Category: اکبر الہ آبادی

سب جانتے ہیں علم سے ہے زندگی کی روح

سب جانتے ہیں علم سے ہے زندگی کی روح بے علم ہے اگر تو وہ انساں ہے نا تمام بے علم و بے ہنر ہے جو دنیا میں کوئی قوم نیچر کا اقتضا ہے رہے بن کے وہ غلام تعلیم اگر نہیں ہے زمانہ کے حسب و حال پھر کیا امید دولت و آرام و احترام سید کے دل...

Read More

آم نامہ

نامہ نہ کوئی یار کا پیغام بھیجئے اس فصل میں جو بھیجئے بس آم بھیجئے ایسا ضرور ہو کہ انہیں رکھ کے کھا سکوں پختہ اگرچہ بیس تو دس خام بھیجئے معلوم ہی ہے آپ کو بندے کا ایڈریس سیدھے الہ آباد مرے نام بھیجئے ایسا نہ ہو کہ آپ یہ لکھیں...

Read More

جلوۂ دربار دہلی

سر میں شوق کا سودا دیکھا دہلی کو ہم نے بھی جا دیکھا جو کچھ دیکھا اچھا دیکھا کیا بتلائیں کیا کیا دیکھا جمنا جی کے پاٹ کو دیکھا اچھے ستھرے گھاٹ کو دیکھا سب سے اونچے لاٹ کو دیکھا حضرت ”ڈیوک کناٹؔ” کو دیکھا پلٹن اور...

Read More

نئی تہذیب

یہ موجودہ طریقے راہیٔ ملک عدم ہوں گے نئی تہذیب ہوگی اور نئے ساماں بہم ہوں گے نئے عنوان سے زینت دکھائیں گے حسیں اپنی نہ ایسا پیچ زلفوں میں نہ گیسو میں یہ خم ہوں گے نہ خاتونوں میں رہ جائے گی پردے کی یہ پابندی نہ گھونگھٹ اس طرح سے...

Read More
Loading