Category: نظمیں

سب جانتے ہیں علم سے ہے زندگی کی روح

سب جانتے ہیں علم سے ہے زندگی کی روح بے علم ہے اگر تو وہ انساں ہے نا تمام بے علم و بے ہنر ہے جو دنیا میں کوئی قوم نیچر کا اقتضا ہے رہے بن کے وہ غلام تعلیم اگر نہیں ہے زمانہ کے حسب و حال پھر کیا امید دولت و آرام و احترام سید کے دل...

Read More

آم نامہ

نامہ نہ کوئی یار کا پیغام بھیجئے اس فصل میں جو بھیجئے بس آم بھیجئے ایسا ضرور ہو کہ انہیں رکھ کے کھا سکوں پختہ اگرچہ بیس تو دس خام بھیجئے معلوم ہی ہے آپ کو بندے کا ایڈریس سیدھے الہ آباد مرے نام بھیجئے ایسا نہ ہو کہ آپ یہ لکھیں...

Read More

جلوۂ دربار دہلی

سر میں شوق کا سودا دیکھا دہلی کو ہم نے بھی جا دیکھا جو کچھ دیکھا اچھا دیکھا کیا بتلائیں کیا کیا دیکھا جمنا جی کے پاٹ کو دیکھا اچھے ستھرے گھاٹ کو دیکھا سب سے اونچے لاٹ کو دیکھا حضرت ”ڈیوک کناٹؔ” کو دیکھا پلٹن اور...

Read More

نئی تہذیب

یہ موجودہ طریقے راہیٔ ملک عدم ہوں گے نئی تہذیب ہوگی اور نئے ساماں بہم ہوں گے نئے عنوان سے زینت دکھائیں گے حسیں اپنی نہ ایسا پیچ زلفوں میں نہ گیسو میں یہ خم ہوں گے نہ خاتونوں میں رہ جائے گی پردے کی یہ پابندی نہ گھونگھٹ اس طرح سے...

Read More

وہ

وہ کتاب حسن وہ علم و ادب کی طالبہ وہ مہذب وہ مؤدب وہ مقدس راہبہ کس قدر پیرایہ پرور اور کتنی سادہ کار کس قدر سنجیدہ و خاموش کتنی با وقار گیسوئے پر خم سواد دوش تک پہنچے ہوئے اور کچھ بکھرے ہوئے الجھے ہوئے سمٹے ہوئے رنگ میں اس کے...

Read More

رمز

تم جب آؤگی تو کھویا ہوا پاؤگی مجھے میری تنہائی میں خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں میرے کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمہیں میرے کمرے میں کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں ان کتابوں نے بڑا ظلم کیا ہے مجھ پر ان میں اک رمز ہے جس رمز کا مارا ہوا...

Read More

سزا

ہر بار میرے سامنے آتی رہی ہو تم ہر بار تم سے مل کے بچھڑتا رہا ہوں میں تم کون ہو یہ خود بھی نہیں جانتی ہو تم میں کون ہوں یہ خود بھی نہیں جانتا ہوں میں تم مجھ کو جان کر ہی پڑی ہو عذاب میں اور اس طرح خود اپنی سزا بن گیا ہوں میں تم...

Read More

دریچہ ہائے خیال

چاہتا ہوں کہ بھول جاؤں تمہیں اور یہ سب دریچہ ہائے خیال جو تمہاری ہی سمت کھلتے ہیں بند کر دوں کچھ اس طرح کہ یہاں یاد کی اک کرن بھی آ نہ سکے چاہتا ہوں کہ بھول جاؤں تمہیں اور خود بھی نہ یاد آؤں تمہیں جیسے تم صرف اک کہانی تھیں جیسے...

Read More

اجنبی شام

دھند چھائی ہوئی ہے جھیلوں پر اڑ رہے ہیں پرند ٹیلوں پر سب کا رخ ہے نشیمنوں کی طرف بستیوں کی طرف بنوں کی طرف اپنے گلوں کو لے کے چرواہے سرحدی بستیوں میں جا پہنچے دل ناکام میں کہاں جاؤں اجنبی شام میں کہاں...

Read More

میں اور شہر

سڑکوں پہ بے شمار گل خوں پڑے ہوئے پیڑوں کی ڈالیوں سے تماشے جھڑے ہوئے کوٹھوں کی ممٹیوں پہ حسیں بت کھڑے ہوئے سنسان ہیں مکان کہیں در کھلا نہیں کمرے سجے ہوئے ہیں مگر راستہ نہیں ویراں ہے پورا شہر کوئی دیکھتا نہیں آواز دے رہا ہوں کوئی...

Read More

صدا بصحرا

چاروں سمت اندھیرا گھپ ہے اور گھٹا گھنگھور وہ کہتی ہے کون میں کہتا ہوں میں کھولو یہ بھاری دروازہ مجھ کو اندر آنے دو اس کے بعد اک لمبی چپ اور تیز ہوا کا...

Read More

میں اور میرا خدا

لاکھوں شکلوں کے میلے میں تنہا رہنا میرا کام بھیس بدل کر دیکھتے رہنا تیز ہواؤں کا کہرام ایک طرف آواز کا سورج ایک طرف اک گونگی شام ایک طرف جسموں کی خوشبو ایک طرف اس کا انجام بن گیا قاتل میرے لیے تو اپنی ہی نظروں کا دام سب سے بڑا...

Read More
Loading