Category: قتیل شفائی

تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ایسے تو حالات نہیں

تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ایسے تو حالات نہیں ایک ذرا سا دل ٹوٹا ہے اور تو کوئی بات نہیں کس کو خبر تھی سانولے بادل بن برسے اڑ جاتے ہیں ساون آیا لیکن اپنی قسمت میں برسات نہیں ٹوٹ گیا جب دل تو پھر یہ سانس کا نغمہ کیا معنی گونج رہی...

Read More

وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے

وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے میں تجھ کو بھول کے زندہ رہوں خدا نہ کرے رہے گا ساتھ ترا پیار زندگی بن کر یہ اور بات مری زندگی وفا نہ کرے یہ ٹھیک ہے نہیں مرتا کوئی جدائی میں خدا کسی کو کسی سے مگر جدا نہ کرے سنا ہے اس کو...

Read More

پریشاں رات ساری ہے ستارو تم تو سو جاؤ

پریشاں رات ساری ہے ستارو تم تو سو جاؤ سکوت مرگ طاری ہے ستارو تم تو سو جاؤ ہنسو اور ہنستے ہنستے ڈوبتے جاؤ خلاؤں میں ہمیں پہ رات بھاری ہے ستارو تم تو سو جاؤ ہمیں تو آج کی شب پو پھٹے تک جاگنا ہوگا یہی قسمت ہماری ہے ستارو تم تو سو...

Read More

اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو

اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو میں ہوں تیرا تو نصیب اپنا بنا لے مجھ کو میں جو کانٹا ہوں تو چل مجھ سے بچا کر دامن میں ہوں گر پھول تو جوڑے میں سجا لے مجھ کو ترک الفت کی قسم بھی کوئی ہوتی ہے قسم تو کبھی یاد تو کر بھولنے...

Read More

گرمیٔ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں

گرمیٔ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں ہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیں شمع جس آگ میں جلتی ہے نمائش کے لیے ہم اسی آگ میں گمنام سے جل جاتے ہیں بچ نکلتے ہیں اگر آتش سیال سے ہم شعلۂ عارض گلفام سے جل جاتے ہیں خود نمائی تو نہیں شیوۂ...

Read More
Loading