Category: ابن انشاء

انشاؔ جی اٹھو اب کوچ کرو

انشاؔ جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کو لگانا کیا وحشی کو سکوں سے کیا مطلب جوگی کا نگر میں ٹھکانا کیا اس دل کے دریدہ دامن کو دیکھو تو سہی سوچو تو سہی جس جھولی میں سو چھید ہوئے اس جھولی کا پھیلانا کیا شب بیتی چاند بھی ڈوب چلا...

Read More

کل چودھویں کی رات تھی

کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا ترا کچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرا ترا ہم بھی وہیں موجود تھے ہم سے بھی سب پوچھا کیے ہم ہنس دئیے ہم چپ رہے منظور تھا پردہ ترا اس شہر میں کس سے ملیں ہم سے تو چھوٹیں محفلیں ہر شخص تیرا...

Read More

شام غم کی سحر نہیں ہوتی

شام غم کی سحر نہیں ہوتی یا ہمیں کو خبر نہیں ہوتی ہم نے سب دکھ جہاں کے دیکھے ہیں بیکلی اس قدر نہیں ہوتی نالہ یوں نارسا نہیں رہتا آہ یوں بے اثر نہیں ہوتی چاند ہے کہکشاں ہے تارے ہیں کوئی شے نامہ بر نہیں ہوتی ایک جاں سوز و نامراد...

Read More

دل ہجر کے درد سے بوجھل ہے

دل ہجر کے درد سے بوجھل ہے اب آن ملو تو بہتر ہو اس بات سے ہم کو کیا مطلب یہ کیسے ہو یہ کیوں کر ہو اک بھیک کے دونوں کاسے ہیں اک پیاس کے دونو پیاسے ہیں ہم کھیتی ہیں تم بادل ہو ہم ندیاں ہیں تم ساگر ہو یہ دل ہے کہ جلتے سینے میں اک...

Read More
Loading