Author: nawarsi786

تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ایسے تو حالات نہیں

تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ایسے تو حالات نہیں ایک ذرا سا دل ٹوٹا ہے اور تو کوئی بات نہیں کس کو خبر تھی سانولے بادل بن برسے اڑ جاتے ہیں ساون آیا لیکن اپنی قسمت میں برسات نہیں ٹوٹ گیا جب دل تو پھر یہ سانس کا نغمہ کیا معنی گونج رہی...

Read More

وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے

وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے میں تجھ کو بھول کے زندہ رہوں خدا نہ کرے رہے گا ساتھ ترا پیار زندگی بن کر یہ اور بات مری زندگی وفا نہ کرے یہ ٹھیک ہے نہیں مرتا کوئی جدائی میں خدا کسی کو کسی سے مگر جدا نہ کرے سنا ہے اس کو...

Read More

پریشاں رات ساری ہے ستارو تم تو سو جاؤ

پریشاں رات ساری ہے ستارو تم تو سو جاؤ سکوت مرگ طاری ہے ستارو تم تو سو جاؤ ہنسو اور ہنستے ہنستے ڈوبتے جاؤ خلاؤں میں ہمیں پہ رات بھاری ہے ستارو تم تو سو جاؤ ہمیں تو آج کی شب پو پھٹے تک جاگنا ہوگا یہی قسمت ہماری ہے ستارو تم تو سو...

Read More

اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو

اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو میں ہوں تیرا تو نصیب اپنا بنا لے مجھ کو میں جو کانٹا ہوں تو چل مجھ سے بچا کر دامن میں ہوں گر پھول تو جوڑے میں سجا لے مجھ کو ترک الفت کی قسم بھی کوئی ہوتی ہے قسم تو کبھی یاد تو کر بھولنے...

Read More

گرمیٔ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں

گرمیٔ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں ہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیں شمع جس آگ میں جلتی ہے نمائش کے لیے ہم اسی آگ میں گمنام سے جل جاتے ہیں بچ نکلتے ہیں اگر آتش سیال سے ہم شعلۂ عارض گلفام سے جل جاتے ہیں خود نمائی تو نہیں شیوۂ...

Read More

سر جھکاؤ گے تو پتھر دیوتا ہو جائے گا

سر جھکاؤ گے تو پتھر دیوتا ہو جائے گا اتنا مت چاہو اسے وہ بے وفا ہو جائے گا ہم بھی دریا ہیں ہمیں اپنا ہنر معلوم ہے جس طرف بھی چل پڑیں گے راستہ ہو جائے گا کتنی سچائی سے مجھ سے زندگی نے کہہ دیا تو نہیں میرا تو کوئی دوسرا ہو جائے گا...

Read More

نہ جی بھر کے دیکھا نہ کچھ بات کی

نہ جی بھر کے دیکھا نہ کچھ بات کی بڑی آرزو تھی ملاقات کی اجالوں کی پریاں نہانے لگیں ندی گنگنائی خیالات کی میں چپ تھا تو چلتی ہوا رک گئی زباں سب سمجھتے ہیں جذبات کی مقدر مری چشم پر آب کا برستی ہوئی رات برسات کی کئی سال سے کچھ خبر...

Read More

یوں ہی بے سبب نہ پھرا کرو

یوں ہی بے سبب نہ پھرا کرو کوئی شام گھر میں رہا کرو وہ غزل کی سچی کتاب ہے اسے چپکے چپکے پڑھا کرو کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلہ سے ملا کرو ابھی راہ میں کئی موڑ ہیں کوئی آئے گا کوئی...

Read More

آنکھوں میں رہا دل میں اتر کر نہیں دیکھا

آنکھوں میں رہا دل میں اتر کر نہیں دیکھا کشتی کے مسافر نے سمندر نہیں دیکھا بے وقت اگر جاؤں گا سب چونک پڑیں گے اک عمر ہوئی دن میں کبھی گھر نہیں دیکھا جس دن سے چلا ہوں مری منزل پہ نظر ہے آنکھوں نے کبھی میل کا پتھر نہیں دیکھا یہ...

Read More