تنہائی
پھر کوئی آیا دل زار نہیں کوئی نہیں راہرو ہوگا کہیں اور چلا جائے گا ڈھل چکی رات بکھرنے لگا تاروں کا غبار لڑکھڑانے لگے ایوانوں میں خوابیدہ چراغ سو گئی راستہ تک تک کے ہر اک راہ گزار اجنبی خاک نے دھندلا دیئے قدموں کے سراغ گل کرو...
Read Moreہم دیکھیں گے لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے جو لوح ازل میں لکھا ہے جب ظلم و ستم کے کوہ گراں روئی کی طرح اڑ جائیں گے ہم محکوموں کے پاؤں تلے جب دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی اور اہل حکم کے سر اوپر جب بجلی کڑ کڑ کڑکے...
Read Moreمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ میں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات تیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہے تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں...
Read Moreشہر کے گوشوں میں ہیں بکھرے ہوئے پا شکستہ سر بریدہ خواب جن سے شہر والے بے خبر! گھومتا ہوں شہر کے گوشوں میں روز و شب کہ ان کو جمع کر لوں دل کی بھٹی میں تپاؤں جس سے چھٹ جائے پرانا میل ان کے دست و پا پھر سے ابھر آئیں چمک اٹھیں لب و...
Read Moreزندگی سے ڈرتے ہو؟ !زندگی تو تم بھی ہو زندگی تو ہم بھی ہیں! زندگی سے ڈرتے ہو؟ آدمی سے ڈرتے ہو؟ آدمی تو تم بھی ہو آدمی تو ہم بھی ہیں آدمی زباں بھی ہے آدمی بیاں بھی ہے اس سے تم نہیں ڈرتے! حرف اور معنی کے رشتہ ہائے آہن سے آدمی ہے...
Read Moreمدرسہ یا دیر تھا یا کعبہ یا بت خانہ تھا ہم سبھی مہمان تھے واں تو ہی صاحب خانہ تھا واے نادانی کہ وقت مرگ یہ ثابت ہوا خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا حیف! کہتے ہیں ہوا گل زار تاراج خزاں آشنا اپنا بھی واں اک سبزۂ بیگانہ...
Read Moreہم تجھ سے کس ہوس کی فلک جستجو کریں دل ہی نہیں رہا ہے کہ کچھ آرزو کریں مٹ جائیں ایک آن میں کثرت نمائیاں ہم آئنے کے سامنے جب آ کے ہو کریں تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں سر تا قدم زبان ہیں جوں شمع گو...
Read More