ایک غیر موزوں افسانہ
زیب اذکار حسین
( افسانہ نگار ،نقاد اور صحافی)
جسٹ ٹریٹ اٹ ایز اے مونو لاگ آف اے پرسن۔۔۔۔وہ خود کو ریسپکٹیبل (Respectable) کہہ رہے تھے۔۔۔۔غیر موزوں مصرع کہہ رہے تھے وہ مچھے۔بات چھپنے کی نہیں ہے، بات چھپانے کی ہے، خود کو چھپانے کی۔ تمہارا حوصلہ دینا مجھے مزید خوف زدہ کر دیتا ہے۔۔ مجھ پر کپکپی طاری ہو جاتی ہے۔
کہاں جاؤں، کچھ سمجھ میں نہیں آتا ہے۔ میرا ذہن کند ہو چکا ہے۔ بلکہ سچی بات تو یو ہے، ذہن ابتدا ہی سے کند تھا۔ یہی سمجھ لو میں پیدایشی طور پر ہی کند ذہن ہوں، تمہاری والدہ نے تمہیں شاید تمیز نہیں سکھائ؟ میرے منہ مت لگو۔ ۔بھگوڑے بن جاؤ گے۔ بھاگتی پھرو گی آوارہ بھوتوں کی طرح۔۔نک چڑھی چڑیلوں کی طرح۔۔۔بھ۔۔بھہ۔۔بھؤ۔۔بے گانی شادی میں خوشی کے شادیانے بجاؤ۔۔۔
یہ بھی مجھے منظور ہے، میں ابتداء آفرینش سے ہی کند ذہن ہوں۔ سماوی آفات نے مجھے لوبان تھما دیا تھا۔۔وہ جس سے روشنی پیدا ہوتی ہے، میں نے اسے ہمیشہ ڈیا دیکھا اور ڈیا لکھا۔۔ سفاری پارک میں بیٹھ کر اور اٹھ کر وقت گزارا ہے۔
تمہاری تسلی ہوئ۔۔؟
رونا آ جاتا ہے مجھے؟ تمہیں تو ہنسی آتی رہتی ہے، اتنا بہت ہے۔
رونا آیا تھا مجھے بھی، جب پہلی بار اپنا آپ سجھایا گیا تھا، اور سمجھایا گیا تھا۔ وہ مجھے تھپکا رہے تھے، تھپکیاں دے رہے تھے۔ خود سے تو کچھ سمجھ میں نہیں آیا تھا۔ مجھے تو سمجھایا گیا تھا۔
ہو جائے گی نوکری بھی، ایسی بھی کیا پریشانی ہے۔ یہ جو رونا کرونا آیا ہے، کونہ کرونا، یہ ایسوں، ویسوں کے لئے تو تسکین کا سامان لایا ہے۔ گلی کوچے بےآباد ہیں اور آوازے کسنے والے سوکھے ہوئے حلق کے ساتھ اپنی سلامتی کی دعأئیں مانگ رہے ہیں۔ سلامت رہ جائیں گے تو دوبارہ فتنہ سازیوں کے لئیے کمر کس سکیں گے۔۔ اب
نوکری کہاں بھاگی جا رہی ہے
وہ مجھے سمجھتی ہے۔ ۔۔مگر وہ بھی کیا کر سکتی ہے، میرے لئے مر سکتی ہے؟ چوٹ مت کرو۔۔۔مسٔلہ شادی خانہ آبادی کا تو ہے ہی نہیں۔ سارا منادی کا ہے۔۔
وہ جو یہ کہتا ہے کہ میں انسان بن جاؤں تو اس کا کیا مطلب ہے؟ کیا میں انسان نہیں ہوں؟
وہ مجھے کیا سمجھتا ہے اور کیا سمجھانا چاہتا ہے؟ میں علاج معالجے پر کتنی توجہ دوں، اور کہاں تک دوں؟
ہر کوئ ایک بار ہی تو آتا ہے۔ میرا آنا دوسری بار تو نہیں ہے، نہ ہی تیسری بار۔۔ میرا آنا کہاں تحریر ہوگا؟ کوئ ہے؟ تالیاں پیٹو، میری طبعیت بگڑ جاتی ہے، بگڑی ہوئ طبعیت کے لوگ معاشرے میں بگاڑ پیدا کر سکتے ہیں۔۔میرا کوئ معاشرہ ہی کہاں؟
مجھے یہ بات تسلیم کرنے میں عار ہے کہ ایاز نے کبھی کہا ہو گا کہ “یہ وقت بھی گزر جائے گا” ۔۔وہ یہ بات کہہ ہی نہیں سکتا تھا۔ یہ محمود کی اڑائ ہوئ بات ہو گی۔۔۔مجھے پیٹریسٔیو مینیول (Patricio Manuel) کے کسی عمل سے کیا غرض ہو سکتی ہے۔۔دنیا کو تو ایسے فتح نہیں کیا جا سکتا ہے۔ خود تسکینی ہے، خود فریبی ہے۔۔اپنی ذات کی نفرت کو دوسروں کو مکے مار مار کر زایل کرنے سے کیا حاصل ہوتا ہے۔ خود پر بھی تشدد کو روا کر لیا ہے اس نے۔۔
لوسی ہیکس اینڈرسن (Lucy Hicks Anderson) کا انجام مت بھولو۔ اس کی اپنی بیان کردہ سچائ کو کس نے مانا، انصاف اسی چڑیا کا نام ہے، جو وہ بناتے ہیں، ڈھونڈھ کے لاتے ہیں۔
انصاف نے اس کے منہ پر تھوک دیا تھا۔
گھن آ رہی ہے؟ معیوب بات ہے؟ تو پھر وہ کیا تھا؟ ایک عدالت نہیں تھی، ایک جج نہیں تھا؟ جس نے لوسی کو ہر سطح پر غلط اور فراڈ قرار دے دیا تھا۔ قید کی سزا دی تھی اور اس کی رہائ پر اس وقت کی پولیس کے سربراہ نے اسے انتباہ کیا تھا کہ دوبارہ اس نےأکسنارڈ (Oxnard) کی سر زمین پر قدم رکھا تو اسے ایک مرتبہ پھر حراست میں لے لیا جائے گا۔
لوسی نے کتنے مکے مارے تھے اس درجوں میں بٹی ہوی دنیا کو۔۔۔لیکن آخری مکہ تو اس کو ایسا پڑا کہ سنبھلنا ممکن نہ ہو سکا۔ تو روپوشی کی زندگی اس کا نصیب ٹہرا اور اور گمنامی کی موت اس کا مقدر بنا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فٹ نوٹ:
یہ بات ہے غالباً ۲۰۱۸ کے اواخر کی ہے جب مجھے سفاری پارک کےوزٹ کے دوران ایک نسبتأ بھاری بھرکم پتھر کے نیچے دبے ہوئے چند کاغذات ملے۔ بظاہر ان کاغذات کا کوئ وارث نظر نہ آیا۔ پڑھنے پر لگا یہ کوئ افسانہ نما تحریر ہے۔ پہلے سوچا واپس رکھ دوں مگر پھر یہ سوچ کر خود سے چپکا رہا کہ اسے اس کے اصل مقام پر رکھنے کے لئے ایک بار پھر بھاری بھرکم پتھر کو سرکانا پڑے گا۔میں نے گھر آ کر اس تحریر کا تفصیلی جائزہ لیا تو اندازہ ہوا کہ خوفناکی کہیں بین السطور میں رینگ رہی ہے۔
یہ تحریر آخر لکھی کس نے ہے؟ اس مونولاگ سے تو لکھاری کے نام ہی کا پتہ چلتا ہے اور نہ ہی جینڈر (جنس) کا۔ دوسرے لفظوں میں تذکیروتانیث کی نشاندہی بھی نہیں ہوتی ہے۔
بہرحال میں مسلسل سوچتا رہا ہوں، سوچتا رہا ہوں، یہاں تک کہ سوچتا ہی رہا ہوں کہ کیا ہو سکتا ہے اور کیا نہیں ہو سکتا ہے۔اس خیال کو کچھ دن گزرے ہی تھے کہ سوچ نے اپنا رخ تبدیل کر لیا۔ اب میں اسے اپنے طور پر مرتب کرنا چاہتا تھا۔ میں نے یہ بھی فیصلہ کر لیا تھا کہ اس کے ساتھ جہاں تک ہو سکا، انصاف سے کام لوں گا اور نامعلوم مصنف کی تلاش جاری رکھوں گا۔تلاش کا آغاز تاحال نہیں ہو سکا ہے، اس کے باوجود نہ جانے کیوں مجھے یقین سا ہو چلا ہےکہ یہ کام جلد یا بدیر اپنے منطقی انجام کو پہنچے گا۔
میں نے اس تحریر میں کوئ ترمیم یا اضافہ نہیں کیا ہے، البتہ کچھ سطریں قطع کر دی ہیں، وہ بھی مختلف مقامات سے، یعنی مختلف پیرا گرافس(paragraphs) میں سے بہت معذرت کہ مجبوری کے ہاتھوں ایسے کام ہو جاتے ہیں، ورنہ میں ایسا آدمی نہیں ہوں، مجھے اس بات کا بھی خدشہ ہے کہ میرے اندر کا آدمی قطع شدہ مواد کو بھی کبھی منظرعام پر لا سکتا ہے۔تو ثابث کیا ہوا کہ اطمینان قلبی اصل شرط ہے۔
مجوزہ عنوان بھی میں نے افسانے کے مواد سے اختیار کیا ہے۔ اسے حتمی خیال نہ کیجیے گا۔ تبدیلی کی گنجائش تو بہرحال رہتی ہی ہے۔خیال تھا کہ اردو سہہ ماہی “اجمال” کے مدیر فہیم اسلام انصاری جو اپنے دوست بھی ہیں، سے بات کر وں گا اس کی اشاعت کے ضمن میں، مگر ایک تو بقول نامعلوم مصنف کوکرونا آ پہنچااور دوسرے یہ اطلاع بھی مل گئی کہ “اجمال” کی اشاعت فی الوقت معرض التوا میں جا چکی ہے۔ گویا التوا اشاعت اس زبردستی کے یا خواہ مخوہ کے افسانے کے نامعلوم مصنف کی بازیابی تک بھی جاری و ساری رہ سکتی ہے۔ انتظار کی طوالت سے گریز کرتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ اب وہ لمہحۂ ملمع آ ہی چکا کہ یا تو اسے کہیں پڑھا جائے یا سنا جائے تاکہ یہ بے چاری تحریر چارو ناچار، کہیں تو کوئ جگہ بنا سکے یا پا سکے۔تو پھر أگے کیا ہوا؟ کچھ بھی نہیں، اب دیکھتے ہیں، کیا ہوتا ہے۔