ایک نابغہ روزگار ادبی شخصیت 
شمس الرحمن فاروقی

ڈاکٹر طاہرہ پروین
شعبہ اردو، ایس۔ایس۔ کھنہ گلس ڈگری کالج ۔الہ آباد پریاگ راج

 

ادب کے ایک ادنی طالب علم کی حیثیت سے میں نے فاروقی صاحب سے باراہا ملاقاتوں کے دوران میں نے انھیں لکھتے۔ پڑھتے لوگوں سے ملاقات کرتے ایک ایسے انسان کے روپ میں دیکھا ہے۔ جس میں ایک ہمدرد ایک رفیق القلب انسان چھپا ہوا تھا۔اردو کے ایک تنقید ی ادب اور تخلیقی ادب کو جس معیار پر فاروقی صاحب نے پہچایا اس سے ساری اردو دنیا واقف ہے۔ مجھے یاد آتا ہے کہ کسی زمانے میں حسن عسکری نے کہیں لکھا تھا کہ اب حالی کے بعد بطور نقاد شمس الحرحمن فاروقی کا نام لیا جانے لگا ہے۔لیکن ان کا تخلیقی ادب ان کے تنقیدی ادب کے مقابلے لوگوں کے ذہنوں کا حصہ کم بنا۔ بحیثیت شاعر انھوں نے ادب کی ایک متروق صنف شہر آشوب جس کی ماہیت جس قلب بصیرت کے ساتھ نیا قالب عطا کیا۔ وہ اظہر من الشمس ہیں۔ انھوں نے شاعری میں بھی کچھ کم تخلیقی جوہر نہیں دکھائے۔ لیکن اس کا کیاکیجئے۔ جب کسی صنف کے حوالے سے کوئی شاعر ، ادیب اور نقاد بہت مشہور ہو جاتا ہے تو اس کی دوسری تحریریئں ذہنوں سے محو ہونے لگتی ہیں۔ فاروقی صاحب کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔انھوں نے تنقید کو ایک نیا اعتبار بخشا بلکہ اردو میں کلیم الدین احمد کے بعد ایک ایسی روش خلق کی کہ تنقید کو ادب میں وقتعاــ ایک اہم فریضہ سمجھا جانے لگا۔ یعنی شمس الحرحمن فاروقی نے اردو میں تنقید کے کلچر کو فروغ دیا۔
میری آنکھوں نے انھیں ہر روپ میں دیکھا گھر کی ادبی و علمی تقریب میں بھی اور محفلوں میں بھی شہر میں ہونے والے تقریبات میں وہ جب بھی بلاتے ہم لوگ ان کی خدمت میں حاضر ہوتے۔ جب کبھی ان کے گھر میں بڑی شخصیتیں آتیں وہ ہمیں ضرور بلایا کرتے تھے۔اور ہم لوگ ان کے اس خوبصورت لان میں بیٹھ کر مہمانوں اور ان کی گفتگو سنا کرتے تھے۔ ان کے گھر میں مجھے ایک فیملی ممبر کی حیثیت حاصل تھی۔ان کی صاحب زادیوں سے میرا رشتہ ایک بہن کا تھا۔ وہ مجھے اپنی بیٹیوں کی طرح عزیز رکھتے تھے۔اور میرے کیریر کے لیے فکر مند رہا کرتے تھے۔االلہ کا شکر ہے کہ میں اب بر سر روزگار ہوں۔ اور یہ ان کی داعوں کا ثمرہ ہے۔ ان کے انتقال کے دن میں اپنے گھر پر ہی تھی جب یہ خبر مجھ تک پہنچی تو میں بہت مغموم ہوئی اور زندگی کی بے ثباتی کا شدت سے احساس ہوا ،اور میں ہی کیا پوری اردو دنیا ان کے موت کے غم میں سوگوار ہو گئی۔ مجھے خوشی ہے کہ میں نے ان کی دو کتابوں کا ترجمہ کیا ہے اور میں اسے ان کی خدمت میں ایک ادنا سا تحفہ سمجھتی ہوں ۔ یعنی پہلی کتاب اکبر الہ ا ٓبادی پر ایک اور نظر کا ہندی ترجمہ کیا ہے۔جو منظر عام پر آچکی ہے۔ اور دوسری کتاب ہمارے لیے منٹو صاحب کا ہندی ترجمہ کر چکی ہوں جو جلدی ہی منظر عام پر آنے والی ہے۔اسی کتاب کے حوالے سے ان سے موت سے پہل کچھ دن پہلے بات ہوی تھی انھوں نے مجھے دعائیں دی اور پیش لفظ کو بھی سناکچھ غلطیوں کی نشاندی بھی کہ اور اس میں اپنی خوشی کا اظہار بھی کیا۔ میں اس کتاب کو شایع کرانے میں لگی ہوئی ہوں تاکہ یہ کتاب شائع ہو سکے۔اور ان کو اپنی طرف سے ایک خراج عقیدت پیش کر سکوں۔
فاروقی صاحب کا ذکر آتے ہی اردو تنقید نگاری کی دنیا آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے۔ اردو میں ترقی پسند تحریک کے بعد ایسا نہیں لگتا تھا کہ کوئی نئی تحریک یا کوئی نیا ادبی رجحان سامنے آسکے گا۔لیکن یہ اندازہ غلط ثابت ہوا اور دیکھتے۔ دیکھتے مارکسی۔سماجی، تاریخی اور ترقی پسند تنقید کی جگہNEW CRITICSM یعنی نئی تنقید جسے وجودیاتی تنقید بھی کہتے ہیں کے ساتھ ۔ساتھ ہیتی تنقید کا دور۔دورہ شروع ہو گیا۔ اور یہ سب کچھ جب ہوا اپنے رسالے “شب خون ” کے ذریعے جدیدیت کے رجحان کی تعبیر پیش کرنی شروع کی اور ادیبوں کو یک رخا ادب کے بجاے گہرے ادب کو پیش کرنے کی طرف انھوں نے مائل کیا۔ ادب میں استعارے،کے معنی اور مفہوم اور اس کی معنویت کے سلسلے میںمضامین لکھے۔ جب شمس الحرحمن فاروقی بطور نقاد ایک ستارے کی طرح چمک رہے تھے تو اس وقت گوپی چند نارنگ کی حیثیت ان کے مقابلے میں بہت کم تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ بعد میں گوپی چند نارنگ ان کے حریف کے طور پر ان کے مقابلے پر آگئے اور انھوں نے بھی ادب کے ایک نئے رجھان کو اسے اردو ادب میں روشناس کرایا جسے ہم لوگ مابعد جدیدیت کے نام سے جانتے ہیں۔
یہ عام رائے ہے کہ فاروقی صاحب جدیدیت پسند ادب کو فروغ دے کر خود کلاسیکی ادب کی تشکیل میںمنہمک ہو گئے۔مثلاداستان جیسی متروک صنف میں کئی جلدوں میں ایسا دقیق اور گراں قدر تنقیدی کارنامہ پیش کیا جس کی مثال اردو میں نہیں ملتی لیکن میرے خیال میں ان پر اس طرح کا الزام لگانا ٹھیک نہیں ہوگا جدیدیت جو وجودیت کے فلسفے پر مبنی ہے۔ اس میں ایسا کہا لکھا ہے کہ جدید ادیب قدیم ادب کو نہیں پڑھ سکتے ، لوگوں کا یہ اعتراض برائے اعتراض ہے اس میں کوئی دم نہیں ۔
آخر میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ شمس الحرحمن فاروقی نے ناول ،افسانے اور شاعری میں بھی روش عام سے ہٹ کر ادب خلق کرنے کی سعی کی اور ان کا ناول کئی چاند تھے سر آسماں بحث و تمحص کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یقینا یہ اردو کا منفرد ناول ہے شمس الحرحمن فاروقی نے تاثرات سے، جو اس زمانے کا چلن تھا خود کو دور کرتے ہوے منطقی استدلال اور تاویلات سے زیادہ سے زیادہ کام لیا اور تو اور تنقید کو مکالمہ کی صورت میں لکھا ۔ اتنا ہی نہیں ان کا مشہور انداز یہ بھی تھا کہ اپنے مضامین اور کتابوں میں خود ہی سوال قائم کرتے تھے۔ اور ان سوالوں کے جواب بھی پیش کرتے تھے۔ اس طرح سے ان کی باتیں قاری تک آسانی سے پہنچ جاتی تھیں۔ اگر ان معروضات کی مثال تلاش کرنی ہو دور نا جائیے صرف ایک مضمون اٹھا لیجئے جس کا نام شعر غیر شعر اور نثر ہے،اس عہد کے ایک ذہین نقاد پروفیسر مولا بخش نے اپنی کتاب جدید ادبی تھیوری اور گوپی چند نارنگ کے مقدمے میں شمس الحرحمن فاروقی کی تنقید کے محاسن اور مائب پر لکھتے ہوے بہت صحیح لکھا ہے کہ ہمارے عہد میں شمس الحرحمن فاروقی کے یہاں ادب کی تفہیم کے زاوے ماقبل نقادوں سے الگ ہیں، حالانکہ حسن عسکری کا اتباع کرنے والوں میں شمس الحرحمن فاروقی ایک ایسا نام ہے جس نے حسن عسکری کے اثراندازی کے اس عرصے کو اپنی نئی اور غیر روایتی معلومات اور تجزیاتی حسن کی وجہہ سے اپنی نگارشات میں زیادہ دنوں تک قائم نہیں رہنے دیا۔ ان کی مشرقی شعریات پر گرفت اور مغربی نقادوں بالخصوص ہیت پسندوں اور نئی تنقید کے علاوہ کلاسیکی نقادوں کے یہاں پائی جانے والی ادبی اگہی اور گہرے ادبی مسائل پر گرفت قابل تعریف ہے۔، غرض کہ اس طرح ہم کہ سکتے ہیں کہ فاروقی صاحب تنقیدی اور تخلیقی ادب میں ایک ایسے مقام پر نظر آتے ہیں جہاں تک رسائی ادب کے کسی دوسرے نقاد کی نہیں ہو سکتی ۔
سچ بات تو یہ ہے کہ فاروقی صاحب ہمارے لیے بلکہ پوری اردو کی ادبی دنیا کے لیے بہت اہمیت رکھتے تھے۔جہاں تک ان کے تنقیدی نظریات کی بات ہے وہ اپنے قاری کو ایک الگ ڈایمینشن کی طرف لے جاتے ہیں اور اتنی دلیلیں دیتے ہیں کہ پڑھنے والے کے پاس کوی جواب نہں ہوتا۔غرض کہ ان کے تنقیدی مضامین میں لسانی مسائل اگر چہ تنقید سے الگ معلوم ہوتے ہیں، مگر انھیں ادبی تفہیم اور فکر اور خیال کے اظہار کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔شاید ان کی نظر میں زبان ہی خیال کی ترسیل کا ذریعہ ہوتی ہے۔اکبر الہ آبادی کی شاعری کے بارے میں اس طرح اپنے خیال کا اظہار کرتے ہیں۔
” جدید تعلیمی نصاب انسانوں کو “ـصاحب ” یا ” بابو” تو بنا دیتی ہے،آدمی نہیں بناتا ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ تعلیمی نصاب علم کی تبلیغ سے زیادہ اس مقصد سے بنایا گیا ہے کہ لوگوں کو سرکاری نوکریوں میں کام پر لگایا جائے۔ اکبر کہتے ہیں کہ ” آدمی “بنا نے کے لیے روحانی اور ذ ہنی تصرف کے ساتھ انسان دوست تعلیم بھی درکار ہے”
کورس تو لفظ ہی سیکھاتے ہیں ؍آدمی ،آدمی بناتے ہیں
جستجو ہم کو آدمی کی ہے؍وہ کتابیں عبث منگاتے ہیں
اس طرح یہ کہا جاسکتا ہے کہ فاروقی صاحب اکبر کے لیے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اکبر کا نظریہ جدید تعیم کی مخالفت تھی تعلیم کی مخالفت نہیں تھی۔ایک جگہ اور لکھتے ہیں:۔
” اکبر کے تضاد دات ان کے اپنے زمانے کے تضادات تھے اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اخری دنوںمیں وہ بھی اپنے داخلی تضادا ت کے حل کرنے کی طرف ٹٹولتے ہوے صحیح ، لیکن بڑھ رہے تھے۔ اپنی زندگی کے بیش تر ایام میں ہندوستانی محاورے میں گورمنٹ سرونٹ Government Servantاورپھر ” پنشنر جج” رہے تھے ۔اور وہ اپنے اندر یہ قوت نہ دیکھتے تھے کہ وہ جدوجہد آزادی اور مہاتما گاندھی کی کھلی حمایت کریں اور عملی سیاست میں کود پڑیں”
سچ بات تو یہ ہے کہ ہندو مسلم اتحاد ، سیاسی و سماجی صورتوں کا انتشار اور وہ سب کچھ گاندھی نامہ کی شکل میں ابھر کر سامنے آتا ہے۔ اکبر کے وقتوں میں دو تہذیبوں اور دو تمدنوں کا آپس میں خاصہ ٹکراو تھا۔ مشرق کی پرانی تہذیب اور مغریب کی نئی تہذیب سے ہندوستان آتی ہوئی نئی تہذیب اسی میں اسلام اور عسایت کا سیاسی اور مذہبی جھگڑا بھی شامل ہوگیا۔ انگریز ہندوستان کو پوری طرح سے اپنی عملی سیاست ،تہذیبی اور معاشرتی شکنجوں میں جکڑنے کی بھرپور کوشش میں لگے تھے کیونکہ یہ بات وہ بہ خوبی جانتے تھے کہ یہ صورت اگر ہندوستان میں پیدا ہو جاے گی تو سماج و معاشرے میں ایک طرح کی ابتری کا پیدا ہوجانا لازمی ہوگا۔ کیونکہ انگریز صرف سیاسی طور پر ہی قْْابض ہونا نہیں چاہتے تھے بلکہ وہ آہستہ آہستہ ہندوستانی تہذیب اور طور طریقوں کو بھی بدل دینا چاہتے تھے۔اکبر کو انھیں سب کا خطرہ تھا۔اکبر کی اسی خیال کی روشنی میں فاروقی صاحب کا انداز بیان دیکھتے چلیے:۔
” مغرب، یا انگریز کی مخالفت اکبر کے یہاں ایک مکمل نظام فکر کے تحت ہے یہ کوی فیشن اپیل، چلتی ہوی بات پر مبنی رویہ نہیں ہے۔ مغربی تعلیم کے بارے میں ان کی پہلی شکایت یہ تھی کی یہ انسان کو صاحب دل نہیں بناتی، صرف نوکری کے کام کا رکھتی ہے۔ اکبر کو لارڈ میکالی(Lord Maculay) کے اس نوٹ کی خبر نہ رہی ہوگی جو اس نے 1835میں تحریر کیا تھا کہ ہم ہندوستانیوں کو انگریزی پڑھا کر ایسی نسل پیدا کریں گے جو رنگ میں کالی لیکن دل سے انگریز ہوگی تاکہ ہم اس سیاپنی ضرورت کے مطابق کام لے سکیں اور ہمارا نقصان بھی نہ ہو۔لیکن اس میں کوی شک نہیں کہ اکبر کو مغربی تعلیم کی انگریزی پالیسی کے مضمرات کا پورا احساس تھا۔نئی تعلیم کے بارے میں اکبر کے خیالات دیکھے:
نئی تعلیم کو کیا واسطہ ہے ادمییت سے؍جناب ڈارون کو حضرت آدم سے کیا مطلب؍ یہاں پر اقبال نے بھی کچھ اسی طرح کی بات کی ہے:۔
آدمییت احترام آدمی؍باخبر شو از مقام آدمی؍
غرض فاروقی صاحب نے اکبر الہ آبادی کے حوالے سے جس طر ح کی فکر رکھتے ہیں اس کو اردو کے قاری شاید پسند نہ کریں۔ لیکن اکبر پر پھر سے سوچنے کو اور دوبارہ پڑھنے پر مجبور ضرور کر سکتی ہے۔ اپنے ایک اور مضمون اکبر الہ آبادی ، نوآبادیاتی نظام اور عہد حاظرمیں کہتے ہیں:۔
” وہ ترقی کے مخالف تھے،یعنی انگریز تعلیم کے مخالف تھے۔انگریزی تعلیم ہی نہیں ، وہ تمام جدید چیزوں،مثلاــ ریل،تار، حھپاپہ خانہ، ٹیلی فون، صنعت و حرمت، ان سب کے مخالف تھے۔ وہ جدید تہذیب کے اداروں، مثلا سیاسی پارٹی، کانفرنس،کونسل، کونسل کی ممبری،وغیرہ،ان سب کے مخالف تھے۔حالانکہ یہ چیزیں دراصل ہمارے لیے آزادی کا پیش خیمہ تھیں۔”
معلوم نہیں ! فاروقی صاحب کہ ان باتوں سے اردو ادب کا قاری اتفاق کرتے ہیں ،لیکن اکبر کو جس طرح سے اردو شاعری کی دنیا سے روبروح کراتے ہیں اس نے اکبر کو ایک نیا مقام دیا اکبر کے یہاں الفاظ کا ذخیرہstock جس طرح سے آتا ہے کسی حد تک سوسائٹی کے تجربے اورمغربی تہذیب کی دلچسپیوں سے آئے ہیں اور شاید انھیں کے لیے پیش کئے گئے ہیں۔ اسی وجہ سے وہ اکبر کو اردو کے پانچ بڑے شاعروں اور دنیا کے بڑے طنزو مزاح کی شاعری میں رکھتے ہیں۔
اس مختصر سے مضمون میں بہت سی باتیں رہ گئی ہیں ان کے مضامین کے تجزیوں میں جا بجا لسانی مسائل پر باتیں کی گئی ہیں اور لسانی مسائل اگر چہ تنقید سے الگ معلوم ہوتے ہیں، مگر فاروقی صاحب انھیں ادبی تھیوری اور اس کی تفہیم و تنقید کو ساتھ لے کر چلتے ہیں اور اسی لیے شاید ہی ان کی کوئی بحث لیسانی مطالعے کے بغیر مکمل ہوتی ہو۔اور یہی سب ادب کی تفہیم اور تدریس ،تنقید، اصول اور ان سب کی معنویت اور اس کی شعریت اور اکثر یت کو سمجھنے میں مددگار ہوتے ہیں۔ باقی باتیں پھر کسی مضمون میں ۔