پروفیسر ضیاء الرحمن صدّیقی کی علمی بصیرت
پروفیسر فرخندہ ضمیر
ایم۔ ڈی ۔ ایس یونیورسٹی ۔ اجمیر
ذہن و دل میںفکرو فن کا ایک جہاں رکھتا ہوں میں
عام لہجوں سے الگ طرزِ بیاں رکھتا ہوں میں
پروفیسر ضیاء الرحمن صد ّیقی صاحب کا یہ شعر اس امر کا شاہد ہے کہ وہ ایسی علمی و ادبی شخصیت ہیں جو اردو زبان و ادب میں الگ طرزِ بیاں رکھتے ہیں ۔ نھوں نے اپنی علمی بصیرت سے جہانِ َ معنی کے نئے در وا کئے ہیں۔ وہ صاحبِ طرز ادیب ، ماہرِ َ لسانیات، مترجم ،صحافی ، اورشاعر بھی ہیں ۔ انکا وسیع مطالعہ و مشاہدہ انکی تخلیقات میں نمایاں نظر آتا ہے ۔جو انھیں اردو ادب میں منفرد مقام عطا کرتا ہے ۔ وہ دورِ حاظر کی ایسی شخصیت ہیں جو اردو کے فروغ کے لئے ہمہ وقت کوشاں وسرگرداںرہتے ہیں ۔ انکی علمی بصیرت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ وہ جس موضوع پر خامہ فرسائی کرتے ہیں ۔ وہاں جہانِ معانی کے دریا رواں ہو جاتے ہیں ۔وہ قدیم اور جدید ادب کے پارکھ ہیں ۔ وہ ایسی علمی شخصیت ہیں جنکی تعریف میں مشاہیرِ ادب ہوں یا طالب علم سب رطب اللّسان ہیں۔ کیونکہ انکی نگارشات ادب کے نگار خانے میں متاعِ لوح قلم بن کر اہلِ ادب کو متاثر کر رہی ہیں ۔
پروفیسر ضیاء الرحمن صاحب کی اردو ادب میں قد آور شخصیت سے میں واقف تھی لیکن کبھی ملاقات کا شرف حاصل نہیںہوا تھا۔ کبھی کسی لفظ کے معنی و مفہوم جاننے کے لئے بذریعہ فون بات ہوئی کیونکہ و ہ ماہرِ لسانیات ہیں ۔انھوںنے اردو ہندی ڈکشنری بھی مرتّب کی ہے اس لئے جب بھی میں نے آپ سے کسی لفظ کے معنی و مفہوم جاننے کی کوشش کی اور یہ پروفیسر صاحب کی سادہ مزاجی ہے کہ اتنی بڑی ادبی شخصیت ہونے کے باجود انھوںنے ہمیشہ میری رہنمائی کی ۔
صدّیقی صاحب سے ملاقات کا شرف علی گڑھ کی ایک کانفرنس میں حاصل ہوا ۔ موصوف وہاں مہمانِ خصوصی تھے ۔ انکی سادہ طبیعت اور خوش اخلاقی نے مجھے بہت متاثر کیا۔ اور مجھے احساس ہوا کہ خدا یوں ہی کسی کو نہیں نوازتا ۔ یہ سادگی اور خوش اطواری خاندانی ہونے کا ثبوت ہیں ۔ جب ا ن کا شجرئہ نسب معلوم ہوا کہ آپ کا سلسلہ نسب حضرت ابو بکر صدّیق ٌ سے ملتا ہے تو یہ واضح ہو گیا کہ خاندانی صفات نسلوں کا پتہ دیتی ہیں ۔ یہ شخصیت پر اثر انداز ہوتی ہیں ۔ ٓپ نے جس گھرانے میں آنکھ کھولی وہاں علم وادب کے سر چشمہ پہلے سے موجزن تھے ۔ ایسے والدین کی پرورش و پرداخت نے انکے علمی ادبی شعور کو جلا بخشی ۔ اور یہ علم کا بحرِ بیکراں آج بھی جاری و ساری ہے ۔ علم کی پیاس انھیں مضطرب رکھتی ہے اور وہ جہانِ معانی کے نئے افق تلاش کرنے میں ہمہ وقت سرگرداں رہتے ہیں ۔
پروفیسر صدّیقی صاحب نے اپنا قلمی سفر مضمون نویسی سے شروع کیا ۔ اور اب تک ۲۰ سے زائد کتابیں شائع ہو کر منظرِ عام پر آ چکی ہیں ۔ مضامین کے تین مجموعہ معروضا ت جو کہ ۱۹۹۵ میں شائع ہوااور سالیبِ فکرا ۲۰۱۵میں میں شائع ہوا ۔ ارمغانِ تحقیق ۲۰۲۴ میں منظرِ عام پر آیا ۔ صدّیقی صاحب کی علمی بصیرت کا اعتراف معروضات کے پیش لفظ میں نامور ناقد و محقّق پروفیسر خلیق انجم نے اس طرح کیا ہے ۔ ’’ صدّیقی صاحب بڑی محنت اور دیدہ ریزی سے کام کرتے ہیں ۔ مقالہ ہو یا کتاب دونوں صورتوں میں وہ موضوع کا بھرپور احاطہ کرتے ہیں اور متعلقہ موضوع پر دستیاب تمام ممکن مواد کا مطالعہ کرکے ہی قلم اٹھاتے ہیں ،۔ اس لئے انکے کسی بھی مضمون میں تشنگی کا احساس نہیں ہوتا ۔ وہ نثر و نظم دونوں پر تنقیدی اور تحقیقی مضامین لکھنے کی پوری پوری صلا حیت رکھتے ہیں‘‘.
صدّیقی صاحب نے ان مضامین میں ناقد کی حیثیت سے ادباء و شعراء کے فن پر اپنی ناقدانہ رائے پیش کی ہے ۔ اصل میں ناقد کا کام مثبت تنقید کرنا ہے جو حقیقت ہے اسے ظاہر کرے ۔خوبیاں ہو یا خامیاں ان پربے باک تبصرہ کرے ۔ انھوں نے اپنے تمام مضامین میں بہترین ناقد ہونے کا ثبوت دیا ہے ۔ ان مجموعوں میں تمام مضامین توجہ کے مستحق ہیں جو شعرا و ادباء کی قدروقمت کا تعین کرتے ہیں ۔ خواہ وہ اقبال ؔہوں یا غالب ؔ،جوش ؔہوں یا شادؔ ان کے فن پاروں پر محنت اور عرق ریزی سے خامہ فرسائی کرکے ا ن شعرا کے قد کو اردو ادب میں اور بلند کیا ہے ۔ ماہرینِ اقبال نے انکی شاعری کے ایک جہانِ معنی دریافت کئے ۔ صدّیقی صاحب نے بھی اپنے استدلالی انداز میں اقبال ؔکے فکری و فنی پہلووٗں پر اظہارِ خیال کیا ہے ۔ پروفیسر صدّیقی صاحب نے’’ علّامہ اقبال کی شاعری میں تصّوف ‘‘پر اپنے خیالات کا اظہار اس طرح کیا ہے ۔
’’ اقبال کے یہاں تصّوف کے دو پہلو بہت اہم ہیں ۔ عملی اور اخلاقی ۔ عملی پہلوٗوں کے تحت شریعت کے احکام کی پابندی اور پوری طرح اس پر عمل پیرا ہونا،اخلاقی پہلوئوں کے ضمن میں انسانوں سے محبت اور حسنِ سلوک ،کیوںکہ شریعت کے رہتے ہوئے تصوّف کی کوئی گنجائش نہیں ‘‘
صدّیقی صاحب نے جس رائے کا اظہار کیا ہے ۔ اصل میں صوفیاء کا یہ ہی عمل تھا ۔ انھوں نے عوام النّاس سے محبّت کی ، انسانیت کا سبق دیا ۔ اور اسی پیغام سے متاثّر ہو کر ہندوستان میں لوگ جوق بہ جوق حلقہء بگوش اسلام ہوئے ۔ اس موضوع میں انھوں نے مثال کے لئے علّامہ اقبال کے خطوط کوجس میں تصوف پر اظہارِ خیال کیا گیاہے ،ان کو پیش کیا ہے اور اسرارِ خودی میں موجود تصّوف کے پہلووٗں پر روشنی ڈالی ہے ۔ انھوں نے غالب کی فہم و فراست کو بھی اپنے ایک مضمون ’’ غالب کی حکیمانہ دانش اور فہم و فراست ‘‘ میں غالب کا اندازِ بیان انکی فہم و فراست ، طرزِ فکر کو اپنے ہی انداز میں پیش کرکے غالب ؔکی عظمت میں اور چار چاند لگا دئے ہیں۔۔۔۔۔۔
’’ غالب کی شاعری میں حکیمانہ دانش و بصیرت انسان کی عظمت اور انسانیت کا تصوّر بہت مثبت نظر آتا ہے ۔غالب کی انسان دوستی سے ادب میں سائنٹفک شعور پیدا ہوا ۔ انھوں نے انسانی مساوات اور برابری نیز انسان کی محرومیوں کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا ۔ ان کے یہاں حرکت ہے ، عمل ہے اور خوب سے خوب تر کی تلاش ہے ‘‘
انکی ایک اور تحقیقی تنقیدی تصنیف ’’ ارمغانِ تحقیق ‘‘ ۲۰۲۴ میں منظرِ عام پر آئی ہے ۔ جس میں مضامین کی ترتیب اس طرح ہے۔۔ لوک گیتوں کی حکائی روایت ، خواجہ الطاف حسین حالی اور تعلیمِ نسواں ، حسرت کی متصوفانہ شاعری میں کرشن کا تصور ، شاعرِ ہندفراق ؔگورکھپوری ، نریش ؔکی شاعری روایت سے جدّت تک ، متین طاؔریق باغپتی کا تخلیقی کرب ، اردو میں خاکہ نگاری ایک تخلیقی جائزہ ، جلیانوالہ باغ پر اردو اداریے ، گاندھی جی ایک مصلح تعلیم ، خواجہ غلام السیدین ایک بے مثال ماہرِتعلیم، تحریکِ آزادی اور اردو افسانہ ، آخری سواریاں ایک تنقیدی جائزہ، سر سید کا خط گراہم کے نام تحقیق کے آئینہ میں ،ہندوستان کی تحریک آزادی اور پریم چند ایک تجزیہ ،تزکِ بابری ایک تاریخی جائزہ ، د نیا کا سب سے بڑا الفی قرآن مجید ،اقبال سہیل کی مرثیہ نگاری ، نظیر ؔکے کلام میں مقامی رنگ فکرو فلسفہ کے حوالہ سے ، ہندوستان کی مختلف یونیورسٹیوں اور اداروں میں اردو کا فاصلاتی نظامِ تعلیم ، فائزؔکے خطوط ، کلام شاہ مبارک آبروؔ۔اس کتاب کے اکثر و بیشتر مضامین موضوع کے لحاظ سے اہمیت و افادیت کے حامل ہیں ۔کسی بھی مضمون کو ضبطِ تحریر میں لانے کے لئے تفصیلی معلومات اور محنتِ شاقہ درکار ہوتی ہے ۔ تمام تر مضامین کے مطالعہ سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ تحقیق اور عرق ریزی سے وضاحتی ،مدلل،اورمنظم انداز میں تحریر کئے ہیں۔ اس کتاب کے مقدمہ میں آپ نے ایک مضمون ’’ دنیا کا سب سے بڑا الفی قرآن مجید ‘‘ کا ایک اقتباس ملا حظہ کیجئے
’’ الفی قرآن کا یہ خطی نسخہ عربی فارسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ٹونک راجستھان میں محفوظ ہے ۔اس میں فن خطّاطی کے اعلٰی نمونے پیش کئے گئے ہیں ۔ہر صفحہ کے نقش و نگار دوسرے صفحہ سے بلکل مختلف اور فنی اعتبار سے ممتاز ہیں اس نسخہ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ ہر سطر کا آغاز ’الف‘ سے ہوتا ہے ۔سانگا نیری کاغز پر جرمنی روشنائی سے نہایت تزئین کاری کے ساتھ خوبصورت انداز میں اسے تیار کیا گیا ہے ۔ اس کو باقاعدہ تحقیق کے ساتھ قلم بند کیا گیاہے ۔ گنیز بک آف ورلڈریکارڈ میں اسے شامل کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے ۔‘‘
کتاب میں شامل ایک اور اہم مضمون ’ تزکِ بابری ‘کے متعلق پروفیسر صاحب رقم طراز ہیں
’’ تاریخی اور تحقیقی حقائق پر مبنی اس مقالے میں ہندوستان کی مختلف تاریخی عمارتوں ،شہروں ،درگاہوں موسموں ،جانوروں ،پہاڑی علاقوں ، ندیوں خوبصورت پرندوں ، آب و ہوا ، سلاطین اور طرزِ حکومت کےعلاوہ دیگر اشیا کا ذکر مفصل اور مستند حوالوں کے ساتھ ملتا ہے ۔ بابر کا طرزِ اسلوب نہایت ہی دلکش اور مفکرانہ ہے وہ مختصر ،جامع اور معلومات افزا انداز پسند کرتا تھا ۔ ترکی چغتائی زبان میں بابر کا دیوان بھی دستیاب ہے ۔ ‘‘
اسی کتاب کے ایک اور مضمون سر سید کا خط گراہم کے نام ‘ کے متعلق صدّیقی صاحب لکھتے ہیں :’’ گراہم سر سید کا عاشق صادق تھا وہ سر سید کی شخصیت ان کی تعلیمی خدمات اور وژن سے بہت متاثر تھا ۔سر سید اور گراہم کے درمیان برسوں تک خط و کتابت کا سلسلہ جاری رہا ۔ ان خطوط کے ذریعہ سر سید کی ذاتی زندگی کے مختلف پہلو اور گوشہ سامنے آسکتے ہیں اور خاطر خواہ تحقیقی مواد فراہم کیا جا سکتا ہے ‘‘
پرو فیسرصدّیقی نے مشاہیرِ ادب کے فن پر جو اظہارِ خیال کیا ہے اس سے ان ادباء و شعراکی قدرو قیمت میں اضافہ ہی ہوا ہے ۔ صدّیقی صاحب کی علمی بصیرت کا اندازہ ان مضامین سے بخوبی ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ انھوںنے ایک محقق کی حیثیت سے بھی کئی تحقیقی کام سر انجام دئے ہیں جو اردو ادب میں اضافہ ہیں ۔ اسی ضمن میں انکی اہم کتاب اردو ادب کی تاریخ ‘’’ ‘ ہے جو اردو طلبا کے لئے سادہ سلیس زبان میں تحریر کی گئی کار آمد کتاب ہے ۔یوں تو اس سے قبل بھی اردو ادب کی تاریخ پر بہت سی تصنیفات منظرِ عام پر آئیں لیکن اس کتاب کی یہ خصوصیت ہے کہ پروفیسر صاحب نے طلباکی نصابی ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کتاب کی تصنیف کی ہے ۔ ڈاکٹر ارشد اقبال جنھوں نے ضیا الرحمن صدیقی کی ادبی خدمات سے متاشر ہو کر ایک کتاب تصنیف کی جس کا عنوان ’’ پروفیسر ضیا ء الرحمن صدّیقی کے ادبی متون ‘‘ ہے اس کتاب میں پروفیسر صاحب کی ادبی صلاحیتوں نیز ان کے تحقیقی کام پر عمیق مطالعہ کیا ہے ۔ اردو ادب کی تاریخ ‘ کے ضمن میں وہ رقم طراز ہیں
’’ یہ تصنیف بالترتیب سات ابواب پر منقسم ہے ۔ پہلا باب اردو زبان کے ارتقا سے متعلق ہے ۔ جس میں اردو کا ہند آریائی زبانوں سے رشتہ ، جدید آریائی زبانوںسے اردو کا انسلاک اور اردو زبان پر عربی فارسی کے اثرات پر انتہائی عالمانہ اور سہل انداز میں گفتگو کی گئی ہے ۔ دوسرا باب دکن میں اردو سے تعلق رکھتا ہے ،جس میں بہمنی سلطنت ، عادل شاہی اور قطب شاہی حکمرانوں کے ادوار میں دکنی اردو اور دکن میں تخلیق ہوئے فن پاروں سے واقفیت کرائی گئی ہے ۔ کتاب کا تیسرا باب ’ شمالی ہند میں اردو پر مشتمل ہے جس میں دبستانِ دہلی اور دبستانِ لکھنٗوکی لسانی و ادبی خدمات کا جائزہ پیش کیا گیا ہے ۔ اردو ادب کے اداروں یعنی دہلی کالج ،فورٹ ولیم کالج ،دارالترجمہ عثمانیہ حیدر آباد کا بھی تعارف ہے ۔ مزید بر آں اردو کے سماجی رحجانات و تحریکات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے جس سے طلبہ ادبی تحریکوں مثلاََ سر سیّد تحریک ، ترقی پسند تحریک ، رومانوی تحریک اور جدیدیت کے رحجانات سے کماحقہ واقف ہو سکیں ‘‘
ارشد اقبال نے اس کتاب کا بہترین تجزیہ پیش کیا ہے لیکن میری نظر میں یہ تصنیف اور بھی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس کے باب ششم میں اردو کی شعری اصناف اور ان میں طبع آزمائی کرنے والے نامور شعرا کے کلام کے نمونے بھی پیش کئے گئے ہیں ۔ اسی طرح باب ہفتم میں اردو نثر کی اصناف پر بھی سادہ سلیس زبان میں روشنی ڈالی گئی ہے ۔ اور اسی طرح حصّہ ( ب ) میں غیر افسانوی ادب سے بھی روشناس کرایا گیا ہے ۔ جیسے سوانح نگاری ، مضمون نگاری ، خطوط نگاری ، انشائیہ نگاری ، خاکہ نگاری ۔ اسکے علاوہ اسی باب میں ادبی تنقید اور تنقید کی تعریف بھی شستہ زبان میں کی گئی ہے ۔ باب ہشتم عوامی ذرائع ترسیل ( ماس میڈیا ) پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا ، ترجمہ نگاری اور اردو میں ترجمہ کی روایت ۔ میرے خیال میں دورِ حاضر کے تناظرمیں لکھا گیا یہ باب بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ دورِ حاضر میں اس کی اہمیت اتنی بڑ گئی ہے کہ اس سے لا علمیی اندھیرے میں رہنے کے مترادف ہے ۔ اسکی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے سیاست ہو چاہے اقتصادیات ، سماجیات ہر شعبہ میں اس کا عمل دخل ہے اسی لئے یہ دنیا میں چوتھا مضبوط ستون کہلاتا ہے ۔ کوئی بھی ملک ہو یا شخصیت اس سے نا بلد رہ کر ترقی نہیں کر سکتا ۔ اس لئے ہمارے طلباکو بھی اس سے کماحقہ واقفیت ہونا ضروری ہے ۔ یہ اردو طلباکی تعلیم و ترقی میں معاون ثابت ہو سکتا ہے ۔ پروفیسر صاحب نے گیان وانی اور گیان درشن جیسے ریڈیو اور ٹی وی چینل کا ذکر کیا ہے جسکے ذریعہ خصوصی تعلیمی پروگرام نشر کئے جاتے ہیں جس کے ذریعہ ناخواندگی بھی دور ہو رہی ہے اور فاصلاتی نظامِ تعلیم میں بھی بڑی آسانیاں پیدا ہو گئی ہیں ۔ ہمارے ملک میں بھی اس کی تدریس کی طرف خاص توجہ دی جا رہی ہے ۔ تاکہ اخباروں اور ٹی وی چینلوں پر اچھی ملازمتیں حاصل کی جا سکیں ۔ اردو کا طالب علم بھی زمانے کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل سکے ۔ یہ کتاب اردو طلبائکے لئے اہمیت کی حامل ہے ۔
اسی طرپروفیسر صاحب نے طلبا کو اردو سکھانے کے لئے ایک اور کتاب تصنیف کی ہے ’’ جدید اردو ریڈر ‘‘ اردو حرف شناسی کے لئے یہ آسان کتاب ہے جس سے اردو سہل انداز میں سکھائی گئی ہے ۔ جدید طریقئہ کار کو سامنے رکھ کر یہ کتاب تیار کی گئی ہے کہ تاکہ آج جو لوگ اردو رسم الخط سے ناواقف ہیں وہ بھی با آسانی اردو سیکھ سکیں۔ صدّیقی صاحب ماہرِ لسانیات ہیں اس لئے انھوںنے بچّوں کی ذہنی افتادِ طبع کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کتاب کو تیار کیا ہے اسی لئے اس کی مقبولیت اردو سیکھنے والوںمیں بڑھ رہی ہے اور اسکے کئی ایڈیشن چھپ چکے ہیں ۔ اس میں حروف تہجّی سے واقفیت ۔ جملے بنانا، صحیح تلفّظ کی ادائیگی کے علاوہ ادب اطفال کے لئے لکھی گئی نظمیں ،کہانیاں خاص کر پنچ تنتر کی کہانیوں کو بھی شامل کیا گیا ہے ۔ صدیقی صاحب ایک استاد کی حیثیت سے علی گڑھ یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں اس لئیوہ تدریس کے سبھی مراحل اور طریقہ کار سے واقف ہیں ان تجربات کی روشنی میں کہ طلبا کو اردو کیسے سکھائی ہے۔
پروفیسر ضیاالرحمن صاحب کی ایک اور اہم تصنیف ’’ تحریکِ آزادی اور اردو نثر ‘‘ ہے ۔ اس کتاب کے مقدمہ میںانھوں نے اس تصنیف کے مقاصد واضح کئے ہیں ۔ آپ رقم طراز ہیں : ’’ تحریکِ آزادی کے فرغ اور قومی شعور کی بیداری میں اردو زبان وادب میں عمو ماََاور اردو نثر نے خصوصاََ ایک اہم کردار ادا کیا اور آزادی کی تحریکات میں ایک نئی روح پھونکی ۔ ‘‘
یہ کتاب آٹھ ابواب پر منقسم ہے جو ۱۸۵۷ ء سے ۱۹۴۷ ء تک اردو نثر میں تحریکِ آزادی کے لئے اردو کی نثری اصناف کے ذریعہ جو بیداری پیدا کی گئی اس کا حاطہ کیا گیا ہے ۔ پہلا باب تحریکِ آزادی کے پس منظر پر محیط ہے کہ کس طرح مغلیہ عہد میں انگریزوں کی ہندوستان میں آمد ہوئی اور ایسٹ انڈیا کمپنی نے دورِ جہانگیری میں تجارت کرنے کی اجازت لی اور پھر دھیرے دھیرے اپنے پیر پسارنے
شروع کر دئے ۔ اور مہارانی وکٹوریہ کی مدد سے انگریزی حکومت کی راہیں استوار کیں ،اس کے لئے انھوں نے ہر حربہ آزمایا ۔ اپنی حکومت کو استحکام دینے کے لئے ہندوستانی عوام کو اپنا غلام بنایا ان پر ظلم و ستم کئے ۔ جس کی وجہ سے وہ ہندوستانی عوام کی نفرت کا باعث بنے ۔ اور بالآخر انگریزوں کے خلاف علمِ بغاوت بلند ہوا ۔ اس کتاب میں ان عوامل پر روشنی ڈالی گئی ہے جو تحریکِ آزادی کا جزبہ بیدار کرنے میں معاون ثابت ہوئے ۔
باب دوم میں پروفیسر صاحب نے نیشنل کانگریس کے قیام سے لیکر آزادی ہند تک کانگریس کے اہم اجلاسوں کا جائزہ لیا ہے ۔ ان اجلاسوں کا تحریکِ آزادی میںکیا رول رہا ہے ان کا اجمالی جائزہ لیا گیا ہے
باب سوم اردو ناول سے متعلق ہے کس طرح ڈپٹی نذیر احمد سے لیکر پریم چند ، کرشن چندر ، منٹو ، عصمت چغتائی ،حیات اللہ انصاری نے اپنے ناولوں کے ذریعہ اس عہد کے سیاسی ،سماجی ۔ اقتصادی حالات کی ترجمانی کی ہے ۔ خاص طور پر انھوں نے نذیر احمد کے ناول ’ ابن الوقت ‘ کا تزکرہ کیا ہے جس میں اس زمانے کے ۱۸۵۷ ء کے غدر کے حالات کا نقشہ کھینچا ہے ۔ اس میں حکومت کی زیادتیاں بیان کی ہیں ،پریم چند نے بھی اپنے ناول گئودان ، میدانِ عمل ، گوشئہ عافیت ، وغیرہ میں گاندھی جی کے نظریات کو تقویت دی ۔ ان کے کردار اپنے وطن سے والہانہ محبت کرتے ہیں اور اپنے ملک کو غلامی کی بیڑیوں سے نجات دلا نے کے لئے جدّو جہد کرتے ہیں ۔ اسی طرح کرشن چندر کے ناول شکست کا تزکرہ کیا ہے اس ناول کا اہم کردار شیام سیاسی بیداری کا ذکر کرتا ہے ۔ انگریزوں کے ظلم و استبداد و عوام کے استحصال کے مناظر پیش کرنے کے لئے ناول سے کئی اقتباس لئے گئے ہیں ۔ اسی کڑی میں عصمت کے ناول ٹیڑھی لکیر کو مثال کے طور پر پیش کیا گیا ہے جس میں کردار شمن اور ٹیلر کے مکالمہ پیش کئے گئے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انگریزوں کو ہندوستان سے بھگانے کے لئے عوام کمر بستہ ہو گئے ہیں ۔عزیز احمد کے ناول ’گریز ‘ کو بھی موضوع کے اعتبار سے شامل کیا گیا ہے جس میں دوسری جنگِ عظیم اورآزادی کا سورج طلوع ہو رہا تھا ۔
پانچواں باب ڈرامہ پر مشتمل ہے اس ذیل میںڈرامہ نگاروں نے اپنے ڈراموں کے ذریعہ اس دور کے سیاسسی بحران کو پیش کیا ہے اور آزادی کی شمع کو عوام کے دل میں روشن کیا ۔ اس میںجن ڈراموں پر صدیقی صاحب نے ظہار خیال کیا ہے ان میںامرائو علی کا ڈرامہ البرٹ بیل ، مولانا ظفر علی خاں کا ڈرامہ ’جنگ روس جاپان ،‘ اصغر علی کا ڈرامہ ’’ قومی دلبر ‘‘ عبداللطیف شاہ کا ڈرامہ ’’ ہمارا گھر ‘‘ ۔ محشر انبالوی کا ڈرامہ ’’ غریب ہندوستان ‘‘ ۔ ریاض دہلوی کا ڈرامہ ’’مسلم پجاری ‘ نیّر انبالوی کا ’’وطن ‘‘ ۔ دل لکھنوی کا ’’ تاج محل ‘‘ شمس لکھنوی کے ڈرامے ’’ مادرِ وطن ‘‘ ، حبّ الوطن ۔ محمد دین تاثیر کا ’’ لیلائے وطن ‘‘ ۔ عاجز ناگپوری کا ’’پیامِ حق ‘‘۔ محی الدین عزم کا ڈرامہ ’’ دیس کی پکار ‘‘ ۔ اظہرد ہلوی کا ڈرامہ ’’ بیداری ‘‘ ۔ محمد مجیب کا ڈرامہ ’’ آزمائش ‘‘ شامل کئے گئے ہیں
باب ششم میں طنزو مزاح کے تعلق سے تحریکِ آزادی کے پس منظر اور مشہور طنزو مزاح نگار ملّا رموزی کے مضا مین کا احاطہ کیا گیا ہے ۔ خاص طور پر منشی سجّاد حسین کے مضامین اور سیاسی نظریات پربھی روشنی ڈالی گئی ہے ۔
نیز اودھ پنچ کے قلم کاروں کی تحریروں کا جائزہ لیا گیا ہے ۔ طنزو مزاح کے پیرائے میں انگریز حکومت کو طنز کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔ انکے طنزو مزاح پر اظہار خیال کیا ہے جنکی طنز و مزاح کا بیشتر حصّہ سیاست پر مشتمل ہے ۔ عظمت اللہ خاں ،ظفر علی خاں ، عبدالمجید سالک ، چراغ حسن حسرت ، امتیاز علی تاج ، کنھیا لال کپور ، احمد شاہ بخاری ، حاجی لق لق ،رشید احمد صدّقی کے نام پیش پیش ہیں ۔ یہ طنزو مزاح کا سلسلہ غالبؔ ؔکے خطوط سے شروع ہوا تھا جو ۱۸۵۷ ء کے غدر کے بھی عکّاس ہیں ۔رشید احمد صدّیقی جیسے طنز و مزاح نگار صاحبِ قلم کار کی تحریروں کو بھی پیش کیا گیا ہے ۔
باب ہفتم میں خود نوشت اور سوانح عمریوں کو پیش کیا گیا ہے کیونکہ سوانح عمریاں ادبی ،سیاسی ،سماجی ، مذہبی شخصیتوں کے حالاتِ زندگی ہی سے نہیں بلکہ اس دور کے سیاسی ،سماجی حالات سے بھی واقف کراتی ہیں ۔ اسی لئے صدّیقی صاحب نے ا ن کو بھی تحریکِ آزادی میں شامل کیا ہے ۔ جن خود نوشت سوانح عمریوں کو شامل کیا گیا ہے ان میں جعفر تھانسیری کی ’’ تواریخ ِ عجیب ‘‘ ظہیر دہلوی کی’’ داستانِ غدر ‘‘ سیّد رضا علی کی ’’ اعمال نامہ ‘‘ افضل حق چودحڑی کی ’’ میرا افسانہ‘‘ ۔ نواب احمد سعید خاں چھتاری کی ’’ یاد ایّام ‘‘ عبدالمجید سالک کی’’ سر گزشت ‘‘ عبدالطیف بٹالوی کی ’’ لطیف کہانی‘‘ پر اظہارِ خیال کیا گیا ہے ۔ باب ہشتم میں اردو صحافت کے حوالے سے بحث کی گئی ہے ۔ اردو صحافت نے تحریکِ آزادی کی حقیقی معنوں میں شمع روشن کی ۔ اپنی بے باک تحریروں کے ذریعہ حکومتِ برطانیہ کے مظالم کو اجاگر کیا ۔کئی اخباروں کو بند کر دیا گیا انکے مدیر و ں کے مطابع ضبط کر لئے گئے اور اخبارات پر پابندی لگا دی گئی لیکن وہ اپنے وطن عزیز کی خاطر قلم کی تلوار سے جنگ کرتے رہے ۔اس کی اہم مثال دلی اردو اخبار کے ایڈیٹر محمد باقر کی شہادت اردو صحافت میں ناقابلِ فراموش ہے ۔
اس کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کتاب کا انگریزی میں ترجمہ خود پروفیسر صاحب نے ‘Freedom Movement and Urdu prose’کے نام سے کیا ہے ۔اس کتاب کا ہندی ترجمہ ثنا کوثر نے فصیح اور سہل زبان میں کیا ہے ۔ تینوں زبانوں میں اس کتاب کا منظرِ عام پر آنا بہت ضروری تھا کیونکہ آج کے پر آشوب دور میں جدّو جہدِ آزادی میں مسلمانوں کی قربانیوں کو جس طرح نظر انداز کیا جا رہا ہے اسے دیکھتے ہوئے یہ کتاب بہت اہمیت کی حامل ہے کہ اردو سے نا بلد لوگ بھی یہ جان سکیں کہ مسلمانوں نے ہندوستان کی جنگِ آزادی میں کس طرح اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر وطنِ عزیز کی عظمت کو بلندرکھا۔
پروفیسر صاحب نے تحریکِ آزادی سے متعلق چار کتابیں لکھی ہیں ۔ جنگِ آزادی کے مسلم مجاہدین، شہیدانِ جنگِ آزادی ، تحریک آزادی میں اردو صحافت کا حصّہ اور تحریکِ آزادی اور اردو نشر ۔
جنگِ آزادی کے متعلق یہ کتابیں موجودہ منظر نامے میں بہت اہم ہیں کہ ہم اور دوسری قومیں مسلم وطن پرست شہیدوں کی قربانیوں کو فراموش نہ کر سکیں۔ یہ کتابیں ایک اساسہ ہیں ۔ پروفیسر صاحب کی علمی صلاحیت کا ندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ وہ اردو کے پروفیسر ہیں لیکن جب انکی نگارشات منظرعام پر آئیں تو انکی علمی بصیرت کا اندازہ ہوا کہ وہ بیک وقت کئی زبانوں کے ماہر ہیں ۔ انھوں نے اردو میں بنگالی کہانیوں کا ترجمہ ، رسکن بانڈکی انگریزی کہانیوں کا ترجمہ ’’ دون کا سبزہ ‘‘ کے عنوان سے کیا ۔ اور آج کے دور کا سب سے اہم کام ’’اردو ہندی ڈکشنری‘‘ ہے ۔ وہ ماہرِ لسانیات ہیں
ترجمہ نگاری بہت عرق ریزی کا کام ہے ۔جس زبان کی تصنیف کا ترجمہ کیا جائے اس زبان سے پوری طرح واقفیت ہو تاکہ اس زبان کی لطافت اور متن مجروح نہ ہو ۔ ترجمہ نگاری سے ہمیں دوسری زبانوں کی تہذیب و تمدّن ، مذہبی عقائد،تارخ و ثقافت کا پتا چلتا ہے ۔ پروفیسر صدّیقی صاحب نے اسی ضمن میں ۔ رسکن بانڈ کی انگریزی کتاب Our Trees are Still Growing in Dehra
کا ترجمہ دلکش عنوان سے کیا ہے کہ جس کوبے اختیار پڑھنے کودل چاہتاہے ’’ دون کا سبزہ‘‘ میں جس ماحول اور علاقہ کی منظر کشی ان کہانیوں میں کی گئی ہے ۔ اس جگہ یعنی شملہ میں صدّیقی صاحب نے ہماچل پردیش کے گورنر کے مترجم کی حیثیت سے کام کیا ہے ۔ اس لئے وہ رسکن بانڈ کی اس کتاب کی روح تک پہنچ کر خوبصورت ترجمہ کر سکے ۔ اس کتاب میں ۱۶ کہانیاں ہیں جسے ساہتیہ اکادمی نے شائع کیا ہے ۔
تر جمہ شدہ دوسری کتاب ’’ جنم دن ‘‘ کے نام سے شائع ہوئی ہے ۔ یہ کتاب مختلف زبانوں کی سات کہانیوں پر مشتمل ہے ۔ اس میں ملیالم ،آسامی ،بنگالی، اور انگریزی کہانیوں کا ترجمہ ہے ۔ یہ کتاب بھی ساہتیہ اکادمی نے شائع کی ہے ۔ اس کتاب کی اہمیت وافادیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کی بیشتر کہانیوں کو ساہتیہ اکادمی نے ’’ عصری ہندوستانی کہانیاں ‘‘ کی جلد اوّل اور دوم میں شامل کیا ہے ۔ کہانی ’’ جنم دن ‘‘ کو این ۔سی ۔آر ۔ٹی نے بارہویں جماعت کے نصاب ’’ خیابانِ اردو میں شامل کیا ہے ۔ ۔پروفیسر صاحب نے ’’ بنگالی کہانیاں ‘‘ کے عنوان سے انتیس بنگالی کہانیوں کا ترجمہ کیا ہے ۔ اس کتاب میں نوبل انعام یافتہ رابندر ناتھ ٹیگور کی دو کہانیاں مہمان ، اور کابلی والا سے آغاز کیا گیا ہے ۔ اس کتاب سے بنگالی تہذیب و کلچر سے قاری روشناس ہوتا ہے ۔
انکی اور ترجمہ شدہ کتاب ’’ ہیون سانگ کا سفر ہندوستان ‘‘ مشہور چینی سیّاح کا سفر نامہ ہے ۔ اس میں بھی انھوں نے اپنی قابلیت اور زبان دانی کے جوہر دکھائے ہیں ۔
پروفیر صدّیقی صاحب کا ایک اور قابلِ قدر کارنامہ ’’ اردو ہندی ڈکشنری ‘‘ ہے ۔ یہ بہت تحقیقی اور محنت طلب کام ہے ۔ لغت نویسی میں الفاظ کے اندراج ،صحت اور زبان کی اساسی ضرورت کے علاوہ صوری و معنوی طور پر صحت اِملا، انشاء ا ور قواعد کا خاص خیال رکھنا پڑتا ہے ۔ ورنہ لغت غیر مستند اور نا قابلِ قبول ہوگی ۔ یہ ڈکشنری ان معنی میں بہت اہم ہے کہ اساتزہ اور طلبہ دونوںہی اس سے استفا دہ حاصل کر سکتے ہیں ۔ پروفیسر صاحب کثیرالجہات تخلیق کار ہیں ۔ ہمہ وقت علمی ادبی سر گرمیوں میںمصروف رہتے ہیں ۔ ایک مشفّق استاد ہیں ۔ طالب علم انکی صلاحیتوں سے مستفید ہوتے ہیں ۔
پروفیسر صاحب نے مرکزی وزارتِ تعلیم حکومتِ ہند ( یو۔جی ۔سی) کے تحت ’’ سویم پورٹل ‘‘ پرشعبئہ اردو علی گڑھ یونیورسٹی میں یونیورسٹی اساتزہ کے لئے اردو ریفریشر کورس کا آغاز کیا اور ماہرین سے ۴۵۲ وڈیو ریکارڈنگ کرواکر یو ٹیوب پر مہیّا کرائیں جو ادب کے مختلف موضوعات پر نہایت ہی جامع اور شفاف انداز میں پیش کی گئیں ہیں۔ علاوہ ازیں پروفیسر صاحب نے خود ۸۵ آڈیو ریکار ڈنگ ذاتی طور پر اردو زبان و ادب پر تیار کی ہیں۔ جو طلبہ کے نصابی ضرورتوں کو ذہن میں رکھ کر تیارکی گئی ہیں جس سے طلبہ مستفید ہو سکیں ۔ بلائنڈ طلباء اس سے خوب استفادہ کر رہے ہیں ۔ پروفیسر صاحب کی تمام کتابیں ’’ ریختہ ‘‘ پر موجود ہیں۔
صدیقی صاحب کی علمی ادبی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ۔ ان پر کئی رسائل نے خصوصی شمارے شائع کئے ہیں ۔ ’’ ورثہ ‘‘ عالمی جرنل نے ۲۰۲۴میں میں خصوصی شمارہ شائع کیا ۔ کئی ایم ۔فل اور پی۔ایچ ڈی مقالہ لکے جا چکے ہیں اور تحقیق کایہ سلسلہ جاری ہے ۔ ڈاکٹرارشد اقبال نے پروفیسر صاحب کی علمی بصیرت اور تخلیقی صلاحیتوں پر ایک کتاب ’’ پروفیسر ضیاء الرحمن صدّیقی کے ادبی متون ‘‘ میں ان کا اسلوب ، تنقیدی نظریات ، تحقیقی طریقئہ کار ،ادبی سروکار اور فکری و فنّی امتیازات کا ژرف غائر نگاہ سے جائزہ لیا ہے ۔
ڈاکٹر راکیش کمار نے صدیقی صاحب کی اہم تصنیف ’’ تحریکِ آزادی اور اور اردو نثرکا تنقیدی جائزہ کے عنوان سے ایک کتاب شائع کی ہے۔اس کتاب پر ڈاکٹر راکیش کو جموںیونیورسٹی نے ایم۔فل کی ڈگری تفویض کی تھی ۔
پروفیسر صاحب کی علمی ادبی بصیرت کے علاوہ انکی شخصیت بھی قابلِ تعریف ہے ۔ مزاج میں سادگی اور خوش اخلاقی انکی شخصیت کو اور پر وقار بناتی ہے ۔ یہ ہی انکی ترقی کا ضامن ہے ۔ میری دعا ہے کہ وہ اسی طرح اردو زبان وادب کی خدمت انجام دیتے رہیں ۔ اور آپکی علمی بصیرت سے جو اجالا قائم ہوا ہے ۔ وہ طالب علموں کے لئے مشعلِ راہ ثابت ہو ۔