مقبول احمد مقبول ؔکی رباعیات
عصرِ حاضر کے تناظر میں
رؤف صادق (ممبئی)
رباعی فارسی اور اردو شاعری کی ایک قدیم اور مقبول صنف ہے۔ابتدا میں یہ زیادہ تر تصوف ، فلسفہ اور انسانی داخلی کیفیات جیسے موت ، وقت، تقدیر اور خود شناسی کے موضوعات سے وابستہ تھی۔ تاہم عصرِ حاضر میں سماجی ، معاشی، سیاسی اور ثقافتی تبدیلیوں نے رباعی کے موضوعات میں وسعت اور تبدیلی پیدا کی ہے۔ اب رباعی محض روحانی یا فلسفیانہ موضوعات تک محدودنہیں ہے بلکہ سماجی ناہمواری اور غربت جیسے مسائل بھی اس میں در آئے ہیں۔آج کے شعرا رباعی کے ذریعے طبقاتی تفریق ، مہنگائی ، بے روزگاری ، رشوت ، خود غرضی ، عدم مساوات اور سیاست پر صدائے احتجاج بلند کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ جیسے مقبول احمد مقبول کی یہ رباعیات:
کیا ہو گا مرے یار ؟ارے تو بہ تو بہ!
جینا ہوا دشوار ،ارے تو بہ تو بہ!
پہنچا ہے آسماں پہ ہر شے کا نرخ
مہنگائی کی رفتا ر ، ارے تو بہ توبہ
لیڈر ہو کہ افسر ہو کہ چپراسی، آج
ہر کوئی چلاتا ہے، بس اپنا ہی راج
اس دیش کو مضبوط بنائے گا کیا؟
رشوت کے جراثیم سے بیمار سماج
مقصود ہے بس ،دولت و شہرت اب تو
معدوم ہو ا جذبئہ خدمت اب تو
آلودہ ہوا غرض سے اک ایک عمل
ہر بات میں شامل ہے سیاست اب تو
مقبول احمد مقبول کی رباعیاں عصرِ حاضر میں سانس لیتے ہوئے اپنے وجود کا احساس دلاتی ہیں۔ ان کی رباعیوں میں تصوف کے پہلو بھی ہیں،معاشرے کی حقیقی عکاسی بھی ہے اور جدید رجحان کے اثرات بھی نمایاں ہیں۔ ان کی رباعیوں میں درد و کرب کی صدائیں گونجتی ہیں۔ وہ معاشرے کی ہر چیز کو بغور دیکھتے ہیں۔ ٹھہر ٹھہر کر سوچتے ہیں اور معاشرے کی خوبیوں کے علاوہ اس کی خامیوں کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔ ان کے اندر کا فن کار غور و فکر کے پل صراط سے گزرتے ہوئے عصرِ حاضر کے معاشرے کا نہ صرف محاسبہ کرتا ہے بلکہ اس کو احساس کا پیراہن بھی عطا کرتا ہے۔
مقبول احمد مقبول کی رباعیوں میں حسن و بیان ، فکر و شعور، اور نئی نئی تراکیب، تشبیہات ، استعارے، علامتیں اور لفظیات کا برتاؤ انھیں جدا گانہ پہچان قائم کرنے میں مددگار و معاون ہوتا ہے۔
شب کی تاریکی میں روتی ہے شمع
خاموش، سحر ہوتے ہی ،ہوتی ہے شمع
معلوم نہیں ،آخر کس کے دکھ میں
رہ رہ کے اپنی جان کھوتی ہے شمع
پڑجاتی ہے دیوارِ عزائم میں دراڑ
پھر لینے لگتے ہیں ، بہانوں کی آڑ
چھوٹی سی رکاوٹ سے وہ پسپا ہوں گے
کم حوصلہ، اک وار میں کھاتے ہیں پچھاڑ
عصرِحاضر کی رباعی اپنے روایتی حسن کو برقرار رکھتے ہوئے نئے سماجی اور فکری مسائل کی ترجمان بن چکی ہے۔ اس کی اختصاری ساخت اور علامتی زبان ایک موثر و بلیغ ذریعہ اظہار ہے۔ یہ کہنا بجا ہوگا کہ رباعی اب دورِ حاضرکی ایک اہم آواز بن چکی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انسانی نفسیات کی پیچیدگی نے رباعی پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ جیسے مقبول احمد مقبول کی یہ رباعی :
ویرانہ ہے اب ، تھا کبھی گلزا ر پسند
کیوں آج مجھے آرہے ہیں ، خار پسند
راحت سے بھی ہونے لگی وحشت مجھ کو
شاید کہ طبیعت ہوئی آزار پسند
مقبول احمد مقبول کی رباعیوں میں آج کے مسائل بھر پور توانائی کے ساتھ موضوعاتی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ جیسے صنعتی تمدن کا المیہ ، انسان کی گمشدہ شناخت ، قدروں کا زوال ، انسانیت کی بے چہرگی ، تہذیب کا انتشار ، یہ وہ داخلی مسائل ہیں جو بظاہر نظر نہیں آتے مگر دیمک کی طرح معاشرے کو چاٹ رہے ہیں۔ اور انسانی جذبات و احساسات نزع کی دہلیز پر کھڑے نظر آتے ہیں. میکانکی سطح پر انسانوں کے رشتے آپس میں قائم تو ہیں مگر روحانی و جذباتی رشتے کہیں معدوم ہو چکے ہیں۔ اور زندگی بے معنویت کا شکار ہو چکی ہے۔ یہی احساس فن کار کو لاشعوری طور پرمضطرب کر رہا ہے۔
حالات سبھی ہو گئے ہیں زیر و زبر
ہے آج کے انسان کی کیا خوب نظر
واقف تو ہے احوالِ جہاں سے ،لیکن
خود اپنے پڑوسی کی نہیں اس کو خبر
مقبول احمد مقبول کی رباعی میں معاشرتی ، مذہبی و اخلاقی قدریں در اصل ان کے کلام کی روح ہے اور ان کی شعری شناخت بھی۔ وہ صرف مشاہدہ نہیں کرتے بلکہ فہم و ادراک سے تلخ حقیقوں کو آئینے کی طرح صاف بیان کرتے ہیں اور سماجی نا انصافی ، طبقاتی فرق اور بے حسی کو شائستہ و بے لاگ انداز میں اپنی رباعی کا موضوع بناتے ہیں۔ ان کے یہاں اخلاقیات صرف فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ اجتماعی اخلاق کا نوحہ بھی ہے۔ وہ سچ ، دیانت ، عدل، خلوص اور عجز جیسی صفات کو نصیحت یا وعظ کے بجائے فکری ترجمانی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
اخلاص زباں پر ہے ،مگر دل میں کد
ہوتا ہی نہیں ختم کبھی بغض و حسد
ایسے لوگوں کو نہ سمجھنا کبھی نیک
مقبول ؔ! یہ ہوتے ہیں حقیقت میں بد
اس رباعی میں اخلاقی زوال پر گہرا طنز ہے۔ لیکن لہجہ جارحانہ نہیں ہے بلکہ اندر کی خلش اور دکھ سے لبریز ہے۔
مقبول احمد مقبول کی رباعی صرف روایت یا تصوف میں محصور نہیں بلکہ وہ عصرِ حاضر کے چیلنجز ، تعلیمی زوال، قدروں کے بحران پر بھی شدت سے گرفت رکھتے ہیں۔ ان کی رباعیاں محض مذہبی یا روحانی نہیں معاشرے کی آئینہ دار بھی ہوتی ہیں۔ جو نہ صرف اخلاقی تعلیم دیتی ہیں بلکہ دل کی خلش اور فکر و ذہن کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہیں۔ ان کی رباعی نہ خطبہ ہے نہ شکایت۔ صرف ضمیر کی ہلکی سی دستک ہے۔
مقبول احمد مقبول کا شمار اردو رباعی کے ان ممتاز شعرا میں ہوتا ہے جنھوں نے عصرِ حاضر کے مسائل ، مذہبی رحجانات اور اخلاقی اقدار کو نہایت موثر اور منفرد انداز میں پیش کیا ہے۔ ان کی رباعیوں میں فکری پختگی ، روحانی آگہی۔ اور شعری مہارت نمایاں ہے۔ ان کے یہاں، توحید، عبادت ، قضا وقدر فناوبقا اور عشقِ الہی جیسے موضوعات گہرے انداز میں نظر آتے ہیں۔
ہر سمت ،میں نے تیرا کرشمہ دیکھا
سب میں، تری قدرت کا جلوہ دیکھا
شہکارِ عظیم ہے ، تری ہر تخلیق
ذرے میں بھی قوت کا ذخیرہ دیکھا
یہ رباعی محض فن نہیں بلکہ روحانی سرشاری کا اظہار ہے جو ایک مومن کے فنکارانہ شعور کی گواہی دیتی ہے۔
مقبول احمد مقبول کی رباعیوں میں سچائی ، عدل، ایثار، صبر، عاجزی اور ضمیر کی بیداری جیسے موضوعات بار بار آتے ہیں۔ وہ معاشرتی ناسوروں پرشائستہ اور حکیمانہ لہجے میں آواز بلند کرتے ہیں۔
جب دیکھتا ہوں غور سے دنیا کے ڈھنگ
ہوتا ہے تعجب ، رہ جاتا ہوں دنگ
اللہ غنی ! لوگ بھلا پل پل میں
گرگٹ کی طرح کیسے بدلتے ہیں رنگ
یہاں شاعر نے اخلاقی زوال کو نشانہ بنایا ہے۔ مگر نفرت یا تلخی کے بجائے فکری دعوت دی ہے۔مقبول احمد مقبول کا انداز سنجیدہ، پْر اثر اور غیر مبالغہ آمیز ہے۔ وہ تبلیغ نہیں کرتے مگر قاری کو جھنجھوڑتے ضرور ہیں۔ ان کی رباعی نصیحت کے پردے میں عرفان دیتی ہے۔ ان کے یہاں مذہب ، اور اخلاقیات کا عصری اور متوازن شعور ملتا ہے۔ وہ نہ صرف مذہبی اقدار کی ترجمانی کرتے ہیں بلکہ عملی اخلاقیات کو روز مرہ کی زندگی سے جوڑتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی رباعی زمانے کے نبض پر ہاتھ رکھتی ہے !!