Category: غزلیات

مدرسہ یا دیر تھا یا کعبہ یا بت خانہ تھا

مدرسہ یا دیر تھا یا کعبہ یا بت خانہ تھا ہم سبھی مہمان تھے واں تو ہی صاحب خانہ تھا واے نادانی کہ وقت مرگ یہ ثابت ہوا خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا حیف! کہتے ہیں ہوا گل زار تاراج خزاں آشنا اپنا بھی واں اک سبزۂ بیگانہ...

Read More

ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک جستجو کریں

ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک جستجو کریں دل ہی نہیں رہا ہے کہ کچھ آرزو کریں مٹ جائیں ایک آن میں کثرت نمائیاں ہم آئنے کے سامنے جب آ کے ہو کریں تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں سر تا قدم زبان ہیں جوں شمع گو...

Read More

دل مرا پھر دکھا دیا کن نے

دل مرا پھر دکھا دیا کن نے سو گیا تھا جگا دیا کن نے میں کہاں اور خیال بوسہ کہاں منہ سے منہ یوں بھڑا دیا کن نے وہ مرے چاہنے کو کیا جانے یہ سندیسا سنا دیا کن نے ہم بھی کچھ دیکھتے سمجھتے تھے سب یکایک چھپا دیا کن نے وہ بلائے سے...

Read More

تہمت چند اپنے ذمے دھر چلے

تہمت چند اپنے ذمے دھر چلے جس لیے آئے تھے سو ہم کر چلے زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے کیا ہمیں کام ان گلوں سے اے صبا ایک دم آئے ادھر اودھر چلے دوستو دیکھا تماشا یاں کا سب تم رہو خوش ہم تو اپنے گھر چلے آہ...

Read More

دہن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسے

دہن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسے کلام آتے ہیں درمیاں کیسے کیسے زمین چمن گل کھلاتی ہے کیا کیا بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے تمہارے شہیدوں میں داخل ہوئے ہیں گل و لالہ و ارغواں کیسے کیسے بہار آئی ہے نشہ میں جھومتے ہیں مریدان پیر مغاں...

Read More

سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا

سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا کیا کیا الجھتا ہے تری زلفوں کے تار سے بخیہ طلب ہے سینۂ صد چاک شانہ کیا زیر زمیں سے آتا ہے جو گل سو زر بکف قاروں نے راستے میں لٹایا خزانہ کیا اڑتا ہے شوق...

Read More

یہ آرزو تھی تجھے گل کے

یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے ہم اور بلبل بیتاب گفتگو کرتے پیامبر نہ میسر ہوا تو خوب ہوا زبان غیر سے کیا شرح آرزو کرتے مری طرح سے مہ و مہر بھی ہیں آوارہ کسی حبیب کی یہ بھی ہیں جستجو کرتے ہمیشہ رنگ زمانہ بدلتا رہتا ہے سفید...

Read More

دہن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسے

دہن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسے کلام آتے ہیں درمیاں کیسے کیسے زمین چمن گل کھلاتی ہے کیا کیا بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے تمہارے شہیدوں میں داخل ہوئے ہیں گل و لالہ و ارغواں کیسے کیسے بہار آئی ہے نشہ میں جھومتے ہیں مریدان پیر مغاں...

Read More

ہے غزل میرؔ یہ شفائیؔ کی

ہے غزل میرؔ یہ شفائیؔ کی ہم نے بھی طبع آزمائی کی اس کے ایفائے عہد تک نہ جیے عمر نے ہم سے بے وفائی کی وصل کے دن کی آرزو ہی رہی شب نہ آخر ہوئی جدائی کی اسی تقریب اس گلی میں رہے منتیں ہیں شکستہ پائی کی دل میں اس شوخ کے نہ کی تاثیر...

Read More

کیا کہوں کیسا ستم غفلت سے

کیا کہوں کیسا ستم غفلت سے مجھ پر ہو گیا قافلہ جاتا رہا میں صبح ہوتے سو گیا بے کسی مدت تلک برسا کی اپنی گور پر جو ہماری خاک پر سے ہو کے گزرا رو گیا کچھ خطرناکی طریق عشق میں پنہاں نہیں کھپ گیا وہ راہرو اس راہ ہو کر جو گیا مدعا جو...

Read More

لب ترے لعل ناب ہیں دونوں

لب ترے لعل ناب ہیں دونوں پر تمامی عتاب ہیں دونوں رونا آنکھوں کا روئیے کب تک پھوٹنے ہی کے باب ہیں دونوں ہے تکلف نقاب وے رخسار کیا چھپیں آفتاب ہیں دونوں تن کے معمورے میں یہی دل و چشم گھر تھے دو سو خراب ہیں دونوں کچھ نہ پوچھو کہ...

Read More

اب حال اپنا اس کے ہے دل خواہ

اب حال اپنا اس کے ہے دل خواہ کیا پوچھتے ہو الحمدللہ مر جاؤ کوئی پروا نہیں ہے کتنا ہے مغرور اللہ اللہ پیر مغاں سے بے اعتقادی استغفر اللہ استغفر اللہ کہتے ہیں اس کے تو منہ لگے گا ہو یوں ہی یا رب جوں ہے یہ افواہ حضرت سے اس کی جانا...

Read More
Loading