انٹر ویو:ڈاکٹر ادریس احمد
( ڈائرکٹر، غالب انسٹی ٹیوٹ نئی دہلی)

حنا خراسانی رضوی
نمائندہ ورثہ، سویڈن

سوال 1۔ ڈاکٹر صاحب آپ اپنے تعلیمی و ادبی سفر کے بارے میں بتائیے کہ ابتدا کہاں سے ہوئی؟
جواب: میرا تعلیمی اور ادبی سفر طالب علمی ہی کے زمانے میں شروع ہوگیا تھا۔ ادب، زبان اور تہذیب سے دلچسپی ابتدا ہی سے رہی، جس نے مجھے اردو زبان و ادب کے سنجیدہ مطالعے کی طرف مائل کیا۔ اعلیٰ تعلیم کے دوران تحقیق اور تنقید کے میدان میں کام کرنے کا موقع ملا، اور اسی مرحلے پر یہ احساس بھی پیدا ہوا کہ اردو کے کلاسیکی اور جدید سرمائے کو نئی نسل تک پہنچانے کے لیے علمی اور ادارہ جاتی سطح پر کام کرنا ضروری ہے۔ تدریس، تحقیق، تصنیف و تدوین اور مختلف علمی و ادبی سرگرمیوں میں مسلسل شرکت نے میرے فکری اور ادبی سفر کو وسعت بخشی۔
سوال 2۔ وہ کون سے محرکات تھے جنھوں نے آپ کو اس موضوع(غالب انسٹی ٹیوٹ کی ادبی خدمات کا مطالعہ)پر تحقیق کی طرف راغب کیا؟
جواب: غالب انسٹی ٹیوٹ محض ایک ادارہ نہیں بلکہ اردو ادب، غالب شناسی اور تہذیبی ورثے کا ایک اہم مرکز ہے۔ مجھے اس بات نے متوجہ کیا کہ اس ادارے نے کئی دہائیوں سے جو علمی، تحقیقی اور ثقافتی خدمات انجام دی ہیں، ان کا باقاعدہ اور تنقیدی جائزہ لیا جانا چاہیے۔ میری خواہش تھی کہ اس ادارے کی خدمات کو تحقیقی تناظر میں سامنے لایا جائے تاکہ نئی نسل اس کے کردار اور اہمیت سے واقف ہوسکے۔ یہ مقصد بھی پیش نظر تھا کہ اس ادارے کی تمام خدمات ابھی تک مرتب شکل میں سامنے نہیں آئی ہیں اگراس کو تحقیقی مقالے کا موضوع بنایا جائے تو اس ادارے کا ادبی کردار دستاویزی شکل میں سامنے آجائے گا۔
سوال 3۔ نومبر 2021 میں آپ نے ادارے کے ڈائرکٹر کا عہدہ سنبھالا تو اس وقت آپ کے پیش نگاہ کون سے امور ایسے تھے جن کو فوقیت دینے کی ضرورت تھی؟
جواب: جب میں نے نومبر 2021 میں یہ ذمہ داری سنبھالی تو میری اولین ترجیحات میں ادارے کی علمی سرگرمیوں کو مزید فعال بنانا، تحقیقی منصوبوں کو نئی رفتار دینا، ڈیجیٹل وسائل کو فروغ دینا، نوجوان نسل کی شمولیت کو یقینی بنانا اور غالبیات سے متعلق نادر مواد کی حفاظت و اشاعت اور اضافہ شامل تھے۔ میں یہ بھی چاہتا تھا کہ غالب انسٹی ٹیوٹ اپنی روایتی علمی وقار کو برقرار رکھتے ہوئے عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔
سوال 4۔ آپ کے خیال میں ایک کامیاب تحقیقی، ادبی وثقافتی ادارے کا تعین کن بنیادوں پر کیا جانا چاہیے؟
جواب: کسی بھی تحقیقی و ادبی ادارے کی کامیابی کا معیار اس کی عمارت یا وسائل نہیں بلکہ اس کی علمی پیداوار، تحقیقی معیار، فکری اثرات، تربیتی کردار اور معاشرے سے اس کے تعلقات ہوتے ہیں۔ ایک کامیاب ادارہ وہ ہے جو نئی تحقیق کی حوصلہ افزائی کرے، علمی دیانت کو فروغ دے، مکالمے کی فضا پیدا کرے اور اپنی روایت کو مستقبل کے تقاضوں سے جوڑ سکے۔
سوال 5۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ا ردو تحقیق اور تنقید عالمی معیار کے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ ہے؟
جواب: اردو تحقیق اور تنقید میں قابل قدر کام ہورہا ہے، لیکن ابھی بہت سے ایسے میدان موجود ہیں جہاں مزید پیش رفت کی ضرورت ہے۔ بین العلومی مطالعات، بین الاقوامی تحقیقی معیارات، حوالہ جاتی نظام اور جدید تنقیدی نظریات کے استعمال کو مزید فروغ دینا ہوگا۔ مجموعی طور پر صورت حال حوصلہ افزا ہے، مگر عالمی معیار کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے لیے مسلسل جدوجہد ضروری ہے۔
سوال 6۔ کیا یہ کہنا درست ہوگا کہ ڈیجیٹل دور میں ہر طرح کے مواد کی دستیابی تحقیق میں سرقے کے اضافے کا ذریعہ بن رہی ہے؟
جواب: ڈیجیٹل دور نے تحقیق کے بے شمار امکانات پیدا کیے ہیں، لیکن اس کے ساتھ بعض چیلنجز بھی سامنے آئے ہیں۔ سرقہ یقیناً ایک مسئلہ ہے، مگر اس کی وجہ صرف مواد کی دستیابی نہیں بلکہ تحقیقی اخلاقیات سے عدم واقفیت بھی ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ آج سرقہ کی جانچ کے جدید وسائل بھی موجود ہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ تحقیق میں دیانت داری، حوالہ جاتی شعور اور علمی ذمہ داری کو فروغ دیا جائے۔
سوال 7۔ آپ کے خیال میں نوجوان محققین اپنی تحقیق میں غالب شناسی کے نئے رخ متعارف کرا رہے ہیں یا تکرار اور روایتی انداز تک ہی محدود ہیں؟
جواب: نوجوان محققین میں دونوں رجحانات موجود ہیں۔ بعض محققین روایتی موضوعات کی تکرار کرتے ہیں، لیکن ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو غالب کے فکر و فن کو نئے تناظر میں دیکھ رہی ہے۔ ثقافتی مطالعات، تقابلی ادب، لسانیات، ترجمہ نگاری اور ڈیجیٹل تحقیق کے حوالے سے نئی جہات سامنے آرہی ہیں، جو خوش آئند ہیں۔
سوال 8۔ ادارے کے زیر انتظام شائع ہونے والا علمی و تحقیقی مجلہ ’غالب نامہ‘ علمی و تحقیقی حوالے سے اپنے مقاصد کس حد تک پورے کر رہا ہے؟
جواب: ’غالب نامہ‘ اردو کے معتبر تحقیقی جرائد میں شمار ہوتا ہے۔ اس نے غالبیات، اردو تحقیق، تنقید اور ادبی مباحث کو سنجیدگی سے فروغ دیا ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ اس کا معیار مزید بلند ہو، نئے محققین کو موقع ملے اور تحقیقی مقالات بین الاقوامی معیار کے مطابق شائع ہوں۔ اس اعتبار سے ’غالب نامہ‘ اپنے مقاصد کی تکمیل میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔
سوال 9۔ غالب انسٹی ٹیوٹ دہلی کے زیر انتظام کانفرنسوں اور سمیناروں کے ساتھ ساتھ اور کون کون سی ایسی سرگرمیاں ہورہی ہیں جو ادب کے فروغ میں بہترین معاونت کررہی ہیں؟
جواب: کانفرنسوں اور سمیناروں کے علاوہ ادارہ کتابوں کی اشاعت، تحقیقی منصوبوں، ادبی نشستوں، مشاعروں، بزم غزل، اردو ڈرامے، غزل سرائی مقابلے یادگاری خطبات، اردو فارسی کلاسز اور ڈیجیٹل آرکائیونگ جیسے کام بھی انجام دے رہا ہے۔ ہم نوجوانوں اور طلبہ کو ادارے کی سرگرمیوں سے جوڑنے کے لیے مختلف پروگرام منعقد کرتے ہیں تاکہ ادب سے ان کا تعلق مضبوط ہو۔
سوال 10۔ کیا غالب انسٹی ٹیوٹ غالب شناسی کے فروغ کے لیے بین الاقوامی اداروں کے ساتھ اشتراک اور تعاون کی کوئی پالیسی رکھتا ہے؟
جواب: جی ہاں، غالب انسٹی ٹیوٹ ہمیشہ علمی و ثقافتی تبادلۂ خیال کا حامی رہا ہے۔ مختلف قومی اور بین الاقوامی جامعات، تحقیقی مراکز اور ادبی اداروں کے ساتھ اشتراک کے امکانات پر مسلسل کام کیا جاتا ہے۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ غالبیات کو عالمی سطح پر مزید متعارف کرایا جائے اور مختلف زبانوں اور ثقافتوں کے درمیان علمی رابطے مضبوط ہوں۔
سوال 11۔ ادارے میں اس وقت غالب کے فارسی کلام پر تحقیق و تدوین کا کام کس نوعیت کا اور کس قدر ہورہا ہے؟
جواب: غالب کے فارسی کلام کی اہمیت مسلم ہے، کیونکہ خود غالب فارسی شاعری کو اپنی ادبی شناخت کا بنیادی حوالہ سمجھتے تھے۔ ادارے میں فارسی کلام کے متن کی تحقیق، تدوین، تشریح اور اشاعت سے متعلق مختلف سطحوں پر کام جاری ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ مستند متون اور جدید تحقیقی اصولوں کی روشنی میں اس سرمایہ کو نئی نسل کے سامنے پیش کیا جائے۔
سوال 12۔ آپ ا ردو زبان کے مستقبل کو موجودہ عالمی اور ڈیجیٹیل، خصوصاً اے آئی، کے تناظر میں میں کیسے دیکھتے ہیں؟
جواب: میں اردو کے مستقبل کے حوالے سے پر امید ہوں۔ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے زبانوں کے لیے نئے امکانات پیدا کیے ہیں۔ اگر ہم معیاری ڈیجیٹل مواد، کارپس، لغات، علمی ذخائر اور جدید تکنیکی وسائل پر توجہ دیں تو اردو عالمی سطح پر مزید مؤثر انداز میں اپنی موجودگی درج کرا سکتی ہے۔ اے آئی کو خطرہ نہیں بلکہ ایک موقع سمجھنا چاہیے، بشرطیکہ ہم اس کے استعمال میں علمی معیار کو مقدم رکھیں۔
سوال 13۔ نوجوان نسل کو ا ردو کی جانب راغب کرنے کے لیے آپ کی رائے میں کیسی حکمت عملی اپنانی چاہیے؟
جواب: نوجوان نسل کو اردو سے جوڑنے کے لیے روایتی طریقوں کے ساتھ جدید ذرائع ابلاغ، سوشل میڈیا، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور تخلیقی سرگرمیوں سے فائدہ اٹھانا ہوگا۔ اردو کو صرف ماضی کی زبان کے طور پر نہیں بلکہ علم، اظہار اور روزگار کے نئے امکانات سے وابستہ زبان کے طور پر پیش کرنا ضروری ہے۔ جب نوجوان محسوس کریں گے کہ اردو ان کی فکری اور عملی زندگی میں معاون ثابت ہوسکتی ہے تو ان کی دلچسپی فطری طور پر بڑھے گی۔
سوال 14۔ آپ ورثہ کے لیے کوئی پیغام دینا چاہیں گے؟
جواب: ورثہ کے لیے میرا پیغام یہی ہے کہ یہ جریدہ اردو زبان و ادب کے عالمی فروغ میں ایک نہایت معتبر، سنجیدہ اور قابلِ قدر کردار ادا کر رہا ہے۔ عالمی سطح پر “ورثہ” کا اجرا اور اس کی مسلسل اشاعت بلاشبہ اردو ادب سے وابستہ اہلِ قلم، محققین اور قارئین کے لیے خوش آئند امر ہے۔ایسے رسائل نہ صرف علمی مکالمے کو فروغ دیتے ہیں بلکہ ہماری تہذیبی اور ادبی روایت کو نئی نسل تک منتقل کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ میری دعا ہے کہ “ورثہ” تحقیق، تنقید، ادب اور ثقافت کے میدان میں اسی طرح سنجیدہ اور معیاری خدمات انجام دیتا رہے اور اہلِ علم و ادب کے لیے ایک معتبر پلیٹ فارم ثابت ہو“ورثہ” کے خصوصی شمارے، جن میں صحافت نمبر، شمس الرحمٰن فاروقی نمبر، ضیاء الرحمٰن صدیقی نمبر اور گوپی چند نارنگ نمبر خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں، اس بات کا روشن ثبوت ہیں کہ یہ جریدہ محض ایک ادبی رسالہ نہیں بلکہ اردو تحقیق، تنقید، تہذیب اور ادبی روایت کا ایک باوقار علمی پلیٹ فارم ہے۔میں “ورثہ” کی تسلسل کے ساتھ اشاعت، اس کے معیاری خصوصی نمبروں اور اردو زبان و ادب کے عالمی فروغ کے سلسلے میں انجام دی جانے والی خدمات پر چیف ایڈیٹر جناب رئیس وارثی، ایڈیٹر جناب نصیر وارثی اور انڈیا ،ایڈیشن کے ایڈیٹر و نگران پروفیسر ضیاء الرحمن صدایقی صاحب اور ورثہ کی پوری ٹیم کو دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ میری دعا ہے کہ “ورثہ” اسی وقار، تسلسل اور علمی معیار کے ساتھ اردو ادب کی خدمت کرتا رہے اور عالمی ادبی منظرنامے پر اپنی شناخت مزید مستحکم کرے۔