ڈاکٹر حنا امبرین طارق
زندگی اک آرزو کی ترجمانی ہوگئی
گفتگو ان کی ہماری، اک کہانی ہو گئی
پھر وہی مانوس خوشبو ، اور دھڑکنا دل کا بھی
ان کے آنے کی ہمیں پھر خوش گمانی ہو گئی
بے قراری سے چلا ،بے اعتباری تک گیا
اک تعلق جس میں داخل بد گمانی ہو گئی
ہم وراثت میں بزرگوں کا تمدن لائے تھے
یہ بھی اک تہذیب ہے جو اب ، پرانی ہو گئی
ہجرتوں کے دکھ سکوتِ شام کے مہماں ہوئے
یاد کی محفل سجی اور شادمانی ہوگئی
خود کلامی کے نئے اطوار بھی ہیں دیدنی
صبح روشن ہو گئی شب بھی سہانی ہو گئی