بزم میں جو ترا ظہور نہیں
بزم میں جو ترا ظہور نہیں شمع روشن کے منہ پہ نور نہیں کتنی باتیں بنا کے لاؤں ایک یاد رہتی ترے حضور نہیں خوب پہچانتا ہوں تیرے تئیں اتنا بھی تو میں بے شعور نہیں قتل ہی کر کہ اس میں راحت ہے لازم اس کام میں مرور نہیں فکر مت کر ہمارے...
Read More