مرزا حفیظ اوجؔ
وہ رازِ دل جو نگاہوں میں ہم چھپاتے ہیں
وہی فسانے لبوں تک کہاں سے آتے ہیں؟
کچھ ایسے عکس ہیں ٹھہرے ہوئے مرے دل میں
جو آئینے کو بھی اب آئینہ دکھاتے ہیں
وہی چراغ جو روشن تھے بزمِ الفت میں
ہوائے تند میں اب ہاتھ کیوں جلاتے ہیں
یہ کس نے پھونک دی ہے جان ان مزاروں میں
جو سو گئے ہیں وہی بزم کو سجاتے ہیں
کبھی یہ وسعتِ عالم سمٹ کے قطرہ ہوئی
کبھی یہ قطرے سمندر کو ہی چڑھاتے ہیں
سماعتوں کے جزیروں پہ اِک قیامت ہے
“میں چپ رہوں تو یہ سارے مجھے بلاتے ہیں”
سنا ہے اوج پہ جا کر صدا نہیں رہتی
تو پھر یہ کون ہیں جو ہم کو گنگناتے ہیں؟