Category: حکیم مومن خان مومن

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا رنج راحت فزا نہیں ہوتا بے وفا کہنے کی شکایت ہے تو بھی وعدہ وفا نہیں ہوتا ذکر اغیار سے ہوا معلوم حرف ناصح برا نہیں ہوتا کس کو ہے ذوق تلخ کامی لیک جنگ بن کچھ مزا نہیں ہوتا تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے ورنہ دنیا...

Read More

آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے

آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے انداز تو دیکھو ہے بو الہوسوں پر بھی ستم ناز تو دیکھو اس بت کے لیے میں ہوس حور سے گزرا اس عشق خوش انجام کا آغاز تو دیکھو چشمک مری وحشت پہ ہے کیا حضرت ناصح طرز نگہ چشم فسوں ساز تو دیکھو ارباب ہوس ہار کے بھی...

Read More

اے آرزوئے قتل ذرا دل کو تھامنا

اے آرزوئے قتل ذرا دل کو تھامنا مشکل پڑا مرا مرے قاتل کو تھامنا تاثیر بیقراری ناکام آفریں ہے کام ان سے شوخ شمائل کو تھامنا دیکھے ہے چاندنی وہ زمیں پر نہ گر پڑے اے چرخ اپنے تو مہ کامل کو تھامنا مضطر ہوں کس کا طرز سخن سے سمجھ گیا...

Read More

جوں نکہت گل جنبش ہے

جوں نکہت گل جنبش ہے جی کا نکل جانا اے باد صبا میری کروٹ تو بدل جانا پالغز محبت سے مشکل ہے سنبھل جانا اس رخ کی صفائی پر اس دل کا بہل جانا سینہ میں جو دل تڑپا دھر ہی تو دیا دیکھا پھر بھول گیا کیسا میں ہاتھ کا پھل جانا اتنا تو نہ...

Read More
Loading