Author: nawarsi786

انشاؔ جی اٹھو اب کوچ کرو

انشاؔ جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کو لگانا کیا وحشی کو سکوں سے کیا مطلب جوگی کا نگر میں ٹھکانا کیا اس دل کے دریدہ دامن کو دیکھو تو سہی سوچو تو سہی جس جھولی میں سو چھید ہوئے اس جھولی کا پھیلانا کیا شب بیتی چاند بھی ڈوب چلا...

Read More

کل چودھویں کی رات تھی

کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا ترا کچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرا ترا ہم بھی وہیں موجود تھے ہم سے بھی سب پوچھا کیے ہم ہنس دئیے ہم چپ رہے منظور تھا پردہ ترا اس شہر میں کس سے ملیں ہم سے تو چھوٹیں محفلیں ہر شخص تیرا...

Read More

شام غم کی سحر نہیں ہوتی

شام غم کی سحر نہیں ہوتی یا ہمیں کو خبر نہیں ہوتی ہم نے سب دکھ جہاں کے دیکھے ہیں بیکلی اس قدر نہیں ہوتی نالہ یوں نارسا نہیں رہتا آہ یوں بے اثر نہیں ہوتی چاند ہے کہکشاں ہے تارے ہیں کوئی شے نامہ بر نہیں ہوتی ایک جاں سوز و نامراد...

Read More

دل ہجر کے درد سے بوجھل ہے

دل ہجر کے درد سے بوجھل ہے اب آن ملو تو بہتر ہو اس بات سے ہم کو کیا مطلب یہ کیسے ہو یہ کیوں کر ہو اک بھیک کے دونوں کاسے ہیں اک پیاس کے دونو پیاسے ہیں ہم کھیتی ہیں تم بادل ہو ہم ندیاں ہیں تم ساگر ہو یہ دل ہے کہ جلتے سینے میں اک...

Read More

ابھی ہماری محبت کسی کو کیا معلوم

ابھی ہماری محبت کسی کو کیا معلوم کسی کے دل کی حقیقت کسی کو کیا معلوم یقیں تو یہ ہے وہ خط کا جواب لکھیں گے مگر نوشتۂ قسمت کسی کو کیا معلوم بظاہر ان کو حیا دار لوگ سمجھے ہیں حیا میں جو ہے شرارت کسی کو کیا معلوم قدم قدم پہ تمہارے...

Read More

بات میری کبھی سنی ہی نہیں

بات میری کبھی سنی ہی نہیں جانتے وہ بری بھلی ہی نہیں دل لگی ان کی دل لگی ہی نہیں رنج بھی ہے فقط ہنسی ہی نہیں لطف مے تجھ سے کیا کہوں زاہد ہائے کم بخت تو نے پی ہی نہیں اڑ گئی یوں وفا زمانے سے کبھی گویا کسی میں تھی ہی نہیں جان کیا...

Read More

‏مانی ہزار منتیں رد نہ ہوئی

‏مانی ہزار منتیں رد نہ ہوئی بلائے دل درد کچھ اور بڑھ گیا میں نے جو کی دوائے دل میری طرح خدا کرے تیرا کسی پے آئے دل تو بھی جگر کو تھام کہ کہتا پھرے کے ہائےدل غنچہ سمجھ کے لے لیا چُٹکی سے یوں مسل دیا ان کا تو اک کھیل تھا لُٹ گیا...

Read More

اچھی صورت پہ غضب ٹوٹ

اچھی صورت پہ غضب ٹوٹ کے آنا دل کا یاد آتا ہے ہمیں ہائے زمانا دل کا تم بھی منہ چوم لو بے ساختہ پیار آجائے میں سناؤں جو کبھی دل سےفسانا دل کا ان حسینوں کا لڑکپن ہی رہے یا اللہ ہوش آتا ہے تو آتا ہے ستانا دل کا میری آغوش سے کیا ہی...

Read More

کوئی امید بر نہیں آتی

کوئی امید بر نہیں آتی کوئی صورت نظر نہیں آتی موت کا ایک دن معین ہے نیند کیوں رات بھر نہیں آتی آگے آتی تھی حال دل پہ ہنسی اب کسی بات پر نہیں آتی جانتا ہوں ثواب طاعت و زہد پر طبیعت ادھر نہیں آتی ہے کچھ ایسی ہی بات جو چپ ہوں ورنہ...

Read More

ہر ایک بات پہ کہتے ہو

ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے تمہیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے نہ شعلہ میں یہ کرشمہ نہ برق میں یہ ادا کوئی بتاؤ کہ وہ شوخ تند خو کیا ہے یہ رشک ہے کہ وہ ہوتا ہے ہم سخن تم سے وگرنہ خوف بد آموزی عدو کیا ہے چپک رہا ہے بدن...

Read More