Category: منیر نیازی

میں اور شہر

سڑکوں پہ بے شمار گل خوں پڑے ہوئے پیڑوں کی ڈالیوں سے تماشے جھڑے ہوئے کوٹھوں کی ممٹیوں پہ حسیں بت کھڑے ہوئے سنسان ہیں مکان کہیں در کھلا نہیں کمرے سجے ہوئے ہیں مگر راستہ نہیں ویراں ہے پورا شہر کوئی دیکھتا نہیں آواز دے رہا ہوں کوئی...

Read More

صدا بصحرا

چاروں سمت اندھیرا گھپ ہے اور گھٹا گھنگھور وہ کہتی ہے کون میں کہتا ہوں میں کھولو یہ بھاری دروازہ مجھ کو اندر آنے دو اس کے بعد اک لمبی چپ اور تیز ہوا کا...

Read More

میں اور میرا خدا

لاکھوں شکلوں کے میلے میں تنہا رہنا میرا کام بھیس بدل کر دیکھتے رہنا تیز ہواؤں کا کہرام ایک طرف آواز کا سورج ایک طرف اک گونگی شام ایک طرف جسموں کی خوشبو ایک طرف اس کا انجام بن گیا قاتل میرے لیے تو اپنی ہی نظروں کا دام سب سے بڑا...

Read More

وصال کی خواہش

کہہ بھی دے اب وہ سب باتیں جو دل میں پوشیدہ ہیں سارے روپ دکھا دے مجھ کو جو اب تک نادیدہ ہیں ایک ہی رات کے تارے ہیں ہم دونوں اس کو جانتے ہیں دوری اور مجبوری کیا ہے اس کو بھی پہچانتے ہیں کیوں پھر دونوں مل نہیں سکتے کیوں یہ بندھن...

Read More
Loading