفکر آمیز حروف لے کر جنہیں کہانی کرنا تھا سُر اور راگ جنہیں وہ سماعتوں میں جذب کرنے کی سعی میں مبتلا رہے فلسفہ تاریخ ہندو صنمیات شعر و حکمت اجنتا ایلورا اور علم نجوم جس کے بھید کی کرنیں وہ لوگوں کی آنکھوں میں اتار کر اپنا اسیر کر لیا کرتے تھے اور پھر جنس کی جوالا جسے صیقل کر کے انہوں نے اپنے آپ پر محبت اوڑھ لی تھی!
زندگی کے ورق پر خادم مرزا ایک گھمبیر شخص کا بیانیہ تھے۔ وضع قطع رویے اور آواز کی کھرج ایک فنکار کا اشاریہ تھی۔ وہ زندگی کو سمجھ کر ایسے ثمریاب برگ کی مانند محراب تھے جو نہایت نرمی سے دوستو اور چاہنے والوں کے مابین کھنچی رہتی تھی۔ بلوچستان میں ادب و فن کے پرندے اِس منڈیر پر کچھ دیر ضرور رکتے تھےدم لینے !آنکھوں میں خواب بھرنے ! شاید اِن سے اگلی منزلوں کا پتہ ملتا تھا !
اُن کی باتوں اور شخصیت کی کشش سے نکلنا سہل نہیں تھاسو ہم کئی دوست تو تبھی اُن کے گرد پرکار ہو لیے تھے۔ بیرم غوری کے لفظوں میں “وہ بادلوں پرندوں اور پھولوں کی طرح خوبصورت تھے”. عرفان بیگ کے نزدیک ” وہ ادب میں جمالیات اور حسن کے قائل تھے”۔
دراصل خادم مرزا اِس سماج کے خوابوں کا مشترک اثاثہ تھےاُس مشترکہ ورثے کا حصہ جو انسان کی زندگی کا ازلی استعارہ ہےنیکی خیر اور محبت کی وسعت جس کی پہلی تفسیر ہے۔
خادم مرزا ہمارے معاشرے میں فنکار کی بجھتی ہوئی شناخت میں مستقبل کا حوالہ لیے ہوئے تھے۔ ایک دئیے کی لو تھی جو سماج میں فنکار کے نقوش ابھارنے پر مامور تھی اُن کا تعلق قبیلہ عشاق کے اُس سلسلے سے تھا جو سوائے مبتلا رہنے کے کچھ نہیں کرتے
کروں گا کیاجو محبت میں ہوگیا ناکام
مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا
شاید اپنے احتجاج کو انہوں نے نرم کرکے کہانیوں کا روپ دے ڈالا تھا۔ نعرے بازی کے اِس عہد میں اُنہوں نے “ریت میں گلاب” جیسا افسانہ لکھا جس میں دیارِ سنگ و آب کا دکھ بہت نرم رو لیکن بھرپور گہرائی لیے محض چند اسٹروکس کے ساتھ ہمیں محسوس کرایا “سات رنگ اور ایک گیان” میں اِس خطے کی تاریخ کو اِس دلکش معنویت سے حصار کیا کہ خادم مرزا کا گہرا سیاسی شعور اعلیٰ فنکارانہ حدیں چھوتا نظر آیا۔ خوابناکی اور شعور کے تال میل سے اِس افسانے کا تشکیل پاتا تاروپود سنجیدہ قاری کو اپنے گہرے سائے سے دھوپ میں مشکل ہی سے آنے دیتا ہے۔
خادم مرزا کو ایک مشکل افسانہ نگار سمجھا کر حیرت میں رہ جانے والے لوگ خود اپنی تفہیم کی آنچ میں سلگ سلگ کر کوئلہ ہوئے کہ خادم مرزا کی کہانی کے پھیلاؤ میں تو وہ خود کہیں پائے گئے۔ سماج میں تعلیم کی ترقی کا تناسب دیکھنے والے لاشعور کی اِس پھیلتی سرگرمی کی تفہیم کیا کر سکتے جو مصوروں کے رنگوں سے اور وجدان سے تشکیل و ترتیب پا کر سرریلزم کی بریکٹ اور شناخت میں نظر آئی۔ اب پہلے سرریلزم کو سمجھا اور سمجھایا جائے یا تن آسانی کے بہاؤ میں کہانی اور کہانی کار کو مشکل بنا دیا جائے۔ لیکن کیا کیا جائے قاری کا جو خادم مرزا سمیت کئی تخلیقی فنکاروں کے تمام کرداروں اِن کی لائنوں لائنوں کے پس پردہ خاموشی یا خاموشی کے بیک ڈراپ والی لائنوں کو بہرحال اپنے گلے لگا لیتا ہے ! جب دکھ یکساں ہوں تو کاندھا مل ہی جاتا ہے!
ہمارے سماج میں فنکار کی تفہیم کا مسئلہ کب نہیں رہالیکن اب لگتا ہے ہمارے واسطے یہ مسئلہ اپنے حل کے قریب آ پہنچا ہے یعنی فنکار کو پہچانا ہی نہ جائے نہ رہے بانس نہ بجےبانسری ہینگ لگے نہ پھٹکڑی اور رنگ بھی چوکھا اور ایسا چوکھا کہ ہر طرف سِکّوں کی کھنک اور دولت کی چمک سے آنکھیں خیرہ اللہ اللہ خیر سّلا۔ لیکن فنکار کا کیا کیا جائے دکھ کی فصل ہے کہ اُگی ہی چلی جاتی ہے آنکھیں ہیں کہ نم ہوئے بنا رہ ہی نہیں پاتیں غم بانٹنے کی تڑپ کم ہی نہیں ہوتی۔ ہمارے ہاں فنکار ایسے جمگھٹے میں میں کھو گیا ہے جہاں اِس کے سوا کوئی ہے ہی نہیں تو ایسے میں اپنے آپ کو اپنا ہی پہچانتا ہے۔ خادم مرزا نے بھی اپنوں کو پہچان لیا تھا تبھی وہ الگ تھلگ رہ کر سارے زمانے کا دکھ بانٹا کرتے تھے۔ اِن کی کہانیوں کے بین السطور دکھ کو سمجھنے کے لیے اپنوں کے ساتھ غیروں کی بھی آنکھیں تر ہوئیںبے شمار آنسوؤں کی کشتیاں رواں ہیں اِس دریا میں!
خادم مرزا نے زندگی کو افسانے کی طرح جیا۔ اِس کے خاکوں میں اپنے فراق کے رنگ بھرے چپ کو برتا اِس کے دروازے پر جذبوں سے پُر لفظوں بھری دستک دی گہری بازگشت کی طرف گئے لہجوں کی ریشمی ڈور بُنی ۔ گہرے تفکر سے شعور کو صدا دی لاشعور کے معّمے میں راستہ تلاش کرتے رہے۔ زندگی کے خمیر سے کردار گوندھ کر افسانے کے چاک پر رکھتے رہے کہ اِسے گھما کر کسی تہذیب کی صورت گری کرسکیں۔ کرداروں کی تشکیل سے افسانے کی شفاف سطح کو زنگار دے کر چہروں کے خال و خط واضح کرلیں لیکن ہر انسان کی طرح خود وقت کی کہانی کی گرد میں کھو گئے۔کرداروں میں ہجر کی سسک سنتے سنتے خود فسانہ ہو گئے۔ زندگی کے نامکمل افسانے کی تکمیل کی خواہش میں ہم سب کے لیے ایک کسک چھوڑ گئے کہ یہ کچھ ایسے اچھنبے کی بات بھی نہیں کیونکہ
کرداروں میں ہجر سمے کی کوئی سسک سی رہ جاتی ہے
سارے اچھے افسانوں میں ایک کسک سی رہ جاتی ہے
16 جنوری 2005ء کو خادم مرزا کی آدھی ختم ہوئی سگریٹ کی راکھ سنبھلتے سنبھلتے بالآخر گر گئی دراصل ساری کی ساری سگریٹ ہی راکھ ہو چکی تھی۔ سب نے خادم مرزا کو اِس راکھ سمیت خاک کے سپرد کیا کسی اور تفہیم کے لیے کوئی اور معنی دینے کے واسطے کہ خادم مرزا نے زندگی کی آگ کا دریا عبور کیا تھا !