Category: غزلیات

سر جھکاؤ گے تو پتھر دیوتا ہو جائے گا

سر جھکاؤ گے تو پتھر دیوتا ہو جائے گا اتنا مت چاہو اسے وہ بے وفا ہو جائے گا ہم بھی دریا ہیں ہمیں اپنا ہنر معلوم ہے جس طرف بھی چل پڑیں گے راستہ ہو جائے گا کتنی سچائی سے مجھ سے زندگی نے کہہ دیا تو نہیں میرا تو کوئی دوسرا ہو جائے گا...

Read More

نہ جی بھر کے دیکھا نہ کچھ بات کی

نہ جی بھر کے دیکھا نہ کچھ بات کی بڑی آرزو تھی ملاقات کی اجالوں کی پریاں نہانے لگیں ندی گنگنائی خیالات کی میں چپ تھا تو چلتی ہوا رک گئی زباں سب سمجھتے ہیں جذبات کی مقدر مری چشم پر آب کا برستی ہوئی رات برسات کی کئی سال سے کچھ خبر...

Read More

یوں ہی بے سبب نہ پھرا کرو

یوں ہی بے سبب نہ پھرا کرو کوئی شام گھر میں رہا کرو وہ غزل کی سچی کتاب ہے اسے چپکے چپکے پڑھا کرو کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلہ سے ملا کرو ابھی راہ میں کئی موڑ ہیں کوئی آئے گا کوئی...

Read More

آنکھوں میں رہا دل میں اتر کر نہیں دیکھا

آنکھوں میں رہا دل میں اتر کر نہیں دیکھا کشتی کے مسافر نے سمندر نہیں دیکھا بے وقت اگر جاؤں گا سب چونک پڑیں گے اک عمر ہوئی دن میں کبھی گھر نہیں دیکھا جس دن سے چلا ہوں مری منزل پہ نظر ہے آنکھوں نے کبھی میل کا پتھر نہیں دیکھا یہ...

Read More

اگر تلاش کروں کوئی مل ہی جائے گا

اگر تلاش کروں کوئی مل ہی جائے گا مگر تمہاری طرح کون مجھ کو چاہے گا تمہیں ضرور کوئی چاہتوں سے دیکھے گا مگر وہ آنکھیں ہماری کہاں سے لائے گا نہ جانے کب ترے دل پر نئی سی دستک ہو مکان خالی ہوا ہے تو کوئی آئے گا میں اپنی راہ میں دیوار...

Read More

دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی

دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی کوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھی کچھ تو نازک مزاج ہیں ہم بھی اور یہ چوٹ بھی نئی ہے ابھی شور برپا ہے خانۂ دل میں کوئی دیوار سی گری ہے ابھی بھری دنیا میں جی نہیں لگتا جانے کس چیز کی کمی ہے ابھی تو شریک سخن...

Read More

نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں

نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں اور بال بناؤں کس کے لیے وہ شخص تو شہر ہی چھوڑ گیا میں باہر جاؤں کس کے لیے جس دھوپ کی دل میں ٹھنڈک تھی وہ دھوپ اسی کے ساتھ گئی ان جلتی بلتی گلیوں میں اب خاک اڑاؤں کس کے لیے وہ شہر میں تھا تو اس کے لیے...

Read More

نیت شوق بھر نہ جائے کہیں

نیت شوق بھر نہ جائے کہیں تو بھی دل سے اتر نہ جائے کہیں آج دیکھا ہے تجھ کو دیر کے بعد آج کا دن گزر نہ جائے کہیں نہ ملا کر اداس لوگوں سے حسن تیرا بکھر نہ جائے کہیں آرزو ہے کہ تو یہاں آئے اور پھر عمر بھر نہ جائے کہیں جی جلاتا ہوں...

Read More

اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں

اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں کیوں نہ اے دوست ہم جدا ہو جائیں تو بھی ہیرے سے بن گیا پتھر ہم بھی کل جانے کیا سے کیا ہو جائیں تو کہ یکتا تھا بے شمار ہوا ہم بھی ٹوٹیں تو جا بجا ہو جائیں ہم بھی مجبوریوں کا عذر کریں پھر کہیں اور...

Read More

زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے

زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے تو بہت دیر سے ملا ہے مجھے تو محبت سے کوئی چال تو چل ہار جانے کا حوصلہ ہے مجھے دل دھڑکتا نہیں ٹپکتا ہے کل جو خواہش تھی آبلہ ہے مجھے ہم سفر چاہیئے ہجوم نہیں اک مسافر بھی قافلہ ہے مجھے کوہ کن ہو کہ قیس ہو...

Read More

اب کے ہم بچھڑے تو شاید

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں غم دنیا بھی غم یار میں شامل کر لو نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں...

Read More

رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ

رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ کچھ تو مرے پندار محبت کا بھرم رکھ تو بھی تو کبھی مجھ کو منانے کے لیے آ پہلے سے مراسم نہ سہی پھر بھی کبھی تو رسم و رہ دنیا ہی نبھانے کے لیے آ کس کس کو بتائیں...

Read More
Loading