اُردو کی مستحکم آواز، بالی وڈ کا ’’ہی مین‘‘ دھرمیندر
ڈاکٹر گلزار احمد
شعبہ اردو ،یونیورسٹی آف جموں
فلم صرف زبان اور تہذیب کے فروغ کا اہم ذریعہ ہی نہیں بلکہ سماجی مسائل کوعوامی سطح پر اُجاگر کرنے کا اہم اورناگزیر وسیلا بھی ہے۔فلموں میں وہیں زبانیں استعمال کی جاتی ہیں جو ہر کسی کے لئے قابل فہم ہو ۔اُردو زبان کو برصغیر کی زبانوں میں اپنے وسیع تہذیبی اور ثقافتی پس منظر اور عوامی سطح پر مقبولیت کی وجہ سے ہمیشہ رابطے کی زبان کا درجہ حاصل رہا ہے۔ہندوستان کے جن فلمی ستاروں نے گنگا جمنی تہذیب کی پروردہ اُردو زبان کو سلور اسکرین پر استحکام بخشا اُن میں ’’ہی مین ‘‘کہے جانے والے فلمی اداکار دھر میندر کا نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں کیونکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ انسان کی پرورش و پرداخت جس ماحول میں ہوتی ہے وہی اس کی شخصیت کو سنوارنے میں اہم رول ادا کرتاہے جس کی بہترین مثال دھر میندر کی شخصیت ہے ۔ ۱۹۳۵ء میںغیر منقسم ہندوستان کے لدھیانہ پنجاب کے نصرالی گاؤں کے کسان تعلیم یافتہ گھرانے میںکیول کشن سنگھ اور ستونت کور کے گھردھرمیندر نے آنکھ کھولی ۔اُن کے والد ایک اسکول میں مدرس تھے ۔ انہوں نے اپنے بچپن کے آیام ’’سہنوال‘‘ کے گاؤں میں گزارے جس کی پرورش اُنہیں ہمیشہ یاد رہی۔ جہاں انہوں نے ایک ماسٹر سے اُردو پڑھی جس کو نہ صرف انہوں نے فلموںکے ذریعے مقبولیت بخشی بلکہ اُسے شعری اظہار کا ذریعہ بھی بنایا جس کا بین ثبوت جاوید صدیقی کے یہ الفاظ ہیں۔
’’ دھر میندر اُردو کے مداح نہیں تھے بلکہ وہ اُردو والے ہی تھے وہ نہ صرف اُردو زبان بولتے تھے بلکہ اُردو میں ہی لکھتے پڑھتے تھے اُور ان کے لیے فلمی ڈائیلاگ صرف اُردو میں ہی لکھے جاتے تھے‘‘۱
یہی دھر میندرکا اختصاص ہے کہ انہوں نے اُردو کا انتخاب کر کے اپنے تہذیبی اور ثقافتی ورثے کو فلمی دنیا میں ایک اہم شناخت دیں جس کی ایک وجہ شہنشاہ جذبات ،دلیپ کمار تھے کیونکہ دھرمیندر جس فلمی شخصیت سے متاثر تھے وہ دلیپ کمار تھے، جن کو اُردو پر خاصہ عبور حاصل تھا کیونکہ ان کی فلم’’ شہید ‘‘دیکھ کر ہی دھر میندر کی زندگی میں غیر معمولی تغیر آیا اور انہوں نے فلمی دنیا میں قدم رکھاجس کے حوالے سے دھر میندر کچھ یوں رقمطراز ہیں :
’’ فلم انڈسٹری کا وہ درخشاں آفتاب ہے جس سے کچھ روشنی چرا کے میں نے اپنی حسرتوں کے دیے کی لو کو روشن کیا ہے۔ ان کے لیے میرے دل میں بے پناہ عزت ،سمان اور پیار ہے اور ہمیشہ ہی رہے گا، وہ میرے بڑے بھائی دوست اور سب کچھ ہیں۔‘‘۲
دھرمیندر کے یہ الفاظ اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ وہ اُردو کی ایک مستحکم آواز بھی تھے اور گنگا جمنی تہذیب کے محافظ بھی۔یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ دلیپ کمار فلمی دنیا کا ایسا آفتاب تھا جس کی روشنی نے فلمی دنیا کی دو صدیوں کو منور کیا اور مستقبل میں بھی ان کی خدمات کو کسی بھی حال میں فراموش نہیںکیا جاسکتا۔ ان کی فلمی زندگی آج بھی سینماکی دنیا کے نو واردان کے لیے میر کارواں کی حیثیت رکھتی ہیں۔
بیسویں صدی کی چھٹی دہائی کے اوئل میں ہی دھرمیندر نے ممبئی کی فلمی دنیا کی طرف سفر کیا اور اپنی پہلی فلم ’’ دل بھی تیرا ہم بھی تیرے‘‘ ۱۹۶۰ء کے ذریعے سلور اسکرین کی دنیا میں قدم رکھا۔ اس فلم کو گرچہ عوامی سطح پر زیادہ پذیرائی حاصل نہیںہوئی لیکن انہوں نے اپنا سفر جاری رکھا اور اپنی دلکش وجاہت اور مردانہ آواز کی بنیاد پر فلم ’’ پھول اور پتھر‘‘ جس کی کہانی اُردو کے مشہور شاعر اخترالایمان اور اور او پی رلہن نے لکھی اور مکالمے احسان مرزا نے تحریر کیں۔اسی فلم میں اپنی بہترین ا داکاری کی وجہ سے اُسے’’ ہی مین‘‘ کے خطاب سے نوازا گیااور اس فلم نے انہیں سنیما کی دنیا میں ایک خاص پہچان دیں ۔ اس فلم میں ’’شاکا ‘‘کا کرداربہت ہی اہم رہا۔ اُس دور میں دھرمیندرنے جن فلموں میںاہم کردار ادا کیا اُن میں ’’مدھو بالا ‘‘اور’’ شعلہ اور شبنم ‘‘خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔ان پڑھ ، باندھنی اور بیگانہ جیسی فلمیں بھی اسی دور کی یادگار ہیں۔ فلم ’’ان پڑھ‘‘ میں دھرمیندر نے بحیثیت کردار تعلیم کی اہمیت پر زور دیا جس میں ایک شوہر اپنی بیوی کوتعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا چاہتا ہے جو درحقیقت ایک حساس سماجی مسلئے کی طرف ذہن کو منتقل کرتا ہے کیونکہ دھر میندر ایک تعلیم یافتہ گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اسی لیے انہوں نے یہ کردار بڑے ہی بہترین انداز میں ادا کیا۔اس فلم میں لتا منگیشکر کی آواز کے نغمے’’ آپ کی نظروں نے سمجھا پیار کے قابل مجھے‘‘ نے اُردو زبان کی بنیادوں کو نغمہ نگاری کی سطح پر نہ صرف مستحکم کیا بلکہ راجہ مہدی علی خان کا تحریر کیا ہوا یہ نغمہ فلم ’’ان پڑھ‘‘ کے ارتقاء میں ناگزیر رول ادا کرتا ہے۔حب الوطنی کے جذبے سے سرشار فلموں میںبھی دھر میندر نے اپنا کردار نبھایا جن میں فلم ’’ حقیقت‘‘ خاص طور پر قابل ذکرہے۔ اس فلم میں کیفی اعظمی کا تحریر کیا ہوا نغمہ ’’ کر چلے ہم فدا جان و تن ساتھیوں ‘‘حب الوطنی کے جذبے سے سرشار نغمے نے نہ صرف فلم کے ارتقاء میں غیر معمولی رول ادا کیا بلکہ فلم صنعت میں اُردو زبان کی مقبولیت میں بھی اضافہ کیا۔ ۱۹۶۶ء کا سال دھر میندر کی فلمی زندگی میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتاہے۔ ۱۹۶۶ ء کے بعد دھرمیندر فلمی اُفق پر اس قدر چھائے رہے کہ پھر انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ پھول اور پتھر،۱۹۶۶ کی فلم نے دھر میندر کی زندگی کوہی بدل کر رکھ دیا جسے وہ اپنے دور کی’’ شعلے ‘‘کہتے تھے ’’پھول اور پتھر‘‘ ہی نے انہیں ’’ہی مین‘‘ کا خطاب دیا۔دھرمیند کی ہمہ جہت شخصیت نے لوگوں کو خاصہ متاثر کیا جس کا ذکر رمیش سیپی کچھ اس انداز میں کرتے ہیں۔
’’دھر میندر ایک ورسٹائل اور رنگین آدمی تھے،وہ اتنے کثیر جہتی تھے کہ جب میں انھیں شعلے کے لئے کاسٹ کر رہا تھا ،توانکاانتخاب گبر سنگھ اور ٹھاکر کے درمیان ٹاس اپ تھا۔‘‘۳
دھر میندرکی شخصیت کا یہ کمال ہے کہ انہوں نے فلموں میں ایسے کردار کے روپ میں اپنے آپ کوپیش کیا ہے جن میں جمود نہیں بلکہ تغیر دیکھنے کو ملتا ہے۔دھرمیندر نے بحیثیت کردارجن فلموں میںغیر معمولی رول ادا کیا ہے ان میں فلم’’ستیہ کام‘‘۱۹۶۹ء خاص طور پر قابل ذکر ہیںجو بنگالی میں تخلیق کیے گئے نارائن سنیال کے مشہور ناول سے ماخوز ہے جس فلم کے مکالمے اُردو ادب کے معتبر فکشن نگار راجیندر سنگھ بیدی نے تحریر کیے جن میں نہ صرف ادبیت ہے بلکہ دھر میندر نے انہیں بڑے سلیقے سے اپنی شخصیت کو نکھارنے کے ساتھ ہی ساتھ کردار کو جاذب نظر بنانے کے لیے پوری مہارت سے نبھایا ہے ۔جس میں دھرمیندرایک انجینئر کے کردار کے روپ میںآزاد ہندوستان میں پنپ رہی کئی برائیوں کیخلاف برسر پیکار نظر آتے ہیںاس فلم کی تعریف انڈین ایکسپریس نے ان الفاظ میں کی ہیں۔
’’ستیہ کام میں دھر میندر نے اپنی سب سے حقیقی اداکاری کی ہے۔‘‘۴
در حقیقت یہ فلم اس قدر تہہ دار ہے کہ اس میں دھر میندر نے بیک وقت اپنے کردار کے ذریعے سماج کے کئی پہلوؤں سے لوگوں کوروشناس کروایا ہے ۔سرکاری ملازموں کی رشوت خوری،مزدوروں کی نا گفتہ بہ حالت،ٹھیکیداروں کا ظلم ،ذات پات جیسی سماجی برائی پر طنز،اپنے اصولوںپرسمجھوتہ جیسے مسائل کی طرف اپنی اداکاری کے ذریعے آزاد ہندوستان کے لوگوں کی توجہ مبذول کروائی ہے جس کا ذکر راجیو ایم وجے ینکر نے کچھ ان الفاظ میں کیا ہے۔
Based on Bengali Story by renowned writer narayan Sanyal Dharmindra Performance in satyakam is considered among the best in his career even if he was just being himself,-soft ,caring and gentle.5
’’ستیہ کام ‘‘کے بعد سینما کی دنیا میں بہترین اداکاری کی وجہ سے دھرمیندرنے کئی کامیاب فلمیں کیں ۔بیسویں صدی کی آٹھویں دہائی نے ان کی فلمی دنیا کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔اس دور کی جس فلم کی وجہ سے اُنہیں ہندوستان میں خاصی شہرت ملی اُس میں ۱۹۷۵ء میں سلیم خان اورجاوید اختر کی تحریر کردہ فلم’’ شعلے ‘‘ نے دھرمیندر کی فلمی زندگی کوایک نیا موڑ دیا جس نے نہ صرف اُردو زبان کو ہندوستانی سینما کے منظر نامے پر مقبولیت بخشی بلکہ اس فلم کے مکالموں نے ہی اس فلم میں ایک نئی روح پھونک دیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس فلم کی شہرت کا راز درحقیقت اُردو میں تحریر کیں گئے معنی خیز مکالمے میں پوشیدہ ہیں تو مبالغہ نہ ہوگا۔فلم ’’شعلے ‘‘ میں دھر میندر نے مزاحیہ کردار بھی ادا کیا ہے لیکن اُردو میں تحریر کردہ ان مکالموں کو انہوں نے جس انداز سے ادا کیا اُسی نے اُنہیں ہندوستانی سینما میں مقبولیت عطا کی کیونکہ ان مکالموں کو ادا کرنے کے پیچھے ایک خاص ریاضت نظر آتی ہے ۔ جاوید اختر اور سلیم جادید دونوں اُردو زبان و ادب پر گہرا عبور رکھتے ہیں ، اس فلم میں’’ ویرو‘‘ کے کردار نے اپنی شخصیت کی تہہ داری کا ثبوت دیا ۔اس فلم میں مزاح کے ساتھ ہی ساتھ ہندوستان کے گاؤںکی زندگی کا عکس بھی نظر آتا ہے۔
دھر میندر نے کسی بھی سطح پر اپنی زبان اُردو کو فراموش نہیں کیا، چاہے کوئی پروگرام ہو یاایوارڈ کی تقریب وہ اس زبان کے فروغ کے لیے ہر وقت کوشاں نظر آتے ہیںجس کا ذکر منتظر قائمی کچھ ان الفاظ میں کرتے ہیں :
’’ دھر میندر بات چیت کے دوران ایسی نفیس،شائستہ اور شبنم سے دھلی ہوئی اُردو بولتے تھے کہ سننے اور دیکھنے والا دم بہ خود رہ جاتا‘‘۶
دھرمیندر کی ایکٹنگ کا یہ کمال ہے کہ انہوں نے جو بھی کردار ادا کیا اُس میں تنوع اور رنگا رنگی دیکھنے کو ملتی ہے’’ فلم تیرا اور میرا‘‘ سے لے آخری فلم ’’ اکیس ‘‘تک ان کے کرداروں نے اپنی سر زمین کو نہیں چھوڑا ۔ ہندوستان کی مٹی ان کے کرداروں کے پس پردہ ایک محرک کی صورت میںکارفرمہ نظر آتی ہے ۔
اسی دور میں ’’ نیا زمانہ‘‘ کے نام سے بنی فلم میں دھرمیندر ایک ادیب اور قلمکار کی حیثیت سے سیلور اسکرین پر نمودار ہوئے ۔ جو فلم غریبوں اورپسماندہ لوگوں کے ساتھ ہو رہے استحصال کے خلاف ایک خاموش احتجاج ہے ۔ درحقیقت یہاں اداکار نے ادیبوں کی سماجی ذمہ داریوں سے ناظرین کو روشناس کروایا ہے اس فلم میں ہیما مالنی نے بھی ایک ادیب کاساتھ دے کر سماج کے فرسودہ نظام کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی ہے۔
دھر میندر نے ہندوستانی سینما کے ارتقاء میں غیر معمولی کردارادا کیا اُنہوں نے اُردو زبان کی جڑیں فلم صنعت میں مستحکم کر کے اس کے فروغ کے امکانات کے نئے دریچے کھول دیے۔ فلم’’ لائف ان میٹرو ،،۲۰۰۷جس میں انہوں نے ایک سنجیدہ ہندوستانی کردار نبھایا ہے جس میں غیر ازدواجی تعلوقات میں بھی ایک سچے عاشق کی نشانی دیکھنے کو ملتی ہے جس میں وہ اپنی سرزمین کی طرف واپس لوٹ آنے کو ایک مچھلی سے تشبیہ دیتے ہیں جو سات سمندر پار جا کر بھی آخر پراُسی جگہ لوٹ کر آتی ہے جہاں اس کا جنم ہوتا ہے۔
اس کے بعد انہوں نے ایک مزاحیہ فلم ’’ جٹ یملہ پگلہ دیوانہ‘‘ ۲۰۱۱ ء میں کام کیاجس میں انہوں نے اپنے بیٹوں ،سنی دیول اور بابی دیول کے ساتھ کام کر کے یہ ثابت کیا کہ وہ کسی بھی رول کواحسن طریقے سے نبھا سکتے ہیں۔۲۰۲۳، ء میں ’’ راکی اور رانی کی پریم کہانی میں‘‘ وہ شبانہ اعظمی کے ساتھ نظر آئیںاور آخر میں فلم ’’اکیس‘‘ ہندوسانی سینما کوان کی زندگی کا آخری تحفہ تھا جو ایک سوانح فلم ہے جو ہندو پاک کے مابین’’ بستر جنگ‘‘ میں شہد ہوئے کھتری پال ، پرم ویر چکر کی زندگی پر مبنی ہے جس میں دھرمیند ر نے ایک اہم رول ادا کیا۔
بچپن کا ماحول ہرانسان کو زندگی کی آخری سانس تک متاثر کرتا ہے ۔دھرمیند ر کی پرورش ایسے علمی ماحول میں ہوئی جہاں گنگا جمنی تہذیب کی پروردہ اُردو کاچلن عام تھا ۔دھر میندر ہندوستان سینما کے ایسے فنکار تھے جنہیںاُردو زبان سے اس قدر عشق تھا جس کا ساتھ انہوں نے زندگی کے آخری ایام تک نبھایا جس کا ذکر فرحان حنیف وارثی کچھ اس الفاظ میں کیا ہے:
’’ انھوں نے اسکول میں زیور تعلیم سے آراستہ ہونے کے دوران ایک اُستاد سے اُردو زبان کی مٹھاس کا ذائقہ چکھا اور اس کے سحر میں کچھ ایسے گرفتار ہوئے کی زندگی کی آخری سانس تک دلوں کو جوڑنے والی اس زبان پر فریفتہ رہے۔یہ وہ دور تھا کہ جب اسکولوں میں اُردو پڑھائی جاتی تھی اور پنجابیوں میں اُردو سیکھنے کا رجحان تھا۔‘‘۷
دھرمیندرنے نہ صرف فلموں میں اس گنگا جمنی تہذیب کی پروردہ اُردو زبان کی بنیادوں کو مستحکم کیا بلکہ اسے اپنی تخلیقی شعور کے اظہار کا ذریعہ بھی بنایا جس کا اندازہ ذیل میں دیے گئے اشعار سے کیا جاسکتا ہے۔
سب کچھ پا کر بھی حاصل ِزندگی کچھ بھی نہیں
میں نے دیکھے ہیں ایک سے ایک سکندرخالی ہاتھ جاتے ہوئے۔
چل رہا ہوں تو بیٹھنے کی ضرورت نہیں
رُک گیا جس دن کوئی پوچھتا نہیں
کوئی مسکراتا ہے میں ہاتھ بڑھاتا ہوں
کوئی ہاتھ بڑھاتا ہے میں سینے سے لگاتا ہوں
غرض ان اشعار میں فنی سطح پر اگر کمزوری ہیں لیکن یہ دھرمیند ر کی اُردو سے محبت کا ثبوت پیش کرتے ہیں ۔ غرض ان کی شاعرانہ فکر کے پس پردہ صوفی صنتوں کی پروردہ وہ تہذیب کارفرمہ نظر آتی ہے دنیا کی بے ثباتی،انسان دوستی،محبت جس کا طرہ امتیاز ہے کیونکہ ممبئی کی فلم صنعت کی پر فریب اور رنگین دنیا میں بھی انہوں نے اپنی گنگا جمنی تہذیب کی پروردہ اُردو زبان کوآخری سانس تک سنوارنے میں غیر معمولی کردار ادا کیا جو نہ صرف اُن کے سیکولر مزاج اوروسیع النظری کا بین ثبوت ہے بلکہ اپنی مشترکہ تہذیب کی آبیاری کے حوالے سے بھی نا قابل فراموش قدم ہے۔آخر کار۲۴ نومبر ۲۰۲۵ ء کو دھرمیند نے زند گی کی آخری سانس ہندوستان کے مشہور شہر ممبئی میں لی اورہندوستانی سینما میں اُردو کی ایک مستحکم آواز ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئی۔
مجموعی طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ دھرمیندر کی فلمی زندگی زمانے کے تغیرات اور نشیب و فراز کا فنکارانہ بیانیہ ہے ۔انہوں نے اپنی تہذیب سے انحراف کیا اور نہ ہی عوامی مسائل کو سلور اسکرین پر فراموش کیا فلم’’ دل بھی تیرا ہم بھی تیرے‘‘ سے لے کرفلم’’ اکیس ‘‘تک انہوں نے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کے ذریعے ہندوستانی سینما پر اپنی ایک الگ شناخت قائم کی جس کی ایک وجہ اُردو کو ہی اپنا ذریعہ اظہار بنانا ہے کیونکہ انہیںاُردو کے تہذیبی اور ثقافتی پس منظر کا ادراک بھی تھا اور عوامی سطح پر اس کی مقبولیت اوراہمیت کا احساس بھی۔فلمی دنیامیں اتنی منزلیں طے کرنے کے بعد بھی انہوں نے اپنی سرزمین کو نہیںچھوڑاکیونکہ وہ اپنی سرزمین سے جڑے ہوئے شخص تھے۔ ان کی شخصیت میں گاؤںکی وہ سادگی،جنون،بہادری،اور ریاضت صاف دیکھنے کو ملتی ہے۔دھر میندر کی آواز میں ایک ریاضت دیکھنے کو ملتی ہے جس سے زبان کے صحیح لہجے ،شرینی اور گہرائی کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔
مآخذ
۱۔بحوالہ محی الدین عبدالطیف ،دھرمیندر : مداحِ اُردو، اُردو دنیا ۔قومی کونسل برائے فروغ اُردو زبان،نئی دہلی، جنوری ،۲۰۲۶،ص۔۶۲
۲۔بحوالہ منتظر قائمی، دھرمیندر انسانیت اور اداکاری کا سنگم،اُردو دنیا۔قومی کونسل برائے فروغ اُردو زبان ،نئی دہلی جنوری ،۲۰۲۶،ص۔۵۸
۳۔بحوالہ فرحان حنیف وارثی، دھرم جی کی یاد میں ،اُردو دنیا۔قومی کونسل برائے فروغ اُردو زبان نئی دہلی ،جنوری ،۲۰۲۶ص۔۵۶
۴۔ماہنامہ انشاء،فیچر،دھر میندر کی فنی زندگی اور فلموں میں ان کی مرکزی خواتین،جنوری ،فروری ۲۰۲۶۔ص۔۱۱
5-Rajiv j Vijayankar,Dharminder,Not Just a He Man,Rupa publications new delhi,2018,pp,88
۶۔،منتظر قائمی ،دھر میندر انسانیت اور اداکاری کا سنگم ، اُردو دنیا ۔قومی کونسل برائے فروغ اُردو زبان نئی دہلی جنوری ۲۰۲۶ء ص۔۵۸
۷۔فرحان حنیف وارثی، دھرم جی کی یاد میں ،اُردو دنیا۔قومی کونسل برائے فروغ اُردو زبان نئی دہلی جنوری ۲۰۲۶ص۔۵۳۔۵۴