س-ف اعجاز
سچ کی پاداش میں وہ سوئے دار ہوتے ہیں
جھوٹے سارے معتبرِ دربار ہو تے ہیں
بہت ضروری تھا اس لیے رنگ بھر رہا ہوں
تمہارے خاکے کے ساتھ میں بھی ابھر رہا ہوں
جو نور میرا ہے اُس کو دنیا نظر میں رکھے
سمندروں میں چراغ لے کر اتر رہا ہوں
مجھے سنبھالو اگر محبت ہے مجھ سے تم کو
مجھے سمیٹو، میں اپنے اندر بکھر رہا ہوں
وہ احتیاط اب ہمارے ملنے میں آ گئی ہے
کہ ہاتھ بھی اب تجھے لگاتے میں ڈر رہا ہوں