فراست رضوی
سرد ہوا ھے نوحہ گر ، رات بہت گزر گئی
غور سے دیکھ چشم تر ، رات بہت گزر گئی
نیند میں گم ہیں دشت و باغ ،بجھ گئے شہر کے چراغ
ایسے میںجاوں میں کدھر ، رات بہت گزر گئی
جشن طرب ہوا تمام ، کشتہ چراغ و ساز و جام
بکھرے پڑے ہیں فرش پر ، رات بہت گزر گئی
جاگا نہ ایک شخص بھی میری نوائے درد سے
نالے گئے ہیں بے اثر ، رات بہت گزر گئی
دل میں میرے اتر گئی صحن مکاں کی تیرگی
بجھ گئی شمع طاق پر ، رات بہت گزر گئی
سوگئے گھر کے سب مکیں ، پر میرے انتظار میں
جاگ رہے ہیں بام و در ، رات بہت گزر گئی