نحمدہ ٗنصلی علیٰ رسولہ  ٖالکریم ﷺ

عزت مآب صدرِ مجلس،مُعزز اساتذہ کرام و حاضرینِ مجلس اور میرے عزیز دوستو

 اسلامُ علیکم

جنوں    کو   ہوش   کہاں   اہتمام   غارت  کا

فساد جو بھی  جہاں میں  ہوا  خرد  سے  ہوا

تعلیم  سے   انسان کو  ہے اہتمام  بلاغت  کا

انصرام جو بھی جہاں میں ہوا تربیت سے ہوا

جناب ِصدر !!! دورِ موجود میں ہر طرف تعلیم کا دور دورہ نظر آتا ہے ۔

بڑے بڑے تعلیمی ادارے  ہیں ،یونیورسٹیاں ہیں ۔۔۔انگلش میڈیم اسکولوں کی بھر مار ہے  ۔۔۔گلی گلی اسکول  اور کالج موجود ہیں ۔۔

لیکن ۔۔۔لیکن ۔۔۔تعلیم ندارد !!!۔۔۔۔بڑے بڑے بستوں کا بوجھ طلباء کی کمر  پر  جھول رہا ہے۔۔۔لوگ پڑھ لکھ کر انجینئر ،ڈاکٹر سائنسدان بن رہے ہیں ۔۔۔۔کوئی ماہر سیاست دان بن رہا ہے تو کوئی ماہر وکیل بن رہا ہے۔۔۔جوں جوں علم کی لن ترانی اپنی ضو فشانیاں بکھیر رہی ہے۔۔ویسے ویسے انسان اپنے اخلاق و کردار کو بھول کر حیوانیت اختیا ر کرتا جارہا ہے۔۔۔۔۔جیسے جیسے معاشرہ تعلیمی میدان میں آگے بڑھ رہا ہے ۔۔ویسے ویسے افراد  کا یہ گروہ اخلاقی میدان میں پستی کا شکار نظر آرہا ہے۔۔۔

ہر طرف جیسے جنگل کا قانون نظر آرہا ہے۔۔۔انصاف کی دھجیاں اُڑائی جارہی ہیں ۔۔عدل ناپید ہے ۔۔ظالم آباد ہے اور مظلوم برباد ۔۔

کہیں ننھی ننھی  معصوم کلیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔۔۔ اور کہیں نہتے  مجبور شہریوں کو اسلحے کے زور پر لوٹا جارہاہے۔۔اور کہیں عصبیت کی آگ میں جل کر معصوم شہریوں کا قتلِ عام کیا جا رہا ہے۔ہر طرف انارکی ہے ۔۔۔ظلم ہے بربریت ہے۔۔۔نا انصافی ہے ۔۔۔حق تلفی ہے۔۔۔بے روزگاری ہے۔۔۔۔۔ اس جدید  تعلیم نے انسان کی تقدیر پر کس زور کی ٹھوکر ماری ہے۔۔۔۔

ہائے  جدید   تعلیم  !!!!  یہ  ہیں   تیرے   کھلواڑ

علم سے  بے  ہرہ  ہیں  تعلیم  ہی  کے  شہسوار

گرداب  میں  قسمت  ہے   چھوٹ  رہی  ہے  دستار

بھنور میں  کشتی ہے اور  چھوٹ  رہی  ہے   پتوار

لارڈ  میکالے  !! ہائے  تیرے  نظام  کی کیا بات ہے

سنتا ہی نہیں کوئی دبستاں میں علم  و حکمت کی پکار

جنابِ صدر !!! میں تعلیم کے ان ٹھیکیداروں سے سُوال کرتا ہوں ۔۔کہ اس مشکل اور مہنگی تعلیم نے قوم کے بچوں کو دیا کیا ہے؟؟؟؟

نقل کلچر۔۔۔۔بے  ایمانی ومکاری ۔۔۔عریانی و فحاشی۔۔۔۔اور دولت کا زیاں ۔۔۔۔جنابِ صدر کیا دیا ہے اس جدید تعلیم نے ؟؟۔۔۔۔

اس تھکے ہوئے ولائتی نظام کو چلانے کیلیے کلرک ،،اسٹینوِ،ٹائپسٹ ملازم اور کیا دیا اس نظام نے۔۔۔

میں آپ سے سوال کرتا ہوں کہ  

جنابِ صدر !!! مجھے یہ کہنے کی اجازت دیجئے ۔۔۔۔۔کہ تعلیم تربیت کے بغیر ادھوری ہے۔۔۔ میں تو یہ  بر ملا کہتا ہوں ایسی تعلیم فقط بوجھ کا ڈھونا ہے۔۔۔ وقت کا زیاں ہے ۔۔اور سراسر  طلباء کے ساتھ ظلم ہے۔۔۔۔

جناب ِ صدر !!!!تعلیم ہمیں علم سکھاتی ہے اور تربیت ہمیں سلیقہ۔۔۔۔

صرف تعلیم انسان کو  آئزک نیوٹن ،کارل مارکس،ہٹلر   ،میسو لینی ،خروشیف ائیریل   شیرون اور ٹرمپ  بناتی ہے۔۔۔۔لیکن ۔۔۔لیکن جنابِ صدر !!! تعلیم کے ساتھ تربیت  انسان کو  حضرت عمر  ؓ،ابنِ خلدون،جابر بن حیان،ابنِ رُشد  ،عمر خیام ، نظام الملک طوسی اور قائدِ اعظم بناتی ہے۔۔۔لہٰذا آج کی تعلیم تربیت کے میدان میں   بالکل کوری نظر آتی ہے۔۔۔

ہمارا انجینئر  صرف نظریات پڑھ کر عملی میدان میں قدم رکھتا ہے ۔۔۔اور عملی میدان میں بالکل  اناڑی ہوتا ہے ۔۔

ہمارا ڈاکٹر صرف کتابیں پڑھکر عملی میدان میں اترتا ہے اور دو تین سال ہاؤس جاب میں ضائع کر دیتا ہے۔۔اگر عملی تربیت ساتھ ساتھ کرتا تو ابتدا ہی سے کامیاب رہتا ۔۔۔۔ہمارا تاجر معاشات کی کتابیں پڑھ کر عملی میدان میں قدم رکھتا ہے۔۔۔ اور نتیجہ دو چار برس تجر بے کی نذر کرتا ہے۔۔۔۔جنابِ صدر اس حال میں آ پ کیا کامیابی کی امیدیں لگائیں گے؟۔۔۔۔۔کیوں کہ تعلیم مکمل طور پر تربیت کے  اثر سے خالی ہے۔۔۔

جنابِ صدر !!! جاپان کو لیجئے ،وہ اپنی تعلیمی پالیسی میں طلباء کو بی ۔اے ایم ۔اے کرنے میں ضائع نہیں کرتے ۔۔۔ بلکہ اپنے طُلباء کو تعلیم کی ابتداء ہی میں تجرباتی میدان سے گزار دیتے ہیں ۔۔۔۔اسی طرح دوسری مثال اسرائیل کی ہے کہ وہ بھی اپنے طلباء کو چوتھی جماعت میں تجرباتی مشاہدے سے آشکار کرتے ہیں اور انہیں کتابوں کے ساتھ عملی تجارت کرنے کیلیے ۳یا ۴ ہزار ڈالر دیتے ہیں ۔۔اور ان بچوں کو یہ ٹاسک (ہدف )  دیا جا تا ہے کہ وہ اس روپے  سے تجارت کرکے تین چار گنا کماکر دکھائیں ۔۔۔اور جنابِ صدر !!! اگر بچہ کسی بناء  پر اپنے تجربے میں ناکام ہوجاتا ہے ۔تو پھر اس کی تجرباتی میدان میں ٹیوشن لگواتے ہیں ۔۔ اور اس طرح تعلیم و  تربیت کرتے ہیں  کہ بچہ ہر حال میں اپنی فیلڈ میں کامیاب ہو جائے۔۔۔  لہٰذا جنابِ صدر !!!!

تعلیم تربیت کے بغیر اپنا تاثر نہیں چھوڑ پاتی ۔۔۔اور انسان کامیاب ہوتے ہوئے بھی ناکام ہوجاتا ہے۔۔۔

جنابِ صدر !!! اب میں یہاں مثال اسلا م کی پیش کرنا چاہوں گا ۔۔جناب عالی!!!صُفّہ  کی درسگاہ کو دیکھئے ۔کہ آپ ﷺ نے کس طرح صحابہ رضوان اللہ ِتعالیٰ علیہ اجمعین  کی تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت فرمائی  کہ وہ عرب قوم جو اسلام سے قبل ظلم و بر بریت و   سفاکی  میں صفِ اول تھی ۔۔۔۔جہاں چھوٹی چھوٹی باتوں صدیوں جنگیں لڑی جاتی تھیں ۔۔دنیا کے معماروں نے جنہیں رد کر دیا تھا ۔۔۔۔وُہی قوم جی ہاں  جنابِ صدر !!!! وُہی عرب قوم  ۔۔۔اقوامِ عالم کی سربراہی و رہنمائی کا مرکز ٹھہری۔۔۔  صرف اور صرف تعلیم کے ساتھ ساتھ  بہترین تر بیت کی بدولت۔۔۔۔۔۔

جنابِ صدر !!! حضرتِ عمرؒ  بن عبدالعزیز  !  اسلام کے پانچویں خلیفہ راشد ۔۔۔جنہوں نے اپنی اولاد کی اچھی تعلیم کے ساتھ ساتھ بہترین تربیت کی ۔۔۔وہ تربیت یافتہ اولاد آپ کی وفات کے بعد  حکمراں طبقے میں اپنی بہترین تربیت کی بدولت  بہترین عُہدوں پر فائز رہی۔۔۔بیماری کے ایام میں آپ کے امراء نے آپ سے سوال کیا کہ امیر المومنین آپ اپنی اولاد کے لئے امارت میں سے کچھ جائداد کا حصہ اپنے بچوں کے نام کر جائیں ۔۔۔ہم نے تو اپنی اولادوں کیلیے بہت ساری جائداد اور دولت چھوڑی ہے ۔۔۔۔کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کی وفات کے بعد آپکی اولاد لاچاری و بے کسی کی زندگی گزارے۔۔۔۔

لیکن  جناب صدر!!!  تاریخ کی آنکھوں نے یہ دیکھا کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کی اولاد تاریخ میں  اچھی تعلیم و تربیت کی بدولت دنیا میں  کامیاب زندگی گزارنے میں کامیاب رہی ۔۔۔ صرف اور صرف  اپنی قابلیت اور اچھی تربیت کی بدولت۔۔۔

 جی ہاں جنابِ صدر !!! اب وقت ہے کہ اپنی پاکستانی قوم کو بھی اچھی تعلیم کے ساتھ ساتھ بہترین تربیت یعنی خالص اسلامی تربیت سے آراستہ و  پیراستہ کیا جائے ۔۔۔تاکہ یہ قوم بھی اپنے اسلافِ کاملین کی طرح دنیا کے ہر میدان میں اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑ سکے۔۔

 جناب ِ صدر !!! میں تو آخر میں یہی کہوں گا کہ

اپنی ہی کرنی کا پھل ہیں نیکی اور رسوائیاں

آپ کے پیچھے لگی ہیں آپ کی پر چھائیاں