خالد معین
خوشی کے بیچ اچانک ملال آ گیا ہے
ہمیں تمہارا اچانک خیال آ گیا ہے
کھلے گلاب نئی رت کے اس طرح جیسے
بہت قریب محبت کا سال آ گیا ہے
گریز رکھتے ہوئے بھی گریز رکھتا نہیں
ہمیں خوشی ہے تمہیں یہ کمال آ گیا ہے
نظر سے اترے ہو، دل سے ابھی نہیں اترے
تعلقات کے شیشے میں بال آ گیا ہے
مقام و عزت و رتبے میں کون ہے آگے
ہمارے بیچ یہ کیسا سوال آ گیا ہے
اُڑے بغیر ہی پر کٹ گئے تو یہ جانا
ہمیں عروج سے پہلے زوال آ گیا ہے