حمدِ رب العالمین
سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم

یارب ہے بخش دینا بندے کو کام تیرا
محروم رہ نہ جائے کل یہ غلام تیرا

جب تک ہے دل بغل میں ہر دم ہو یاد تیری
جب تک زباں ہے منہ میں‌جاری ہو نام تیرا

ایمان کی کہیں گے ایمان ہے ہمارا
احمدصلی اللہ علیہ وسلم رسول تیرا مصحف کلام تیرا

ہے تو ہی دینے والا پستی سے دے بلندی
اسفل مقام میرا اعلٰی مقام تیرا

محروم کیوں‌رہوں میں جی بھر کے کیوں نہ لوں میں
دیتا ہے رزق سب کو ہے فیض عام تیرا

یہ “داغ“ بھی نہ ہو گا تیرے سوا کسی کا
کونین میں‌ہے جو کچھ وہ ہے تمام تیرا

(نواب مرزا خان داغ دہلوی)​

…………………………………

حمد باریء تعالی
سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم

مقدور ہمیں کب ترے وصفوں کی رقم کا
حقا کہ خداوند ہے تو لوح و قلم کا

جس مسند عزت پہ کہ تو جلوہ نما ہے
کیا تاب گزر ہووے تعقل کے قدم کا

بستے ہیں ترے سائے میں سب شیخ و برہمن
آباد ہے تجھ سے ہی تو گھر دَیر و حَرم کا

ہے خوف اگر جی میں تو ہے تیرے غضب کا
اور دل میں بھروسہ ہے تو تیرے ہی کرم کا

مانند حباب آنکھ تو اے درد کھلی تھی
کھینچا نہ پر اس بحر میں عرصہ کوئی دم کا
(خواجہ میر درد)​