اداریہ

بین الاقوامی اردو سہ ماہی جرنل ورثہ نیویارک شمارہ 17جلد6 کو اب ادبی صحافت کی دنیا میں استنادیعنیRecognitionکا درجہ حاصل ہوچکا ہے۔مغرب و مشرق اور شمال و جنوب میں قارئین کے درمیان زبان زد خاص و عام ہے۔اس کی مقبولیت اور ہر دل عزیزی اور وجہ تسمیہ مجلس ادارت ومشاورت نیز نگران اور ایڈوائزس کا بے لوث خلوص اور تخلیق کار جناب رئیس وارثی اور اس کے مدیر فعال شخصیت خادم اردو‘شاعر و ادیب نصیر وارثی ہیں جنھوں نے اس اردو جرنل کے ذریعہ نئی نسل کو ایک نیا ادبی پلیٹ فارم عطا کیا اور پرانے اردو اداروں،قلم کاروں و اساتذہ کو نئے انداز سے پیش کرنے کی کامیاب کوشش کی۔
معروف دانشور جناب سعید وارثی کی یاد میں ’ورثہ‘ کی پابندی سے اشاعت اور اردو مرکز نیویارک کے ذریعہ وارثی برادران کی محنت شاقہ مسلسل جدوجہد‘عالمی سطح پر اہل علم ودانش سے رابطہ ذاتی خرچ پر ’ورثہ‘ کی معیاری اشاعت کامیابیوں سے ہم کنار ہے۔ گذشتہ چند برسوں سے تمام شماروں کے علاوہ ’ورثہ‘کے خصوصی شمارے بھی قارئین کی توجہ کا مرکز رہے‘اور مسلسل پذیرائی حاصل ہوتی رہی۔بیک وقت تین ممالک سے اس ایڈیشن کی اشاعت خوش آیند قدم ہے جو اردو کی ادبی و علمی صحافت کے ذہنی افق کو بلندی اور کامرانی عطا کرتا ہے۔
ادھر اردو مرکز نیویارک کے تحت اردو’ورثہ‘ فاؤنڈیشن کا قیام اور اس کی ترویج و ترقی میں گامزن نصیر وارثی کی ذاتی دلچسپی اور کاوشیں اردو قارئین اور ریسرچ اسکالرز کے لیے نئے انداز کی سہولتیں فراہم کرتی ہیں۔روزافزوں ورثہ فاؤنڈیشن میں شامل کتابوں اور ادبی و علمی ذخیرہ میں اضافہ ہورہا ہے جو دنیا کی بڑی زبانوں میں دستیاب ہیں۔اہم کتابوں کی نشرواشاعت ’ادبی پروگرام‘ مذاکروں کا انعقاد کے علاوہ عالمی سطح پر معروف دانشوروں کو ان کی اردو خدمات پر ’نشان اردو‘بین الاقوامی ایوارڈ سے سرفراز کرنا،ان کی منصوبہ بندی میں شامل ہے۔ ہندوستان میں اب تک اردو مرکز کے زیر اہتمام دوایوارڈ دئیے گئے۔ پہلا ایوارڈ پروفیسر گوپی چند نارنگ نئی دہلی کو تفویض کیا گیاجبکہ دوسرا ایوارڈ معروف دانشور اور نقاد پروفیسر ضیاء الرحمٰن صدیقی علی گڑھ کو دیا گیا۔
اردو مرکز نیویارک کے زیر اہتمام امریکی یونیورسٹی کے اشتراک سے آن لائن اردو سرٹیفک کورس SCRIPTE ORTHO GRAPHY، URNکی طرز پر عالمگیر سطح پر شروع کرنے کا اعلان کیاگیاہے۔تین ماہ پر مشتمل یہ قلیل مدتی کورس بہت جلد شروع ہوجائے گا۔جو یقینا ایک خوش آیند قدم ہے۔
عالمی سطح پر جنگ کے آغاز سے عالم انسانیت خوف زدہ رہی۔اس کے مضر اثرات سے عام زندگی متاثر کن ہورہی تھی‘لیکن جنگ بندی کے اعلان نے انسانی زندگی کو راحت کی بشارت دی۔عوامی زندگی پھر اسی طرز پر واپس آگئی۔مذہبی قائدین،سیاسی و فوجی سربراہوں نے اپنی جان کی قربانی دے کر امن و آشتی کا ماحول قایم کیا۔ان قائدین کی قربانیاں عالم انسانیت کے لیے محبت ودیدلحانہ امن کا ابدی پیغام ثابت ہوئیں۔
ادبی و صحافتی سطح پر مدیران’ورثہ‘ کی قربانیاں بھی قابل ذکر ہیں جنھوں نے اپنی ذاتی دلچسپی محنت شاقہ اور ذہنی وابستگی سے ’ورثہ‘ کو عالمی سطح پر پہچان دی اوراپنی اس سرگرمی کو شوق کے طور پر برتا۔
قارئین ’ورثہ‘ کی ترویج و اشاعت اور اس کو معیاری بنانے میں اپنی قیمتی آرا سے نوازتے رہیں گے اور دام درم اپنا تعاون پیش کرتے رہیں گے۔

سمجھتا ہے تو راز ہے زندگی
فقط ذوق پرواز ہے زندگی

پروفیسر ضیاء الرحمٰن صدیقی                                                      
مدیر انڈیا ایڈیشن علی گڑھ