عالمی علمی وادبی شخصیات کےپیغامات
ورثہ اُردو جرنل کے اس خصوصی شمارے “شمسُ الرحمٰن فاروقی نمبر” کے لیے دنیا بھر کی ممتاز ادبی شخصیات کی جانب سے ارسال کردہ تاثرات، پیغامات اور خراجِ تحسین اس اشاعت کو ایک معتبر عالمی فکری دستاویز کا درجہ عطا کرتے ہیں۔ یہ پیغامات نہ صرف شمسُ الرحمٰن فاروقی کی علمی و تنقیدی عظمت کے اعتراف پر مشتمل ہیں بلکہ ورثہ اُردو جرنل کی ادبی، تحقیقی اور فکری خدمات کی عالمی سطح پر پذیرائی کا بھی واضح اظہار ہیں۔ یوں یہ شمارہ اردو ادب کی بین الاقوامی معنویت اور فکری وسعت کا بلیغ مظہر بن کر سامنے آتا ہے۔
ورثہ کا یہ خصوصی شمارہ شمسُ الرحمٰن فاروقیؔ جیسی ہمہ جہت ادبی شخصیت کو خراجِ تحسین ہے۔ یہ کاوش اردو تنقید کی روایت میں ایک یادگار اضافہ ہے۔
رحمان شمس(بنگلہ دیش)
شمسُ الرحمٰن فاروقی نمبر کی اشاعت پر ادارۂ ورثہ مبارک باد کا مستحق ہے کہ اس نے عہدِ حاضر کی سب سے توانا تنقیدی آواز کو علمی وقار کے ساتھ پیش کیا۔
سہیل ریاض( سعودی عرب)
یہ خصوصی شمارہ نہ صرف فاروقیؔ کے فکری کارناموں کا احاطہ کرتا ہے بلکہ اردو ادب کے فہمِ جدید کو بھی نئی جہت عطا کرتا ہے۔
ڈاکٹر متین خان(نیپال)
ورثہ کا یہ اقدام قابلِ تحسین ہے کہ اس نے شمسُ الرحمٰن فاروقیؔ کی تنقیدی بصیرت کو یکجا کر کے آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ کر دیا۔
پروفیسر سیماعلی(پاکستان)
فاروقیؔ نمبر دراصل اردو تنقید، شعریات اور فکری روایت کی ایک جامع دستاویز ہے۔ ورثہ اس ادبی خدمت پر مبارک باد کا مستحق ہے۔
ڈاکٹر سجاد حسن(پاکستان)
شمسُ الرحمٰن فاروقیؔ جیسے عہد ساز نقاد پر خصوصی شمارہ شائع کرنا اردو ادب سے سنجیدہ وابستگی کا روشن ثبوت ہے۔
پروفیسر مجید منصور( انڈیا)
یہ شمارہ فاروقیؔ کی فکری عظمت، تحقیقی دیانت اور تنقیدی جرأت کو بھرپور انداز میں اجاگر کرتا ہے۔
ڈاکٹر شبانہ نسرین(انڈیا)
ورثہ نے اس خصوصی شمارے کے ذریعے اردو تنقید کی تاریخ کو ایک مضبوط حوالہ فراہم کیا ہے۔
پروفیسر ٖضیاء علی کاظمی( پاکستان)
شمسُ الرحمٰن فاروقیؔ نمبر علمی وقار، تحقیقی گہرائی اور ادبی شعور کا حسین امتزاج ہے۔
ڈاکٹر حسن شہزاد(سوئیڈن)
یہ شمارہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ شمسُ الرحمٰن فاروقیؔ اردو ادب میں ایک پورا دبستان ہیں، محض ایک فرد نہیں۔
محترمہ نور شہناز(ایران)
ورثہ کا یہ خصوصی شمارہ اردو تنقید کے سنجیدہ قاری کے لیے ایک قیمتی تحفہ ہے۔
ڈاکٹر شازیہ ملک(کشمیر)
فاروقیؔ نمبر اس بات کا ثبوت ہے کہ ورثہ محض ایک جریدہ نہیں بلکہ ایک ادبی روایت کا امین ہے۔
ڈاکٹر حفیظ ماجد(شکا گو)
شمسُ الرحمٰن فاروقیؔ کے فکری کارناموں پر اس نوعیت کا شمارہ وقت کی اہم ضرورت تھا، جسے ورثہ نے احسن طریقے سے پورا کیا۔
ڈاکٹر عارف زمان(سان فرانسسکو)
یہ خصوصی شمارہ اردو ادب میں تحقیقی و تنقیدی معیار کی بلندی کی علامت ہے۔
عندلیب شازی(دبئی)
فاروقیؔ نمبر نئی نسل کو تنقید کے جدید شعور سے آشنا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
پروفیسرامان اللہ(نیو جرسی)
ورثہ نے شمسُ الرحمٰن فاروقیؔ کے ذریعے اردو تنقید کی کلاسیکی اور جدید روایت کو یکجا کر دیا ہے۔
عاطف حسن خاں(واشنگٹن)
یہ شمارہ اردو ادب کی سنجیدہ تاریخ نویسی میں ایک مستند حوالہ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ڈاکٹر خالدہ مسعود( نیویارک)
شمسُ الرحمٰن فاروقیؔ نمبر علمی دیانت، فکری تنوع اور ادبی بصیرت کا شاندار مظہر ہے۔
روبینہ ریاض(پاکستان)
ورثہ کی ادارت اور تحقیقی ٹیم اس قابلِ فخر کارنامے پر دلی مبارک باد کی مستحق ہے۔
پروفیسر مہدی رضا( دہلی)
یہ خصوصی شمارہ شمسُ الرحمٰن فاروقیؔ کی ادبی عظمت کو زندہ رکھنے کا ایک باوقار اور دیرپا ذریعہ ثابت ہوگا۔
پروفیسر مطیع الرحمن جزبی(بنگلہ دیش)
ار باب ورثہ با مخصوص نصیر وارثی صاحب: رئیس وارثی صاحب اور پروفیسر ضیاء الرحمن صدیقی صاحب تہنیت کے حق دار ہیں کہ انہوں نے شمس الرحمن فاروقی جیسی نائبعہ روزگار شخصیت اردو زبان اور ادب کے محقق اور نقاد کی خدمات جلیلہ کے اعتراف کے طور پر ورثہ کا خصوصی شمارہ شائع کیا۔ شمس الرحمن فاروقی کی علمی، ادبی تحقیق تخلیقی اور تنقیدی فتوحات متعدد ہیں۔ میں صرف ان کے ایک نسبتہ کم معروف امتیاز کی نشاندہی کرنا اپنا فرض تصور کرتا ہوں ۔ فاروقی صاحب کی تقابلی ادب پر بھی دسترس غیر معمولی تھی ۔ اس کا دستاویزی ثبوت ان کا ایک انتہائی انگریزی مقالہ The Image of Satan in Iqbal and Milton ہے جو اقبال صدی تقریب کی یادگاری جلد : Iqbal Essays and Studies دہلی ، غالب اکیڈمی ۔ 1978 ) مرتبہ پروفیسر اسلوب احمد انصاری کی زینت ہے۔ چونکہ راقم الحروف کو اس تہہ دار مقالے کے اردو ترجمے بعنوان اقبال اور ملٹس کے کلام میں شیطان کی تصویر کشی کی سعادت حاصل رہی ۔ مجھے فاروقی صاحب کے انگریزی ادب تقابل ادیان ، مطالعہ بائبل اور کلام اقبال سے ان کے فرط تعلق کا براہ راست علم ہے۔ یہ مقالہ ان کی تنقیدی بصیرت اور بالیدہ ادبی ذوق پر دال ہے۔ اس میں جابج ملٹن کی شاہکار رزمیہ نظم Paradise Lost ( فردوس گم گشتہ ) اور اس کے مماثل یا مختلف اقبال کے اشعار کا موازنہ اور تجزیہ قارئین کو سیعی اور اسلامی روایات اور ان دونوں عظیم شعرا ہلٹن اور اقبال سے روشناس کرتے ہیں۔تقابلی ادب میں گراں قدراضافہ فاروقی صاحب ایک قابل ذکر امتیاز ہے۔ گو کہ اس سے عام طور پر واقفیت کم ہے۔ فاروقی صاحب کے وابستگان کو اس پہلو پر توجہ کرنا چاہیے۔
پروفیسر عبدالرحیم قدوائی
مسلم یونیورسٹی علی گڑھ
میرے نزدیک شمس الرحمن فاروقی صاحب کا سب سے پائیدار کارنامہ کوئی ایک کتاب، تحریک یا اصطلاح نہیں، بلکہ وہ ذہنی رویہ ہے جو انہوں نے اردو ادب کو عطا کیا: سوال اٹھانے کی جرات، روایت سے محبت کے ساتھ اس پر تنقیدی نظر، اور معیار کے معاملے میں بے لچک سخت گیری۔ ان پر یہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ وہ بعض اوقات حد سے زیادہ کھرے اور سخت معلوم ہوتے ہیں، مگر درحقیقت یہی سختی وہ خراج ہے جو انہوں نے ادب کی عظمت کے نام پر ادا کیا۔ آج جب ہم اردو کے سنجیدہ مطالعے، کلاسیکی شعریات کی تفہیم یا جدید تنقید کے کسی بھی بڑے سوال پر غور کرتے ہیں تو براہِ راست یا بالواسطہ شمس الرحمٰن فاروقی کی فکر سے مکالمہ کیے بغیر آگے بڑھنا تقریباً ناممکن ہے۔ یہی ان کی اصل معنوں میں “کلاسیکی” حیثیت ہے۔
پروفیسر مرزا حفیظ اوج(پاکستان)
“ورثہ” یہ انتہائی خوشی و مسرت کی بات ہے کہ بین الاقوامی سطح کا جریدہ ورثہ کا سہ ماہی شمارہ اردو ادب کی نامور و بین الاقوامی شہرت یافتہ شخصیت شمس الرحمن فاروقی صاحب کی عظیم ادبی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے شمس الرحمن فاروقی نمبر کے طور پر شائع ہورہا ہے۔ شمس الرحمن فاروقی صاحب مرحوم کی عظیم الشان شخصیت سے اردو ادب کے تینوں شعبوں یعنی تخلیق ،تنقید وتحقیق کو ایک باوقار مقام ہی نہیں عطا کیا بلکہ جہانِ فکر معنی واسلوب سے مزین کر کے ایک ایسے تناور درخت سے روشناس کرایا جس کی چھاؤں میں قافلۂ شعر وادب تحقیق و تنقید کے راہی اپنی منزل کی تلاش کر سکیں گے۔ وری کی پوری ٹیم قابل ستائش و مبارکباد کی مستحق ہے کہ انہوں نے اس شمارے کو ایسی شخصیت سے معنون کیا۔ مجھے اُمید ہی نہیں بلکہ یقین ہے کہ یہ رسالہ نہ صرف بین الاقوامی سطح پر ہمیشہ قبولیت حاصل کرتا رہے گا بلکہ اردو کے بین الاقوامی فروغ میں کارنمایاں سرانجام دے گا۔ اس یقین کی وجہ یہ ہے کہ دور نشہ کی پوری ادارتی ٹیم خود عالمی سطح کی شہرت رکھتی ہے۔ ”وریہ کے مدیر اعلیٰ اور نائب مدیر پرو فیسر ضیاء الرحمن صدیقی صاحب نہ صرف ادب کا بڑا نام ہیں بلکہ ادارت کی باریکیوں پر گہرائی و گیرائی کے ساتھ نظر رکھتے ہیں۔میں ورثہ کے اس خصوصی شمارے کے لیے اپنی نیک خواہشات پیش کرتا ہوں اور مسرت کا اظہار کرتا ہوں۔
پروفیسر سید محمدارشد رضوی
صدر شعبہ اردو ۔ گورنمنٹ رضایی۔ جی
کالج زامپور اتر پردیش انڈیا گردو جمبھیشور یونیورسٹی مراد آباد
امید ہے کہ عالمی اردو جرنل ـ’ورثہ‘ نیو یارک کا شمس الرحمن فاروقی نمبر سابقہ خصوصی شماروں کی طرح علمی حلقوں میں مقبول ہوگا۔ ورثہ کی ایک شاندار ادبی روایت رہی ہے اور اس میں بہت کم وقت میں عالمی سطرح پر اپنی شناخت قائم کی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کے پس پشت ورثہ کے مدیر اعلیٰ جناب رئیس وارثی، مدیر جناب نصیر وارثی اور ریذیڈنٹ ایڈیٹر پروفیسر ضاء الرحمن صدیقی کی محنت شاقہ کار فرما رہی۔ تقریبا ً تین سال قبل جب اس جرنل کا اجرا ہوا تھا کسے معلوم تھا کہ عالمی سطرح پر اس کی اتنی پذیرائی ہوگی۔ آج پوری دنیا میں ورثہ کو علمی اعتبار حاصل ہے۔ امید ہے کہ یہ اعتبار اسی طرح قائم رہے گا۔ زیر ترتیب شمس الرحمن فاروقی نمبر کے لیے صمیم قلب سے مبارکباد
(پروفیسر قمرالہدیٰ فریدی)
صدر شعبۂ اردو و سابق ڈائیرکٹر اردو اکیڈمی، اے ۔ایم ۔یو