Category: گوشہء غزل ورثہ 17

سچ کی پاداش میں وہ سوئے دار ہوتے ہیں

س-ف اعجاز سچ کی پاداش میں وہ سوئے دار ہوتے ہیں جھوٹے سارے معتبرِ دربار ہو تے ہیں بہت ضروری تھا اس لیے رنگ بھر رہا ہوں تمہارے خاکے کے ساتھ میں بھی ابھر رہا ہوں جو نور میرا ہے اُس کو دنیا نظر میں رکھے سمندروں میں چراغ لے کر اتر...

Read More

جان کو جاں سے گزرتے دیکھا

نعمان جعفری جان کو جاں سے گزرتے دیکھا تب کہیں خود کو نکھرتے دیکھا کون روکے گا بھلا میرا خرام کبھی دریا بھی ٹھہرتے دیکھا جانَ جاں تجھ پہ زمانے بھر میں ہم نے کس کس کو نہ مرتے دیکھا آئینے نے بھی بلائیں لی ہیں جب کبھی تجھ کو سنورتے...

Read More

ایک بیوی کئی سالے ہیں خدا خیر کرے

پاپولر میرٹھی(میرٹھ) ایک بیوی کئی سالے ہیں خدا خیر کرے کھال سب کھینچنے والے ہیں خدا خیر کرے تن کے وہ اجلے نظر آتے ہیں جتنے یارو من کے وہ اتنے ہی کالے ہیں خدا خیر کرے کوچۂ یار کا طے ہوگا سفر اب کیسے پاؤں میں چھالے ہی چھالے ہیں...

Read More

میں سمندر تھا مجھے چین سے رہنے نہ دیا

اظہر عنایتی (رام پور،انڈیا) میں سمندر تھا مجھے چین سے رہنے نہ دیا خامشی سے کبھی دریاؤں نے بہنے نہ دیا اپنے بچپن میں جسے سن کے میں سو جاتا تھا میرے بچوں نے وہ قصہ مجھے کہنے نہ دیا کچھ طبیعت میں تھی آوارہ مزاجی شامل کچھ بزرگوں...

Read More

جو گیت باد خزاں گا رہی ھے رستوں پر

نسیم نازش جو گیت باد خزاں گا رہی ھے رستوں پر سفر میں دل میرا بہلا رہی ھے رستوں پر غبار عشق ہوں منزل ھے میری نامعلوم ہوا اڑائے لئے جا رہی ھے رستوں پر گئے دنوں کا کہیں قافلہ قریب نہ ہو کوئی صدائے جرس آرہی ھے رستوں پر ہوائے موسم...

Read More

اسے دل سے بھلا دینا ضروری ہو گیا ہے

پروفیسر جلیل عالی اسے دل سے بھلا دینا ضروری ہو گیا ہے یہ جھگڑا ہی مٹا دینا ضروری ہو گیا ہے لہو برفاب کر دے گی تھکن یکسانیت کی سو کچھ فتنے جگا دینا ضروری ہو گیا ہے گرا دے گھر کی دیواریں نہ شوریدہ سری میں ہوا کو راستہ دینا ضروری...

Read More

وہ رازِ دل جو نگاہوں میں ہم چھپاتے ہیں

مرزا حفیظ اوجؔ وہ رازِ دل جو نگاہوں میں ہم چھپاتے ہیں وہی فسانے لبوں تک کہاں سے آتے ہیں؟ کچھ ایسے عکس ہیں ٹھہرے ہوئے مرے دل میں جو آئینے کو بھی اب آئینہ دکھاتے ہیں وہی چراغ جو روشن تھے بزمِ الفت میں ہوائے تند میں اب ہاتھ کیوں...

Read More

ہو گئی بات پرانی پھر بھی

عنبرین حسیب امبر ہو گئی بات پرانی پھر بھی یاد ہے مجھ کو زبانی پھر بھی موجۂ غم نے تو دم توڑ دیا رہ گیا آنکھ میں پانی پھر بھی میں نے سوچا بھی نہیں تھا اس کو ہو گئی شام سہانی پھر بھی چشم نم نے اسے جاتے دیکھا دل نے یہ بات نہ مانی...

Read More

اس زندگی سے کوئی شکایت نہیں مجھے

ڈاکٹر ولاء جمال العسیلی اس زندگی سے کوئی شکایت نہیں مجھے کہتی ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے ہوں سوتے جاگتے ترے بارے میں سوچتی کیسے کہوں کہ تیری ضرورت نہیں مجھے دل دے دیا تھا پہلی ملاقات میں تجھے یہ بات ماننے میں ندامت نہیں...

Read More

سرد ہوا ھے نوحہ گر

فراست رضوی سرد ہوا ھے نوحہ گر ، رات بہت گزر گئی غور سے دیکھ چشم تر ، رات بہت گزر گئی نیند میں گم ہیں دشت و باغ ،بجھ گئے شہر کے چراغ ایسے میںجاوں میں کدھر ، رات بہت گزر گئی جشن طرب ہوا تمام ، کشتہ چراغ و ساز و جام بکھرے پڑے ہیں...

Read More

زندگی اک آرزو کی ترجمانی ہوگئی

ڈاکٹر حنا امبرین طارق زندگی اک آرزو کی ترجمانی ہوگئی گفتگو ان کی ہماری، اک کہانی ہو گئی پھر وہی مانوس خوشبو ، اور دھڑکنا دل کا بھی ان کے آنے کی ہمیں پھر خوش گمانی ہو گئی بے قراری سے چلا ،بے اعتباری تک گیا اک تعلق جس میں داخل...

Read More

خوشی کے بیچ اچانک ملال

خالد معین خوشی کے بیچ اچانک ملال آ گیا ہے ہمیں تمہارا اچانک خیال آ گیا ہے کھلے گلاب نئی رت کے اس طرح جیسے بہت قریب محبت کا سال آ گیا ہے گریز رکھتے ہوئے بھی گریز رکھتا نہیں ہمیں خوشی ہے تمہیں یہ کمال آ گیا ہے نظر سے اترے ہو،...

Read More
Loading