نعت شریف
کلام :وشنو کمار شوق لکھنوی
نہ ہوتےگر محمدﷺہر خوشی بيکار ہو جاتی
خدائی رہتی ناقص ، زندگی بے کار ہو جاتی
نہ ہو جاتی اگر روشن حقيقت نُور سے اُن کے
تو پهر شمس و قمر کی روشنی بيکار ہو جاتی
نقابِ جلوهٔ وحدت اگر حضرت اُلٹ ديتے
طلسمِ رنگ و بو کی دل کشی بيکا رہو جاتی
اگر اُن کی نظر الفت کو آئينہ نہ کرديتی
بشر گمراه ہوتا دوستی بيکا ر ہو جاتی
جمالِ احمدی کا کيوں نہ ہواحسان دنيا پر
بغير اس کے تو ہرجلوه گری بيکار ہو جاتی
رسول الله کی رحمت اگر ہوتی نہ بندوں پر
محبت بے اثر اور زندگی بيکا ر ہوجاتی
عطا کرتے نہ گر اے شوق یہ توفيق وه مجھ کو
قضا ہوتیں نمازيں ، بندگی بيکار ہو جاتی
ٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓ
از ن م راشد
میں تیرا ثنا خواں ہوں مجھے ذوق نظر دے
اک ذہنِ رسا قلبِ تپاں دیدہ تر دے
تو میرے دردوں کو پذیرائی عطا کر
تو میرے سلاموں کو کبھی رنگِ اثر دے
تو قطرہء نیساں کو بنا دیتا ہے موتی
آنکھیں میں جو آنسو ہیں انہیں آبِ گہر دے
ہم منزل حیات پہ کھڑے سوچ رہے ہیں
اس قافلہء شوق کو اب اذن سفر دے
کچھ شب کے اندھیرے میں سجھائی نہیں دیتا
اے مطلعء انوار مجھے نور سحر دے
اک عمر سے سیراب نہیں چشم تماشا
اے سید لولاک مری آنکھ کو بھر دے
==============