منقبت
(میر انیس)​

خوشا زمینِ معلیٰ، زہے فضائے نجف​
ریاضِ خلد بھی ہے شائقِ ہوائے نجف​

یہ شوق ہے کہ نہ بیدار ہوں قیامت تک​
جو خواب میں کبھی نقشہ مجھے دکھائے نجف​

پہنچ کے خلد میں جب دیکھتے ہیں قصرِ رفیع​
پکار اٹھتے ہیں زوّار، ہائے ہائے نجف​

مریض کے لیے اکسیر ہیں یہ دو نسخے​
غبارِ مرقدِ شبیر اور ہوائے نجف​

جسے خدا سے محبت ہے اس کو کعبے سے​
جسے ولائے علی ہے، اسے ولائے نجف​

ملی انگوٹھی بھی ویسی ہی، تھا نگیں جیسا​
نجف برائے علی تھا، علی برائے نجف​

وہاں قدم کا ہے کیا کام، اے ادب، توبہ​
سروں سے چلنے کے قابل ہیں کوچہ ہائے نجف​

جسے بہشت میں آنا ہو، آئے وہ مجھ تک​
ہر اک دیار میں آتی ہے یہ صدائے نجف​

علی کی قبر کے زوّار، پاک دامن ہیں​
گناہ ڈھنپ گئے، جب اوڑھ لی ردائے نجف​

شراب بنتی ہے سرکہ، علی کی دہشت سے​
یہ انقلاب نہ دیکھا کہیں، سوائے نجف​

اِدھر سے کوششِ کامل ہے، اُس طرف سے کشش​
انیس ہم نہ رہیں گے کہیں، سوائے نجف​