سجاد ظہیر: اپنے عہد کا فکری اور ادبی ترجمان
(تحقیقی مقالہ)
اردو ادب کی تاریخ میں چند شخصیات ایسی ہیں جو محض ادیب نہیں ہوتیں بلکہ پورے عہد کی فکری، سیاسی اور سماجی ترجمان بن جاتی ہیں ۔ سجاد ظہیر کا شمار بھی انہی نابغۂ روزگار شخصیات میں ہوتا ہے۔ وہ محض افسانہ نگار یا ناقد ہی نہیں تھے بلکہ ایک مفکر، انقلابی سیاست دان، نظریہ ساز اور عملی کارکن بھی تھے۔ ان کی زندگی اور فکر بیسویں صدی کے برصغیر کی فکری کشمکش، سامراج دشمن تحریکوں ، سماجی ناہمواریوں اور ادبی بیداری کی مکمل تصویر پیش کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سجاد ظہیر کو بجا طور پر ”ایک عہد کی فکری اور ادبی ترجمانی“ کہا جاتا ہے۔
سجاد ظہیر کا عہد: فکری و سماجی پس منظر:
سجاد ظہیر جس دور میں پروان چڑھے، وہ برصغیر کے لیے سیاسی غلامی، معاشی استحصال اور سماجی تضادات کا زمانہ تھا۔
ایک طرف برطانوی سامراج کی حاکمیت
دوسری طرف سرمایہ دارانہ نظام کی جڑیں 
تیسری طرف مذہبی جمود اور سماجی طبقاتی فرق
یہ تمام عوامل مل کر ایک ایسے ماحول کو جنم دے رہے تھے جہاں ادب کا محض رومان تک محدود رہنا ممکن نہیں رہا تھا۔ ادب کو نئی ذمہ داریاں سونپی جا رہی تھیں ، اور سجاد ظہیر انہی ذمہ داریوں کا شعور رکھنے والے اولین ادیبوں میں شامل تھے۔
تعلیم اور فکری تشکیل:
سجاد ظہیر 1905ء میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ تعلیم یافتہ اور سماجی طور پر باشعور گھرانے میں پرورش پائی۔ آکسفورڈ یونیورسٹی میں تعلیم نے ان کے ذہن کو عالمی فکر، سوشلزم اور انقلابی نظریات سے روشناس کرایا۔
یہیں سے ان کے اندر وہ فکری تبدیلی پیدا ہوئی جس نے بعد میں اردو ادب کا رخ بدل دیا۔ وہ ادب کو محض تفریح یا جذباتی آسودگی کا ذریعہ نہیں بلکہ سماج کی اصلاح اور انقلاب کی تحریک سمجھنے لگے۔
”انگارے“ اور بغاوت کی ابتدا:
1932ء میں شائع ہونے والا افسانوی مجموعہ”انگارے“ اردو ادب کی تاریخ کا ایک اہم موڑ ہے۔ اس مجموعے نے:
فرسودہ سماجی اقدار پر کاری ضرب لگائی
مذہبی تنگ نظری کو للکارا
عورت کی آزادی اور سماجی انصاف کی بات کی
حکومت نے”انگارے“ پر پابندی لگا دی، مگر اس پابندی نے سجاد ظہیر کو خاموش کرنے کے بجائے اردو ادب میں ایک فکری انقلاب کی بنیاد رکھ دی۔ یہی کتاب آگے چل کر ترقی پسند تحریک کا فکری پیش خیمہ بنی۔
ترقی پسند تحریک اور سجاد ظہیر کا کردار:
1936ء میں ترقی پسند تحریک کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ اس تحریک کا مقصد یہ تھا کہ:
ادب کو سماجی شعور سے جوڑا جائے
مزدور، کسان اور مظلوم طبقات کی آواز بنائی جائے
استحصالی نظام کے خلاف فکری بغاوت کی جائے
سجاد ظہیر اس تحریک کے معماروں میں شامل تھے۔ انہوں نے نہ صرف اس کا منشور تیار کیا بلکہ عملی طور پر بھی اس کے لیے کام کیا۔ ان کا وژن واضح تھا کہ ادب غیرجانبدار نہیں ہوتا بلکہ وہ ہمیشہ کسی نہ کسی طبقے کے حق یا مخالفت میں کھڑا ہوتا ہے۔
ادیب کے ساتھ سیاست دان اور کارکن:
سجاد ظہیر محض نظریاتی مصنف نہیں تھے بلکہ عملی جدوجہد کا حصہ بھی تھے۔ کمیونسٹ پارٹی سے وابستگی، قید و بند کی صعوبتیں ، جلاوطنی اور راولپنڈی سازش کیس جیسے واقعات ان کی عملی جدوجہد کی علامت ہیں ۔
وہ ان ادیبوں میں سے تھے جو:
نظریہ بھی رکھتے تھے
قربانی بھی دیتے تھے
اور عمل سے بھی پیچھے نہیں ہٹتے تھے
یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریروں میں محض خیال نہیں بلکہ زندہ تجربے کی حرارت محسوس ہوتی ہے۔
”روشنائی“ ایک عہد کی داستان:
سجاد ظہیر کی خودنوشت”روشنائی“ دراصل ان کی ذات کے ساتھ ساتھ ترقی پسند تحریک اور برصغیر کی سیاسی تاریخ کی بھی دستاویز ہے۔ اس کتاب میں :
ادبی تحریکوں کی اندرونی کشمکش
سیاسی سازشیں 
نظریاتی اختلافات
اور ادیبوں کی اجتماعی جدوجہد
سب کچھ بڑی بے باکی اور دیانت کے ساتھ محفوظ ہے۔
یہ کتاب ثابت کرتی ہے کہ سجاد ظہیر محض ایک فرد نہیں بلکہ پورے عہد کا آئینہ تھے۔
سجاد ظہیر کی نثر کا فکری و ادبی مقام:
سجاد ظہیر کی نثر میں :
سادگی
برجستگی
فکری گہرائی
اور مقصدیت نمایاں ہے
وہ لفظوں کا حسن پیدا کرنے سے زیادہ خیال کی حرارت پیدا کرنے والے ادیب تھے۔ ان کے نزدیک ادب کی اصل قدر اس کے اندر چھپے سماجی شعور میں تھی۔
:شخصیت اور انسانی پہلو
سجاد ظہیر ذاتی زندگی میں :
ملنسار
خوش مزاج
شفیق
اور بلند ظرف انسان تھے
وہ نظریاتی اختلاف کے باوجود انسان سے نفرت نہیں کرتے تھے۔ ان کی زندگی قربانی، اخلاص اور مسلسل جدوجہد کی علامت تھی۔
وفات اور ادبی دنیا میں مقام:
13 ستمبر 1973ء کو سجاد ظہیر قزاقستان میں ایک ادبی کانفرنس کے دوران انتقال کر گئے۔ یوں وہ آخری وقت تک ادب اور انسانیت کی خدمت میں مصروف رہے۔ان کی وفات اردو ادب کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان تھی، مگر ان کی فکر آج بھی زندہ ہے۔
:اختتامیہ
سجاد ظہیر صرف ایک ادیب نہیں تھے بلکہ:
وہ ایک نظریہ بھی تھے
ایک تحریک بھی
اور ایک عہد کی مکمل ترجمانی بھی
انہوں نے اردو ادب کو خوابوں کی دنیا سے نکال کر زندگی کی اصل حقیقتوں سے ہم آہنگ کیا۔ ان کی شخصیت اس بات کا ثبوت ہے کہ ادب اگر شعور سے خالی ہو تو محض لفظوں کا کھیل رہ جاتا ہے، اور اگر شعور سے جڑ جائے تو تاریخ بدل دیتا ہے۔
حوالہ جاتی فہرست
:سجاد ظہیر کی تصانیف
سجاد ظہیر روشنائی، ترقی پسند پبلشرز، بمبئی۔
سجاد ظہیر (مرتب) انگارے، 1932ء، نئی دہلی۔
سجاد ظہیر ذکرِ یار چلا، ترقی پسند ادب کی یادداشتیں ۔
سجاد ظہیر منتخب مضامین، ترقی پسند ادبی تحریک پر تحریریں ۔
ڈاکٹر انور سدید اردو ادب کی مختصر تاریخ، سنگِ میل پبلیکیشنز، لاہور۔
ڈاکٹر سلیم اختر اردو ادب کی مختصر ترین تاریخ، سنگِ میل، لاہور۔
جمیل جالبی تاریخِ ادبِ اردو (جلد چہارم)، نگارشات، لاہور۔
شمیم حنفی ترقی پسند تحریک: فکری و ادبی تناظر، دہلی۔
………………………………………………………………