نسیم نازش

جو گیت باد خزاں گا رہی ھے رستوں پر
سفر میں دل میرا بہلا رہی ھے رستوں پر

غبار عشق ہوں منزل ھے میری نامعلوم
ہوا اڑائے لئے جا رہی ھے رستوں پر

گئے دنوں کا کہیں قافلہ قریب نہ ہو
کوئی صدائے جرس آرہی ھے رستوں پر

ہوائے موسم گل تیری یاد کا آنچل
سواد شام میں لہرا رہی ھے رستوں پر

وہ جس کی ہمسفری زندگی کا حاصل تھی
وہ شکل یاد مجھے آرہی ھے رستوں پر

یہاں کوئی شجر سایہ دار کیا ڈھونڈیں
خزاں کی دھوپ ستم ڈھا رہی ھے رستوں پر

ابھی ھے دور بہت نازش اس کے قرب کا چاند
شب فراق ابھی چھا رہی ھے رستوں پر