داراشکوہ کی مکتوب نگاری

پروفیسر شاہد نوخیز اعظمی
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد

بادشاہوں میں شاہ جہاں، اورنگ زیب عالمگیرکی رقعات عالمگیرمشہور ہے ۔قلی قطب شاہ عبداللہ قطب شاہ کے خطوط بھی انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔آصف جاہی دور حکومت میں لکھے گئے مختلف بادشاہوں کے خطوط نظام دکن کی علمی وادبی اور سماجی و معاشی سرپرستی کو بیان کرتے ہیں۔اورنگ زیب عالمگیر کے رقعات اور مکتوبات کی تعداد کثیرہے جس میں مختلف نوعیت کے متعدد خطوط ملتے ہیں جس میں آداب عالمگیری، احکام عالمگیری، کلمات طیبات ،رقائم کرائم،دستورالعمل آگہی، رموز اشارات عالمگیری ،رقعات عالمگیری، کلمات اورنگ زیب ،عرایض رستم خان، عرائض مہاراجہ، مجمع الافکار، فیاض القوانین انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ اور نگ زیب کے خطوط سادہ، سلیس، پر معانی اور القاب وآداب پر مشتمل ہوتے تھے اور حسب مراتب القاب و آداب تبدیل ہوجاتے تھے۔سیاسی خطوط ، تہنیتی خطوط اور تعزیتی خطوط کا لب و لہجہ مناسبت کے اعتبار سے مختلف ہو اکرتا تھا جیسے شیواجی کی حیثیت اس وقت ایک جاگیر دار کی تھی لیکن اورنگ زیب ان کو جو خط لکھتا ہے اس میں احترام جھلکتا ہے وہ لکھتاہے۔خلاصتہ الاشتباہ والاعیان، زبدۃ الامثال والقران ، قابل المرحمتہ والاحسان ، شیواجی بعنایت پیش گاہ سلطنت ، مفتخر ومباہی گشتہ بداند، اور نگ زیب اپنی بہن جہاں آرا کو ان الفاظ میں مخاطب کرتاہے،مخلص بے اشتباہ بعد ادائے مراسم اخلاص و نیازمندی معروض می دارد۔خیر اندیش سراسر اخلاص مراسم عقیدت بتقدیم رسانیدہ معروض می دارد،۔اورنگ زیب اپنے بڑے بھائی محمد شجاع کو خط میں ان الفاظ سے یاد کرتے ہیں۔بعد ازگزارش مراسم مخالصت و موالات معروض می دارد، مخلص خیر اندیش نعد از گزارش مراسم اخلاص معروض می دارد۔ شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر اپنے چھوٹے بھائی کو لکھے ایک خط میں یوں یادکرتاہے ۔ براد عزیزبجان برابر کامگاہ نامدار عالی مقدار من از نخل حیات و زندگانی بہرہ مندوبر خوردار بودہ مسرت قرین باشند۔براد عزیزبجان برابر عالی مقدار من از نہال زندگانی بر خوردار واز آشوب نوائب برکنار باشند ۔اپنے لڑکوں ، صاحبزادوں کو یوں یاد کرتاہے۔ فرزند ارجمند درۃ التاج فرخی و فیرزمندی ودل پسندی شاہزادئہ جہانیان بغایت الطاف شاہنشہای واعطاف بادشاہی مخصوص گشتہ بداند۔بابائے من ، بہادر من ۔ شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر مرزا راجہ جے سنگھ کے نام لکھے ایک خط میں تحریر کرتے ہیں۔زبدہ دلاوران و متہوران، خلاصہ ٔ جان نثاران و ہواخواہان، نقادئہ مخلصان ارادت کیش، قدوۂ خیر اندیشان عقیدت اندیش، شایستہ ٔ مراحم بیکراں بادشاہی، سزاوار عنایات بے پایان شاہنشاہی ، عمدۂ را جہائے اخلاص شعار، مطیع السلام مرزا راجہ جے سنگھ بتوجہات بادشاہی مخصوص و مباہی بودہ بدانند۔
اسی طرح غیر مسلموں کے خطوط ومکتوبات بھی ملتے ہیں جن میںخطوط چندو لعل شادان، مکاتیب گووند بخش ضیائی، رقعات لکشمی نارائن شفیق،رقعہ ٔ مہاراجہ کشن پرساد شاد، مکتوبات بھگونت رائے سونامی اور مکتوبات رتن سنگھ زخمی وغیرہ نہایت ہی اہمیت کے حامل ہیں۔ منشات برہمن ،منشات برہمن بھی عہد اورنگ زیب ودارا شکوہ کا ایک مستند ماٰ خذ ہے یہ میر منشی داراشکوہ چندر بھان برہمن کی تحریر کردہ ہے ۔منشات برہمن چندر بھان برہمن نے مختلف صوبہ جات روز مرہ کی معلومات ، دارا شکوہ کے واقعات، اورنگ زیب کے تخت نشینی کی کیفیات کو بہت ہی مستند حوالے سے پیش کیا ہے ۔یہ منشآ ت پانچ حصوں میں منقسم ہے ۔ پہلے حصے میں ۶ عرض داشتیں ہیں دوسرے حصے میں وہ خطوط ہیں جو مراء و وزراء کی خدمت میں لکھے گئے۔ تیسرے حصے میں وہ تحریریں ہیں جو کہ ارباب فقر وفضل اور شعراء کو ارسال کی گئیں تھیں۔ چھوتھے حصے میں نگارشات ہیں جو ہندوستان کے راجائوں، مہاراجائوں اور ان کے بیٹے کی خدمت میں لکھے گئے تھے۔ پانچویں حصے میںوہ رقعات ہیںجو برہمن نے اپنے والد ، بھائیوں ، بیٹوں ، شاگردوں اور دوستوں کے رقم کیے تھے۔ منشآت برہمن کی انشاء پردازی کی تاریخی حیثیت کے متعلق پروفیسر شریف حسین قاسمی و ڈاکٹر وقارالحسن صدیقی نے جو منشآت برہمن تصحیح و تحشیہ کے ساتھ ترتیب دیا ہے اور کتب خانہ رضا رامپور اترپردیش نے سال ۲۰۰۵ ء میں اپنے اہتمام کے ساتھ شائع کیاتھااس کے پیشگفتارمیںلکھتے ہیں:
’’ایں نامہ ھا از لحاظ تاریخی حایز اہمیت زیاد نیستند، اما در تاریخ انشاپردازی باید جایگاہ خاصی داشتہ باشند ، برہمن در ترسل و انشانگاری مہارت بہ سزائی داشتہ است، نامہ طرازی و مدعا پردازی بہ سبک خاصی داراین مکاتبات مشاہدہ می شود، نامہ ھای برہمن بیشتر کوتاہ ھستند، القاب و آداب ھم بہ سادگی آوردہ شدہ است، ھمچنیں سبک نگارش اودر ھر دو نظم و نثر سادہ وسلیس وعاری از پیچیدگی ادبی است کہ در انشاء پردازی بیشتر معاصرانش دیدہ می شود، علاوہ بر این ، استفادہ از استعارات وتلمیحاتی از مذہب و جامعئہ ھندوی ، آثار برھمن را رنگ و آھنگ خاصی بخشیدہ است‘‘
مکتوبات دارا شکوہ اسی خطوط نگاری کی ایک بنیادی کڑی ہے۔ آپسی رابطہ، ہم کلامی اور ایک دوسرے کی ضروریات اوربہت سی دیگر معلومات کو پہنچانے کے مقاصدسے لکھے گئے خطوط کا مجموعہ ہے ۔ اس مجموعہ خطوط میں دارا شکوہ کے اپنے محبوب اور قریبی احباب کے نام لکھے گئے خطوط پر مبنی ہے۔دارا شکوہ اپنے ایک خط میں دلربا شاہ کو لکھتا ہے:
’’در تعریف نامہ چہ تواند نوشت کہ ذات صاحب نامہ منزہ است ازوصف و تعریف اگرچہ تعریف کنندہ ہم غیر نیست عیاذاً باللہ لفظ غیرہم غیر اونیست، عارف ومعروف، شاہدو مشہودومحب و محبوب،طالب و مطلوب جزیک ذات نیست، ہر کہ جزیک ذات است ، معدوم محض است ۔۔۔۔۔۔۔ الحمدللہ کہ از برکت صحبت ایں طائفہ شریفہ مکرمہ معظمہ ازاول ایں فقیر اسلام مجازی برخاست و کفر حقیقی روے نمود۔۔۔۔۔اکنوں کہ قدر کفر حقیقی دانستم زنار پوش و بت پرست بلکہ خودپرست و دیر نشیں گشتمــ‘‘۔
اسی طرح دارا شکوہ نے ایک خط مشہورو معروف صوفی بزرگ سرمد شہید کے نام یوں لکھا تھا:
’’پیرومرشد من، ہرروز قصد ملازمت دارد میسر نمی شود،اگر من منم ارادئہ من معطل چرا وا گرمن نیستم چہ تقصیر مراقتل امام حسین ، اگرچہ مغیث ایزدی یست، پس یزید درمیان کیست واگرغیر مشیت است پس معنی’ یفعل اللہ مایشاء ویحکم مایرید‘ چیست ،بنی مختار بجنگ کفار می رفت، شکست دراسلام می افتاد، علمائے ظاہری می گویند کہ تعلیم صبر است منتہی ٰ را تعلیم چہ در کار‘‘۔
دارا شکوہ کے خطوط کے اسلوب ، طرز نگارش،زبان و بیان اور ان کے لب و لہجہ کو یوں بیان کرسکتے ہیںساتھ کاربند رہنے کی حوصلہ افزاء مثالیںملتی ہیں، انسان دوستی،بھائی چارگی، اخوت، ہمدردی، ملنساری، یگانگت، اخلاص ،بے ریائی، جیسی ارفع اور پاکیزہ،اخلاقی قدروں کی پاسداری کے روشن ثبوت بھی فراہم ہوتے ہیں۔ان انسانی اوصاف کے علاوہ خطوط اپنے اندرایک ادبی شان بھی رکھتے ہیں، ان میں جا بجا مکتوب نگارکی تبحرعلمی، نکتہ رسی، بے تکلفی، فقرہ بازی،بزلہ سنجی،بے ساختگی،معنی آفرینی جیسے فنکارانہ اوصاف جھلکتے ہیں جن کی شمولیت سے یہ خطوط انشاپردازی کے منفرد مرقعوں کی شکل اختیار کرگئے ہیں۔ان میں زبان کی نفاست بیان کی لطافت،طرز اظہار کی جدت،اسلوب کی ندرت، احساس کی شدت،جذبوں کی حرارت،لب و لہجے کی دلکشی ،شائستگی اور شگفتگی نیز محاوروںکی بے ساختگی اور بر جستگی کے کرشمے، دامن دل می کشد کہ جا اینجا است، کی مصداق قدم قدم پر جلوہ گر ہیں۔ دارا کے خطوط سے ان کی تحریر، انداز بیان، اسلوب نگارش اور انداز خط کو سمجھ سکیں اور اسی کے ذریعے ان کے منہج و معیار اور ان کے ادبی ذوق و شوق کو بھی ملاحظہ کر سکیں گے ۔اس طرح سے دارا شکوہ نے بہت سے امراء ، رؤ ساء، شاعر اصحاب قلم اور دانشوروں کے نام خطوط لکھے اور دارا شکوہ کے نام بھی خطوط رقم کیے گئے تھے اسے ہی منظر عام پر لایا جارہاہے۔
دارا شکوہ جامع الصفات و مجمع الکمالات ہیں۔ اسلام کے عاشق ، حق کے طرفدار، حریت کے پرستار،قوم و ملت کے خدمت گزار، اتحاد والتفات کے خواستگار اور علم و آگہی کے تاجدار تھے۔وہ علم کا اور علم ان کا تعاقب کرتا رہا، دونوں فاتح بھی ہوئے اور مفتوح بھی ۔ا ن کے قلم نے علم کو اورعلم نے ان کو قلم کو حیات جاوید بخشا، جب تک وہ باحیات تھے علم کی صفات کا علم بلند رہا یا یوں کہیے کہ جب تک علم باقی رہے گا ان کے اصول اور وجود کا علم بلند رہے گا ۔ دارا شکوہ کی شہرت ان کی تصنیفات ہیں۔ وہ سیاسی مسائل ،سماجی مسائل ، مذہبی رموز و نکات، شعری فسوں گری، ادبی عشوہ گری ہے۔وہ صاحب فصاحت وبلاغت اور تحریر میں علمی طغیانی نظر آتی ہے وہ موصوف کے ذکر جمیل اور اسلوب جلیل کی مرہون منت ہے۔داراشکوہ نے جن باتوں کو ایمان و یقین کی حد تک اپنے پیش نظر رکھا وہ ہندومسلم اتحاد مشترکہ تہذیب ، متحدہ قومیت اور خدمت انسانیت تھی۔اس میں اتحاد اور حب الوطنی کو قومیت و ثقافت آزادی پر فوقیت حاصل تھی اس لیے کہ اتحاد ہر درد کا درماں اور ہر مرض کی دوا ہی نہیں بلکہ فتح و کامرانی اورعزت و وقار کا ضامن بھی۔
دارا شکوہ کے خطوط اور دارا شکوہ کے نام لکھے گئے خطوط کو یکجاکرنے کی کوشش ہے ۔اس میں وہ خطوط ہیں جن کو مختلف اوقات میں درار شکوہ نے مختلف اکابرین، معززین، ادیبوں، حکومت کے کارندوں ،وزیروں ، رئیسوں ، نوابوں، سپہ سالاروں، مصنفوں،مؤلفوں، مترجموں اور دوست و احباب کو لکھے تھے۔ منجملہ ایں کہ اس پوری کتاب میں دارا شکوہ سمجھاہے اور اسے قارئین کوسمجھانے اور ہندوستانی تہذیب و روایت کو آگے بڑھنے بڑھانے کی ہرممکنہ ترغیب کی ہے۔دارا شکوہ نے مختلف شخصیات کو خطوط لکھے تھے۔ ان خطوط میں کبھی زجرو توبیخ کی ، تو کبھی خوش خلقی کے ساتھ معاملہ فہمی بھی کرتے نظر آئے ہیں۔ ان خطوط میں وہ اگر اصلاح کرتے ہیں تو مضامین و شاعری کے معیار کا بھی پاس ولحاظ رکھے جانے کو قلمبند کیا ہے۔کسی کسی خط میں نصف ملاقات لگتی ہے تو کئی خطوط میں روانئی عبارت، سلیقئہ الفاظ خوبصورت تراکیب کا بہترین استعمال بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔الغرض یہ خطوط موجودہ دور کے لیے ازحد ضروری ہے تاکہ ہندوستان کی قدیم و عظیم روایات اور مغل دور کی تہذیب و ثقافت کوان خطوط کے ذریعے جان سکیں۔ان خطوط میں تحریر کرنے والے اور جس کے لیے لکھا گیا ہے ان دونوں کے درمیان گہرے روابط رہے ہیں اور اس بات کا غمازیہ مجموعہ خطوط ہے ۔دارا شکوہ کے نام اور دارا شکوہ نے جو خطوط رقم کیے تھے ان میں زیادہ تر صوفیانہ موضوع پر ہے اکثرو بیشتردینی ومذہبی گفتگو ہی ملتی ہے۔ ان خطوط میں وہ نصیحت و تاکید بھی کرتے ہیں،زجروتوبیخ کر تے ہیں تو خوش خلقی کے ساتھ معاملہ کی تفہیم بھی کرتے ہوئے جگہ جگہ دکھائی دیتے ہیں۔ مکتوب الیہ کو مختلف طرح کی جانکاری دیتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ موجودہ حالات سے کیسے نمٹا جائے، مستقبل کو کیسے خوشگوار بنایاجائے ۔ دارا شکوہ کے بیشتر خطوط ہنوز زیور طبع سے آراستہ نہیں ہوئے ہیں۔ ان کے جتنے بھی خطوط ملتے ہیں وہ بیشتر مخطوطات کی شکل میں ہیں جس میں فیاض القوانین ایک مخطوطہ ہے جو دارالمصنفین اعظم گڑھ، ندوۃ العلماء لکھنؤ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں محفوظ ہے۔ اس میں دارا شکوہ کے آٹھ خطوط ملتے ہیں اس کے علاوہ مجمع الافکار ایک مخطوطہ ہے جو خدا بخش خان کے کتب خانہ میں محفوظ ہے جسے بعد میں پروفیسر چندر شیکھر صاحب نے ایڈیٹ کیا ہے اس میں دارا شکوہ کے دو خطوط اور ایک دیباچہ ملتا ہے۔دارا شکوہ کے دو خطوط علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں محب اللہ الہ آبادی کے نام ہے جب کہ ان کے دو خطوط اور بھی محب اللہ الہ آبادی کے نام ہے جو خانقاہ شیخ محمد محب اللہ الہ آبادی جو کہ بڑے دائرے کے نام سے مشہور ہے وہا ںمخطوطے کی شکل میں موجود ہے۔دارا شکوہ کے خطوط شیخ سرمد، محب اللہ الہ آبادی ، شاہ محمددلرباء،حضرت ملاشاہ قادری بدخشی، سلیمان شکوہ،بادشاہ اورنگزیب اور اس کے بھائیوں کے نام بھی ملتے ہیں۔ان میں سے بیشتر مکتوبات تصوف کے رموز نکات سمجھنے اور سمجھانے کے لیے لکھے گئے ہیں خاص طورپر وہ خطوط جو انہوں نے محب اللہ الہ آبادی کے نام لکھا ہے۔ رقعات عالمگیر میں بھی دارا شکوہ کا ایک خط موجود ہے۔ جبکہ دارا شکوہ کے نام محب اللہ الہ آبادی، ملا بدخشی اورعبداللہ قطب شاہ کے نام پائے جاتے ہیں۔ کتب خانہ آصفیہ میں ایک مخطوطہ مکتوبات عبداللہ قطب شاہ بنام داراشکوہ موجود ہے جس میں عبداللہ قطب شاہ کے 13 خطوط دارا شکوہ کے نام موجود ہیں۔اس مخطوطے کو پروفیسر نجمہ صدیقہ سابق صدر شعبۂ فارسی عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد نے ایڈیٹ بھی کیا تھا لیکن اس مطبوعہ کے علاوہ بھی چند خطوط ہیں جو زیور طبع سے آراستہ نہیں ہوئے۔ سلطان عبداللہ قطب نے شاہ دارا شکوہ کے لیے القاب و آداب کا خوبصورت استعمال کیا ہے ایک
خط ملاحظہ فرمائیں:
’’عرضہ داشت مرید راسخ الاعتقاد کہ صحیفہ ٔ خاطر نگاشتہ در آیات سعات،اطاعت مہمات ومقاصدکلیہ، ارادت درگاہ خلافت ابد مدت عقدہ کشائی یاب حکمت صاحب وقبلہ ٔ دیں و دنیا بوسیلہ ٔ انیقہ ایں توجہات علیا و تلطفات علیاء ارادت مند درست اعتقاد، بشکر اشفاق ومراحم بیدریغ حامی خورددیں و دولت و مظہر انوار لطف ومرحمت شیریں کام و رطب اللسان است، بناء برایںمقدمات کہ نتائج حصود ایانی و آمال را متضمن است۔تکیہ بروثوق ارادت خود نظر بد وفور عاطف ومرید پروری مرشدو رہنمائی عالمیان نمودہ سہ مطلب بعرض مقدس گوہر دریای خلافت وجلالت میرساندوامیدواراست کہ بتوجہات مقربان بدرجہ ٔ علیا ی قبول برسدــ۔‘‘