Author: nawarsi786
میں بے قصور ہوں
“میں بے قصور ہوں” گھر کی خاموشی بتا رہی تھی، آج پھر کوئی سانحہ ہوا ہے۔ اس گھر کے سارے سانحے پیسوں سے لے کر پیسوں پہ ہی ختم ہوتے تھے۔ آج بھی کچھ ایسا ہی واقع پیش آیا ہو گا۔ گھر کی دیوار پھلانگ کر مجیب برآمدے میں...
Read Moreشجرِ سادات
شجرِ سادات نصیر وارثی حسین آباد کا ایک چھوٹا سا گاؤں تھا، جہاں وقت نے اپنی رفتار دھیرے دھیرے مدھم کر رکھی تھی۔ یہاں کے لوگ سادہ تھے، قدیم روایات کے دلدادہ، اور اپنے خاندانی پس منظر پر فخر کرنے والے۔ اسی گاؤں میں سید زادوں کا...
Read Moreسفاک حقیقتیں
سفاک حقیقتیں “حسن ماموں”، نعیم کی پکار پر میں نے گردن گھما کر اسے دیکھا “آپ کو ماما بلا رہی ہیں” اتنی اطلاع دے کر وہ جھپاک سے نکل گیا حالانکہ میں اُس سے آپی کے بُلانے کی وجہ دریافت کرنا چاہتا تھا لیکن اُس...
Read Moreخاموش چیخیں
خاموش چیخیں زندگی معمول کے مطابق رواں دواں تھی۔سورج بادلوں اوٹ سے نکل کر جھانک رہا تھا۔ اسما آنکھیں موندے پارک میں بینچ پہ بیٹھی تھی۔ اور ہر تھوڑی دیر کے بعد پاس سے گزرتے لوگوں کے قدموں کی چاپ اُسکے خیالوں میں خلل ڈال رہی تھی۔...
Read Moreحاجی صاحب کا راز
حاجی صاحب کا راز حاجی صاحب علاقے کی ایک محترم شخصیت تھے، جن کی دیانتداری اور کردار کی مثالیں دی جاتی تھیں۔ لوگ ان کی عزت کرتے تھے اور ان کی باتوں کو سنجیدگی سے لیتے تھے۔ مگر آج، جب وہ ایک جوان لڑکی مریم کو اپنے گھر لائے ، تو...
Read More۔۔۔ جوان اولا د ۔۔۔
۔۔۔ جوان اولا د ۔۔۔ ابا آپ نے ساری زندگی کیا ہی میرے لئے جو آج حساب مانگ رہے ہیں۔ دوکان کو اپنے بل بوتے پہ میں نے آگے بڑھایا ہے۔ ابا یہ جو کاروبار کے نام پہ مجھے چھوٹی سی دوکان کھول کر دی ہے نا اسکی بھی زحمت کرنے کی ضرورت نہیں...
Read Moreقرضِ مکافات
قرضِ مکافات (قسط دوم) مناہل ایک خوبصورت اور باکردار خاتون تھی۔ اس کا چہرہ نہایت خوبصورت اور جاذبِ نظر تھا، آنکھیں ہلکی نیلی اور پُر کشش تھیں، آنکھوں کے اوپر ابرو ہلال اوّل کی مثل دو لائنیں تھیںجو اس کی آنکھوں کی خوبصورتی...
Read More