شمس الرحمن فاروقی کی ترجمہ نگاری
کا تنقیدی بیانیہ

ڈاکٹر لیاقت علی
نیو دہلی

شمس الرحمٰن فاروقی علم و ادب میں محتاج تعارف نہیں ہیں۔ بیک وقت بلند پایہ ادیب، ناقد، منفرد افسانہ نگار، باصلاحیت مترجم اور وسیع مطالعہ، ماہر علم ِعروض، ادیب و شاعر ہونے کے علاوہ اردو لفظیات پر عبور، تلفظات پر تحقیق، نیز اردو، ہندی، فارسی، عربی، انگریزی، فرنچ زبانوں پر عبور رکھتے ہیں۔ فاروقی کی متعدد کتابیں ایسی ہیں جن میں خاص طور سے’ لفظ و معنی‘، ’شعر غیر شعر اور نثر‘،’ افسانے کی حمایت میں‘،’ تنقیدی افکار‘، ’شعر شور انگیز‘ وغیرہ جن کے ذریعہ اردو تنقید کا مزاج و رجحان بدل گیا۔ عہد ساز ادیب و ناقد فاروقی نے عصر حاضر کی تحقیق و تنقید، تشریح و تعبیر، شعر و سخن، افسانہ اور ناول سمیت ہر میدان میں انہوں نے کارنامے انجام دیے ہیں وہ ادب کے طالب علموں کے لیے ہی نہیں بلکہ ناقدین ادب کے لیے بھی نشان منزل کی حیثیت رکھتے ہیں۔فاروقی تنقید کے کس دبستان سے تعلق رکھتے ہیں، کس تحریک سے وابستہ تھے، ان کے تنقیدی نظریات کیا تھے وغیرہ الگ موضوعات ہیں لیکن میں یہاں ان کی ترجمہ نگاری کے حوالے سے ہی بات کروں گا جو میرے مضمون کا موضوع ہے۔
ترجمہ ایک ایسا فن ہے جس کے بغیر دوسری زبانوں کے علوم و فنون سے آشنائی نہیں ہو سکتی لیکن ترجمہ چونکہ دوسری زبان سے ماخوذ ہوتا ہے جس کے سبب طبع زاد کے مقابلے ترجمہ کو ثانوی حیثیت حاصل رہی ہے۔ ترجمہ کی متعدد تعریفیں کی گئی ہیں جن میں بعض کا خیال ہے کہ کسی تحریر، تصنیف یا تالیف کو کسی دوسری زبان میں منتقل کرتے ہوئے اس کی تعبیر پیش کرنا ہی ترجمہ کا فن ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ایک علمی یا ادبی پیکر کو دوسرے پیکر میں ڈھالنے کا عمل ترجمہ کہلاتا ہے۔ اگر ہم ان تمام تعریفات کا بغور مطالعہ کریں تو اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ترجمہ نگاری ایک مشکل اور پیچیدہ عمل ہے۔ اصل متن کی داخلی ساخت، آہنگ و اسالیب کو برقرار رکھتے ہوئے اسے دوسری زبان میں منتقل کرنا بہت مشکل کام ہے۔ لیکن فاروقی نے اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے ترجمہ نگاری کے مشغلے کو سنجیدگی اور انہماک کے ساتھ اپنایا۔ فاروقی کو یہ اندازہ تھا کہ عہد حاضر کی ٹیکنالوجی کی وسعت سے مختلف زبانیں بولنے والوں میں ارتباط و اختلاط بڑھتا جا رہا ہے اور ترجمہ ہی ایک ایسی صورت ہے جس کے ذریعے ہم ایک دوسرے کے طور طریقے، مذہب، ادب اور تہذیب کو سمجھ سکتے ہیں۔ شمس الرحمن فاروقی نے اپنے ادبی سفر کا آغاز ایک مصرعے سے کیا اور وہ مصرعہ ہے
’’معلوم کیا کسی کو مرا حال زار کیا‘‘1؎(کاروان اردو، ص357)
حالانکہ اس مصرعے پرکبھی دوسرا مصرع نہ کہا۔ابتدائی دنوں میں عروض سے ناواقفیت کے سبب شعر گوئی کا سلسلہ بہت جلد بند ہوگیا اور ادبی دنیا میں ان کا باضابطہ داخلہ بحیثیت افسانہ نویس ہوا۔ ان کی ابتدائی تحریر’مفلوج عقلیں‘ نام سے شائع ہوئی۔ یہ ایک افسانہ ہے جو اسلامیہ کالج گورکھپور کی میگزین میں شائع ہوا تھا۔شمس الرحمن فاروقی کی ابتدائی تحریروں میں ’سرخ آندھی‘ نام کا ایک افسانہ بھی ہے جو سوویت روس کے استبدادپر تحریر کیا گیا تھا۔اس کا انگریزی ترجمہ خود فاروقی نے”The Scarlet Tempest” کے عنوان سے کیا تھا جو الہ آباد یونیورسٹی کے میگزین میں شائع ہوا تھا۔اس ترجمے سے متعلق فاروقی نے خود کہاہے:
’’اردو میں وہ افسانہ کہاں چھپا مجھے یاد نہیں۔ میں نے جھٹ پٹ ترجمہ کر کے افسانے کا انگریزی عنوان “The Scarlet Tempest”رکھا۔ ٹائپ وغیرہ کرنے کا تو سوال ہی نہ تھا۔ ہاتھ سے لکھ لکھا کر میں نے افسانہ ان کے حوالے کیا اور میری توقع کے بالکل خلاف انہوں نے بھی پسند کیا اور اسی عنوان سے چھاپ دیا۔ بہر حال اب میرے پاس اس افسانے کا نہ اردو مسودہ ہے نہ انگریزی اور نہ الہ آباد یونیورسٹی میگزین کا وہ شمارہ جس میں “The Scarlet Tempest” چھیا تھا‘‘2؎(سوار اور دوسرے افسانے،ص15)
ادبی دنیا میں شمس الرحمن فاروقی کی ابتدائی کاوشوں میں “Venus and Adonis”کا ترجمہ بھی شامل ہے۔ بات 31مئی 1953ء کی ہے جب فاروقی محض سترہ برس کچھ مہینوں کے تھے۔ حالانکہ فاروقی نے کبھی اس بات کا دعوی نہیں کیا کہ انہوں نے اس نظم کی بہت اچھی ترجمانی کی تھی، تاہم وہ لکھتے ہیں:
’’میں نے آخری حاشیے میں لکھا تھا کہ نظم پڑھ لینے کے بہت دیر بعد بھی اس کی نغمگی دماغ میں گونجتی رہے گی۔ افسوس کہ میرا ترجمہ اس قدر سپاٹ ہے کہ مجھے خود شرم آرہی ہے، لیکن شاید آج کی زبان میں اس نظم کا ترجمہ ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ اس کے لیے تو رومی کی زبان اور انہیں کا قلم چاہیے۔‘‘ 3؎ ( کاروان اردو، ص376)
یہ فاروقی کے ترجموں کی وہ ابتدائی جھلکیاں ہیں جن سے ان کے ذوق ترجمہ نگاری کا پتہ ملتا ہے۔فاروقی کو خدا نے جو صلاحیتیں دی تھیں وہ انہیں ایک باکمال مترجم بنانے کے لیے سازگار تھیں۔ جیسا کہ پہلے بھی ذکر کیا گیا ہے کہ وہ بیک وقت اردو، فارسی، انگریزی، ہندی پر مکمل دسترس رکھتے تھے جبکہ عربی اور فرانسیسی سے بھی اچھی بھلی واقفیت تھی۔ مختلف زبانوں سے واقفیت کے سبب جہاں ان کا مطالعہ بے حد وسیع ہوا وہیں انھوں نے دیگر زبانوں سے اردو میں اور اردو سے انگریزی میں بے شمار تراجم پیش کیے۔ شمس الرحمن فاروقی کی زندگی کے بیشتر حوالے کسی نہ کسی طرح سے مشہور زمانہ رسالہ’ شب خون‘ سے جا ملتے ہیں۔ فاروقی کے تراجم کی بات کرتے ہوئے بھی ہمیں ’شب خون‘ کے اوراق پلٹنے پڑتے ہیں۔ کیونکہ اس رسالے میں بالکل ابتدائی ایام میں فاروقی نے کئی افسانوں کے تراجم شائع کیے تھے جن میں بعض ترجمے فرضی ناموں سے بھی شائع کیے گئے۔ اس سلسلے میں فاروقی صاحب کا یہ اقتباس ملاحظہ کیجیے:
’’شب خون کا پہلا شمارہ بابت ماہ جون 1966ء میں شائع کر دیا۔ یہ مئی 1966ء کا وسط تھا، پہلے ہی شمارے میں کئی چیزیں میں نے ایسی شامل کیں جو لکھی تو میں نے ہی تھیں لیکن ان پر نام کچھ اور تھا، ان میں ایک نام ’شہر زاد‘ بھی تھا۔ جسے ایک بھیانک افسانے (Terror story) کے مترجم اور بھیانک افسانے پر ایک تنقیدی نوٹ کے مصنف کی حیثیت سے پیش کیا گیا تھا۔ ’شہر زاد‘ کے بہت سے تراجم ’شب خون‘ میں شائع ہوئے اور مقبول ہوئے۔ پھر ایک آدھ طبع زاد افسانہ میں نے جاوید جمیل کے نام سے’ شب خون ‘ہی میں لکھا لیکن پھر بھی معاملہ زیادہ تر افسانوں اور ڈراموں کے تراجم تک محدود رہا۔‘‘4؎ (سوار اور دوسرے افسانے، ص 15)
یہاں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ فاروقی نے بہت سے افسانے اور ڈرامے ترجمہ کیے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ فاروقی نے شاعری کے بھی تراجم کیے ہیں۔وہ لکھتے ہیں:
’’پھر ایک دن وہ آیا جب میں نے اپنی بیاض پھاڑ کر پھینک دی۔ اور شعر گوئی کی جگہ شعر کا ترجمہ کرنے کو اپنا طرز قرار دیا۔ انگریزی کی بہت سی شاعری پڑھتے،کچھ سمجھتے اور کچھ نہ سمجھتے اور اس سے بہت متاثر ہونے کا لازمی نتیجہ یہ تھا کہ دل میں ترجمے کی ہوک اٹھی۔ لہذا میں نے آؤن ایلیٹ اور ان کے علاوہ کئی چھوٹے موٹے شعرا کے نثری ترجمے شروع کر دیے۔۔۔مجھے اب تک یاد ہے کہ آؤن کی ایک نظم (its no use raising a shout) کا نثری ترجمہ مجھے بہت اچھا لگا تھا کیونکہ میں نے اپنے خیال میں آؤن کی نظم کی کمزوری اور کلباتی (Cyrical) لیکن ایک حد تک المناک آوازاپنے نثری آہنگ میں حاصل کر لی تھی۔‘‘5؎(روشنائی، ص110)
شاعری اور فکشن کے ترجموں کے علاوہ سنجیدہ تنقیدی تحریریں بھی فاروقی نے انگریزی سے اردو زبان میں ترجمہ کیں۔’ شب خون‘ کا مطالعہ کرنے والے جانتے ہوں گے کہ اس کے چند ابتدائی صفحات میں ایک صفحے پر کسی نہ کسی انگریزی ناقد کی کتاب یا کسی تھیوری سے متعلق تحریر کا ترجمہ اکثر و بیشتر شائع ہوا کرتا تھا جس کے مترجم فاروقی صاحب تھے۔ ترجمہ نگاری کے میدان میں جہاں فاروقی صاحب نے دوسروں کی تحریروں کے ترجمے کیے ہیں وہیں انھوں نے اپنی تحریروں کے ترجمے کے علاوہ براہ راست بھی انگریزی میں مضامین و مقالے تحریر کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اپنے مداحوں کے اصرار پر اور کوئی انگریزی مترجم موجودنہ ہونے کی وجہ سے مجھے ہی اپنی تصانیف کے تراجم کا کام کرنا پڑا۔اور اس وجہ سے اردو کی کئی اہم کتابیں انگریزی زبان میں شائع ہو سکیں۔ شمس الرحمن فاروقی کی وفات کے بعد اشعر نجمی صاحب نے فاروقی صاحب کے تراجم پر مشتمل ایک ضخیم کتاب مرتب کرکے شائع کی۔ اس کتاب کو دیکھیں تو اندازہ ہوگا کہ فاروقی صاحب کس قدر متنوع جہات رکھنے والی شخصیت تھے۔ ترجموں پر مشتمل اس کتاب میں افسانے، نظمیں، ڈرامے، فکرپارے، مضامین وغیرہ شامل ہیں۔ آ ئیے فاروقی کی ایسی ہی چند اہم ترجمہ کردہ کتابوں کے بارے میں جانتے ہیں۔
1۔ The Secret mirror
فاروقی صاحب کی یہ کتاب انگریزی مضامین پر مشتمل ہے جن میں جدید اور کلاسیکی اردو ادب پر اظہار خیال کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں اردو غزل، غالب، اقبال اور ملٹن، میر انیس اور ظفر اقبال جیسے کلاسیکی اور جدید غزل گو شعرا پر تنقیدی افکار پیش کیے گئے ہیں۔
2۔ Modern Indian literature and anthology
ہندوستان کے معتبر ادارے’ ساہتہ اکادمی‘ نے جدید ہندوستانی ادب کی اینتھالوجی مرتب کرائی ہے اور اسے تین جلدوں میں شائع کیا ہے۔ اس میں سے اردو کا حصہ شمس الرحمن فاروقی نے لکھا اور ترتیب دیا ہے۔
3۔ The shadows of a bird in flight
یہ کتاب فارسی زبان کے منتخب اشعار پر مشتمل ہے جن کا ترجمہ فاروقی نے انگریزی زبان میں کیا ہے۔ یہ وہ کتابیں ہیں جن کا ترجمہ فاروقی نے اردو سے انگریزی زبان میں کیا ہے۔ انگریزی سے اردو میں بھی انھوں نے کئی اہم کتابیں ترجمہ کی ہیں۔
4۔ Poetics
ارسطو کی مشہور زمانہ کتاب (Poetics) کے ترجمے مختلف زبانوں میں ہوئے ہیں اور اردو میں اس کا کئی لوگوں نے ترجمہ کیا ہے۔ شمس الرحمن فاروقی نے ارسطو کی اس کتاب کا ترجمہ ’شعریات‘کے نام سے کیا ہے۔ فاروقی صاحب نے یہ ترجمہ ایس ایچ بیچر کی انگریزی کتاب کے متن سامنے رکھ کر کیا ہے اور ساتھ ہی تفصیلی تعارف اور حواشی کے ساتھ اس ترجمے کو شائع کرایا ہے جس کے متعدد ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔
5۔ Ab-e-Hyat: shaping The canon of Urdu Literature
محمد حسین آزاد کی مشہور زمانہ کتاب’آب حیات‘کا ترجمہ بھی شمس الرحمن فاروقی کا ایک بڑا کارنامہ ہے۔ یہ کتاب ادبی تاریخ اور تنقیدی اصولوں سے متعلق تر جموں پر مشتمل ہے جسے فاروقی نے کولمبیا یونیورٹی کی پروفیسر (Frances w.pritchette) کے ساتھ مل کر مکمل کیا ہے۔ اس کتاب میں فاروقی نے ادبی اصطلاحات کی فہرست مرتب کی ہے اور ان کی توضیح و تشریح بھی پیش کی ہے جس سے کتاب کی افادیت دوگنی ہوجاتی ہے۔
6۔ Early urdu literary culture and history
شمس الرحمن فاروقی کی چند اہم کتابوں میں سے ایک کتاب ’اردو کا ابتدائی زمانہ ‘بھی ہے اس کتاب کا انگریزی ترجمہ انھوں نے “Early urdu literary culture and history” کے نام سے کیا ہے۔ امریکہ کی شکاگو یونیورسٹی کے ایک ادارے “National endowments for huminities” نے ہندوستان کی اہم زبانوں کی ادبی تہذیب اور تاریخ کے مطالعہ کا منصوبہ بنایا اور اردو کے ابتدائی احوال لکھنے کے لیے شمس الرحمن فاروقی کو دعوت دی۔ فاروقی صاحب نے تین چار برس کی محنت سے یہ کتاب تیار کی جسے آکسفوڑ یونیورسٹی پریس دہلی نے بڑے اہتمام سے شائع کیا ہے۔
7۔ The Colour of balck flowers
یہ کتاب شمس الرحمن فاروقی منتخب نظموں کے انگریزی تراجم پر مشتمل ہے۔ یہ ترجمے فاروقی صاحب اور بیدار بخت نے مل کرکیے ہیں۔ اسے سٹی بکس کراچی سے2002 ء میں شائع کیا تھا۔
8۔ The mirror of beauty
شمس الرحمن فاروقی نے اردو کے مشہور شاعر داغ دہلوی کی والدہ ’وزیر خانم‘ کی حیات اور ان کے زمانے پر مبنی ایک طویل ناول قلمبند کیا۔ یہ ناول زیادہ تر انیسویں صدی سے تعلق رکھنے والے دلی شہر اور اس کے مضافاتی ماحول پر مبنی ہے۔وزیر خانم ایک خوبصورت اور پُرجوش عورت ہے جو بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے مغل دربار سے وابستہ نواب زادوں، ایسٹ انڈیا کمپنی کے انگریز افسران، معاصر شعراء اوردیگر بہت سے ناقابل فراموش کرداروں سے میل جول رکھتی ہے۔ ان کا ناول2006ء میں’کئی چاند تھے سر آسمان‘کے نام سے اردو میں پہلی بار شائع ہوا جس کا انگریزی ترجمہ “The mirror of beauty”کے نام سے منظر عام پر آیا۔ شمس الرحمن فاروقی نے یہ طویل ترجمہ خود کیا اور اسی کے چلتے اردو سے ناواقف ادبی حلقہ بھی اس شاہکار سے رو برو ہو سکا۔ شمس الرحمن فاروقی کے اس ترجمے اور تخلیق کو اردو کے علاوہ دوسری زبانوں میں خوب پذیرائی ملی۔ اورحان پاموک جیسے نامور ادیب نے اس ناول کو’’ایک معتبر اور حیرت انگیز تاریخی ناول‘‘کہا، جو یقیناً بڑی بات ہے۔
9۔ Sun that rose from the earth
شمس الرحمن فاروقی نے چند ایک بہترین افسانے اردو ادب کو دیے ہیں۔ ان کے یہ افسانے اردو میں’سوار اور دوسرے افسانے ‘کے نام سے شائع ہو چکے ہیں۔ انہیں افسانوں کے انگریزی ترجمے پر مشتمل کتاب کا نام Sun that rose from the earth ہے جو شمس الرحمن فاروقی کی ترجمہ نگاری پر دال ہے۔
10۔ Dr. Dread series
اردو میں جاسوسی ادب لکھنے والے ابن صفی کو انگریزی زبان کے قارئین تک پہونچانے میں بھی فاروقی نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ انھوں نے ابن صفی کے جاسوسی دنیا سیریز کے چار ناولوں کا ترجمہ کیا۔ یہ چاروں ناول ڈاکٹر ڈریڈ سیریز کے نام سے مشہور ہیں۔ اس سیریز کا پہلا ناول “Poisoned arrow”، دوسرا ناول “Smoke water”، تیسرا ناول “The laughing corpse”اور چوتھا ناول “Dr.Dread” کے نام سے منظر عام پر آیا۔ جاسوسی ادب اور وہ ابن صفی جیسے باکمال لکھنے والے کی تحریر کو انگریزی زبان میں منتقل کرنا آسان نہ رہا ہوگا مگر یہ شمس الرحمن فاروقی کی علمی لیاقت اور زبان پر گرفت ہے کہ انھوں نے یہ کام بھی کردکھایا۔
شمس الرحمن فاروقی کی ترجمہ نگاری کے افسانوی حصے کو اگر بغور دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ فاروقی نے افسانے کے انتخاب میں محض موضوعی تنوع کو پیشِ نظر نہیں رکھا بلکہ جدید عالمی فکشن کی فکری، اسلوبی اور تکنیکی جہات کو اردو میں منتقل کرنے کا شعوری اہتمام کیاہے۔ ایک بھیانک افسانہ (ولیم سین سم) اور چار قدم (شموئیل یوزف انیان) جیسے تراجم انسانی خوف، عدمِ تحفظ اور وجودی بے یقینی کو علامتی سطح پر اجاگر کرتے ہیں، جہاں مختصر بیانیہ گہرے نفسیاتی اثرات پیدا کرتا ہے۔ چینی ادب سے منتخب دوسری کوشش (ژانگ شن شن، سانگ یے) اجتماعی تجربے، سماجی جبر اور فرد کی داخلی کشمکش کو ایک مختلف تہذیبی پس منظر میں پیش کرتی ہے، جو اردو افسانے کے قاری کو غیر مانوس مگر فکری طور پر زرخیز فضا سے روشناس کراتی ہے۔ اسی طرح کژم کا درخت (الیگزنڈر سالژنیتسن) سیاسی جبراور اخلاقی مزاحمت جیسے موضوعات کو علامتی اسلوب میں برتتا ہے، جس کے ذریعے فاروقی نے روسی ادب کی احتجاجی روایت کو اردو میں بامعنی طور پر منتقل کیا۔ان تراجم میں جدید بیانیہ تکنیک اور اسلوبی تجربات بھی نمایاں ہیں۔ خفیہ کمرہ (آلن روب گرئیے) نئی ناولیات اور تجریدی بیانیے کی نمائندگی کرتا ہے، جہاں واقعہ کم اور ساخت زیادہ معنی خیز ہو جاتی ہے، جب کہ کتے کی موت (جان کولیئر) اور موسیو وال دمار کا قصہ (ایڈگر ایلن پو) طنزیہ، پراسرار اور خوف انگیز عناصر کے ذریعے انسانی ذہن کی تاریک پرتوں کو نمایاں کرتے ہیں۔ پرچھائیوں کا شیطان (ایلن وائکس) اور نقابیں (ہوانگ سونوان) شناخت، ظاہر و باطن کے تضاد اور سماجی ریاکاری جیسے موضوعات کو سامنے لاتے ہیں، جو جدید افسانے کے بنیادی مباحث میں شمار ہوتے ہیں۔
شمس الرحمن فاروقی کی ترجمہ نگاری میں نظموں کا حصہ فکری، جمالیاتی اور اسلوبی اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ یہاں فاروقی کا انتخاب عالمی شاعری کی متنوع روایتوں کو اردو کے تنقیدی شعور سے ہم آہنگ کرنے کی سنجیدہ کوشش نظر آتا ہے۔ ان تراجم میں ایک طرف ڈبلیو۔ ایچ۔ آڈن کی’ ریڈ کلف صاحب کا بٹوارہ‘، وئسٹن ہیو آڈن کی’ چیخنے سے فائدہ؟‘ اور ٹی۔ ایس۔ ایلیٹ کی ’پیر مرد‘ جیسی نظمیں جدید مغربی تہذیب، اخلاقی بحران اور فرد کی تنہائی کو نمایاں کرتی ہیں، تو دوسری جانب میریئین بلوم کی’ آزادی‘، امرو کی ’جھولے کے نئے پینگ‘ اور نامعلوم شاعر کی ’گہرے جھیل دھوئیں کے بادل‘ آزادی، معصومیت اور علامتی فضا سازی کی مثالیں فراہم کرتی ہیں۔ گارسیا لورکا کی ’گھوڑ سوار کا گیت،‘ میروسلاو ہولب کی ’شاعر سے بات چیت ‘اور ڈی۔ ایچ۔ لارنس کی ’سانپ ‘جدید انسان اور فطرت، شعری مکالمے اور لاشعوری خوف کے رشتوں کو نئی جہت عطا کرتی ہیں، جب کہ ولیم بلیک کی متعدد نظموں’گل بیمار‘،’ کئی سوالوں کے جواب‘، ’میں نے ایک چور سے کہا‘، ’افشائے راز‘ اور’ گلبن میرا پیارا‘کے تراجم اس بات کی دلیل ہیں کہ فاروقی نے علامتی، اخلاقی اور عرفانی شعریات کو ایک وحدت کے ساتھ اردو میں منتقل کیاہے۔ اسی تسلسل میں الیگزنڈر پشکن کی’ دلے مجنوں نہ خواہد شد‘، قدیم یونانی شاعری سے پیری میں بوسہ لب کا خیال اور سیفو کی’ نظم‘، کلاسیکی مغربی شعری روایت کو اردو قاری کے سامنے پیش کرتی ہیں، جب کہ بشر ابن ابی خازم اسدی، منصور حلاج، حبی نوشاہی اور میرزا عبدالقادر بیدل کی نظموں کے تراجم مشرقی، صوفیانہ اور ما بعد الطبیعیاتی شعور کو عالمی تناظر میں جوڑ دیتے ہیں۔ جدید یورپی اور مشرقی شاعری میں جوزف براڈسکی کی ’یک ہزار و نہ صد و نود و چار‘ اور ’یک ہزار و نہ صد و نود و پنج‘، وسلاوا شمبورسکا کی ’اعدادو شمار پر مبنی دو مکالمے‘، چسوا میووش کی ’انتساب‘، لوسین بلاگا کی’ مناجات‘، انا اخماتوا کی’ مسیح مصلوب‘،’ موت سر‘ اور’ دیباچے کے بجائے‘، اور اوسیپ مینڈلشٹام کی’ نظم نمبر دو سو چھیاسی‘ جدید تاریخ، جبر، یادداشت اور شعری مزاحمت کے مباحث کو اردو میں منتقل کرتی ہیں۔ اسی طرح فلپ لارکن کی’ چراگاہ میں‘ اور’ گھوڑوں کا ایک خواب‘، جارج میک بتھ کی’ الو‘ اور’ مسیح کی واپسی‘، شارل بودلیئر کی ’ختم سفر‘، جورگے دالیما کی’ تقسیم شعر‘ اور اواو کاما کوٹو کی متعدد نظموں کے تراجم جدید انسان کی حقیقت پر سوال اور بیانیہ کے نئے تجربات کو نمایاں کرتے ہیں۔ فاروقی کے انتخاب میں ایشیائی شاعری بھی نمایاں ہے، جہاں ودیا کی ’سورج‘، ’چھلیا ‘اور ’تصدیقات‘، شلا بھٹارکا کی ’بے وفا ‘اور ون ای تو کی’ آب مردہ ‘جدید مشرقی حسیت، داخلی کرب اور علامتی اظہار کو اردو میں ایک نیا ذائقہ دیتی ہیں۔ اے۔ سی۔ سوئنبرن کی ’ماتمی چاند میں دوستوں کا نوحہ‘، پال کلے کی’ بھیڑیا بولتا ہے‘ اور آخر میں رفیع سودا کی “The State of the Realm”اور کے۔ ایم۔ چشتی کی “Level and Kinds of Being”اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ فاروقی نے کلاسیکی اردو روایت کو بھی جدید فکری مباحث کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی۔ فاروقی نے نظموں کے تراجم کر کے یہ کوشش کی کہ اردو شاعری کو عالمی شعری روایت کے ہم عصر شامل کی جا سکے۔
شمس الرحمن فاروقی کی ترجمہ نگاری میں مضامین کا انتخاب ایک سنجیدہ وزن رکھتا ہے جو ایک نظریاتی مکالمے کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ ماکسم گورکی کا مضمون’ ایک امریکی جریدے کے سوالنامے کا جواب‘ ادیب کے سماجی کردار، سیاسی شعور اور ادبی ذمہ داری کے سوالات کو براہِ راست اٹھاتا ہے، جسے اردو میں منتقل کرکے فاروقی نے ادب اور سماج کے باہمی رشتے کو ایک عالمی تناظر فراہم کیا۔ اسی طرح کرسٹوفر کنگ کا مضمون ’ہندی کی تاریخ میں ناگری پرچارنی سبھا۔۔۔ ‘زبان، رسم الخط اور تہذیبی سیاست جیسے حساس موضوعات کو سامنے لاتا ہے، جو اردو۔ہندی تنازعے کو محض لسانی نہیں بلکہ تاریخی اور ادارہ جاتی مسئلہ بنا کر پیش کرتا ہے۔ آر۔ جی۔ کالنگ وڈ کا ’جدید عہد اور تفریح‘ جدید تہذیب میں فن، تفریح اور انسانی شعور کے بدلتے ہوئے تعلقات پر روشنی ڈالتا ہے اور اردو کے قاری کو مغربی جمالیاتی فکر کے ایک اہم زاویے سے روشناس کراتا ہے۔ ان مضامین میں بعض ایسے متون بھی شامل ہیں جو اپنے موضوع کی نوعیت کے باعث خاصے جرات مندانہ اور علمی گہرائی کے حامل ہیں۔ بیرن رچرڈ فان کرافت کا ’مرضیاتِ جنسی کی نفسیات ‘ جدید نفسیات اور انسانی جبلت کے مطالعے کی نمائندگی کرتا ہے، جس کا اردو میں ترجمہ اس بات کی دلیل ہے کہ فاروقی مشکل، غیر مانوس اور حساس علمی مباحث کو بھی اردو کے دائرہ اظہار میں شامل کرنے کے خواہاں تھے۔ فریڈرک کروز کا ’مابعد وضعیاتی دور کا اختتام‘ اور نارمن این۔ لینڈ کا ’پرانی تنقید اور نئے چیستاں باز‘ جدید ادبی تھیوری، تنقیدی رویّوں اور فکری تبدیلیوں پر گہری نظر رکھتے ہیں اور اردو تنقید کو مابعد وضعیات اور جدید تنقیدی بحرانوں کے مباحث سے جوڑتے ہیں۔ اسی سلسلے میں برٹرنڈ رسل کا ’تعزیت نامہ‘ اور بر ٹرنڈرسل و ٹی۔ ایس۔ ایلیٹ کے مشترکہ متن ’خطوط اور یادیں ‘فکری عظمت کے ساتھ ساتھ انسانی جذبات، یادداشت اور فکری رفاقت کے پہلوؤں کو بھی نمایاں کرتے ہیں، جب کہ نشرین حسین کا’ ابا سے دعا کی درخواست‘ ذاتی، جذباتی اور انسانی تجربے کو فکری وقار کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ ان مضامین کے تراجم سے شمس الرحمن فاروقی نے اردو کے قاری کو عالمی سطح پر سوچنے کی روایت، جدید نظری مباحث اور انسانی تجربے کے مختلف سطحوں سے جوڑا اور تنقید کو نئے افق عطا کیے گئے۔
شمس الرحمن فاروقی کی ترجمہ نگاری میں ڈراموں کا انتخاب نہایت معنی خیز اور فکری طور پر جرات مندانہ ہے، کیونکہ یہاں وہ جدید مغربی تھیٹر کی اُن روایتوں کو اردو میں منتقل کرتے ہیں جو روایت شکن، علامتی اور وجودی شعور کی حامل ہیں۔ گارسیا لورکا کا ڈراما’ عقدِ خونیں‘ انسانی جذبے، سماجی جبر، رسم و روایت اور ناگزیر المیے کے باہمی تصادم کو ایک شعری اور علامتی ڈرامائی فضا میں پیش کرتا ہے، اور اس کے اردو ترجمے کے ذریعے فاروقی نے ہسپانوی دیہی معاشرے کے المیے کو اردو قاری کے لیے ایک آفاقی انسانی تجربے میں ڈھال دیا۔ اس ترجمے میں لورکا کے شاعرانہ مکالمے، تقدیر کے احساس اور جذباتی شدت کو برقرار رکھنا اس بات کا ثبوت ہے کہ فاروقی کے نزدیک ڈرامے کا ترجمہ محض مکالموں کی منتقلی نہیں بلکہ فضا، آہنگ اور داخلی کرب کی ترسیل کا نام ہے۔اسی طرح سیموئل بیکٹ کا ’چپ سوانگ‘ جدید ڈرامے کی اس روایت کی نمائندگی کرتا ہے جسے عموماً تھیٹر آف دی ایبسرڈ کہا جاتا ہے۔ اس ڈرامے میں خاموشی، بے معنویت اور انسانی وجود کی لاحاصلی مرکزی حیثیت رکھتی ہے، اور فاروقی کا ترجمہ اردو میں اس غیر روایتی تجربے کو قابلِ فہم بنانے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ یہاں زبان کی قلت، فاصلوں کی معنویت اور سکوت کی علامتی قوت کو اردو کے بیانی نظام میں منتقل کرنا ایک مشکل فنی مرحلہ تھا، جسے فاروقی نے تنقیدی شعور اورزبان و بیان کی چابکدستی کے ساتھ سرانجام دیا۔ فرنانڈو آرابال کا’ دو جلاد‘ سیاسی جبر، تشدد اور اقتدار کی سفاک منطق کو طنزیہ اور علامتی پیرائے میں پیش کرتا ہے، اور اس کا اردو ترجمہ بیسویں صدی کے سیاسی تھیٹر کو اردو تنقید کے دائرے میں داخل کرتا ہے۔ان تینوں ڈراموں کے تراجم اس امر کی دلیل ہیں کہ شمس الرحمن فاروقی نے ڈرامے کو محض تفریحی صنف کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ اسے فکری احتجاج، وجودی سوال اور سماجی تنقید کا طاقتور وسیلہ سمجھا۔ ان تراجم کے ذریعے اردو ڈرامے اور تھیٹر کو جدید مغربی ڈرامائی روایت سے جوڑنے کی ایک کامیاب کوشش کی گئی۔
شمس الرحمن فاروقی کی ترجمہ نگاری میں فکر پاروں کا ضخیم اور متنوع سلسلہ دراصل اردو تنقید کو دنیا کے بڑی زبانوں کی تنقیدی روایت کے ساتھ جوڑنے کی ایک شعوری اور منظم کاوش ہے۔ یہ کوشش صرف ادبی ذوق کی تسکین یا منتخب مضامین کے تعارف تک محدود نہیں بلکہ فن، ادب، فلسفہ، لسانیات، جمالیات اور نظری تنقید کے بنیادی مبادیات کو اردو زبان میں منتقل کرنے کا ایک ہمہ گیر منصوبہ معلوم ہوتی ہے۔ سر ہربرٹ ریڈ کے’ زندگی اور فن، آج اور کل ‘سے لے کر ٹام اسٹونیر کے ’ہماری تہذیب ہمارا خنجر‘ تک، اور ورڈزورتھ کے ’شعر کا موضوع اور سائنس‘ سے لے کر سیسل ڈے لوئس کے ’شعری پیکر اور واقعیت‘ تک، فن اور سماج، تخلیق اور حقیقت، اور جمالیات و اخلاقیات کے باہمی تعلقات پر جو بحث مغرب میں صدیوں سے جاری رہی ہے، وہ فاروقی کے تراجم کے ذریعے اردو قاری کے فکری افق میں داخل ہوتی ہے۔’ ہٹلر شاہی اور ادیب‘، ’ادب اور فحاشی‘،’ ادب، زبان اور سماج‘، ’شاعر، شہر اور سیاست‘ جیسے مضامین اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ادب محض جمالیاتی سرگرمی نہیں بلکہ تاریخی، سیاسی اور سماجی شعور سے گہرا رشتہ رکھتا ہے۔ ان کے علاوہ فاروقی کے تراجیم میں جدید ادبی نظریات، تنقیدی اصطلاحات اور فکری تحریکوں کا ایک وسیع کینوس سامنے آتا ہے۔ کولرج، آسکر وائلڈ، ایلیٹ، بلیک مر، لینگر، اسٹینر، ازرا پاؤنڈ، آرچی بالڈ مک لیش، کلی انتھ بروکس اور ایف۔ ایل۔ لیوکس جیسے ناقدین کے تراجم اردو تنقید کو محض تاثراتی یا روایتی دائرے سے نکال کر باقاعدہ نظریاتی سطح پر لے آتے ہیں۔ ’وزن اور بحر کا مسئلہ‘، ’توضیح بنام تمثیل‘، ’خالص فن کا نظریہ‘،’ تنقید کی تعریف‘،’ تنقید اور تخلیق ‘اور ’عہد آفریں نقاد کا رول‘ جیسے مضامین اس امر کی واضح مثال ہیں کہ فاروقی تنقید کو ایک سنجیدہ علمی سرگرمی سمجھتے تھے۔ اسی طرح ناول اور بیانیہ سے متعلق تحریریںمثلاً ’اینٹی ناول کا نظریہ‘،’ ناول کی صورت حال‘، ’جوائس کے ناول یولی سیز پر کچھ باتیں‘،’ ناول کی خصوصیات: باختن کی نظر میں‘ اور’ کثیر الصوت ناول کا نظریہ‘ اردو فکشن کے مطالعے کے لیے ایک نیا تنقیدی ڈھانچہ فراہم کرتی ہیں، جو اس سے پہلے اردو میں یا تو ناپید تھا یا منتشر صورت میں موجود تھا۔ ساختیات، پسِ ساختیات، جدیدیت اور مابعد جدیدیت سے متعلق نہات اہم فکر پاروں کے تراجم شامل ہیں ،جو فاروقی کی علمی جرات اور فکری وسعت کو نمایاں کرتے ہیں۔ فوکو کا ’تصنیف بے مصنف کا تصور‘، پال ڈمان کا ’وضعیات اور بعد وضعیات‘، ژرار ژینت کے بیانیاتی تصورات، دریدا سے متعلق مضامین، لیوتار اور اہاب حسن کی تحریریں، ایگلٹن کے نظری مباحث، اور باختن، نارتھراپ فرائی، والٹر آنگ اور مائر سٹرن برگ کے بیانیاتی مطالعے اردو تنقید کو بیسویں صدی کی جدید ترین فکری بحثوں سے ہم آہنگ کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ قدیم مشرقی شعریات، بھرتری ہری، امام جعفر صادق، اور عربی و اسلامی فکری روایت سے متعلق مضامین اس بات کی دلیل ہیں کہ فاروقی نے مغرب اور مشرق کے مابین فکری مکالمے کو یک طرفہ نہیں ہونے دیا۔
شمس الرحمن فاروقی کی ترجمہ نگاری اردو ادب میں کسی ایک صنف، کسی ایک دور یا کسی ایک نظریے تک محدود نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر فکری رویّے کی نمائندہ ہے۔ انہوں نے ترجمے کو نہ ثانوی عمل سمجھا، نہ اسے محض سہل فہمی کا ذریعہ بنایا، بلکہ اسے ایک علمی، تخلیقی اور تنقیدی ذمہ داری کے طور پر برتا۔ فاروقی کے یہاں ترجمہ اس مقام پر کھڑا نظر آتا ہے جہاں زبان، فکر اور نظریہ ایک دوسرے میں مدغم ہو جاتے ہیں؛ جہاں اردو صرف وصول کرنے والی زبان نہیں رہتی بلکہ سوال کرنے والی، مکالمہ کرنے والی اور فیصلہ کن زبان بن جاتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ ان کے تراجم پڑھتے ہوئے قاری یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ صرف کسی غیر ملکی متن کا اردو روپ نہیں پڑھ رہا بلکہ اردو کے اندر ایک نئی فکری کائنات بنتی دیکھ رہا ہے۔ فاروقی کے ہاں ترجمہ نہ زبان پر بوجھ بنتا ہے، نہ قاری کے ذہن پر؛ بلکہ زبان کو وسعت دیتا ہے، قاری کو اعتماد بخشتا ہے اور اردو ترجمہ نگاری کو عالمی ادبیات کی ترجمہ نگاری کی روایت کے برابر لا کھڑا کرتا ہے۔ انہوں نے مغرب سے اخذ کیا مگر مرعوب ہو کر نہیں، مشرق کو پیش کیا مگر معذرت کے ساتھ نہیںبلکہ ایک خودآگاہ، باوقار اور باخبر ذہن کے ساتھ۔ اردو ترجمہ نگاری کی روایت میں فاروقی کو یہ امتیاز حاصل رہے گا کہ انہوں نے عالمی نظریات کو اردو میں اتارا ہی نہیں ، بلکہ اردو کو ان نظریات کے برابر لا کھڑا کیا۔
حواشی:
1۔شمس الرحمن فاروقی ،میرا ذہنی سفر ، مشمولہ کاروان اردو، مرتبین؛ کوثر صدیقی/جاوید یزدانی، جلد سوم، شمارہ12، ہندی روزنامہ بھوپال ہلچل اور دبستان بھوپال، ص 357؎
2۔شمس الرحمن فاروقی: سوار اور دوسرے افسانے،شب خون، کتاب گھر، الہ آباد 2003، ص 15؎
3۔شمس الرحمن فاروقی ،میرا ذہنی سفر ، مشمولہ کاروان اردو، مرتبین؛ کوثر صدیقی/جاوید یزدانی، جلد سوم، شمارہ12، ہندی روزنامہ بھوپال ہلچل اور دبستان بھوپال، ص 376؎
4۔شمس الرحمن فاروقی: سوار اور دوسرے افسانے،شب خون، کتاب گھر، الہ آباد 2003، ص 15؎
5۔روشنائی، جلد 4، شمارہ14، نثری دائرہ، کراچی، پاکستان، جولائی تا ستمبر2003ء ، ص 110؎