Author: nawarsi786

حمدِ رب العالمین

حمدِ رب العالمین سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم یارب ہے بخش دینا بندے کو کام تیرا محروم رہ نہ جائے کل یہ غلام تیرا جب تک ہے دل بغل میں ہر دم ہو یاد تیری جب تک زباں ہے منہ میں‌جاری ہو نام تیرا ایمان کی کہیں گے ایمان ہے ہمارا...

Read More

منقبت (میر انیس)​

منقبت (میر انیس)​ خوشا زمینِ معلیٰ، زہے فضائے نجف​ ریاضِ خلد بھی ہے شائقِ ہوائے نجف​ ​ یہ شوق ہے کہ نہ بیدار ہوں قیامت تک​ جو خواب میں کبھی نقشہ مجھے دکھائے نجف​ ​ پہنچ کے خلد میں جب دیکھتے ہیں قصرِ رفیع​ پکار اٹھتے ہیں زوّار،...

Read More

سچ کی پاداش میں وہ سوئے دار ہوتے ہیں

س-ف اعجاز سچ کی پاداش میں وہ سوئے دار ہوتے ہیں جھوٹے سارے معتبرِ دربار ہو تے ہیں بہت ضروری تھا اس لیے رنگ بھر رہا ہوں تمہارے خاکے کے ساتھ میں بھی ابھر رہا ہوں جو نور میرا ہے اُس کو دنیا نظر میں رکھے سمندروں میں چراغ لے کر اتر...

Read More

جان کو جاں سے گزرتے دیکھا

نعمان جعفری جان کو جاں سے گزرتے دیکھا تب کہیں خود کو نکھرتے دیکھا کون روکے گا بھلا میرا خرام کبھی دریا بھی ٹھہرتے دیکھا جانَ جاں تجھ پہ زمانے بھر میں ہم نے کس کس کو نہ مرتے دیکھا آئینے نے بھی بلائیں لی ہیں جب کبھی تجھ کو سنورتے...

Read More

ایک بیوی کئی سالے ہیں خدا خیر کرے

پاپولر میرٹھی(میرٹھ) ایک بیوی کئی سالے ہیں خدا خیر کرے کھال سب کھینچنے والے ہیں خدا خیر کرے تن کے وہ اجلے نظر آتے ہیں جتنے یارو من کے وہ اتنے ہی کالے ہیں خدا خیر کرے کوچۂ یار کا طے ہوگا سفر اب کیسے پاؤں میں چھالے ہی چھالے ہیں...

Read More

میں سمندر تھا مجھے چین سے رہنے نہ دیا

اظہر عنایتی (رام پور،انڈیا) میں سمندر تھا مجھے چین سے رہنے نہ دیا خامشی سے کبھی دریاؤں نے بہنے نہ دیا اپنے بچپن میں جسے سن کے میں سو جاتا تھا میرے بچوں نے وہ قصہ مجھے کہنے نہ دیا کچھ طبیعت میں تھی آوارہ مزاجی شامل کچھ بزرگوں...

Read More

جو گیت باد خزاں گا رہی ھے رستوں پر

نسیم نازش جو گیت باد خزاں گا رہی ھے رستوں پر سفر میں دل میرا بہلا رہی ھے رستوں پر غبار عشق ہوں منزل ھے میری نامعلوم ہوا اڑائے لئے جا رہی ھے رستوں پر گئے دنوں کا کہیں قافلہ قریب نہ ہو کوئی صدائے جرس آرہی ھے رستوں پر ہوائے موسم...

Read More

اسے دل سے بھلا دینا ضروری ہو گیا ہے

پروفیسر جلیل عالی اسے دل سے بھلا دینا ضروری ہو گیا ہے یہ جھگڑا ہی مٹا دینا ضروری ہو گیا ہے لہو برفاب کر دے گی تھکن یکسانیت کی سو کچھ فتنے جگا دینا ضروری ہو گیا ہے گرا دے گھر کی دیواریں نہ شوریدہ سری میں ہوا کو راستہ دینا ضروری...

Read More

وہ رازِ دل جو نگاہوں میں ہم چھپاتے ہیں

مرزا حفیظ اوجؔ وہ رازِ دل جو نگاہوں میں ہم چھپاتے ہیں وہی فسانے لبوں تک کہاں سے آتے ہیں؟ کچھ ایسے عکس ہیں ٹھہرے ہوئے مرے دل میں جو آئینے کو بھی اب آئینہ دکھاتے ہیں وہی چراغ جو روشن تھے بزمِ الفت میں ہوائے تند میں اب ہاتھ کیوں...

Read More

ہو گئی بات پرانی پھر بھی

عنبرین حسیب امبر ہو گئی بات پرانی پھر بھی یاد ہے مجھ کو زبانی پھر بھی موجۂ غم نے تو دم توڑ دیا رہ گیا آنکھ میں پانی پھر بھی میں نے سوچا بھی نہیں تھا اس کو ہو گئی شام سہانی پھر بھی چشم نم نے اسے جاتے دیکھا دل نے یہ بات نہ مانی...

Read More