Category: خواجہ میر درد

جگ میں کوئی نہ ٹک ہنسا ہوگا

جگ میں کوئی نہ ٹک ہنسا ہوگا کہ نہ ہنستے میں رو دیا ہوگا ان نے قصداً بھی میرے نالے کو نہ سنا ہوگا گر سنا ہوگا دیکھیے اب کے غم سے جی میرا نہ بچے گا بچے گا کیا ہوگا دل زمانے کے ہاتھ سے سالم کوئی ہوگا جو رہ گیا ہوگا حال مجھ غم زدہ...

Read More

مدرسہ یا دیر تھا یا کعبہ یا بت خانہ تھا

مدرسہ یا دیر تھا یا کعبہ یا بت خانہ تھا ہم سبھی مہمان تھے واں تو ہی صاحب خانہ تھا واے نادانی کہ وقت مرگ یہ ثابت ہوا خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا حیف! کہتے ہیں ہوا گل زار تاراج خزاں آشنا اپنا بھی واں اک سبزۂ بیگانہ...

Read More

ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک جستجو کریں

ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک جستجو کریں دل ہی نہیں رہا ہے کہ کچھ آرزو کریں مٹ جائیں ایک آن میں کثرت نمائیاں ہم آئنے کے سامنے جب آ کے ہو کریں تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں سر تا قدم زبان ہیں جوں شمع گو...

Read More

دل مرا پھر دکھا دیا کن نے

دل مرا پھر دکھا دیا کن نے سو گیا تھا جگا دیا کن نے میں کہاں اور خیال بوسہ کہاں منہ سے منہ یوں بھڑا دیا کن نے وہ مرے چاہنے کو کیا جانے یہ سندیسا سنا دیا کن نے ہم بھی کچھ دیکھتے سمجھتے تھے سب یکایک چھپا دیا کن نے وہ بلائے سے...

Read More

تہمت چند اپنے ذمے دھر چلے

تہمت چند اپنے ذمے دھر چلے جس لیے آئے تھے سو ہم کر چلے زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے کیا ہمیں کام ان گلوں سے اے صبا ایک دم آئے ادھر اودھر چلے دوستو دیکھا تماشا یاں کا سب تم رہو خوش ہم تو اپنے گھر چلے آہ...

Read More
Loading