مسعود علی محوی – دکن کا ایک در نہاں
ڈاکٹر سیدہ عصمت جہاں
شعبہ فارسی و مطالعات وسط ایشیاء
مولاناآزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد
دکن کی سر زمین پر بے شمار نامور ہستیوں نے اپنے علم و فضل،ہنر و کمال سے تاریخ کے صفحات پر اپنا نام درج کروایا۔لیکن کچھ ایسے اصحاب و اشخاص اور کچھ ایسی ہستیاں بھی ہیں ۔جنہوں نے کام تو بہت کیا لیکن زمانہ نے انہیں وقت کے ساتھ بھلا دیا۔انہی میں سے ایک ہستی مسعود علی محوی کی ہے۔ مسعود علی محوی کئی کتابوں کے مصنف، مترجم،شاعر،سرکار عالی میں سشن جج،رکن سررشتہ تالیف و ترجمہ جامعہ عثمانیہ اور معتمد انجمن علم وعمل حیدرآباد رہے ہیں۔ 1861ء میں بمقام دہلی پیدا ہوئے۔ وہ احمد علی سر رشتہ دار کمشنری و میر منشی ریذیڈنسی کے فرزند تھے۔آبائی وطن فتح پور، ضلع بارہ بنکی تھا۔ ابھی کمسن ہی تھے کہ علی گڑھ کا رخ کیا۔ بی اے کی تکمیل کے بعد وہیں ایک اسکول میں ملازمت کرلی۔ 1895ء میں نواب فتح نواز جنگ بہادر کی طلب پر حیدرآباد آئے اور ہوم آفس میں مترجمی کی خدمات پر مامور ہوئے اور ترقی کرتے ہوئے منتظمی اور مددگاری کے عہدے تک پہنچے۔ اسکے بعد معتمد مجلس عالیہ عدالت ہوئے، پھر نظامت دارالقضاء بلدہ و صدر نظامت عدالت کی اہم خدمات انجام دیتے ہوئے بحیثیت سشن حج سرکار عالی سلطنت آصفیہ وظیفہ حسن خدمت پر سبکدوش ہوئے۔صمصام الدولہ صارم لکھتے ہیں:
آپ نے 28سالہ مدت ملازمت ختم کرکے وظیفہ حسن خدمت سبکدوشی حاصل فرمائی لیکن آپ کے دل میں جذبہ ادائی خدمت اور قوائی جسمانی میں قوت باقی تھی اسلئے حسب خواہش آپ کو مترجم قانون دارالترجمہ جامعہ عثمانیہ پر مامور کر دیاگیا۔ آپ کو شروع ہی سیذوق ادب اور تالیف و ترجمہ کے کام سے دلچسپی رہی آپ کی متعدد تالیفات ادب و تاریخ و قانون میں شائع ہوکر مقبول خاص و عام ہو چکی ہیں اور دارلترجمہ کے ذریعہ آپ اپنے اس مرغوب مشغلہ میں اضافہ فرماتے ہوئے اور جلا دے رہے ہیں۔اور اردولٹریچر میں اپنی دلچسپ تالیفات سے وسعت و ترقی کے باعث ہو رہے ہیں۔آپ کو شعر وسخن کا بھی ذوق سلیم ہے آپ کا کلام شستہ اور دلچسپ ہوا کرتا ہے آپ کا تخلص ’’محوی‘‘ ہے۔ ہر قسم کے کلام پر قدرت رکھتے ہیں۔(مشیر عالم، ڈائر کٹری ص ۳،۴)
دکن کے مشہور محقق ڈاکٹر محی الدین قادری زور مسعود علی محوی کو فارسی شاعری کے صاحب کمال استاد مانتے ہیں تو فارسی کے معروف استاد و فرہنگ نظام کے مولفہ پروفیسر سید محمد علی داعی الاسلام انہیں فیضی، طالب، کلیم، عرفی و صائب جیسے بلند پائے فارسی شعراء کے ہم پلہ قرار دیتے ہوئے محوی کے فارسی دیوان کی اشاعت پر یہ قطعہ نذر کرتے ہیں۔
طبع کردی نامہ ای از زاد ہای طبع خویش
آفریں محوی کہ گوہررا فرا واں کردہ ای
در زبان عزت اجداد بکشادی زباں
مسلمیں را آگہ از کار مسلماں کردہ ای
گلستان فارسی پژ مردہ بوداز بادسرد
گل فروشی در خزاں بیش از بہاراں کردہ ای
کند شد تیغ زبان دشمناںبر فارسی
زیںکتاب ازبہر نطق خویش خفتان کردہ ای
مرحبا مارا بیاد آور دہ ای عہد قدیم
آفریں خورشید راد ملک کیواں کردہ ای
زادہ دریای طبعت جملگی رخشاں دراست
فیض یابی از کدا میں ابر نیساں کردہ ای
فارسی افسردہ تن بود است در ملک دکن
خون صالح تورواں در عرق وشریان کردہ ای
طبع تو جولاں کند ہر سو بہر معنی رسد
شاعری رادرکف خود گوی وچوگاں کردہ ای
در زبان سہروردی مدح سلطان العلوم
آشکار ا گوشہ ای از راز پنہاں کردہ ای
شا ہ عادل راستودی میر سدمزدزباں
ای ادیب تر زباں تفسیرقرآں کردہ ای
ہمچو داؔعی محو گشتی در مدیح شاہ از آں
شاہ کاری ہر زماں از خود نمایاں کردہ ای (دیوان محوی،ص۳،۴)
دوسری طرف خود مسعود علی محوی فارسی زبان سے اپنے لگاؤ کو اسطرح بیان کرتے ہیں:
’’مجھے شاعری کا شوق بچپن سے تھا مگر اردو کی طرف اس زمانے کے رنگ شاعری نے متوجہ نہ ہونے دیا اور چونکہ خود اردو شاعری نے موجودہ روشن اختیار نہیں کی تھی اس لیے نتیجہ یہ ہوا کہ جو کچھ کہا وہ بیشتر فارسی ہی میں کہا اور اس میں ایک قسم کی مہارت پیدا ہوگئی۔ اس کو چھوڑ کر اردو کے نئے رنگ میں مبتدی بننے کو جی نہ چاہا‘‘۔(دیوان محوی ص ۲۰)
مسعود علی محوی کی فہرست تصنیفات و تالیفات طویل ہے جن میں شامل ہیں:
(۱)کوکبہ حمیدیہ سلطان عبد الحمید خان سلطان روم کے حالات مطبوعہ،(۲)اصول واقعات متعلقہ(۳)مشیر الوکلاء مطبوعہ(۴)حالات اقوام جرائم پیشہ ممالک محروسہ سرکار عالی(۵) دستور العمل کو توالی حیدرآباد(۶)مخدوم ذادگان فتح پور،حصہ اول حضرت مخدوم حسام الدین مانکپوری کے حالات،حصہ دوم حضرت موصوف کی اولاد کے حالات پر مشتمل ہے۔(۷)رہنمائے مدینہ-مدینہ منورہ کی مختصر تاریخ اور مقامات ماثورہ کی تشریح(۸)وکالت(۹) دیوان محوی (فارسی)، (۱۰) نذر عقیدت (فارسی)،(۱۱) لغات قانونی،(۱۲)مقولہ جات قانونی،(۱۳) رباعی کی ابتدائی تاریخ،(۱۴) زمانہ جاہلیت کے شعراء اور ان کے اشعار کا ترجمہ و تشریح،(۱۵)دربار محمودی کے شعراء
مندرجہ ذیل تصانیف کا مسعود علی محوی نے نہایت سلیس ترجمہ کیا ہے۔
۱.اصول فقہ اسلام مولفہ جسٹس سر عبدالرحیم
۲.قانون بین الاقوامی –مولفہ ویسٹ لیک (Westlake)
۳.قانون قدیم –مولفہ میں (Mann)
۴.آئین انگلستان مولفہ ڈائیسی (Dicey)
۵.شرع اسلام مولفہ ملا فریدون
اس کے علاوہ انہوں نے فارسی کے مشہور شاعر حسن سنجری کے دیوان کو بھی مرتب کیا تھا۔جو۱۹۳۳ء میں مکتبہ ابراھیمیہ منہو پریس حیدرآباد سے شائع ہوا۔(بحوالہ مخدوم ذادگان فتح پور، جلد دوم، ص۱۹۰،۱۸۶،۱۷۸)
مسعو د علی محوی نے دو فارسی دیوان اپنی یادگار چھوڑے ہیں۔ اور یہ دونوں دیوان جو دیوان محوی اور نذر عقیدت کیعنوان سے ہیں ان کی حیات ہی میں زیور طبع سے آراستہ ہو چکے تھے۔ ان کا اردو دیوان بھی زیور طبع سے آراستہ ہو کر منظر عام پر آچکا ہے۔ جس میں ان کے نبیرہ بابر مسعود صدیقی (لندن)رقمطراز ہیں:
’’اس مجموعہ کی ترتیب کے بارے میں صرف یہ عرض کرنا باقی رہ جاتا ہے کہ پچاس ساٹھ سال بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ پرانی، بیاضوں، تحریروں اور یاداشتوں کو اپنی خستہ حالی اور بوسیدگی کے باوجود قائم رہنے اور مختلف ذرائع سے لندن تک پہنچنے کو ہماری خوش قسمتی اور حضرت محوی مرحوم کے کارہائے خیر کی برکت تصور کرنا چاہئے‘‘۔(دیوان اردو محوی ص ۸)
محوی نے تقریباً تمام شعری اصناف جیسے قصیدہ، غزل، رباعی، قطعہ، حمد، نعت، منقبت، قطعہ تاریخی، فرد وغیرہ پر طبع آزمائی کی ہے۔محوی کا پہلا فارسی دیوان ’نذر عقیدت ‘والی دکن نواب میر عثمان علی خان بہادر آصفجاہی ہفتم کی مدح میں لکھے گئے قصائد، قطعات، تہنیت نامے،تواریخ وغیرہ پر مشتمل ہے۔ محوی کے کلام پر تبصرہ کرتے ہوئے علامہ محمد عبد اللہ العمادی نواب صدریار جنگ رکن دارالترجمہ حیدرآباد نذ عقیدت کی تقریظ میں لکھتے ہیں:
’’مولانا محوی کا کلام نہایت ممتاز خصائص کا جامع ہے۔ عرب میں ابن زیدون کا قصیدہ اسلامی سلطنتوں کی تاریخ مانا گیا ہے۔ مولانا محوی کا کلام آعلیٰ حضرت خلد اللہ ملکہ (آصفجاہ ہفتم) کے عہد دولت کی ایک نہایت روشن تاریخ ہے جس کے آئینہ میں ان تمام ترقیوں کے جلوے نظر افروز ہوئے ہیں جن سے اس عہد سعادت میں ملک و ملت کی شان بڑھتی ہے۔ ان قصائد کے بعد اگر دیوان غزل کی نوبت آئی تو اہل فن دیکھ لینگے کہ خسرو کے عہد سے جس پختگی کی بنیاد پڑی تھی مولانا محوی میں وہ کس طرح پختہ تر ہوکر نمایاں ہو رہی ہے‘‘۔(نذر عقیدت ص۷)
دیوان اول نذر عقیدت، جسمیں انہوں نے سلطان وقت نواب میر عثمان علی خان بہادر کی مدح و قدر دانی مختلف انداز میں کی ہے۔ اور اس بابت یو ں رقمطراز ہیں:
’’اعلیٰ حضرت بندگان متعالی مد ظلہ العالی کی مسند نشینی کیوقت سے اس وقت تک ذات ہمایونی مداحی اور دعاگوئی کا شرف حاصل کرتا رہا ہوں اور اس لحاظ سے شاید میرا یہ دعویٰ غلط نہ ہوکہ میں سرکار کا قدیم ترین مداح اور دعا گو ہوں۔ میری مداحی ذات شاہانہ کے حقیقی اوصاف کے اظہار کی غیر کافی کوشش اور میری دعاگوئی حضرت اقدس کے بے شمار الطاف کی نا تمام شکر گزاری ہے۔ میں نیجومداح کی ہے اسیحتی الامکان مبالغہ کی رنگ آمیزی اور غلو کی تفسیر پردازی سے دور رکھا ہے میں نے قدیم شاعروں کی طرح ممدوح کے تیغ و سنان، پیل و اسپ، کاخ و ایوان، باغ و بستان کی تعریف کر کے کلام کو زینت دینے کی کوشش نہیں کی اور نہ مجھے اسکی ضرورت تھی،کیونکہ خدا تعالی نے اپنے فضل و کرم سے ممدوح کی ذات بابرکات میں اتنے صفات جمع کردئے ہیں کہ انہیں کہ اظہار سے کسی مداح کا عہدہ بر آ ہونا دشوار ہے۔ اسے فرضی خوبیوں کی تلاش یا حقیقی اوصاف میں مبالغہ کی حاجت نہیں ہوتی اسی لحاظ سے میں نے ایک قصیدہ میں عرض کیا ہے۔
منکر گمان مبرکہ نہنگ مبالغہ در بحر مدح پائے شناور گرفتہ است
ہر آنچہ گفت محوؔی آزادہ دیدہ گفت بر ناطقہ زباقر، محضر گر فتہ است
(از دیباچہ نذر عقیدت،ص۲۱-۲۰)
بطور نمونہ یہاں نذر عقیدت سے ایک قصیدہ نقل کیا جار ہاہیجسے محوی نے سلطان وقت نواب میر عثمان علی خان بہادر کی سالگرہ کے موقعے پر کہا تھا۔ اس کا ایک ایک شعر انکی اپنے ممدوح سے سچی محبت و قدر دانی کی عکاسی کر رہا ہے۔
بہ تقریب سالگرہ مبارک ۰۴۳۱ف
باید ہزار شکر خدا وند گار کرد
کو از کمال فضل ترا شہر یار کرد
بخشید ملک ومال،عطا کرد تاج وتخت
تدبیر و عقل داد، فزوں اعتبار کرد
بر ہرچہ جست ہمتِ تو اختیار داد
بر ہر چہ خواست خاطرِتو کامگار کرد
ہم در جہان مجدد علا د اد سروری
ہم درد یا ر علم و ہنر تاجدا کرد
عقل تو کرد باطل و حق راز ہم جدا
رائے تو امتیاز یمین از یسا کرد
زور تو کردبا زوے انصاف را قوی
دست تو پائے دولت و دیں استوار کرد
فضل تو دستگیری بر خستہ جاں نمود
لطف تو چارہ سازی ہر دل فگار کرد
کلک گہر فشان تو ہنگام فکر شعر
دامان نظم پر زدر شاہوار کرد
ہر نقطہ کہ از قلم عنبریں چکید
قرطاس بر دو خالِ رخِ روزگار کرد
ازنام تو گرفت نشاں سر زمین ہند
وزگو ہر تو خاک دکن افتخار کرد
(از نذر عقیدت ص۵۱)
اور ایک مقام پر یوں کہتے ہیں:
حدیث عشق چہ گوئی کہ این حدیث شریف
بلسان مدحت شاہ زمانہ دشوار ست
جناب آصف جاہ ہفتم، خدیو ملک دکن
کہ بہر او ہمہ مدح و ثنا سزاوار ست
غزنی واصفہان و بخارا ندیدہ بود
ارائش کہ شہراز تو شہر یار یافت
ہر صفحہ صحیفہ ملک و سواد ملک
از کلک نقشبند تو نقش و نگار یافت
(از نذر عقیدت ص۲۷-۴۳)
دیوان دوم جو’’دیوان محوی‘‘کے عنوان سے ہے۔ اسمیں غزلیات،رباعیات، نظمیں، قطعات، مثنوی، ترکیب بند شامل ہیں۔ اس میں زیادہ تر و ہ غزلیں ہیں جو محوی نے مہاراجہ کشن پرشاد کی فرمائش پر یا ان کے مشاعروں کے واسطے لکھی تھیں، چنانچہ دیوان کے دیباچہ میں لکھتے ہیں:
’’جو قصائد اعلیٰ حضرت کی مدح میں مختلف تقاریب کے موقعہ پرپیش کیے گئے وہ نذر عقیدت کے نام سے علیحدہ شائد ہو چکے ہیں۔ جو غزلیں سر مہاراجہ آنجہانی کی فرمائش یا ان کے مشاعروں کے واسطے لکھی گئیں۔ ان کا یہ مجموعہ ان حضرات کی خدمت میں پیش ہے جو اس زمانے میں بھی جس میں نہ فارسی کے سمجھنے والے باقی رہے ہیں۔ او رنہ داد دینے والے انکی اشاعت پر مصر تھے اصرار کرنے والوں میں سب سے آگے میرے منجلے فرزند رشید احمد ایم اے (علیگ) سلمہ تھے۔ انہوں نے میری متفرق اور پرا گندہ نظموں کو جمع اور طبع کرانے کا اہتمام اور انتظام کیا۔ اس مجموعہ میں بعض ایسی نظمیں نہیں پاتا جن کا لکھنا اور ان کا بعض اخباروں میں شائع ہونا مجھے یاد ہے۔ مگر ان کی تلاش اور دستیابی کے انتظار ہی جو کچھ موجود ہے اس کو ملتوی نہیں رکھا جا سکتا۔ فارسی زبان کی روز بروزبڑھتی ہوئی اجنبیت دیکھ کر میں نے جہاں تک ممکن ہو سکا ہے اس کی کوشش کی ہے کہ میری نظموں کی زبان صاف اور مطالب سریع الفہم رہیں معلوم نہیں میں اسمیں کہا تک کامیاب ہو ا ہوں۔‘‘
اس بیان سے یہ صراحت ہوجاتی ہے کہ مولانا محوی کا ایسا کلام بھی موجود ہیجو ان دو دیوانوں کے علاوہ ہے۔ اہل فارسی اگر اس جانب توجہ دیں تو مولانا محوی کے باقی ماندہ کلام کی بازیافت ہو سکتی ہے۔
نمونہ از دیوان دومحمد
اے نام بلند تو زینت دہ دیوانہا
آرایش عنوانہا پرایش پایا نہا
در قلزم و صف تو ماند خر د عالم
باکشتی بے لنگر و رور طہ طو فانہا
راز تو دریں عالم نکشا دبنی آدم
بقراط و فلاطون ہم اطفال دبستا نہا
در عقل نمی گنجی، در فہم نمی آئی
ششد ر ہمہ دانایاں،حیراں ہمہ نادانہا
چوں رخش او اتازی، در عرصہ طنازی
صد ولولہ اندازی در ممکت جانہا
توفیق تو گر داند، آساں ہمہ مشکلہا
بے یاری تو ماند مشکل ہمہ آسانہا
شادی وصال تو بے غم نشو و
حاصلدر کعبہ کہ شد داخل بے قطع بیابا نہا؟
امروز چہ می پرسی، ازوفت خوش عاشق
یاراست با ؤ ہمدم کارست بہ ساما نہا
یا داست ہر امحوؔی یاس دم گل چینی
آں وسعت گلشہنا وآں تنکی امانہا (دیوان محوی ص۳۲)
شام و سحر دعاکنم، ساقی ماہ تاب را
آنکہ بگردش آورد ساغر آفتاب را
ساحت گلشن دلم کردہ و نیم دادہ اند
سنبل نیم تاب را، نرگس نیم خواب را
عقل بہ سالہاتند رشتہ پیچ پیچ فکر
عشق بہ لحظہ بشکند آں ہمہ پیچ و تاب را
بازرسید خیل عقل بر سر من خبر کنبد
شوق سبک لگام را، عشق گراں رکاب را
محوؔی ست را مدہ زحمت پیشی عمل
باج طلب نمی کند شاہ دہ خراب را
(دیوان محوی ص ۲۴)
تادل چشید ہ ذائقہ نا چشید ہ را
مشتاق گشت دیدہ جمال ندیدہ را
صد آفریں بہ صنعت آں صورت آفریں
کو نا فریدہ چوں تو دگر آفریدہ را
واکن گرہ زابروئے پرخم کہ آوریم
در دام باز طائر رنگ پر یدہ را
زلف سیہ برآں رخ زیبا بہ سر کشتی
ماند بہ مرد تازہ بدولت رسیدہ را
اہل نظر چو لعل بد خشاں شمرد داند
خون جگر زدیدہ حسرت چکیدہ را
رندان مے پرست برابر نمی نہند
با بادہ رسید ہ مے نار سیدہ را
دست شکستہ مانع خیر کثیر نیست
بنگر ثمر فشانی تاک بریدہ را
فرصت کجا کہ گرم روان ویارد وست
از پاکشند نشتر خار خلیدہ را
محوی بفکر عیش کہ بیش از دو روز یست
برہم مزن سکون دل آ ر میدہ را (دیوان محوی ص ۳۰)
طاقت ضبط، با فغاں بر خاست
زنگ نالید، کارواں بر خاست
دل ماسوخت در د پنہانی
نہ ازآں شعلہ،نے دخاں بر خاست
فصل گل نارسید ہ بود ہنوز
کہ بہ تاراج آں، خزاں بر خاست
حالم در گزشت ازمن و تو
فرق مابین این و آں بر خاست
شیخ در بزم می بہ مغ، بچگاں
پیر نشست و نوجواں بر خاست
کس نہ پر سید حال دل محوی
مگر این رسم از جہاں بر خاست
(دیوان محوی ص ۳۵)
’’متفرقات ضمیمہ دیوان محوی‘‘ کے عنوان سے ایک اور مختصردیوان یا ضمیمہ سجاد پریس حیدرآباد دکن سے طبع ہوا ہے۔بجا طو ر پر اسے دیوان سوم کہا جا سکتا ہے۔ جس پر غالباً سن طباعت درج نہیں ہے۔ اس میں جو قصائد، ترکیب، بند، نعت، غزلیات، رباعیات، مراثی، تعزیت نامہ، تہنیت نامے، قطعات، قطعہ تاریخ، فرمائشی قطعات، تضمین اور منظوم تقاریظ، تقریظ منظوم بر کتاب موسومہ سراپائے رسول مصنفہ عزیز بیگ تقریظ منظوم بر دیوان فصیح جنگ علامی پر مشتمل ہے۔ ہو سکتا ہے یہ وہی کلام ہو جو دیوان دوم میں شامل ہونے سے رہ گیا تھا۔نمونہ از متفرقات ضمیمہ دیوان محوی،ملاحظہ ہو:
ساقی شراب در درا از خم کش و ور جام کن
ایں کیمیائے خاص رابر خیزو وقف عام کن
رباعی
عالم ہمہ جسم است توجانی ایجاں
مجموعہ حسن دو جہانی ایجاں
آں خوبی خود کہ بروے عالم محو است
از محوؔی خود بپرس گر ندانی ایجاں
رباعی
بے آتش عشق کیمیائے نشوی
تاخود نشوی درد دوائے نشوی
جایت بمیان سرخ رو یاں ند ہند
تاکشتہ دشت کر بلائے نشوی
اے مدزئے زری چہ رنج است ترا
جوں پنج حواس پنج گنج است ترا
ہر نکتہ کہ ریخت کلک محوؔی گہر است
گر طبع رسا ونکتہ سنج است ترا
(ضمیمہ دیوان ص ۶۸)
میر سد ہر شہر رایا ری ازاو
شاہ مرا شہر یاری میر سد
شوکت شاہانہ، و درویشانہ خلق
ایں بہم از بختیاری میر سد
سر فرازی، سربلندی، سروری
ایں ہمہ از خاکساری میر سد
یکتہ تازے را کہ گیر و ملک دل
ادعاے شہسواری میر سد
شاہ میدا ند کہ در تنظیم ملک
قوت از مرداں کاری میر سد
امیز ندمرداں کاری را صل
بانگ لبیک از چہتاری میر سد
بارگاہ اصفی رازیں صدا
مژدہ صد کا مگاری میر سد
بر عزیزاں سایہ پرورد گار
بہ غریباں فضل باری میر سد
شاہ ما عثماں علی خان زندہ باد
ویں نظام سلطنت پائند ہ باد(ضمیمہ دیوان، ص ۱۳)
محوی کا ایک اور اہم کارنامہ فارسی کے مشہور شاعر حسن دہلوی کے فارسی دیوان’’دیوان حسن سنجری‘‘کی تدوین ہے۔مہاراجہ کشن پرشاد (یمین السلطنت سرکار عالی آصفیہ)کی ایماء پر محوی نے دیوان حسن کے مختلف قلمی نسخوں کی مدد سے ایک جامع دیوان مرتب کیا۔ جس کا مقدمہ انہوں نے اردو زبان میں تحریر کیا ہے۔ وہ اس کاوش کے بارے میں خود لکھتے ہیں:
’’جب عالیجناب سرمہاراجہ بہادر نے ان کے کلیات کے طبع فرمانے کا ارادہ فرمایا تو مجھ سے اسکی تالیف اور ترتیب کیلئے ارشاد ہوا۔ کچھ عالیجناب ممدوح کا ارشاد کچھ ذاتی شوق دونوں نے مل کر بلالحاظ ان دقتوں اور مشکلوں کے جو اس کام میں پیش آنے والی تھیں مجھے اس ذمہ داری کے قبول کرنے پر مجبور کردیا۔ سب سے پہلے کام مختلف دیوانوں کو جمع کرنا اور ایک دیوان کو اصل قرار دے کا دوسرے دیوانوں سے اس کی تکمیل کرانا تھا۔ یہ کام کچھ آسان نہ تھا اس کے لیے تمام دیوانوں پر نظر ڈالنی پڑتی تھی اور جو جو غزلیں یا نظمیں اصل دیوان میں موجو د نہ ہوتی تھیں۔ وہ دوسرے دیوانوں سے نقل کراکے اس میں شریک کرائی جاتی تھیں۔ اسی کام نے تقریباً پورا سال لے لیا۔ان تمام مراتب کے طے ہوجانے کے بعد کار پرداز ان طبع سے مسابقہ تھا۔ جن حضرات کو ان بزرگوں سے سابقہ پڑا ہے۔ وہی ان دل خون کن محنتوں اور جگر خراش تکلیفوں کا انداز ہ کر سکتے ہیں جو اس سابقہ میں جھیلنی پڑتی ہیں کلیات کے طبع ہو جانے کے بعد ان کی تفصیل اور توضیح بیکار ہے۔‘‘
سفینہ جبکہ کنارے پہ آلگا غالبؔ خدا سے کیا ستم وجور نا خدا کیجئے
دیوان کے آغاز میں محوی نے ایک نہایت ضخیم وجامع مقدمہ لکھا ہیجسمیں حسن سنجری کے احوال و آثار اور انکی شعری خصوصیات بحث کی گئی ہے۔ مسعود علی محوی نے دیوان حسن سنجری کی مرتب کرکے فارسی ادب کے حوالہ سے ایک اہم کارنامہ انجام دیا ہے۔ اسکے علاوہ ان کے فارسی دواوین فارسی ادب کے دامن میں ایک حسین اضافہ ہے۔محوی کو بلاشائبہ فارسی ادب سے غیر معمولی لگاؤ تھا اور انہیں فارسی کے مشہور اساتذہ مولانا محمد اسحق اسرائیلی، علامہ شبلی، مولاناحالی،مرزا محمد تقی کمال الدین سنجر اصفہانی تربیت اور اس زمانہ کے مشہور فارسی شعراء مولوی سید علی طوبی، مولوی فضل رب عرشی، ترک علی شاہ ترکی، عبدالقادر گرامی، مولوی عبد الجبا ر خان آصفی، مہار اجہ کشن پرشاد شاد، عبدا لغنی خان غنی، جعفر زمہری،حیدر یار جنگ طباطبائی کی صحبتیں میسر رہی جسکی وجہ سے انکے ذوق فارسی کوخوب جلاملی محوی کے والد مولوی احمد علی احمداور ان کے دادا مولانا مخدوم بخش بخشش بھی فارسی کے شعراء کی فہرست میں شامل تھے۔
ان کے والد مولوی احمد علی احمد کی ایک اہم تصنیف ’’قصر عارفان‘‘ ہے۔ جسکا ذکر محوی نے دیوان حسن سنجری کے مقدمہ میں بھی کیا ہے۔ اس کا ایک حصہ اورنینٹل کالج لاہور نے 1966ھ میں شائع کیا ہے۔ اگر تحقیق کی جائے تو مولوی احمد علی احمدؔ، مخدوم بخش بخششؔ اور اس خانوادہ کے دیگر صاحب قلم حضرات کے آثار تک رسائی اور اس کی بازیافت ممکن ہے اور محوی کے وہ فارسی کلام کو جو شایدشائع ہونے سے رہ گیا تھا اور فارسی کے اس عظیم شاعر کے خوبصورت کلام سے فارسی کے دامن ادب کو مزین کیا جاسکتا ہے۔
مسعود علی محوی بحیثیت شاعر، ادیب، مصنف، مترجم، مرتب ہی نہیں بلکہ سرکار عالی آصفیہ میں سشن جج، یمین السلطنت آصفیہ مہاراجہ کشن پرشاد شاد کے مصاحب خاص، والئی سلطنت آصفیہ کے محب خاص دکن کے عاشق صادق، دکن کی علمی وادبی انجمنوں کے روح رواں کی حیثیت سے اپنی ایک انفرادیت رکھتے ہیں۔ دکن کی یہ کثیر الجہات شخصیت اپنی زندگی کی ۲۹بہاریں دیکھ کر ۳۵۹۱ء میں اپنے مالک حقیقی سے جا ملی۔ تربت تکیہ موسیٰ شاہ قادری، باغ مرلیدھر، معظم جاہی مارکٹ، حیدرآباد میں واقع ہے۔ یہ قطعہ تاریخ وصال تربت پر درج ہے۔
خدائے ذولمنن نے جس کو عزت دی فضیلت دی
عطائے خیر و برکت سے بڑی آسودگی بخشی
کیا علم و ہنر میں نامور شہرت بہت پائی
رکھا خوش آل اور اولاد سے عقبیٰ بھی بہتر کی
قریب یک صدی اس دہر میں گزری بصد خوبی
مزے سے خلد میں ہیں مولوی مسعود علی محوی
۱۳۷۲ھ
تربت معلیٰ علامہ دہر مولوی مسعود علی(مجموہ کلام اردو حضرت محوی ص ۹)
منابع
۱۔مشیر عالم، ڈائرکٹری، صمصام شیرازی، مشیر عالم پریس حیدرآباد۔ ۱۳۴۹ف
۲۔مخدوم ذاد گان فتح پور، مسعود علی محوی، عدیل یوسف صدیقی (انگلیسی ایڈیشن)لندن ۲۰۰۲
۳۔دیوان محوی،مسعود علی محوی، مرتبہ رشید احمد سجاد پریس حیدرآباد ۱۹۴۷
۴۔نذر عقیدت،مسعود علی محوی ۱۳۵۶ھ
۵۔متفرقات ضمیمہ دیوان محوی، مطبوعہ سجاد پریس حیدرآباد
۶۔مجموعہ کلام اردو، مسعود علی محوی، مرتبہ حبیب احمد صدیقی،کراچی، ۲۰۰۳
۷۔ دیوان امیر حسن سنجری دہلوی، مرتب مسعو د علی محوی، مکتبہ ابراہیمیہ،حیدرآباد ۱۹۳۳
۸۔قصر عارفان، مولوی احمد علی، مرتبہ دکتر محمد باقر، اورینٹل کالج میگزین لاہور ۱۹۶۵
۹۔راہنمائے مدینہ مسعو د علی محوی، اعظم اسیئم پریس،حیدرآباد ۱۹۴۰
۱۰۔داستان ادب حیدرآباد، سید محی الدین قادری زور، ادارہ ادبیات اردو، حیدرآباد ۱۹۵۱