ہو گئی بات پرانی پھر بھی Posted by nawarsi786 | July 11, 2026 | گوشہء غزل ورثہ 17 | 0 | عنبرین حسیب امبر ہو گئی بات پرانی پھر بھی یاد ہے مجھ کو زبانی پھر بھی موجۂ غم نے تو دم توڑ دیا رہ گیا آنکھ میں پانی پھر بھی میں نے سوچا بھی نہیں تھا اس کو ہو گئی شام سہانی پھر بھی چشم نم نے اسے جاتے دیکھا دل نے یہ بات نہ مانی پھر بھی