Category: میر تقی میر

ہے غزل میرؔ یہ شفائیؔ کی

ہے غزل میرؔ یہ شفائیؔ کی ہم نے بھی طبع آزمائی کی اس کے ایفائے عہد تک نہ جیے عمر نے ہم سے بے وفائی کی وصل کے دن کی آرزو ہی رہی شب نہ آخر ہوئی جدائی کی اسی تقریب اس گلی میں رہے منتیں ہیں شکستہ پائی کی دل میں اس شوخ کے نہ کی تاثیر...

Read More

کیا کہوں کیسا ستم غفلت سے

کیا کہوں کیسا ستم غفلت سے مجھ پر ہو گیا قافلہ جاتا رہا میں صبح ہوتے سو گیا بے کسی مدت تلک برسا کی اپنی گور پر جو ہماری خاک پر سے ہو کے گزرا رو گیا کچھ خطرناکی طریق عشق میں پنہاں نہیں کھپ گیا وہ راہرو اس راہ ہو کر جو گیا مدعا جو...

Read More

لب ترے لعل ناب ہیں دونوں

لب ترے لعل ناب ہیں دونوں پر تمامی عتاب ہیں دونوں رونا آنکھوں کا روئیے کب تک پھوٹنے ہی کے باب ہیں دونوں ہے تکلف نقاب وے رخسار کیا چھپیں آفتاب ہیں دونوں تن کے معمورے میں یہی دل و چشم گھر تھے دو سو خراب ہیں دونوں کچھ نہ پوچھو کہ...

Read More

اب حال اپنا اس کے ہے دل خواہ

اب حال اپنا اس کے ہے دل خواہ کیا پوچھتے ہو الحمدللہ مر جاؤ کوئی پروا نہیں ہے کتنا ہے مغرور اللہ اللہ پیر مغاں سے بے اعتقادی استغفر اللہ استغفر اللہ کہتے ہیں اس کے تو منہ لگے گا ہو یوں ہی یا رب جوں ہے یہ افواہ حضرت سے اس کی جانا...

Read More

بزم میں جو ترا ظہور نہیں

بزم میں جو ترا ظہور نہیں شمع روشن کے منہ پہ نور نہیں کتنی باتیں بنا کے لاؤں ایک یاد رہتی ترے حضور نہیں خوب پہچانتا ہوں تیرے تئیں اتنا بھی تو میں بے شعور نہیں قتل ہی کر کہ اس میں راحت ہے لازم اس کام میں مرور نہیں فکر مت کر ہمارے...

Read More
Loading