اے آرزوئے قتل ذرا دل کو تھامنا
اے آرزوئے قتل ذرا دل کو تھامنا مشکل پڑا مرا مرے قاتل کو تھامنا تاثیر بیقراری ناکام آفریں ہے کام ان سے شوخ شمائل کو تھامنا دیکھے ہے چاندنی وہ زمیں پر نہ گر پڑے اے چرخ اپنے تو مہ کامل کو تھامنا مضطر ہوں کس کا طرز سخن سے سمجھ گیا...
Read More