نعمان جعفری
جان کو جاں سے گزرتے دیکھا
تب کہیں خود کو نکھرتے دیکھا
کون روکے گا بھلا میرا خرام
کبھی دریا بھی ٹھہرتے دیکھا
جانَ جاں تجھ پہ زمانے بھر میں
ہم نے کس کس کو نہ مرتے دیکھا
آئینے نے بھی بلائیں لی ہیں
جب کبھی تجھ کو سنورتے دیکھا
سیل دیدار میں ڈوبے لیکن
پیاس ،پر تجھ کو نہ بھرتے دیکھا
عشق میں تیرے جو ڈوبا تھا اسے
سب نے اس پار ابھرتے دیکھا
زخم دل سنتے ہیں بھرتا ہی نہیں
کہیے کیا آپ نے بھرتے دیکھا